بلاگ

حادثات اور ہمارا رویہ

جب سے تیزگام کی جلتی بوگیاں دیکھی ہیں بہت کرب دکھ اور تکلیف میں ہوں۔ میرے علاقے میں یہ تیسرا بڑا عمومی اور دوسرا بڑا ٹرین حادثہ ہے۔ کب سے سوچ رہا تھا کہ قلم اٹھاٶں یا نہیں؟ یقیناً چُپ رہنا ایک نا انصافی ہوگی۔ لیاقت پور ٹرین حادثے کی دو وجوہات پیش کی جا رہی ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ گیس سلنڈر پھٹنے سے ہوا ہے اور اسکے ذمے دار مسافر ہیں۔ جبکہ عینی شاہدین کے مطابق یہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا ہے جسکی ذمہ دار حکومت ہے۔ سچ کیا ہے یہ تو میرا رب ہی جانتا ہے لیکن جو بھی ذمہ دار ہے اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہیٸے اور پاکستان ریلوے کو حادثات سے بچنے کے لیٸے قوانین سخت کرنے چاہیٸیں۔ اس سے قطعِ نظر کہ ذمہ دار کون ہے ، سوچنے کی بات یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد ١٥ منٹ تک ٹرین چلتی رہی اور ڈراٸیور کو پتہ ہی نہ چلا۔

دوسری جانب حادثہ جس جگہ ہوا وہاں قریب کوٸی بھی برن سنٹر نہیں ہے۔ جھلسنے والوں کو پاک فوج نے اٸیر ایمبولینس کے ذریعے ملتان شفٹ کیا۔ یعنی کے قریب ترین برن یونٹ بھی کوٸی چار گھنٹے دور تھا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ لیاقت پور ہسپتال جہاں مریضوں کو ابتداٸی طبی امداد کے لیٸے منتقل کیا وہاں کوٸی نسلٹنٹ ڈاکٹر میسر نہ تھا۔ ECG مشین خراب اور پلس اوکسیمیٹر و Laryngoscope سِرے سے ہی موجود نہ تھا۔ اسی ضلع میں پچھلی بار جب صادق آباد کے قریب ٹرین حادثہ ہوا تھا تو بوگیاں کاٹنے کے لیٸے کٹر بھی دستیاب نہ تھے۔ مجال ہے جو حکومت نے اس طرف توجہ کی ہو۔ حادثے ہر ملک میں ہوتے ہیں لیکن میرا پواٸنٹ یہ ہے کہ ان حادثوں پر اقدامات کیا اٹھاٸے جاتے ہیں؟

زندہ اور ترقی یافتہ قومیں ان حادثات کی شفاف انکواٸری کروا کر ان کی وجوہات تک جاتی ہیں اور پھر انہیں جڑ سے ختم کرتی ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں پہلے بلیم گیم کھیلی جاتی ہے۔ پھر میڈیا ٹاکس، کمیٹی بنانا، سیاستدانوں کے اسپتالوں کے دورے کرنا اور امدادی رقم کا اعلان کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد خزانہ خالی ہونے کا رونا رو کر فاٸل بند کر دی جاتی ہے اور ہم ساری زندگی اس حادثے کی برسی مناتے ہیں۔ لیکن ایسے حادثے ان کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جن کا کوٸی اپنا کوٸی پیارہ اس میں چلا جاتا ہے۔

یہاں ٹیکنیکل فالٹ کو درست کرنے کے لیٸے کوٸی اقدام نہیں کیا جاتا۔ یہاں انفراسٹرکچر کو بہتر نہیں کیا جاتا۔ یہاں ذمہ دار اگر طاقتور ہو تو اسے سزا نہیں دی جاتی۔ یہاں صرف ماتحتوں کی معطلیاں ہوتی ہیں۔ اور بس آخر کیوں؟ کب تک؟ کب تک یہ ملک قدرتی آفات اور ایسے سانحات سے اس طرح جونجھتا رہے گا۔؟ ہماری ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کب فعال ہوگی؟ اس حکومت سے اب کوٸی امید تو ہے نہیں بس اللّٰہ سے یہ دعا ہے کہ ہمیں عقل و شعور عطا کرے اور تمام فوت شدگان کی بخشش فرماٸے آمین۔