بلاگ

گھر سے کوڑے تک

جیمز ایک ارب پتی امریکی بزنس مین رات کو نشہ کرکے اپنے بیڈ روم میں پہنچا اور اپنے لیپ ٹاپ کو آن کیا اور ایک سائیٹ کھولی اور اس میں پاس ورڈ لگایا۔۔۔ یکایک ایک لائیو چیٹ بکس کھلا اور وہاں ایک پانچ سالہ بچی کو برہنہ کرکے کیمرے کے سامنے کھڑا کیا گیا تھا۔ کلوز اپ دکھائے جا رہے تھے۔ پھر ایک آواز ابھری کہ اس بچی کا گیم نیلامی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔۔ اور پھر یکایک سینکڑوں افراد آن لائن بڈنگ میں شامل ہو گئے۔ بولی چلتے چلتے دس لاکھ ڈالر پر پہنچی اور جیمز نے لڑکی کے ساتھ جنسی تشدد کے پہلے سیگمنٹ کے بیس منٹ خرید لیئے۔ اب جو کچھ بھی ہونا تھا اس کی ہدایت جیمز نے دینی تھیں اور دیگر ایک لاکھ پچپن ہزار لوگ اسے دیکھنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر فی چیٹ بکس کے عوض اس گیم میں شامل ہو گئے تھے۔ اس بار یہ شو بنگلہ دیش سے چلنا تھا۔ ننھی سی گڑیا کا گیم نیم "بلڈ اینجل” تھا اور اس پر جنسی تشدد کرنے والے شخص کا نام "وائیلڈ وولف” تھا۔ پندرہ منٹ رقوم کی منتقلی کے لیے تھے۔ جیمز اور دیگر تماشائیوں نے رقوم منتقل کیں اور ڈارک ویب نے رقوم بنگلہ دیش کے ایک شخص کے نام منتقل کر دیں۔ دس کروڑ روپے اس شو کے پہلے بیس منٹ کے لیے ادا کئے گئے تھے بنگلہ دیش کے ڈیلر کو۔ دو وزیروں، دو ممبران اسمبلی سمیت بچی کا اغواکار اور اس کے ساتھ جنسی تشدد کرنے والے کو ان کے حصے منتقل ہو گئے۔ پندرہ منٹ میں یہ کام مکمل ہوا اور پھر گیم شروع ہوا۔۔ جیمز نے ہدایت دینا شروع کیں اور ایک نشے میں دھت وحشی نے ننھی سی پانچ سالہ بچی کو نوچنا شروع کیا۔ جیسے جیسے تشدد بڑھتا گیا بچی کی چیخیں بڑھنے لگیں۔ جیمز ایک شیطان کی طرح ان مناظر کو دیکھ رہا تھا اور چیخ چیخ کر تشدد کے انداز بدلاتا اور بدمست سور کی طرح ناچنے لگتا اور چیختا، اور کہتا "زور سے اور زور سے”۔

سرخ کمرے کا کیمرہ مین بہت مہارت سے ہر ہر زاویے سے مناظر دکھا رہا تھا۔ اس کیمرے کا براہ راست تعلق سیٹیلائٹ سے منسلک تھا۔ یہ ایک بہت بڑے سیاستدان کے فارم ہاؤس کا تہہ خانہ تھا جہاں سے اس بچی کی چیخیں کسی کے کان تک نہیں پہنچ سکتی تھیں۔ کمرہ بھی ساؤنڈ پروف تھا۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ معاملہ پاکستان کی نسبت زیادہ منظم ہے اور وہاں پر کچھ بچیاں تو خرید لی جاتی ہیں اور کچھ کو ایسے علاقوں سے اغواء کیا جاتا ہے کہ جہاں شور کرنے والے نہیں ہیں۔ اس لئے وہاں کا ریٹ پاکستان سے زیادہ ہے۔

امریکہ سے اس سیٹیلائٹ کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے باقاعدہ حکومتی سطح پر پشت پناہی حاصل ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے امریکی خفیہ ایجنسی منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں۔ خیر۔جیمز نے آخری پانچ منٹ میں جنسی تشدد کے سلسلے کو مزید خطرناک اور ٹارچر کی شکل دے دی۔ بچی کی چیخیں اب بند ہو گئی تھیں کیونکہ وہ بیہوش ہو چکی تھی۔آخری ایک منٹ میں اس نے چیخ چیخ کر کہا کہ اسے کاٹو اسے خون میں نہلا دو۔۔ مجھے خون دیکھنا ہے۔۔۔ مگر یہ اس گیم کا دوسرا حصہ ہے۔ اس کے لیے الگ سے بولی لگنی تھی۔پہلا سیگمنٹ ختم ہوا اور اب دوسرا حصہ چلنا تھا۔ اس کو "چاپ ٹل ڈیتھ” یعنی کاٹو موت تک۔ اس حصے میں اس بچی کو کاٹا جانا تھا۔ چیر پھاڑ کر اس بچی کو موت کی نیند سلانے تک اس سیگمنٹ کو چلنا تھا اور اس کا دورانیہ تیس منٹ ہوتا ہے۔

بولی شروع ہوئی۔ اور تیس لاکھ ڈالر پر رکی۔ جیمز کچھ جھجھک گیا تھا، اور فرانس کے ڈیوڈ نے یہ سیگمنٹ جیت لیا۔ جیمز نے ڈیوڈ کو فون لگایا اور دس لاکھ ڈالر دے کر یہ پارٹ خریدنے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانا اور اب یہ بھیانک سیگمنٹ ڈیوڈ کے حصے میں آیا۔ اگلے پندرہ منٹ میں رقوم کی منتقلی بلیک نیٹ اکاؤنٹس کے ذریعے سے ہوئی۔ یہ وہ سلسلہ ہے جو اس وقت پیپر منی کے متبادل کے طور پر چل رہا ہے اور اس کے ذریعے دنیا بھر میں بلیک منی کی منتقلی ہوتی ہے۔ سہیونی اسے ڈیولز بینک بھی کہتے ہیں۔ اسی بلیک ویب کی ایک اور شاخ ہے جہاں سے پوری دنیا کے نہ صرف ڈرگ مافیا کو کنٹرول کیا جاتا ہے بلکہ کئی حکومتوں کو بھی چلایا جاتا ہے اور ان کی لوٹ کھسوٹ کا پیسہ انکے ملک سے باہر بھیجا جاتا ہے۔ اس کے علاؤہ ہر قسم کی غیر قانونی تجارت بھی یہیں سے ہوتی ہے۔ ہتھیاروں سے لے کر انسانی اعضاء تک ہر چیز میسر ہے یہاں۔

اس سیگمنٹ میں مزید دس لاکھ لوگ شامل ہوئے اور اس کی قیمت تین لاکھ ڈالر فی چیٹ روم رکھی گئی تھی۔ وائیلڈ وولف نے ننھی سی بچی کو اپنے سر پر اٹھایا ہوا تھا اور ناچ رہا تھا۔ میوزک ڈیوڈ کی مرضی کا تھا۔ وہ ناچ رہا تھا۔ نشے میں دھت اس نے بچی کی زبان چبانے کا حکم دیا۔ پھر بچی کی کلائیوں پر کٹ لگے۔ اس کے نازک اعضا کو کاٹا گیا۔ بچی بیہوش تھی یا شاید کومے میں چلی گئی تھی اس لئے اس کو کچھ نہیں پتہ تھا۔ مگر یہ ظالم اسے نوچ رہے تھے۔ کاٹ رہے تھے۔ اس کی بیحرمتی کی، انسانیت کی تذلیل کی انتہا کردی گئی۔ تیس منٹ پورے ہوئے اور گیم ختم ہو گئی۔ اس گیم کے آخر میں اعلان کیا گیا کہ اگلا پروگرام دو دن بعد پاکستان سے چلے گا۔ پاکستان کی پورن فلمیں اور کلپس کافی مہنگے بکتے ہیں اس ویب پر۔ اگلی شکار کی تصویر بھی شائع کی گئی تھی۔ بلیک ویب کے تماشائیوں نے تھمز اپ کئے۔ پاکستان کے ڈیلرز نے جام ٹکرائے اور اپنے اگلے پراجیکٹ کے لئے جشن کا اعلان کیا۔

بلیک ویب یا ڈارک ویب اس وقت دجالی قوتوں کی ایک بہت بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اس کے ممبران کی تعداد ہر ہفتے دگنی ہو جاتی ہے اور یوں اس کی آمدنی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ تیسری دنیا کے مزید ممالک کو اس میں شامل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اس ضمن میں کئی اسلامی ممالک کے علاؤہ افریقہ کو بھی شامل کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔اس ویب کی اصل کامیابی ٹارگٹ ممالک کے حکمرانوں تک رسائی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر کی بلیک مارکیٹ کا اسی فیصد اسی بلیک ویب کے ہاتھوں میں ہے۔

پاکستان میں واقع اس نیٹ ورک کے کارندے کون ہیں، کیسے کام کرتے ہیں، کس کی پشت پناہی سے چلتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ملنا ضروری ہے۔ یہ کام کون کرے گا۔ اس مافیا کو کنٹرول کرنے والے ہاتھوں میں ہتھکڑی کون پہنائے گا؟
کسی بھی ملک کا اصل اثاثہ اس کے عوام ہوتے ہیں۔ مین پاور ہی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں افراد کو اہمیت دی جاتی ہے۔اور ہر چیز کا تعلق اسی عوام سے وابستہ رہتا ہے۔ اگر عوام پر سکون، محفوظ اور مطمئن ہونگے تبھی ترقی ہوتی ہے۔ حکومت کو ماں کی طرح ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے بچوں یعنی عوام کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف رہیں اور پھر ان کی قوت کو استعمال کرتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاتا ہے۔

مگر جہاں معصوم بچوں کی عزتیں اور جانیں محفوظ نہ ہوں وہاں ترقی کیا خاک ہوگی۔ جہاں بے قصور لوگ مار دیئے جائیں اور قاتل دندناتے پھرتے ہوں اور جن کی پشت پناہی وزیر اور قانون نافذ کرنے والے افراد اور ادارے کریں تو وہاں ترقی اور امن کیسے قائم ہوگا۔
اب اگر یہ ڈارک ویب ننگا ہونے جا ہی رہا ہے تو عوام کو چاہئے کہ اس وقت اپنی ہر قسم کی سیاسی اور مذہبی اور جماعتی وابستگیاں چھوڑ کر صرف اپنی اولادوں کے مستقبل کی خاطر اس مافیا کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر چین سے نہ بیٹھیں۔ ایک اکیلے علی عمران کو پھانسی دینے سے یہ گندگی ختم نہیں ہوگی۔ پورا نیٹ ورک پھانسی چڑھے گا تبھی سکون ہوگا۔ سنا ہے کہ انڈونیشیا میں یہ ویب کھولنے کی کوشش کی جاتی ہے تو سائیبر سیکیورٹی والے جا کر رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں۔

کسی کی عزت پامال کرنے والے کو اپنا دشمن سمجھیں گے تب ہی اپنی عزت محفوظ ہوگی ورنہ یہ ڈارک ویب ہمارے گھر میں بھی گھس سکتی ہے۔ اور اگر ایسا ہو گیا تو قیامت ہوگی۔ پاکستان کے ہر شہری کی آواز۔ زینب کے قاتل کی انویسٹیگیشن سپریم کورٹ خود کرے اور جے آئی ٹی خود بنائے اور اس سے پہلے کہ قاتل مٹا دیا جائے، قاتل کو محفوظ جگہ پر پہنچا دیا جائے اور بہترین لوگوں سے انویسٹیگیٹ کروایا جائے۔ قاتل کے سہولت کاروں اور ٹھیکیداروں کو بھی پکڑا جائے اور اس کے ساتھ ہی لٹکا دیا جائے۔ پاکستان بچانا ہے تو قانون کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انصاف کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ورنہ نہ جانے کتنی اور زینبیں گھر سے کوڑے کے ڈھیروں تک پہنچ جائیں گی اور ہمارے پاس آنسو بھی نہیں ہونگے رونے کے لئے۔ کیونکہ سنا ہے جہاں بے انصافی عروج پر پہنچ جائے وہاں آنکھیں پتھر کی ہو جاتی ہیں۔

از: ڈاکٹر برکت علی برق۔