بلاگ

” حلال تعلیمی تشدد "

میں نے پہلی بار قرآن پاک محلے کی ایک خالہ جی سے پڑھا تھا شاید سات برس سے بھی کچھ کم عمر میں ۔ پھر گاوں میں لڑکیوں کا مدرسہ بنا تو دوسری مرتبہ وہاں پڑھا ۔ مگر وہاں بھی تجوید سیکھنے کی سعادت سے محروم ہی رہی۔ دل میں بہت شوق تھا کہ اچھے لہجے میں تجوید کے ساتھ قرآن پاک پڑھنا سیکھوں ۔ کوئی نو دس برس کی ہوں گی جب ایک دن یونہی ابو جی سے کہا کہ میرا دل کرتا ہے مسجد کے قاری صاحب کے پاس قرآن پڑھوں ۔ وہ فورا ہی نا صرف مان گئے بلکہ اگلے ہی روز مجھے شام میں ساتھ لے کر مسجد چلے گئے ۔ قاری صاحب سے بات کی اور مجھے وہاں چھوڑ کر چلے گئے ۔ قاری صاحب نے پہلے تو میرا ٹیسٹ لیا اور میرے مجہول پڑھنے کی وجہ سے مدرسے کی خواتین ٹیچرز کی شان میں کچھ سنہری الفاظ کہے ۔ خیر پھر مجھے بھی وہاں بیٹھی چند لڑکیوں کے پاس جا کر بیٹھ جانے کو کہا ۔ لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کافی کم تھی ۔ ادھر لڑکے باری باری آ کر سبق سنانا شروع ہوئے ادھر قاری صاحب کا چہرہ لال اور ہاتھ متحرک ہونا شروع ہو گئے ۔ دے چماٹ پہ چماٹ لڑکوں کے سر کمر اور کنپٹی پہ پڑنا شروع ہو چکے تھے ۔ میں سپارے پہ دھیان لگانے کی کوشش کرتے بیٹھی رہی اور پہلا دن ہونے کی وجہ سے جلدی چھٹی ملنے پر جلدی سے گھر کو بھاگی ۔ اگلے دن پھر بڑے جوش سے مقررہ وقت پر سپارہ پکڑے مسجد پہنچ گئی اور لڑکیوں کی مختصر سی قطار میں بیٹھ گئی ۔

آج بھی جونہی لڑکوں نے سبق سنانا شروع کیا تو ساتھ ہی تھپڑوں کی بارش بھی شروع ہو گئی ۔ خیر دل کو مضبوط رکھا اور تیسرے دن بھی ہمت کر کہ چلی گئی۔ آج جو کچھ میں دیکھنے والی تھی اگر پہلے پتہ چل جاتا تو شاید میں چھٹی ہی کر لیتی ۔
ہوا کچھ یوں کہ ایک لڑکا سبق سنانے قاری صاحب کے پاس پہنچا تو قاری صاحب نے اس سے پچھلے کچھ دن نہ آنے کی وجہ پوچھی ۔ اس کی بتائی وجہ شاید انہیں کچھ خاص پسند نہیں آئی جبھی ایک لڑکے کو آواز دے کر اندر سے کچھ لانے کو کہا ۔ پھر اس لڑکے کو پیٹ کے بل لٹا کر پانی والی ربڑ کی پائپ سے اس کی کمر اور کولہوں کو خوب پیٹا ۔ وہ بیچارہ ہاتھ جوڑ جوڑ معافیاں مانگتا جاتا اور ہر پڑنے والے پائپ پر ہائے اماں ہائے اماں کی آواز نکالتا ۔ پتہ نہیں اور کتنی مار اسے پڑتی کہ مسجد کے دروازے کی طرف سے شور سنائی دیا ۔ قاری صاحب نے بادل ناخواستہ اس مسکین کو اٹھنے کا اشارہ کیا اور دوبارہ سے اپنی توانائی بحال کی ۔ مسجد میں ایک بڑی عمر کا لڑکا ایک نوجوان کے ساتھ داخل ہوا تھا ۔

” ہاں اوئے حیدرے ۔۔ کی گل اے ” ( ہاں بھئی حیدر ۔۔ کیا بات ہے ) ۔ قاری صاحب نے رخ روشن حیدر عرف حیدرے کی جانب کیا۔ ” قاری جی ۔۔ یہ گھر سے مسجد کا کہہ کہ نکلتا ہے مگر یہاں آتا ہی نہیں ۔ آج پکڑ ہی لایا ہوں "حیدرے سے پہلے اس کے ساتھ موجود اس کا کزن احسان بولا تھا جو خود بھی اسی مسجد میں قرآن پاک حفظ کر رہا تھا ۔
” ایہہ گل اے ۔۔ پا فیر انہوں لمیاں ۔۔ میں دسناں انہوں اج”( یہ بات ہے ۔۔ لٹاو زرا اسے نیچے ۔۔ میں بتاتا ہوں اسے آج)

قاری صاحب نے آستینیں اوپر کی جانب فولڈ کیں اور پائپ سنبھال کر کھڑے ہو گئے ۔ پھر پوری مسجد میں پائپ کی ٹھا ٹھا اور حیدر کی دہائیاں تھیں ۔ جب قاری صاحب کا جی بھر گیا تو حیدرے کے کزن کو نیا حکم جاری کیا گیا ۔
"او احسان۔۔ اندروں سنگل لے کے آ” (احسان ۔۔ اندر سے زنجیر لے کر آو) قاری صاحب سانس ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دوبارہ اپنی جگہ پر آ بیٹھے ۔

احسان صاحب اندر سے لوہے کی موٹی سی زنجیر لے کر آ گئے۔ ایک ستون کے ساتھ "سنگل” ڈال کر حیدرے کے دونوں پاوں باندھ کر موٹا سا تالہ لگا دیا گیا اور چابی قاری صاحب نے اپنی جیب میں ڈال لی ۔” ہن ایتھوں نس کے دس پتر” ( اب یہاں سے بھاگ کر دکھاو بیٹا) ۔۔ قاری صاحب نے ایک فخریہ نظر حیدرے پہ ڈالی اور دوسرے بچوں کی جانب متوجہ ہو گئے۔
میری تو جیسے جان نکلنے کو تھی ۔ میری امی مرحومہ تو چٹی انپڑھ تھیں اور ابو بھی کچھ ذیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے مگر ہمارے گھر میں بچوں کو مارنے والا ماحول نہ تھا۔ میرے سچ میں رونگھٹے کھڑے ہو گئے تھے یہ منظر دیکھ کر ۔

اس دن گھر آ کر میں نے ابو جی کو بھی ساری بات بتائی ۔ انہوں نے تسلی دی کہ لڑکے تنگ بہت کرتے ہیں اس لئیے انہیں ایسے مار پڑتی ہے۔ لڑکیوں کو نہیں مارتے وہ ۔ مگر دل میں اتنا خوف تھا کہ اگلے دن میں نے مسجد سے چھٹی کر لی۔ شام ڈھلے مسجد میں میرے ساتھ بیٹھنے والی لڑکی آئی اور کہنے لگی کہ تم کیوں نہیں آئیں آج ۔ قاری صاحب تمہارا پوچھ رہے تھے ۔ اب میری یہ حالت کہ رات کو خواب میں بھی وہ پائپ اپنی کمر پہ پڑتے محسوس ہوتے رہے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے دن میں نے ہمت کر کہ ابو جی سے کہہ دیا کہ میں آج سے مسجد نہیں جاوں گی ۔

صرف تین دن میں قاری صاحب کے ہاتھوں پٹتے لڑکوں کو دیکھ کر میں میں تجوید سیکھنے کے شوق سے دستبردار ہو گئی ۔ مگر وہ مناظر اب تک میرے ذہن میں جوں کے توں محفوظ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ۔ کیا وجہ ہے کہ حیدر اور اس جیسے دوسرے بچے جھوٹ بول کر پڑھنے کے وقت پر مسجدوں سے غائب رہتے ہیں ؟ یہی مار پیٹ اور خوف ۔ جب آپ گائے بھینس کی مانند کسی کو لوہے کی زنجیر سے باندھ کر، ربڑ کی پائپ سے پیٹ پیٹ کر اسے قرآن یاد کرانے یا پڑھانے کی کوشش کریں گے تو کیا وہ اللہ کی کتاب سے ویسی محبت کر پائے گا جیسی اسے کرنی چاہئیے؟ کیا وہ ویسے سیکھے گا جیسے سیکھنے کا ادے حکم دیا گیا ہے ؟ اور ذمہ دار کون ہو گا اس سب کا پھر ؟

بھلا جس کتاب کو پڑھنے سے پہلے پڑھنے والا پڑھتا ہو کہ ” "اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ” اسے پڑھانے سکھانے والے کیوں جلاد بن جاتے ہیں ؟ کیا تشدد اور مارپیٹ کے ذریعے آپ کسی کے دماغ میں کچھ ڈال سکتے ہیں ؟ نہیں ۔۔ بلکہ خوف کی وجہ سے تو اچھا خاصا یاد کیا ہوا بھی بھول جاتا ہے ۔ یہ تو تھا مسجد کے قاری صاحب کا واقعہ ۔

دوسری جانب اسکولز بھی ایسے ٹیچرز سے بھرے پڑے ہیں جنہیں لگتا ہے کہ مار پیٹ کرنے سے بچے کا دماغ تیز چلنا شروع ہو جائے گا ۔ "فٹا” لفظ سےتو آپ میں سے بہت سے لوگ واقف ہی ہوں گے ۔ برائے کرم اسے "ف” کے اوپر پیش لگا کر پڑھا جائے ،ورنہ فٹے کی شان میں گستاخی ہوگی۔ یہ لکڑی کا تھوڑا لمبا مگر کم چوڑا اسمارٹ سا ہموار اور مضبوط ٹکڑا ہوتا ہے اور اکثر اسکولوں کے اساتذہ اسے اسٹوڈنٹس کے ہاتھوں کندھوں کمر اور ٹانگوں وغیرہ پر برسا کر ان میں کوٹ کوٹ کر علم بھرنے کی کوشش کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں ۔ اور بہت بار اس کوشش میں بچے ہاتھ بازو کی ہڈی تک تڑوا بیٹھتے ہیں ۔اور کچھ واقعات میں تو جان کی بازی تک ہار بیٹھے کچھ معصوم پھول۔

اپنی بات کروں تو پڑھائی میں اچھی ہونے کی وجہ سے مجھے مار نہیں پڑی ذیادہ۔ تاہم دو واقعات مجھے اچھی طرح سے یاد ہیں ۔ ایک بار انگلش کا ٹیسٹ تھا ۔ پندرہ نمبر کا کوئی مضمون لکھنا تھا ۔ اب اس میں میری چار غلطیاں ہوئیں اور مس نے گیارہ نمبر دئیے ۔ اور جو چار نمبر کاٹے تھے ان کی جگہ دونوں ہاتھوں پر دو دو فٹے خوب زور زور سے کھینچ کر مارے ۔ وہ فٹے ابھی تک یاد ہیں اور کافی عرصہ تو اس ٹیچر کو دیکھتے ہی ہتھیلیوں پر جیسے مرچیں سی لگنے لگ جاتی تھیں ۔

دوسرا واقعہ کچھ یوں ہیں کہ مجھ سے چھوٹی بہن لاڈلی ہونے کی وجہ سے پڑھائی سے جان چھڑاتی تھی ۔ ایک دن اس نے ہوم ورک نہیں کیا ہوا تھا اور صبح اسکول جانے سے پہلے بیٹھی رو رہی تھی ۔ میں نے لکھائی ذرا خراب کر کہ جلدی سے اس کا ہوم ورک مکمل کر دیا ۔مگر میری قسمت خراب کہ اس کی ٹیچر کو پتہ چل گیا کہ یہ اس نے نہیں لکھا اور ان کے پوچھنے پر اس نے میرا بتا بھی دیا ۔ اب انہوں نے مجھے اپنی کلاس میں بلوا بھیجا ۔ اور مجھ سے چھوٹی کلاس کے بچوں کے سامنے پہلے مجھے خوب لعن طعن کی اور پھر اسی "کثیرالصفات فٹے” سے میرے ہاتھوں پر خوب پیار نچھاور کیا ۔ مجھے یہ دونوں واقعات اور اساتذہ یاد ہیں مگر ان اساتذہ سے میری کوئی دلی وابستگی نہیں رہی کبھی بھی۔

ہاں مجھے ابھی اپنی قرآن کی استاد بہت پسند ہیں جو بچوں بڑوں سب کو بہت شفقت سے پڑھاتی ہیں ۔ ان کی بدولت میری بچپن میں دل میں دب جانے والی خواہش اب پوری ہو رہی ہے اور الحمدللہ میں تجوید سے قرآن پاک پڑھنا سیکھ رہی ہوں۔
مجھے میٹرک کے اپنے میتھس کے وہ میل ٹیچر یاد آتے ہیں جو کہ غصہ آنے پر کلاس سے ہی چلے جاتے تھے کہ مبادا کہیں بچیوں کی کلاس میں کچھ الٹا سیدھا نہ بول ڈالیں ۔ مجھے اپنی پانچویں جماعت سے لیکر ساتویں تک کی ٹیچر بہت یاد آتی ہیں جو ہمیں کبھی نہیں مارتی تھیں ۔ ایک بار کلاس کے بہت تنگ کرنے پر مارا بھی تو بعد میں خود بھی رو پڑیں کہ کیوں مارا میں نے آپ لوگوں کو۔ مجھے میٹرک کی اپنی ٹیچر بھی بہت یاد اتی ہیں جو خود بھی ینگ ہونے کی وجہ سے ہمارے مسائل سمجھنے کی کوشش کرتی تھیں ۔

محبت انسان کو آزاد ہونے کے باوجود باندھ دیتی ہے ۔ ڈر اور خوف ظاہری طور پر تو اگلے کو آپ کا پابند کر سکتا ہے مگر اندر سے بغاوت کو جنم دیتا ہے ۔ باغی انسان جب کمزور ہوتا ہے تو موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ کب غالب آئے اور اپنا بدلہ لے ۔ اور اگر ذرا تگڑا ہو تو موقع پیدا بھی کر لیتا ہے ۔
کل جب ایک نو دس سالہ حسین نامی بچے کی فوٹوز کے ساتھ اس کے قاری صاحب کے ہاتھوں اس کی شہادت پر چھوٹی سی پوسٹ
لکھی تو کچھ افلاطون دماغ لوگ مجھ پر ہی چڑھ دوڑے۔ کچھ کے مطابق تو یہ مارپیٹ لازم ہے تا کہ بچے میں استاد کا خوف پیدا ہو ۔ ورنہ استاد میں بچے کا خوف پیدا ہو جائے گا ۔ جو یہ سوچ رکھتے ہیں ان سب سے صرف ایک سوال پوچھوں گی کہ بچے اور اساتذہ مدرسے اور اسکول میں پڑھنے اور پڑھانے کے لئیے جاتے ہیں یا ایک دوسرے کو ڈرانے اور مقابلہ کرنے کے لئیے ؟ درس و تدریس کے مقدس کام میں یہ ڈر خوف اور ایک دوسرے کو پچھاڑنے کا پہلو آئے ہی بھلا کیوں ؟ کائنات کے بہترین استاد ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور انہوں نے اپنی ساری حیات طیبہ میں اپنے کسی غلام تک کو نہیں ڈانٹا ۔ ان کی ذات سے ہم سب محبت بھی کرتے ہیں اور ان کا احترام بھی سب سے بڑھ کر کرتے ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے اپنی اسوہ حسنہ سے ہمیں محبت کا درس دیا ہے ، خوف کا نہیں ۔

دوسری طرف کچھ لوگ وہ بھی تھے جن کا موقف تھا کہ انہیں بھی اساتذہ سے مار پڑتی رہی ہے اور آج اگر وہ زندگی میں کامیاب ہیں تو اسی مار کی بدولت ۔ تو آپ سب سے معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گی کہ یہ آپ کی بیمار ذہنیت ہے اور کچھ بھی نہیں ۔ بچوں کے ساتھ مارپیٹ کو آپ کسی بھی طرح سے ڈیفنڈ نہیں کر سکتے ۔ لازم نہیں کہ اگر آپ نے مار کھائی تو اب آپ کا بچہ بھی ضرور ہی کھائے خدارا اس مار کٹائی کی مذمت نہیں بھی کرنی تو بھی اسے حلال تعلیمی تشدد کا درجہ تو مت دیں ۔ بچے کے دل میں استاد کا ادب اور قدر پیدا کریں ، خوف اور ڈر نہیں ۔

ادب اور قدر محبت والا احترام کرواتے ہیں جبکہ ڈر اور خوف بغاوت والا احترام سکھاتے ہیں ۔ مدرسہ اور اسکول تو ایسی جگہ ہونی چاہئیے کہ بچوں کا وہاں دل لگے ۔ وہ خوشی خوشی بھاگتے جائیں ۔مگر افسوس کہ ہمارے ہاں منظر بالکل برعکس ہے اور اس سے بھی بڑھ کر افسوس یہ کہ ہم استاد کا دفاع صرف اس لئیے کرتے ہیں کہ وہ ایک مقدس پیشے سے وابستہ ہے ۔ بھلے وہ اس مقدس پیشے کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ پہنچا رہا ہو ۔ مدرسوں اور اسکولوں میں بچوں پر یہ تشدد بہت عام سی بات ہے اور سب ہی اس سے واقف بھی ہیں مگر ہم اس پر بات نہیں کر سکتے کیونکہ ورنہ ہم پر ہی انگلی اٹھ جائے گی ۔لہذا بہتر یہی ہے کہ آنکھیں بند کر کہ سب اچھا اچھا کی گردان کہے جاو ۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے بلی چلی نہیں جاتی ، بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید قریب آ جاتی ہے ۔ بھلائی اسی میں ہے بلی کے منہ کھولنے سے پہلے ہی اپنی آنکھیں کھول کر کوئی ایسی تدبیر کی جائے کہ استاد اور طالبعلم کے مابین محبت اور احترام کا رشتہ استوار کیا جا سکے ۔
تحریر : خدیجہ_افضل مبشرہ

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment