بلاگ معلومات

دس سال پہلے برطانوی جریدے ” اکانومسٹ ” نے جنرل کیانی کا یہ کارٹون ایک سنسنی خیز کہانی کے ساتھ شائع کیا۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کارٹون میں جنرل کیانی شطرنج کھیل رہے ہیں۔لیکن شطرنج کی اس بساط کے مہرے سیاست دان، پاک فوج، افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور امریکی فوج ہیں۔اس تصویر میں کافی کچھ ہے۔ جنرل کیانی ایک ہاتھ سے امریکی مہرہ (فوجی) پیٹ رہے ہیں تو دوسرے ہاتھ وہ ٹی ٹی پی نما مہروں کو روک رہے ہیں۔دس سال پہلے اکانومسٹ نے وکی لیکس کی بعض رپورٹس اور کچھ گرفتار کیے گئے افغان طالبان کے انٹرویوز کے حوالے سے اندیشہ ظاہر کیا کہ شائد پاکستانی جی ایچ کیو میں بیٹھے ٹھنڈے دماغوں والے جرنیل امریکہ کے ساتھ کوئی نہایت پیچیدہ مگر خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں جسکا انجام امریکہ کی یقینی شکست ہوگا۔

افغان طالبان کو پوری دنیا دہشت گرد قرار دے چکی تھی، ان کی مدد کرنا پوری دنیا کی دشمنی مول لینے کے متراف تھا۔پاکستان کی معیشت دہشت گردی سے نمٹتے نمٹتے اس قابل نہیں رہی تھی کہ امریکہ جیسی سپر پاؤر کے خلاف کوئی گوریلا جنگ لڑ سکتی، اس کے اخراجات کہاں سے پورے کرتا؟؟اور سب سے بڑھ کر دنیا کے چھپے چھپے پر نظریں رکھنے والے امریکہ کی نظروں سے چھپ کر بغیر کوئی ثبوت چھوڑے پاکستان یہ سب کرتا کیسے؟؟لیکن اکانومسٹ سے خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان نہ صرف یہ سب کر رہا ہے بلکہ خود امریکہ کی مدد لے کر کر رہا ہے۔

یہ کہانی جنرل کیانی کے 2009ء میں دورہ روس کے بعد شائع کی گئی۔جنرل کیانی کے اس اہم ترین دورے سے پہلے مغربی تجزیہ کاروں کو یقین تھا کہ پاکستان کے ہاتھوں ٹوٹنے والا روس دوبارہ کبھی پاکستان کے قریب نہیں آسکے گا۔لیکن جنرل کیانی نے روس کو قائل کرکے سب کو حیران کر دیا۔ تب چہ مگوئیاں شروع ہوئیں کہ بھلا امریکہ کے ” فرنٹ لائن اتحادی ” کو روس کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ آنے والے وقت کی پیش بندی؟؟درحقیقت یہی وہ دورہ تھا جس کے بعد روس اور پاکستان کے تعلقات بحال ہونا شروع ہوئے۔

اس کے بعد امریکہ نے پاکستان پر شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے دباؤ بڑھانا شروع کیا۔ اسی سلسلے میں امریکی چیف آف جوائنٹ سٹاف مائیکل مولن نے جنرل کیانی سے کئی ملاقاتیں کیں۔ایسی ہی ایک ملاقات میں تین گھنٹے تک مسلسل مائیکل مولن کے دلائل خاموشی سے سننے کے بعد جنرل کیانی نے جواباً صرف ایک جملہ کہا ” آئی ایم ناٹ کنونسڈ ” ۔۔۔۔ یعنی "میں قائل نہیں ہوا۔”جو کافی مشہور ہوا اور اس پر امریکہ دفاعی حلقوں میں کافی لے دے ہوئی۔ بہرحال امریکہ کی شنوائی نہیں ہوسکی۔
( شمالی وزیرستان میں پاک فوج نے بہت بعد میں تب آپریشن کیا جب امریکہ نہیں چاہ رہا تھا کہ اب آپریشن ہو)

جس طرح ضیاء کے دور میں افغان جہاد کا اصل ماسٹر مائنڈ جنرل اختر عبدالرحمان تھا اسی طرح مشرف دور میں اور اس کے بعد افغان جہاد کا اصل دماغ اس وقت کا ڈی جی آئی ایس آئی اور بعد کا آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی تھا۔آج دس سال بعد بظاہر برطانوی جریدے کے وہ سارے اندیشے درست ثابت ہوئے ہیں۔ پوری دنیا سے کھلواڑ کرنے والا امریکہ چیخ رہا ہے کہ پاکستان مسلسل 15 سال تک ہمارے ساتھ کھیلتا رہا۔انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی قوت بظاہر شکست کھا چکی ہے۔جنرل اشفاق پرویز کیانی نہایت پرسکون اور شائد کمپیوٹر سے زیادہ برق رفتاری سے کام کرنے والا دماغ رکھتے تھے۔ان کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔ اس کے کام اور کارناموں سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ کبھی اس پر تفصیل سے لکھیں گے ان شاءاللہ

تحریر شاہدخان