معلومات

گھوڑا گھوڑی گدھا اور خچر

خچر پہاڑی علاقوں میں بار برداری کے لئے سب سے بہترین جانور تصور کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک جفاکش سخت جان چوپایہ ہے جو باربرداری کے لیے زمانہ قدیم سے کام کر رہا ہے۔ فوجی ٹرک کی ایجاد سے قبل تک فوجوں میں خچر کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ پہلی جنگ عظیم میں خچر سے بہت سے کام لیے گئے۔ ان کی افزائشِ نسل کے لیے انگریزی دور میں ہندوستان میں خاص قسم کے فارم مقرر تھے۔ مزید برآں زمینداروں کو ان کی افزائشِ نسل کے لیے مربعے دیے جاتے تھے۔ جنھیں گھوڑی پال مربعے کہتے تھے۔ یہ زمیندار حکومت کے لیے خچر مہیا کرتے تھے۔ پہاڑی علاقوں میں آج بھی خچر باربرداری کے لئے سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ ہمالیہ کی چوٹی سر کرنے کے لئے جانے والے کوہ پیما جب نیپال پہنچتے ہیں تو ایک خاص حد تک ہی وہ جیپ وغیرہ کے ذریعے پہنچتے ہیں- اس سے آگے کے دشور گزار راستوں سے بیس کیمپ تک پہنچنے کے لئے وہ نیپالی گائیڈز کے ہمراہ خچروں کو ہی استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں بھی خچر باربرداری کے لئے استعمال ہوتا ہے اور پاک فوج بھی باقاعدہ اس مقصد کے لئے خچر پالتی ہے۔اکثر لوگ جانتے ہیں کہ خچر گھوڑی اور نر گدھے کی کراس بریڈنگ سے پیدا ہوتا ہے۔ گھوڑی اور نر گدھے کے جنسی ملاپ سے جو نسل پیدا ہوتی ہے وہ خچر یا ٹٹو کہلاتی ہے لیکن اس میں خود افزائش نسل کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ سائنسی لحاظ سے گھوڑوں میں چونسٹھ کرموسومز ہوتے ہیں، جبکہ گدھے میں باسٹھ ۔ اس طرح دونوں کے جنسی ملاپ سے پیدا ہونے والے بچے میں کرموسومز کی تعداد تریسٹھ ہوتی ہے۔ یہ ایک طاق عدد ہے جو مکمل طور پر تقسیم نہیں ہو سکتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ خچر یا ٹٹو اپنی نسل آگے نہیں چلا سکتے۔ یعنی کہ اگر خچر کسی بچے کو جنم دیتا ہے تو اسے ایک معجزہ تصور کیا جاتا ہے۔سن 1527 سے ایسے واقعات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور آپ کو یہ جان کر یقینا” حیرت ہوگی کہ گزشتہ 500 سال میں ایسے کُل ساٹھ واقعات پیش آئے ہیں کہ جب کسی خچر نے بچہ جنا ہو۔ یعنی قدرت کبھی بھی سائنسی قوانین کو رد کرسکتی ہے۔

بیسوی صدی کی آخری چوتھائی میں ایسے صرف دو واقعات پیش آئے ہیں جب کسی خچر نے بچے کو جنم دیا۔ اس طرح کا پہلا واقعہ مراکش میں سن چوراسی میں پیش آیا تھا جبکہ سن اٹھاسی میں چین میں ایک خچر نے بچہ جناتھا۔ اس قسم کا تیسرا واقعہ ایک بار پھر مراکش کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں اگست 2002میں پیش آیا جب ایک خچر نے نر بچے کو جنم دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خچر کی بوڑھی مالکہ کو آخر تک پتہ نہیں چلا کہ اس کی مادہ خچر حاملہ ہے۔جب اس خچر نے ایک نر بچہ جنا تو لوگ دور دور سے جوق در جوق اس کو دیکھنے کے لئے پہنچنے لگے تھے۔ مراکش میں پیدا ہونے والے خچر کا یہ بچہ کسی حد تک تو گدھے پر گیا ہے اور کچھ خچر جیسا ہے۔

آپ کی دلچسپی کے لئے ایک بات اور بتاتا چلوں کہ گھوڑی اور نر گدھے کے ملاپ سے تو خچر وجود میں آتا ہے لیکن شاید یہ بات کم لوگوں کو پتہ ہو کہ گدھی اور نر گھوڑے کی کراس بریڈنگ یا ملاپ سے جو مخلوق وجود میں آتی ہے اس کو ھِنّی Hinny کہتے ہیں۔ان کی شکل و صورت دیکھئے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ بیج سے زیادہ ماں کے بیضہ اور رحم کی حیثیت ہوتی ہے جہاں بچہ تخلیق پاتا ہے۔ زیادہ مماثلت ماں سے ہے۔

تحریر : ثنا اللہ خان احسن