معلومات

غائب ہونے والی دولت

نائیجیریا افریقہ میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ تیل حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن ملک کی معیشت بدحالی کا شکار ہے۔ غربت بڑھ رہی ہے۔ تیل والے علاقوں میں یہ غربت برہنہ ہے اور سب کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ نائیجیریا کا سیاہ سونا اس ملک میں خوشحالی کیوں نہیں لا رہا؟ یہ دولت کہاں جاتی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائیجیریا کو افریقہ کا دیو کہا جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ ہے۔ یہ افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے اور افریقہ کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ خدمات کا شعبہ ترقی کر رہا ہے۔ زرعی برآمدات، جیسا کہ کوکو یا پام آئل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں پر نالی وُڈ ہے جو افریقہ کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہے۔ کپڑوں اور میوزک بزنس میں ترقی ہو رہی ہے۔ یہاں پر بہت ہی خوشحال اور امیر اشرافیہ ہے۔ الیکو ڈانگوٹے، جو افریقہ کے امیر ترین شخص ہیں، کا تعلق نائیجیریا سے ہے۔ (موازنے کے لئے: ان کے اثاثے پاکستان کے امیر ترین فرد سے چار گنا زیادہ ہیں)۔
نائیجیریا قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ معدنیات، سونا اور تیل۔ اور بہت سا تیل۔ افریقہ میں دوسرے نمبر پر ذخائر اس کے پاس ہیں جبکہ دنیا میں تیل کی پیداوار میں اس کا نمبر بارہواں ہے۔
لیکن عام نائیجیرین کی زندگی آسان نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ورلڈ پوورٹی کلاک کے مطابق، نائیجیریا کی آبادی میں سے نو کروڑ لوگ نہ صرف غربت کی، بلکہ شدید غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہیں۔ یہ نائیجیریا کی 48 فیصد آبادی ہے۔ اس کے مقابلے میں ایتھیوپیا میں شدید غربت کی شرح 24 فیصد ہے جبکہ کینیا میں 16 فیصد ہے اور ان دونوں ممالک میں تیل نہیں۔ (موازنے کیلئے: پاکستان میں شدید غربت کی سطح 3 فیصد سے کم ہے جبکہ غربت کی سطح سے نیچے پچیس فیصد آبادی ہے)۔
نائیجیریا کی حکومت کا انحصار تیل کی آمدن پر ہے اور یہ ایک مسئلہ ہے۔ حکومت کی تین چوتھائی آمدنی تیل سے آتی ہے۔ اور جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرتی ہے تو ملک مالیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ 2014 میں جب تیل کی قیمت گری تھی تو نائیجیریا کسادبازاری کا شکار ہو گیا اور ابھی تک باہر نہیں نکل سکا۔
لیکن ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ جب تیل کی قیمت اچھی ہوں تب بھی لوگوں کی حالت کچھ زیادہ اچھی نہیں ہوتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائیجیریا کا تیل نائیجر ڈیلٹا کے پانیوں کے نیچے ہے۔ یہاں پر کئی مقامی کمپنیاں بھی تیل کی تلاش اور نکالنے کا بزنس کرتی ہیں لیکن زیادہ حصہ انٹرنیشنل کمپنیوں کا ہے۔ چالیس فیصد شیل کے پاس ہے۔ نائیجیریا میں انفراسٹرکچر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہاں پر ریفائنریاں نہیں۔ یہ خام تیل باہر جاتا ہے اور نائیجیریا صاف تیل کو واپس درآمد کرتا ہے۔
نائیجیریا میں ایک مرکزی ادارہ ہے جو نائیجیرین نیشنل پٹرولیم کارپوریشن ہے۔ یہ ریگولیٹر بھی ہے اور اس کے پاس بہت بڑا کمرشل آپریشن بھی ہے۔
نائیجرین نیشنل پٹرولیم کارپوریشن تمام انٹرنیشنل کمپنیوں سے معاہدے کرتی ہے۔ کمپنیاں ابتدائی تلاش کی قیمت ادا کرتی ہیں۔ لائسنس اور رائلٹی ادا کی جاتی ہے اور ان کے منافع پر ٹیکس بھی یہی ادارہ اکٹھا کرتا ہے۔ یہ ادارہ اس سب کو اکٹھا کر کے نائجیرین قومی خزانے میں ادا کر دیتا ہے۔ لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس سب عمل پر نگرانی کرنے والا ادارہ بھی یہ خود ہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں شفافیت نہیں۔
اس غیرشفافیت کا مطلب یہ ہے کہ تیل کے بزنس میں کرپشن ہے اور بہت سی ہے۔ اس کا ایک کیس 2016 میں سامنے آیا جب ایک آڈٹ میں معلوم ہوا کہ سولہ ارب ڈالر غائب ہو گئے ہیں۔ یعنی اکٹھے تو ہوئے لیکن سرکاری خزانے تک نہیں پہنچے۔ کوئی سراغ نہیں ملا کہ یہ کہاں گئے۔ (موازنے کے لئے: یہ رقم نائیجیریا کی پوری فوج کے سالانہ بجٹ سے آٹھ گنا زیادہ ہے)۔ اور ایسی سرخیاں وقتاً فوقتاً لگتی رہی ہیں۔
دوسرا مسئلہ تیل کی کمپنیوں کی طرف سے ٹیکس چوری ہے۔ زیادہ سے زیادہ منافع کے تعاقب میں تیل کی کمپنیاں سسٹم کے لوپ ہول تلاش کرتی ہیں اور “کری ایٹو اور غیرشفاف اکاونٹنگ” سے ٹیکس بچاتی ہیں۔ (یہ طریقہ ٹیکس ہیون میں اپنی ذیلی کمپنی کو کم قیمت پر تیل فروخت کر کے خریداروں کو پوری قیمت پر بیچنے کا اور اپنے مقامی اخراجات کو زیادہ دکھانے کا ہے)۔ اس جنجال میں پبلک ٹیکس کے پیسے خزانے میں پورے نہیں پہنچتے۔
تیسرا مسئلہ چوری کا ہے۔ صاف صاف چوری۔ نائیجر ڈیلٹا میں تیل چوری کے سینکڑوں غیرقانونی منظم آپریشن ہو رہے ہیں۔ یہاں پر مجرموں کے گینگ، جیسا کہ ڈیلٹا ایونجر، تیل کی پائپ لائن میں نقب لگا کر تیل چوری کر لیتے ہیں۔ 2019 میں اس طریقے سے چوری ہونے والا تیل 22 ملین بیرل تھا۔ اس تیل کو چوری کر کے بحری جہازوں میں لے جا کر بلیک مارکیٹ میں مغربی افریقی، یورپی، لاطینی امریکی اور ایشیائی خریداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔
اربوں ڈالر کی سالانہ چوری کے علاوہ اس کا ایک نتیجہ ماحولیاتی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔ تیل کا بڑے پیمانے پر دریاوٗں میں اور میدانوں میں گر جانا۔ لگنے والی آگ۔ یہ اس علاقے کے ماحول کو تباہ کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبوتاژ، تیل کی چوری، ٹیکس کی چوری اور کرپشن۔ یہ نائیجیریا کے لئے تیل کے شعبے میں حل کرنے کے مسائل ہیں۔
نائیجیرین حکومت ہر سال انرجی انڈسٹری پر رپورٹ جاری کرتی ہے۔ اب سترہ سال کی تاخیر سے نائیجیریا کی حکومت نے پٹرولیم انڈسٹریز بل منظور کیا ہے۔ اگرچہ اس کے ناقدین ہیں لیکن امید کی جا رہی ہے کہ اس سے تیل کے سیکٹر میں کچھ بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ اس میں نائیجیرین نیشنل پٹرولیم کمپنی کے کمرشل بزنس اور ریگولیٹر کے طور پر کردار کو الگ اداروں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
نائیجیریا اپنی معیشت کا انحصار تیل پر کم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری صنعتیں ڈویلپ کرنا چاہتا ہے۔ اس پر کام کیا جا رہا ہے۔ الیکو ڈانگوٹے (جو افریقہ کے امیرترین شخص ہیں) لاگوس کے قریب ایک بڑی ریفائنری لگا رہے ہیں۔ تاکہ خام تیل کو نائیجیریا میں ہی ریفائن کر لیا جائے۔ یہ نائیجیریا کے انفراسٹرکچر میں بہتری لانے کا اہم پراجیکٹ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان میں سے کوئی بھی ایک قدم ایسا نہیں جس سے اکیلے نائیجیریا کی تیل کی صنعت یا معیشت یا غربت ٹھیک ہو جائے گی۔ لیکن جادو کی کوئی گولی تو کہیں پر کسی کے پاس بھی نہیں ہوتی۔
اگر غائب ہونے والی دولت کا کچھ حصہ بھی بچ جائے اور انفراسٹرکچر، ڈویلپمنٹ وغیرہ پر استعمال ہو سکے تو افریقہ کا دیو بے انتہا غربت میں اور دوسرے مسائل کی شدت میں کمی لا سکتا ہے۔
قدرتی وسائل کسی علاقے کی خوشحالی میں مدد کر سکتے ہیں لیکن نائیجر ڈیلٹا میں سیاہ تیل سے آلودہ دریا اور زمین، جنگلوں میں لگی آگ، ہونے والی خانہ جنگی اور بدترین غربت کا نظارہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ ان کا موجود ہونا کافی نہیں۔