ظنز و مزاح

گستاخ۔۔ گل نوخیزاختر

میں کافی دنوں سے اشفاق صاحب کی مشکوک حرکات نوٹ کر رہا ہوں۔اشفاق صاحب میرے محلے دار ہیں۔ پانچ وقت کے نمازی ہیں اور ہر نماز مسجد میں ادا کرتے ہیں۔کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے۔ روزے بھی پورے رکھتے ہیں اورمحلے والوں کے دُکھ سُکھ میں بھی شریک ہوتے ہیں ۔بظاہر وہ مسلمان دکھائی دیتے ہیں لیکن جس چیز نے مجھے ان پر شک کرنے پر مجبور کیا وہ ان کا رویہ ہے۔ فیس بک استعمال کرنے کے باوجود انہوں نے آج تک نہ رونگھیا کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف کوئی پوسٹ لگائی ‘ نہ اپنی ڈی پی تبدیل کی اور نہ مذہب کے حوالے سے ’عاشق ‘ہونے کا کوئی بینر لگایا۔پچھلے دنوں عشاق کا ایک قافلہ محلے سے نکلا تھاجو پورے جذبہ ایمانی سے نعرے لگا رہا تھا۔اشفاق صاحب ان کے قریب سے گذر گئے لیکن اتنی توفیق نہ ہوئی کہ ایک چھوٹا موٹا نعرہ ہی لگا دیتے ۔آپ ہی بتائیے کیا ایسے شخص کو سچا مسلمان کہا جاسکتا ہے؟میں نے اپنے محلے کے ایسے لوگوں کی ایک لسٹ مرتب کی ہے جو صرف عمل کی حد تک مسلمان ہیں‘ زبان سے کبھی کوئی توانا اظہار نہیں کرتے۔ایسے لوگوں کا ایمان چیک کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانی چاہیے جو پوری تحقیق کے بعد بتائے کہ کون سا شخص صحیح مسلمان ہے۔میں نے کئی ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو حج کرکے آئے ہیں لیکن نہ کسی مذہبی اجتماع میں شریک ہوتے ہیں نہ جھنڈے لہراتے ہیں۔۔۔ایسے لوگوں کو ’’واچ لسٹ‘‘ میں رکھنا چاہیے کیونکہ محض حج کرلینے سے بھلا کہاں مسلمانیت کی تصدیق ہوتی ہے۔اُن لوگوں سے بھی دوبارہ کلمہ سننا چاہیے جنہوں نے کسی مذہبی لیڈر کی بات سے ذرا سا بھی اختلا ف کیا ہو۔

میں سوچ رہا ہوں کہ اشفاق صاحب کو اپنے پیر صاحب کے حضور پیش کروں ‘ وہی صحیح فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اشفاق صاحب مسلمان ہیں بھی یا نہیں۔میں نے ایک دفعہ باتوں باتوں میں اشفاق صاحب سے پوچھا بھی تھا کہ کیاآپ مسلمان ہیں؟ جواب میں وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے’’الحمدللہ۔۔۔لیکن آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘۔ میں نے بات بدل دی‘ لیکن میرا شک مزید پختہ ہوگیا۔وہ بظاہر ایک مسلمان کے حلئے میں پھر رہے ہیں ‘ ختم نبوتﷺ پر بھی یقین رکھتے ہیں لیکن ہوسکتا ہے اُن کا دل صاف نہ ہو ۔

مجھے یقین ہے اگر وہ ایک دفعہ بھی میرے پیر صاحب کے سامنے پیش ہوجائیں تو اُن کا ظاہر و باطن سب سامنے آجائے گا۔میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ وہ میرے پیر صاحب کے سامنے پیش ہوکر دل کی گہرائیوں سے اپنے گناہوں کی توبہ کریں اور ایک دفعہ۔۔۔صرف ایک دفعہ دوبارہ کلمہ پڑھ دیں۔ اُن کا دل بھی صاف ہوجائے گا اور میرا شک بھی۔ میں نے اس سلسلے میں اُن تک ایک اور محلے دار کے ذریعے اپنی بات بھی پہنچائی لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایمان کے معاملے میں صرف خدا کے سامنے جوابدہ ہوں۔یہ ہوتے ہیں ڈھیٹ لوگ جو خود اپنے دشمن ہوتے ہیں۔ دوبارہ کلمہ پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ثواب ہی ہوگا ناں۔میں نے تو سوچ لیا تھا کہ اگر اشفاق صاحب اپنی ضد نہیں چھوڑتے تو میں عشاق کے ہمراہ اُن کے گھر کاگھیراؤ کروں گا اور اُنہیں مجبور کروں گا کہ وہ پیر صاحب سے اپنے ایمان کی تصدیق کروائیں لیکن پھر ذہن میں آیا کہ کچھ بھی ہو ‘ آخر وہ میرے محلے دار ہیں۔ یہ خیال آتے ہی کل رات میں اُن کے پاس ایک بار پھر حاضر ہوا اور اب کی بار ساری بات نہایت سختی سے بیان کی۔ پہلے وہ تو میری بات سن کر حیران رہ گئے ‘ پھر پوچھنے لگے کہ میں کون ہوتاہوں اُن کا ایمان چیک کرنے والا؟۔ میں نے دانت پیسے اور پورے جذبہ ایمانی سے کہا’’محترم!آپ نے نہ کبھی سینے پر کوئی سٹکر لگایا‘ نہ ہاتھ میں ڈنڈا لے کر دین کی حفاظت کے لیے نکلے‘ نہ سوشل میڈیا پر اپنے ایمان کا اقرار کیا‘ نہ کبھی واٹس ایپ پر دین سے محبت کے ثبوت میں کوئی کلپ بھیجا‘ نہ حج کے دوران اپنی کوئی سیلفی شیئر کی‘ بلکہ آپ کے ڈرائنگ روم میں تو مقدس مقامات کی تصاویر بھی نہیں لگی ہوئیں۔۔۔توکیا آپ پر شک کرنا میرا فرض نہیں بنتا؟۔

انہوں نے گہری سانس لی‘ پھر دھیرے سے بولے’’اگر میں آپ کے سامنے کلمہ پڑھ لوں تو آپ مطمئن ہوجائیں گے؟‘‘۔ میں خوشی سے اچھل پڑا’’چلیں یہ بھی ٹھیک ہے‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ لمحے توقف کیا اور کہنے لگے’’لیجئے کلمہ پڑھ لیا ہے‘‘۔میری آنکھیں پھیل گئیں’’کب پڑھا کلمہ‘ مجھے تو آواز ہی نہیں آئی؟‘‘۔ وہ ہنس پڑے’’میاں کلمہ پڑھنا تھا یا سنانا تھا؟‘‘۔ میں نے مٹھیاں بھینچیں’’ظاہری بات ہے سنانا تھا‘‘۔۔۔اب کی بار وہ سنجیدہ ہوگئے’’پہلے آپ ثابت کیجئے کہ آپ مسلمان ہیں‘‘۔ میرے اندر غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اُن کی یہ مجال ۔۔۔یعنی وہ مجھے چیک کر رہے تھے۔۔۔میں کہ جو پکا ٹھیٹھا مسلمان تھا۔۔۔نماز روزے میں ضرور کوتاہی ہوجاتی تھی لیکن دین سے محبت بھری فیس بک پوسٹیں تو باقاعدگی سے لگاتا تھا۔میں توہزاردفعہ خود کو سچا مسلمان کہہ چکا تھا‘ میں توصیہونی طاقتوں کے خلاف آئے دن طوفانی تقریریں کرتا رہتاتھا‘ جمعہ کی نماز کے وقت محلے کی دوکانیں صرف میں ہی بند کرواتا تھا اور جب تک لوگ جمعہ پڑھ کر آنہیں جاتے تھے میں گلی کی نکڑ پر کھڑا ہوکر فیس بک پر اہل ایمان کو جمعہ کی فضیلت بیان کرتا رہتا تھا۔۔۔اور اشفاق صاحب مجھ ہی سے ایمان کی تصدیق چاہتے تھے؟ اب تو میں نے پکا ارادہ کرلیا کہ اُنہیں ہرصورت پیر صاحب کے حضور پیش کرنا ہے۔پیر صاحب سے اس سلسلے میں بات ہوئی تو انہوں نے مجھے سینے سے لگا کر تھپکی دی اور فرمایا کہ ’’ایسے گستاخ کے خلاف توسخت ایکشن ہونا چاہیے‘‘۔ میری باچھیں کھل گئیں‘ یہی تو میں چاہتا تھا۔میں نے پیر صاحب سے اس کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے اپنے دائیں طرف رکھی ہوئی کالے بکرے کی ایک ’’سری‘‘ میرے ہاتھ میں تھمائی اور کہا کہ ’’جاؤ کچھ مریدین ساتھ لے جاؤ‘ گستاخ کے دروازے پر یہ’’سری‘‘ لٹکادو اور سنگ باری کا مظاہرہ کرو۔ دو تین پتھر اندر کھڑکیوں کے شیشوں پر بھی لگنے چاہئیں تاکہ عقل ٹھکانے آئے۔‘‘میں نے پیر صاحب کے پاؤں چومے اور ’’سری‘‘ تھامے عشاق کا ہجوم لے کر اشفاق صاحب کے دروازے پر پہنچ گیا۔ وہ خوفزدہ ہوکر اندر بھاگ گئے اور دروازہ بند کرلیا۔ الحمدللہ ہم نے پیر صاحب کی ہدایت کے مطابق ان کے شیشے توڑ دیے‘ پتھراؤ کیااور خوب نعرے بازی کی۔اشفاق صاحب نے ون فائیو پر کال کرکے پولیس بلوا لی۔۔۔لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا‘ پولیس بھی جذبہ ایمانی سے سرشار تھی۔

اب اشفاق صاحب ہمارے محلے میں نہیں رہتے۔۔۔کسی دوسرے شہر شفٹ ہوگئے ہیں۔ان کی ایک فیس بک پوسٹ نظر سے گذری جس میں وہ التجا کر رہے تھے کہ’’ خدا کے لیے مسلمانوں کے ایمان پر شک کرنا چھوڑ دیں ‘ جن کے دلوں میں اللہ اور رسولﷺ کی محبت بھری ہوئی ہے اُنہیں ذاتی سرٹیفکیٹ دینے سے گریز کریں۔95 فیصد مسلمان آبادی والے ملک میں اسلام نہیں مسلمان خطرے میں ہے۔‘‘ میں نے اُسی وقت اُنہیں اَن فرینڈ کردیا۔جو شخص میرے پیر صاحب کے سامنے ایمان کی تجدید نہیں کر سکتا وہ جو مرضی کہتا رہے مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔ الحمدللہ ۔۔۔مسلمان تو میں ہوں،نہ کبھی میرے دروازے پر ’’سری‘‘ لٹکتی ہے‘ نہ کوئی پتھراؤ ہوتاہے ‘ نہ مجھے کسی سے ایمان کی سند لینا پڑتی ہے۔۔۔!!!

 

لکھاری کے بارے میں

گل نوخیز اختر

گل نوخیز اخترایک پاکستانی کالم نگار اور مصنف ہیں انہوں نے مختلف ٹی وی شو کے لئے کام کیا ہے،

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment