اُردو صفحہ فیس بُک پیج

ادب اسلام

اندھا، بہرا اور ننگا

فریب ستان کے ہوس والے علاقے میں تین قسموں کے آدم زاد رہتے تھے۔ 1۔ ان میں سے ایک کی نظر اتنی تیز تھی کہ چیونٹی کے پاؤں تک دیکھ لیتا تھا، لیکن وہ دل کی آنکھوں سے اندھا تھا۔ 2۔ دوسرا بہت تیز سننے والا تھا، لیکن اس کے دل و دماغ کے کان بند تھے۔ 3۔ تیسرا مادر زاد ننگا تھا، لیکن اس کے کپڑوں کے دامن بڑے دراز تھے۔ سمجھنے والے کو شاید ’’اس ویرانے سے کوئی خزانہ ہاتھ آجائے‘‘

ایک دن اندھے نے کہا: ’’یاور، آدمیوں کا ایک گروہ چلا آرہا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ نقصان پہنچائیں، ہم یہاں سے بھاگ جائیں۔ بہرے نے کہا ’’ہاں ہاں، تو ٹھیک کہتا ہے، میں بھی ان آدمیوں کے قدموں کی آہٹ سن رہا ہوں، معلوم ہوتا ہے خاصی بڑی جماعت ہے۔‘‘ ننگے نے گھبرا کر کہا: ’’بھائیو! مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ کہیں میرے قیمتی کپڑے ہی نہ لے لیں۔‘‘ اندھے نے کہا کہ لو وہ قریب آگئے ہیں، ان کے ارادے بھی کچھ اچھے نہیں لگ رہے، کہیں ایسا نہ ہو وہ ہمیں نقصان ہی پہنچا دیں۔ بہرے نے کہا کہ آواز نزدیک آتی جا رہی ہے، ہوشیار ہو جاؤ۔ ننگے نے کہا: بھا گو بھاگو، میں سب سے زیادہ خطرے میں ہوں…

تینوں آگے پیچھے دوڑتے بھاگتے شہر سے باہر پانپتے ہوئے ایک گاؤں کے قریب پہنچ گئے۔ بھوک کے مارے ان کا برا حال ہو رہا تھا۔ اندھے نے ایک موٹا تازہ مرغا دیکھا۔ بہرے نے اس کی آواز سنی اور ننگے نے اس کو پکڑا کر اپنے دامن میں چھپالیا۔ یہ مرغ کافی عرصے سے مرا پڑا ہوا یہاں خشک ہو چکا تھا۔ اس کے مردہ جسم پر گوشت نام کی کوئی چیز نہ تھی، اس کی ہڈیوں پر کوے کی چونچوں کے نشان تھے۔
پھر یہ تینوں ایک دیگ ڈھونڈ کر لائے، جس کا نہ پیندا تھا اور نہ منہ، اس ہوس کی دیگ کو انہوں نے چولہے پر چڑھا دیا اور اس میں اس فربہ مرغ کو ڈال دیا، پھر انہوں نے ظلم و زیادتی کی اس قدر آگ جلائی کہ مرغ کی ہڈیاں گل کر حلوہ بن گئیں۔ البتہ ان کے ضمیر کو حرارت چھو کر بھی نہ گئی۔ وہ تینوں اس مرغ پر ٹوٹ پڑے اور کھا کھا کر ہاتھی کی طرح موٹے ہوگئے۔ مگر ذہنیت ان کی اتنی پست تھی کہ وہ ظالم موٹاپے کے باوجود بے شرمی کے دروازے کے باریک سوراخوں سے بھی آسانی کے ساتھ گزر جاتے تھے۔

مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ ’’صلائے عام ہے یاران نکتہ دان کیلئے‘‘ جھوٹی امید کی مثال بہرے کی ہے، جو دوسروں کے مرنے کی خبر تو سنتا ہے، مگر اسے اپنی موت یاد نہیں۔ حرص و ہوس کی مثال اندھے کی ہے، جو دوسروں کے ذرا ذرا سے عیبوں پر نظر رکھتا ہے، ان کی تشہیر کرتا پھرتا ہے، مگر اس بد نصیب کو اپنے عیب نظر نہیں آتے۔ تیسرا سب سے بڑا بے وقوف دنیا پرست آدمی ہے۔ یہ ظالم بھول گیا ہے کہ وہ دنیا میں ننگا آیا اور ننگا ہی دنیا سے جائے گا۔ اس کو ساری عمر یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں کوئی میرا دامن ہی نہ چاک کر ڈالے۔ میرا کوئی پول نہ کھول دے، حب مال اس کے رگ و پے میں اترا ہوا ہوتا ہے۔ ساری زندگی چور کے خوف سے اس کا جگر خون ہو ہو کے گھلتا رہتا ہے۔ ایسے آدمی کو ’’موت‘‘ کے وقت سب کچھ پتا چل جائے گا۔ صاحب مال سمجھے گا کہ وہ تو بالکل مفلس تھا اور صاحب فہم و ذکاء کو محسوس ہوگا کہ وہ بالکل بے ہنر تھا۔

دنیا پرستوں کو حرص نے اندھا اور بہرا کر رکھا ہے۔ یہ دنیا پرست حلال و حرام کا لحاظ کئے بغیر دونوں ہاتھوں سے اپنا دوزخ بھرتے رہتے ہیں۔ حیرانگی کی بات ہے کہ ان سب کو پتا ہے کہ ایک نہ ایک دن مرنا ضرور ہے۔ یہ جو ہم دونوں ہاتھوں سے سمیٹ رہے ہیں، ان میں سے ایک چیز بھی ہمارے ساتھ نہیں جائے گی اور جس چیز نے ساتھ جانا ہے، اس کا ہمیں کوئی پتا نہیں۔ اس سرائے (دنیا) میں کئی نسلیں ٹھہریں اور پھر اپنے اصلی وطن کو لوٹ گئیں۔ مگر ان عقل کے اندھوں کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ جہاں عارضی رہنا ہے، ہم اس کا بندوبست بڑے اہتمام کے ساتھ کر رہے ہیں اور جہاں دائمی رہنا ہے، وہاں کی انہیں کوئی خبر ہی نہیں۔