بلاگ معلومات

ہمارا سکول سسٹم

ڈاکٹریٹ کے دوران میرے دو بچے پولینڈ کے سکول میں گریڈ ایک سے تین تک پڑھتے رہے۔ صبح خالی ہاتھ سکول جانا اور خالی ھاتھ واپس آنا اور باقی دن کھیل کود۔ وہاں نہ فیس، نہ کتاب، نہ کاپی، نہ ہوم ورک اور نہ ہمیں معلوم کہ ٹیچر کون کون ہے۔ کب امتحان اور کب اگلے گریڈ میں پروموشن۔ ہماری ذمہ داری محض سکول چھوڑنا اور واپس لانا۔ ویگن گاڑی کا دلدر ہی نہیں کیونکہ ہر وارڈ کا اپنا سرکاری سکول تھا۔ پرائویٹ سکول سسٹم کی اجازت ہی نہ تھی تا کہ تعلیم کو کاروبار نہ بنایا جا سکے۔ مزید برآں ہر سکول وارڈ کونسل کو منتخب والدین اور حکومت کا نو اراکین کا بورڈ چلاتا تھا۔ حکومت عوام کے دئیے گئے ٹیکس سے خرچے اٹھاتی تھی۔

ٹیچر کبھی بچوں کو مارکیٹ لے جا کر سودا سلف خریدنے کی تربیت دے رہی ہوتی اور کبھی بس میں اترنے چڑھنے کا سلیقہ دکھاتی۔ کبھی سڑک پار کرنے کے طریقے، کبھی پارک صاف کرنے کی تربیت، کبھی ہسپتال میں مریضوں کے لئے پھول لے جانے کا طریقہ اور کبھی بزرگوں کے احترام کا انداز۔ سلام کرنے سے لے کر، کھانسی، چھینک، تھوکنے سے ہوا خارج کرنے تک کی تربیت۔ میں ایمانداری سے بتا رہا ہوں کہ ایک متمول پڑھے لکھے خاندان میں 30 برس گزارنے کے باوجود وہاں کی سوسائٹی میں جا کر اپنے آپ کو ہم سب پاکستانی کوئی کمی کمین ہی سمجھتے تھے۔ وہ الگ بات کہ ہم بھارتیوں کو کمی کمین سمجھتے تھے۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک روز ان کے تعلیمی نظام کو سمجھنے کے لئے مگر دراصل بچوں پر بے پناہ توجہ پر شکرئیے کی خاطر ہم میاں بیوی نے سکول وزٹ کی درخواست کی۔ ہمیں فورا” اجازت مل گئی اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ماسٹر ڈگری ہولڈر ٹیچر کچھ ڈری ڈری سی تھی۔ اس کے گمان میں تھا کہ مجھ سے یا سکول انتظامیہ سے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔

جب اسے معلوم ہوا کہ غیر ملکی بچوں کے والدین واپس جا رہے ہیں اور محض شکریہ ادا کرنے آئے ہیں تو بیچاری کی جان میں جان آئی۔ ہم چونکہ اپنی عادت کے مطابق فرصت ملنے پر مگر ان کے حساب سے اچانک سکول پہنچے تو ہمیں نہ تو کوئی پروٹوکول ملا، نہ پرنسپل سے ملاقات اور نہ چائے پانی۔ صرف بچوں کے کلاس روم میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی وہ بھی اس لئے کہ ہم انکا کلاس روم سیشن دیکھنا چاہ رہے تھے۔ ٹیچر نے ہمارا انتہائی مختصر تعارف کرا کے اپنی ٹیچنگ جاری رکھی۔ ہیڈ ٹیچر نے اپنی مصروفیات روکے بنا ہمیں دو گھنٹے بعد ملنے کا وقت دیا جس پر ہم اسے نہ مل سکے۔ کلاس روم میں ایک دیوار کے ساتھ الماری میں ڈبے بنے تھے جہاں بچوں کی محض چند ایک کتابیں کاپیاں تھیں اور مارکر وغیرہ۔ ایک کونے میں لکڑی کا ایک زرافہ کھڑا تھا جس کے منہ کو کھولا جا سکتا تھا۔ ہم اسے بچوں کا دل لبھانے کا کوئی تردد سمجھتے رہے جس کا مقصد تب پتہ چلا جب ٹیچر نے ایک بڑا سا برش بیٹے کو تھما کر اس کے دانتوں پر برش کرنے کا کہا۔ اس پیریڈ کے بعد بچوں کا فٹ بال کے کھیل کا وقت تھا وہاں میں نے اجازت لے کر وڈیو بنائی جو آج بھی میرے پاس موجود ہے۔ ج

ہاں اس قدر روزمرہ معاملات کی تربیت پر زور ہوتا ہو گا وہاں پہلی دوسری کلاس کے بچوں کو دس دس مضامین کیسے پڑھائے جا سکیں گے؟ اگر میں صرف پولینڈ کے تعلیمی نظام کا احاطہ کرنا چاہوں تو کم از کم ایک کتاب لکھنا پڑے گی۔ پاکستان کے نظام تعلیم خصوصا” بھٹو کے تعلیم کو 1974 میں قومیا لینے کے بعد سے اب تک کی تباہ کن صورتحال تو آپ سب بخوبی جانتے ہی ہونگے۔ اس لئے اسکی تفصیل میں جائے بغیر آپ بآسانی یورپ کی ترقی اور اپنی نااہلی کا موازنہ کر سکتے ہیں۔ بقول ایک دوست "جو لوگ ہمارا سکول سسٹم چلا رہے ہیں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو ذہنی مریض، زندگی میں ناکام، پڑھنے کے معاملے میں انتہائی نکمے، بیوی سے نہیں بنتی یا ماں باپ کے گستاخ ہیں” گو کہ یہ تبصرہ مکمل درست نہیں مگر ہمارے ناکام نظام تعلیم کی غمازی ضرور کرتا ہے۔

کالم از ڈاکٹر سلطان محمود