معلومات

گریٹ آک ۔ اصلی پینگوئن

اپنے دورِ عروج میں ایک بڑا پرندہ ناروے سے لے کر نیوفاونڈلینڈ تک اور اٹلی سے فلوریڈا کے درمیان پایا جاتا تھا۔ چھوٹے پر اور اڑ نہیں سکتا تھا لیکن پانی میں بڑی تیررفتاری سے تیرا کرتا تھا۔ یہ کئی ملین کی تعداد میں تھے۔ جب آئس لینڈ میں پہلی مرتبہ لوگ پہنچے تو یہ ان کی عام خوراک تھی۔ دسویں صدی کے کچرے میں اس کی باقیات ملتی ہیں۔ خاموشی سے اس کے پیچھے جائیں، سر پر ڈنڈا رسید کریں اور کھانے کا بندوبست ہو گیا۔

مقامی امریکی (ریڈ انڈین) اور قدیم یورپی اس کو کھایا کرتے تھے۔ کینیڈا میں ایک قدیم قبر میں اس کی سو چونچیں ملی ہیں۔ مقامی امریکی چیف جس کا لباس بنانے کے لئے دو سو پرندوں کی کھالوں کو استعمال کیا گیا۔ ڈنمارک، سویڈن، سپین، اٹلی اور جرالٹر کی آرکیولوجیکل سائٹ پر اس کی باقیات پائی گئی ہیں۔ جب تک لوگ آئس لینڈ تک پہنچے، اس وقت تک شکار ہو جانے کی وجہ سے یہ اپنے دورِ عروج کی تعداد تک نہیں رہا تھا اور پھر ان کا بڑا قتلِ عام شروع ہو گیا۔

سولہویں صدی میں یورپی ملاحوں میں نیوفاونڈلینڈ جانا شروع کیا۔ راستے میں گلابی گرینائٹ کا پچاس ایکڑ کا جزیرہ تھا۔ بہار میں یہ پرندوں سے بھرا ہوتا، جو کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہوتے۔ کچھ تو گینٹ اور گوئیلموٹ تھے لیکن زیادہ تعداد گریٹ آک کی تھی۔ اپنے سفر کے آخر میں جب ان ملاحوں کا راشن ختم ہو رہا ہوتا تھا، یہ تازہ گوشت للچانے والی چیز تھا۔ اور اس جزیرے سے جس قدر آسانی سے پکڑے جاتے تھے، یہ ان کے ایک سٹاپ بن گیا۔

فرانسیسی مہم جو کارٹیئے 1534 میں لکھتے ہیں۔ “یہ ہمیشہ پانی میں ہوتے ہیں۔ اڑ نہیں پاتے اور اس قدر موٹے اور لذیذ کہ مزا آ جاتا ہے۔ آدھ گھنٹے میں ہم نے اتنے پکڑ لئے کہ نہ صرف ہم سب نے سیر ہو کر کھائے بلکہ نمک لگا کر ہم نے چھ پیپے بھی بھر لیے تا کہ بعد میں کھائیں گے”۔ برطانوی کپتان رچرڈ وہٹ بورن کی 1622 کی ڈائری سے، “ہم ایک وقت میں سینکڑوں لے جاتے ہیں۔ اس قدر معصوم اور آسانی سے پکڑا جانے والا، جیسے یہ صرف ہمارے لئے ہی اتارا گیا ہو اور ہمارے انتظار میں ہو”۔ اگلی کچھ دہائیوں میں یہ جزیرہ خالی ہونا شروع ہو گیا۔

گریٹ آک کا استعمال ہر طریقے سے کیا گیا۔ مچھل پکڑنے کے لئے چارے کے طور پر، پروں سے تکیے اور گدے بھرنے کے لئے، ایندھن کے طور پر۔ اس جزیرے پر پرندے افزئشِ نسل کے لئے مئی اور جون میں آیا کرتے۔ پانی میں یہ پکڑے نہیں جاتے تھے لیکن یہ وقت ان کی کمزوری کا تھا۔ ان کو جال بچھا کر پکڑ لیا جاتا۔ (ان کو رکھنے کی جگہوں اور پھندوں کی باقیات آج بھی اس جزیرے پر ہیں، اس جزیرے کو فنک آئی لینڈ کہا جاتا ہے)۔

ان پکڑے گئے پرندوں کو بعد میں وقت ملنے پر ذبح کر دیا جاتا تھا۔ کئی بار اس سے بھی برا جیسا کہ آرون تھامس کی یادداشت سے ملتا ہے، “ان کے پر اتارنے ہوں تو ان کو مارنے کی محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کو پکڑ کر ان کے بہترین پر اتارتے جائیں۔ یہ زیادہ مزاحمت نہیں کر پاتا۔ بہت ہی نفیس پر ہیں۔ جب اچھے پر حاصل کر لیں تو آدھے ننگے پرندے کو چھوڑ دیں۔ یہ خود ہی اپنے وقت پر مر جائے گا”۔ اس جزیرے پر درخت نہیں تھے۔ ایندھن کے لئے کسی چیز کی ضرورت تھی تو تھامس کی یادداشت میں ہمیں آگے یہ پتا لگتا ہے کہ یہ ایندھن کہاں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ انہی پرندوں کے تیل سے۔ ان کو پکانے والی آگ انہی کے جسم کے تیل سے جلائی جاتی تھی۔

ان کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ اس جزیرے پر دو سو سال کا شکار برداشت کر گئے۔ صرف اس ایک جزیرے سے خاصل کردہ گریٹ آک کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ ان کے پروں کی اس قدر مانگ تھی کہ لوگوں کی ٹیمیں پوری گرمیاں یہاں پر گزار کر ان کے پر اتارا کرتی تھیں۔ ان کے ایک اور بدقسمتی یہ تھی کہ یہ سال میں صرف ایک انڈا دیتے تھے۔ بڑھنے کی رفتار تیز نہ تھی۔ اٹھارہویں صدی تک ان کی تعداد میں کمی نمایاں ہونے لگی۔ 1785 میں برطانوی تاجر جارج کارٹ رائٹ لکتے ہیں، “مجھے خدشہ ہے کہ اگر یہ سب نہ روکا گیا تو کہیں یہ ختم ہی نہ ہو جائیں”۔ جب تعداد ایک خاص حد سے کم ہو جائے تو پھر نسل آگے نہیں بڑھ سکتی (اس کو الی ایفیکٹ کہتے ہیں)۔ شمالی امریکہ میں یہ 1800 میں ختم ہوئے۔ اس سے تیس سال بعد جب جان جیمز آڈوبون پرندوں پر اپنی کتاب لکھنے کے لئے اس جزیرے پر انہیں ڈھونڈنے پہنچے تو ان کو یہ پرندہ نہیں ملا۔

فنک آئی لینڈ سے گریٹ آک کو نمک لگا کر، پر نوچ کر اور ڈیپ فرائی کر کے ختم کر دیا گیا تو ابھی بھی ان کی ایک بڑی کالونی باقی تھی جو ایک اور جزیری گریٹ آک سکیری میں تھی جو آئس لینڈ سے تیس میل جنوب مغرب میں واقع تھا۔ 1830 میں پھٹنے والے آتش فشاں نے اس جزیرے پر ان کی آبادی کو ختم کر دیا۔ ایک اور چھوٹا سا جزیرہ ایلڈی ان کی آخری پناہ گاہ بچ گیا تھا۔ ایلڈی آئی لینڈ انسانوں کے پہنچنے کے لئے بڑا مشکل ہے۔ اس کے لئے بہت اونچی چٹان پر چڑھنا پڑتا ہے۔ کیا اس چھوٹی سے پناہ گاہ میں یہ انسانوں سے بچ کر باقی رہ سکتے تھے؟ نہیں، اب ان کو نئے خطرے کا سامنا تھا۔ یہ نایاب ہو گئے تھے۔ اور ان کی موت کا اگلا چیپٹر ان کی نایابی تھا۔ نایاب چیزیں اکٹھے کرنے والے شوقین ان کے لئے بڑی قیمت دینے کو تیار تھے اور اس قیمت کو حاصل کرنے کے لئے ان کو پکڑنے والے ان کی تلاش میں تھے۔ جس طرح نایاب ہوتے گئے، اس طرح ان کی قیمت بڑھتی گئی۔

کاونٹ ریبن کو اس نایاب پرندے کی کھالیں اکٹھی کرنے کا شوق تھا۔ اس شوق کو پورا کرنے والے ان کی بھیجی ہوئی ایک ٹیم ایلڈی پہنچی۔ گریٹ آگ کی آبادی کم ہوتے ہوتے اب آخری جوڑے تک رہ گئی تھی۔ اس جزیرے پر دو پرندے اور ان کا انڈا تھا۔ انسانوں کو دیکھتے ہی اس جوڑے نے دوڑ لگائی۔ لیکن زمین پر دوڑنا ان کی مہارت نہیں تھی۔ یہ سست تھے، پکڑے گئے۔ اس بھاگ دوڑ میں ان کا انڈا کسی کے پیروں تلے آ کر کچلا گیا۔ 1844 گریٹ آک کا زمین پر آخری سال تھا۔

برطانیہ کے دو نیچرلسٹ 1858 میں یہاں پر پہنچے۔ یہ والیس اور نیوٹن تھے۔ انہوں نے آئس لینڈ اور اس کے قرب و جوار میں گریٹ آک کی بہت تلاش کی۔ بہت سے لوگوں سے بات کی جس میں آخری شکار کرنے والی یہ ٹیم بھی تھی۔ یہ سب کچھ ریکارڈ کیا۔ والیس تو برطانیہ واپس پہنچنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد انتقال کر گئے لیکن الفریڈ نیوٹن نے اپنے ٹرپ کی تفصیل لکھی اور نتیجہ نکالا کہ گریٹ آک اب دنیا میں نہیں رہا۔ زندگی کا یہ باب ختم ہو گیا ہے۔

اس سے نیوٹن نے ایک اور نیتجہ نکالا کہ برطانیہ کے جزائر میں بھی اسی طرح بہت سے پرندے خطرے میں ہیں۔ اگر کچھ نہ کیا گیا تو یہ بھی نہیں رہیں گے۔ ان کی برطانوی ایسوسی ایشن میں کی گئی تقریر، “جس پرندے کو ہم شکار کر رہے ہیں، وہ بچوں کے والدین ہیں۔ ہم اس وقت شکار کر رہے ہیں جب ان کی زندگی کا اہم اور نازک مرحلہ ہے۔ نہ صرف ان کو مار رہے ہیں، بلکہ ان کی اگلی نسل جنکا انحصار ان والدین پر ہے، وہ بھی زندہ نہیں بچ پائیں گے۔ اگر یہ ظلم نہیں، تو پھر ظلم کیا ہے؟” نیوٹن کی کوششوں سے افزائشِ نسل کے موسم کے دوران پرندوں کے شکار پر پابندی عائد ہوئی۔ ان کی کوششوں سے دنیا میں پہلی بار پرندوں کی حفاظت کے لئے قانون منظور کیا گیا۔ گریٹ آک کو پنگوئن بھی کہا جاتا تھا۔ جب انسان اینٹاریٹیکا پہنچے تو انہوں نے ایک اور پرندہ دیکھا جو عجیب سا تھا، موتا تھا، اڑ نہیں سکتا تھا، تیر بہت اچھا لیتا تھا۔ گریٹ آک کی طرح کے اس پرندے کو پنگوئن کہا گیا۔ اس کے ساتھ اصل پنگوئن والی کہانی نہیں دہرائی گئی۔