ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

ہو ئی صنفِ نازک دھواں دھواں

 

کو ئی لڑکی سگریٹ نوشی کو ڈپر یشن کا علاج سمجھتی ہے تو کو ئی اسے بطور فیشن پیتی ہے سگریٹ نوشی اور نشہ انکار ہے ،بغا وت ہے ،سکون ہے ،یا بزعم خود ایک شکست ہے ۔سگریٹ نوشی نے نشے کی لت کو عام کر دیاہے ۔کئی نیٹ ورک ہیں جو تعلیمی اداراوں میں گھر کر چکے ہیں اوراس لعنت کو پھیلا رہے ہیں ۔اس وقت سب سے زیادہ سگریٹ نوشی اور نشہ کا لجز اور یو نیور سٹیز کے گر لز اور بوا ئز ہاسٹل میں کیا جارہا ہے ۔

ایک طالبہ نے کلاس سے فارغ ہونے کے بعد اپنے بیگ سے سگریٹ کی ڈبی نکالی اور سگریٹ سلگا لیا ،اس کی دوست نے ٹوکا تو وہ کہنے لگی …میں سادہ سگریٹ پی رہی ہوں …” وہ والا سگریٹ “ تو میں رات کو سونے سے پہلے پیتی ہوں تاکہ مجھے نیند آجائے ۔سگریٹ اور نشہ ایک نیند ہے ۔پیام مرگ ہے ، لوگ حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے شکشت خوردہ ہیں ۔ ہمارے لئے یہ بہت اچھنبے کی بات ہے کہ عو رتیں سگریٹ پیتی ہیں ،گویا مردوں کو پینا چاہیے ۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ سگریٹ نوشی سے 274 افراد مر جاتے ہیں اتنے خو فناک اعداد وشمار کے باوجود نو جوان میں یہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ علامہ اقبال میڈیکل کا لج کے طلبہ اور پر و فیسر پر مشتمل ایک سروے ٹیم کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے پوش علاقوں کے تعلیمی اداروں کے 16سے 25سال کے 450طلباء و طلبات میں سے 70فیصد شیشہ کیفوں میں شیشہ بھی پینے لگے ہیں جن میں 30فیصد طالبات شامل ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق شیشہ سگر یٹ سے 400گنا زیادہ خطر ناک ہے اور یہ نشے کی بد ترین شکل ہے جس میں کا ربن مو نو آکسائیڈ کی مقدار بہت زیادہ ہو تی ہے ۔

تعلیمی ادارے یا نشئی ادارے : گز شتہ دنوں میڈیا میں یہ افسوسناک خبر آئی ہے کہ قائد اعظم یو نیو رسٹی اسلام آباد میں دو طالبات چرس فرو خت کرتے ہوئے پکڑ ی گئی ہیں جنہوں نے انکشاف کیا ہے کہ گرلز ہاسٹل میں بیشتر لڑکیاں چرس پینے کی عادی ہیں اوراس کی فروخت میں یو نیو رسٹی کے چند ملازم بھی شامل ہیں ۔
عقل مند ارباب اختیا ر نے فوری طور پر ہاسٹل کے گر د باوٴ نڈری کو تجویز کیا ہے لیکن وہ اس بات سے نا واقف ہیں کہ جو طالبات سگر یٹ نوشی کر تی ہیں یا نشے کی عادی ہو چکی ہیں ،ان کو اس طرف کس نے ار غب کیا ہے ؟ایک طالبہ کا کہنا ہے کہ میں نے اس لئے سگریٹ پینا شروع کیا کہ مجھے منہ سے دھواں نکالنا بہت اچھا لگا ، رفتہ رفتہ میری ایک دوست نے مجھے چرس کا عادی بنا دیا ۔

اس کا کہنا ہے کہ نشے سے میں اردگر د کی ہو لناک صورت حال کو بر داشت کرنے کے قا بل ہو جاتی ہوں ،نشہ مجھے سکون دیتا ہے ۔مصباح جمال نے کہا ہے جا معات میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں میں سگریٹ نو شی کا بے تحاشہ استعمال ملک کے حکمران کے لیے لمحہ فکر یہ ہے ،کیو نکہ جس ملک کی بیٹیا ں سگریٹ نوشی جیسی بری عادت کی شکار ہوں وہاں معا شرہ کیا تر قی کرے گا ؟ یہ بری عادت انھیں جرائم کی طرف بھی لے جاتی ہے اوراس طرح ملک کا تعلیم یا فتہ طبقہ غصو معطل بن جاتاہے حکو مت وقت پر لازم ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کی روک تھام کے سلسلے میں بنائے جانے والے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے ۔ 18سال سے کم عمر کو سگریٹ فروخت کرنے پر پا بندی ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا ۔

فیشن میں سب چلتاہے : سگریٹ نوشی موجودہ دور میں بطور فیشن بھی کیا جانے لگا ہے اور اس کے استعمال کو برا نہیں سمجھا جاتا ، یہی وجہ ہے کہ سگریٹ نوشی کی یہ وباء پورے ملک میں اس طرح پھیل چکی ہے کہ شہر کے گلی کو چوں سے لے کر تعلیمی اداروں میں کھلے عام مضر صحت اشیاء کی خرید و فروخت ہو رہی ہے ۔
ڈاکٹر امیمہ جمیل نے اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا” لڑکیا ں آج کل سگریٹ کو فیشن کے طور پر استعمال کر تی ہیں اور جو سگریٹ اور شیشہ کی عادی ہو چکی ہے ، وہ کہتی ہیں کہ فیشن میں سب چلتا ہے ۔میرے خیال سے میڈیا کو سگریٹ کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کو بھر پور طریقے سے اجا گر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی سے تباہ ہونے سے بچا یا جاسکے تاکہ وہ ملک کی تر قی میں اپنا کردار ادا کر سکے “۔

دھوئیں میں ڈِپریشن بھی اڑ جاتاہے : ایک سروے سے یہ بات سا منے آئی ہے کہ زیادہ تر لڑکیاں مایوسی یا ڈپر یشن کو دور کرنے کیلئے سگریٹ نوشی شروع کر دیتی ہیں چو نکہ وقتی طور پر سگریٹ ان کی تکلیف کم کر دیتا ہے اس لیے آہستہ آہستہ یہ سگریٹ نو شی کو عادی ہو تی چلی جاتی ہیں ۔لاہور کا لج میں پڑھنے والی پری میڈیکل کی سٹو ڈنٹ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہم پری میڈیکل میں اچھے نمبروں کے حصول کی جستجو میں رہتے ہیں اور یہ جستجو کب ڈپر یشن میں بدل جاتی ہے ہمیں معلوم نہیں ہو تا ۔
میری دوست نے جب بتایا کہ وہ پڑھائی سے قبل سگریٹ پیتی ہیں تا کہ پڑھائی پر بھر پور توجہ دے سکیں تو میں نے بھی سوچھا کہ شاید سگریٹ سے میری ٹینشن دور ہو اور میں بھی زیادہ اچھی طرح پڑھ سکوں … اب میں جب تک سگریٹ نہ پی لوں مجھے سکون نہیں ملتا ۔ایک سروے کے دوران مختلف لڑکیوں نے سگریٹ کو ڈپر یشن سے چھٹکارے کا سبب قرار دیااور یہی جواز پیش کیا کہ ہم غم بھلانے کی خاطر ایساکرتی ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ زندگی کو موت کی جانب دھکیلنے سے غم کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں ۔

”شیشہ گھروں “کی کشش : حقہ لاوٴنج یا شیشہ بارسب پہلے بر طانیہ اور کینیڈا کے کچھ شہروں میں قا ئم کئے گئے لیکن 2000میں یہ امریکہ کے شہروں لاس ویگاس اور نیو یارک میں بھی قائم ہونا شروع ہو گئے ۔اگر چہ حقہ پینے کی روایت بر صغیر میں صدیوں سے مو جود ہے ۔بر صغیر سے حقہ ایران اور تر کی سے ہو تا ہوا مصر پہنچا لیکن اس کا شیشہ کے روپ میں استعمال نئی صدی میں پروان چڑھا ۔

اب یورپ کے ممالک جر منی ،نیدر لینڈ ،بر طانیہ ،سپین اور شمالی امریکہ کے علاوہ روس اوراب پاکستان میں اس کا استعمال عام ہے ۔نو جوان طلبا اور طالبات کی ایک بڑی اکثریت ” شیشہ گھروں “ کی شوقین ہو رہی ہے ۔شیشہ کیفے کا پر تکلیف اور ومانوی ماحول نو جوان کے لیے بڑا پرُ کشش ہے ۔لڑکیاں گروپ سٹڈی کے بہانے اکثر انہی کیفے ٹیر یازمیں پائی جاتی ہیں ۔

کیف کے دھواں دار اور مبینہ طور پر زہر یلے ماحول میں جو ہو تاہے وہ ایک لمحہ فکر یہ ہے کیونکہ پو لیس کے بقول اب شیشہ گھر جرائم کی نر سریوں میں تبدیل ہو رہے ہیں ۔ایک طالبہ رحما نہ کا کہنا ہے کہ میں شیشہ استعمال کر تی ہو ں ،اس میں بہت سے اچھے فوڈز کے فلیور ہیں او راب یہ ایک سو سائٹی ٹر ینڈ بن چکا ہے ۔مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ پر پا بندی کا باربار مطالبہ کررہے ہیں ،یہ پاکستان میں نہیں بلکہ سعودی عرب و خلیجی ممالک میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے ۔
لاہور کے پوش علاقوں میں قائم ان شیشہ کیفوں میں چرس ،افیون اور کو کین بھی استعمال کی جاتی ہے ۔کو کین کانشہ مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ جان لیوا بھی ہے مگر ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے کے لئے بھی سگریٹ یا شیشہ پیتی ہیں بعدازاں جب انہیں اس کی لت پڑ جاتی ہے تو جان چھڑا نا مشکل ہو جاتی ہے ۔شہر میں سب سے زیادہ شیشہ کیفے ایم ایم عالم روڈ ،جو ہر ٹاوٴن اور گلبرگ میں پائے جاتے ہیں ۔

ان شیشہ کیفے کے مالکان میں بڑی بڑی فیشن ماڈلز ، سنگر ز اور دیگر بااثر شخصیات شامل ہیں ،جن میں خواتین کی بھی خاصی تعداد ہے ۔شیشہ استعمال کرنے والی لڑکیوں کا کہناہے کہ چرس اور کوکین جیسا نشہ شیشہ کے ذریعے استعمال کرنے سے بہت سکون ملتا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ شیشہ کا فلیور کے ساتھ استعمال کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے کیو نکہ اس سے ایک تو بدبو نہیں آتی اور اس کی بُو یا دھوئیں سے کر ایت بھی محسوس نہیں ہوتی ۔
پوش علاقوں میں موجود تھا نوں کے پو لیس افسران کا کہنا ہے کہ شیشہ کیفوں میں چرس ،افیون اورکوکین کااستعمال روکنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ ان کے مالکان اس قدر بااثر ہیں کہ اگر کاروائی کی جائے تو ان کے بڑے بڑے سفارشی سامنے آنے پرہم حیران رہ جاتے ہیں اور ہماری جرات نہیں ہوتی کہ ان سفارشیوں کے خلاف جا سکیں ۔اگر کوئی ہمت دکھانے کی کوشش کرے تو اسے معطل یا تبدیل ہو کر پو لیس لائن میں وقت گزانا پڑتاہے ۔

بھارتی خواتین دوسرے نمبر پر : بھارتی خواتین نے سگریٹ نوشی میں یورپی ممالک کو بھی پیچھے چھو ڑدیا ہے ۔انڈیا میں سگریٹ نوشی کرنے والوں میں مجموعی طور پر کمی جبکہ خواتین سمو کرز کی تعداد میں حیران کن حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ اعداد شمار کے مطابق دنیا بھر میں سگر یٹ نوشی کرنے والی خواتین میں بھارت دوسرے جبکہ امریکی خواتین پہلے نمبر پرہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پہلے 53لاکھ بھارتی خواتین سگریٹ پیتی تھی اب یہ تعداد ایک کروڑ 27لاکھ ہو گئی ہے ۔

حاملہ خواتین بھی سگریٹ کی عادی : سگریٹ نوشی کے نقصانات کی فہر ست بہت طویل ہے مگر پھر اکثر خواتین اپنی ہی آگ میں بخو شی جلتی ہیں ۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ خصوصاََ حاملہ خواتین کے سگریٹ نوشی کے اثرات ان تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایسی خواتین اپنے بچوں کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔
ان خواتین میں سگریٹ نوشی کی وجہ سے نوز ائیدہ بچوں میں پیدائشی کٹے ہو نٹ ، حمل کے دوران پیچیدہ گیوں ،جو ڑوں کا درد اور جسم کی دفاعی صلا حیت میں کمی جیسے مسائل عام ہیں ۔سگریٹ نوشی ذیا بیطس کے علاوہ منہ اور پھیپھڑوں سمیت تیرہ اقسام کے کینسرکا سبب بھی بن سکتی ہے جو سگریٹ کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں ان میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتاہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق تقریباََ 90فیصد اموات کی براہ راست وجہ سگریٹ نوشی ہو تی ہے ۔خواتین سگریٹ کے بے جااستعمال سے اند ھی اور بہری بھی ہو سکتی ہیں ۔امریکہ میں بیماریوں کو کنٹرول اور روک تھام کے ادارے کے ڈائر یکٹر تھامس فریڈن کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی امریکہ میں قبل ازوقت موت کا سبب بننے والی سب سے بڑی بیماری ہے ۔بلکہ یہ اس سے بھی بد تر ہے جتنا ہم اس سے پہلے خیال کرتے تھے ۔

ذمہ دار کون : ہمیں سگریٹ نوشی کی مجموعی صورت حال کو دیکھنا ہوگا … لڑکیاں کیوں سگریٹ نوشی کرتی ہیں ،انہیں کون سی بات متاثر کرتی ہے کہ وہ سگریٹ ہاتھ میں تھام لیتی ہیں ؟ ۔ اس کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی کو فرو غ دینے والے سر چشموں کو بند کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ بعض اوقات قوانین موجود ہوتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو تا ہے ، ان سب کا ذمہ دارکون ہے ۔

تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی اور دیگر مضر صحت اشیاء کی سپلائی کرنے والے عناصر کون سے ہیں ؟ دوسری جانب والدین کی کیا ذمہ داری ہے ؟ کیا والدین کا فرض نہیں کہ بچوں کی حرکات و سکنا ت کا جا ئزہ لیں اور دیکھیں کہ بچوں کی سر گر میاں کیا ہیں ،کہیں وہ نشے جیسی بُری عادت میں تو مبتلا نہیں ہو رہے ؟ بچوں کی سب سے پہلی تر بیت گا ہ گھر ہی ہوتاہے ،اس کے بعد کالج ویو نیو رسٹیز اور ہو سٹلز میں انتظامیہ پر ذمہ دار ی عائد ہو تی ہے کہ وہ طالب علموں کی کڑی نگرانی کریں ورنہ درسگا ہیں نشہ سنٹر زبن گئیں تو ملک ذہنی واخلاقی طور پر دیوا لیہ ہو جائے گا ! !

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...