بلاگ

غیبت و بہتان کی بجائے خیر خواہی۔۔!

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے لوگوں نے کہا، اﷲ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا اپنے بھائی کی بابت ایسی بات کہنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ کسی نے کہا کیا ارشاد ہے کہ میرے بھائی میں وہ بات موجود ہے جو میں کہہ رہا ہوں، فرمایا اگر اس میں وہ بات موجود ہے جوتم کہہ ر ہے ہو تووہ اس کی غیبت ہے اور اگر اس میں وہ بات موجود ہی نہیں ہے جوتم کہہ رہے ہو توتم نے اس پر بہتان باندھا ‘‘(مشکوۃ شریف)۔

اسلام جس معاشرے کا طریقہ انسان کو سکھاتا ہے اس کی بنیادباہمی ہمدردی اور خیرخواہی پر ہے ۔اگر معاشرے کو انسان کے لئے مفید بنانا ہے تو اس کا طریقہ فقط یہی ہوسکتا ہے کہ انسان دوسروں کے کام آئے ، اور غیبت و بہتان کی بجائے دوسرے انسان کی بھلائی کے لئے ہمہ وقت متحرک رہے۔ زبان سے کسی کو برا بھلا کہنا اگر اس کے منہ پر ہے تو یہ اس سے عداوت اور دل دکھانے کا سامان ہے اور اگر اس کے پیٹھ پیچھے ہے تو یہ غیبت ہے ۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا’’ اگر کسی کے سامنے اس کے کسی مسلمان بھائی کو پیٹھ پیچھے برا کہا جائے اور اس کے بس میں اس کی حمایت کرنی ہو اور وہ اس کی حمایت کرے،

اﷲ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی لیکن اگر اس نے قدرت ہوتے ہوئے حمایت نہ کی تو اﷲ تعالیٰ اسے اس کی سزا میں اس دنیامیں بھی اور آخرت میں بھی پکڑے گا۔ (مشکوٰۃ شریف) متذکرہ حدیث میں ارشاد ہے کہ اگر تمہارے کسی مسلمان بھائی کی برائی اس کی پیٹھ پیچھے ہورہی ہو اور تم میں اتنی قدرت ہے کہ تم اس کی حمایت کرسکتے ہو تو تم پر لازم ہے کہ اس شخص کی حمایت کرو،اور برائی کرنے والے کو غیبت کرنے کی برائی سمجھا دو اور کہو کہ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں، دوسرے بھائی کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھانا کس قدر شرمناک بات ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ تمہاری یہ ہمدردی دیکھ کر اﷲ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور اگر تم خاموش بیٹھے رہے اور اس کی برائیاں سنتے رہے اور برائی کرنے والوں کو روکنے کی طاقت رکھتے ہوئے اس سے نہ روکا تو اس کا نتیجہ دنیا اور آخرت دونوں میں برا ہوگا،

مزید پڑھیں: جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔

دنیا میں آپس کا اعتبار اور بھرم مفقود ہوجائے گا باہمی ناچاقی پھیلے گی، نفاق کا بازار گرم ہو گا اور ایک دوسرے کی حقارت دل میں بیٹھ جائے گی اور لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں گے اور آخرت میں اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی پر سزا ملے گی۔ حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان عظیم ہے جس نے ایک ایماندار آدمی کو منافق کے ہاتھ سے بچایا اس کے لئے اﷲ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر فرمادے گا جو قیامت کے دن اس کے بدن کو دوزخ کی آگ سے بچائے گا اور جس نے مسلمان کے سر کوئی بات لگائی اس ارادے سے کہ اس کو روا کرے، اﷲ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا، جب تک وہ اپنے قول سے بری نہ ہوجائے‘‘۔ بلاشبہ جو شخص دوسرے کی برائی اس کی پیٹھ پیچھے کرتا پھرے وہ منافق ہے، ایسا منافق ظاہر میں دوست بنا رہتا ہے لیکن باطن میں وہ دشمن ہوتا ہے ۔

دوستی کے پردے میں دوسروں کے عیب تاکتا ہے اور پیٹھ پیچھے سچے جھوٹے عیب لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہے ، حدیث میں ہے کہ جو شخص ایک مسلمان کو ایسے دوغلے آدمی سے بچائے گا اس کے بدن کو دوزخ کی آگ جلا نہ پائے گی ایک فرشتہ اسے دوزخ سے بچاتا رہے گا، مسلمان کو اس گھر کے بھیدی منافق سے بچانے کی صورت یہ ہے کہ یا تو اس کا اس کے پاس آنا جانا بند کردے اور یا جب وہ برائی کرے تو اس کو جھوٹا ثابت کرکے ایک بھلے مانس کی آبرو بچائے۔

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان عظیم ہے جب مجھے میرا ربّ معراج میں لے گیا تو میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا کہ ان کے ناخن پیتل کے تھے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو ان سے نوچ رہے تھے، میں نے جبرائیل ؑ سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے (یعنی غیبت اور پیٹھ پیچھے بدگوئی کرتے تھے) اور ان کی آبرو کے پیچھے پڑے رہتے تھے ‘‘(مشکوۃ شریف)۔ آج کل تو جہاں دو چار لوگ اکٹھے ہوتے ہی اور بات چیت کا سلسلہ چھیڑتے ہیں تو کام کی باتیں بہت ہی کم، اور زیادہ تر دوسرے لوگوں کی بابت چہ میگوئیاں کرتے ہیں، واضع رہے کہ انسان کو منہ سے نکلے ہوئے ایک ایک فقرہ کی جوابدہی کرنا ہوگی، برائی کرنے والے ایسے لوگوں کو اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن و حدیث میں دوسروں کے حقوق کا بڑا خیال رکھا گیا ہے،

دوسروں کو ستانا کسی قسم کی تکلیف پہنچانا یا ایسی بات کرنا جس سے اسے رنج ہو بہت ہی بری بات ہے، اگر کسی سے نادانی کے باعث کوئی ایسا گناہ ہوجائے تو وہ اپنے ربّ حقیقی اللہ تعالیٰ کے سامنے رو کر اس سے اپنا گناہ معاف کراسکتا ہے ، لیکن اگر اس کی حرکت سے کسی دوسرے کو کوئی رنج پہنچا ہے یا اس کے احساسات کو ٹھیس پہنچی ہے یا شہرت کو دھبہ لگا ہے تو اب معاملہ زیادہ سنگین ہے، ایسے جرم کی معافی کے لئے اسے اس شخص سے بھی معاف کرانا پڑے گا ۔

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان عظیم ہے غیبت کے وبال سے چھٹکارا پانے کی صورت یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے اس کے لئے مغفرت کی دعا کرے اور یوں کہے کہ اے اﷲ ہمیں بخش اور اسے بھی بخش دے۔ ایک دوسرے موقع پر سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیبت اس وقت تک معاف نہیں ہوتی جب تک وہ شخص جس کی غیبت کی گئی ہے اسے معاف نہ کردے لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ اس شخص سے ملنے کی کوئی صورت ہی نہ ہو، کہ انسان اس سے معاف کراسکے، یا اس کا انتقال ہوچکا ہو ایسی صورت میں غیبت کی معافی کی شکل صرف ایک ہے، جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ اس کے لئے استغفار کرے یعنی یوں دعا کرے کہ یا اﷲ ہماری مغفرت کر اور اس کی بھی مغفرت کر اس طرح امید ہے کہ اس غیبت کا گناہ جو اس نے کی ہے معاف ہوجائے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری کسی بات سے کسی کو رنج ، دکھ اور نقصان نہ پہنچے بلکہ ہم دوسروں کو فائدہ اور آرام پہنچانے میں معاون بنیں، ہمیں غیبت اور بہتان سے عملاً بچتے ہوئے دعا کرنی چاہیے کہ اﷲ ربّ العزت ہمیں غیبت سے محفوظ رکھے ،آمین۔