بلاگ غزوہ ھند ، گوریلا وار اور احتیاطی تدابیر

غزوہ ھند ، گوریلا وار اور احتیاطی تدابیر( حصہ اول )

اسلام و علیکم قارئین حضرت انتہائی باریک اور بہت پیچیدہ موضوع پر اپنی آدھی ذندگی کی محنت کا ثمر آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔گزارش ہے میری تحریر کو حرف آخر نہ سمجھا جائے آخر انسان ہوں خطا سرزد ہو سکتی ہے”حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ آخری زمانے میں جنگوں پر جنگیں ہونگی جس سے دنیا کی آبادی کا ایک تہائی حصہ جنگوں میں مارا جائے گا اور ایک تہائی حصہ طاعون کی وبا پھیلنے سے ہلاک ہو جائے گا اور ایک ٹہائی حصہ زندہ رہے گا "فرض کیا اگر دنیا کی آبادی 6 ارب ہے تو اس میں سے دو ارب جنگوں میں ہلاک ہونگے اور دو ارب طاعون کی وبا سے ہلاک ہونگے اور دو ارب باقی رہیں گے ۔ اب ہم زرا غور کریں تو دنیا کی تقریبا ادھی آبادی صرف چار ممالک چین ، انڈیا ، بنگلادیش اور پاکستان میں موجود ہے جو تقریبا 3 ارب کے قریب ہے اب اس حدیث مبارکہ کے روسے ان 3 ارب میں سے دو ارب آبادی ہلاک ہوگی ۔

سب سے پہلے ہم جنگوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے جو حدیث مبارکہ کی صورت میں 1400 سال پہلے ہمیں بتا دیں گئیں ہیں جو زمانہ آخرت میں برپا ہونگی ۔ ہم تفصیل میں جانے کی بجائے اپنے مقصد کی طرف بڑھیں گے لیکن کچھ پس منظر بیان کرنا ضروری ہے جو احدیث مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے ۔ایک طرف پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ ہو رہی ہوگی جو چھ سال تک جاری رہے گی اس جنگ کو ہی بہت سے اولیا کرام نے غزوہ ھند کا نام دیا ہے جبکہ دوسری جانب جنگ ہرمجدون ہونگی اس میں امام مہدیؑ اپنی فوجوں کے ساتھ باطل قوتوں سے ٹکرا جائیں گے ۔یہ دونوں جنگیں ایک ساتھ ہونگی ۔ غزوہ ھند میں پہلے پاکستان اپنے بہت سے علاقے کھو دے گا ۔ لیکن پاکستان کو ترکی ایران اور وسطی ایشائی ریاستوں سے مدد ملے گی اور ایک گوریلا وار شروع ہوگی جس میں آخر فتح پاکستان کی ہوگی اور ہندوستان پر قبضہ کر لیا جائے گا جبکہ دوسری طرف جنگ ہرمجدون میں امام مہدیؑ کے لشکر کو فتح ہوگی ۔ اور دجال نکل آیے گا ۔ دجال کو قتل کرنے کےلیے حضرت عیسیؑ کا ظہور ہوگا جب پاکستان سے مجاہدین شام کی طرف جائیں گے تو وہاں حضرت عیسیؑ کو پائیں گے ۔

جنگ ہرمجدون !جب سے یہ دنیا معرض وجود میں آئی ہے حق اور باطل کی جنگ اسی روز سے جاری ہےکیونکہ جس روز شیطان نے متکبر ہوکر اللہ کے حکم سے حضرت آدم علیہ کو سجدے کرنے سے انکار کیا اسکو زلیل کرکے بارگاہ الہی سے نکال دیا گیا. اسی روز سے وہ انسان کا دشمن ہے اور ہر وہ حربہ آزماتا ہے جس سے انسان کو راہ راست سے ہٹا دے اور اسے بہکا کر دنیا میں فتنہ اور فساد برپا کرےلحاظ حق و باطل کی یہ جنگیں دنیا میں آج بھی جاری ہیںاور ایک وقت آئے گا کہ اللہ انکی رسی بلکل ڈھیلی چھوڑ دیگا اور وہ کھل کر دنیا کے سامنے آئیں گےدنیا کے تمام جمہوری اور ترقی یافتہ ممالک سمٹ کر ایک میدان جنگ میں اکٹھا ہو جائیں گےاس جنگ میں دنیا کے بڑے بڑے ممالک صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے اور بہت سی خونریزی ہوگیمگر بہت سی قربانیاں دے کر آخر میں حق کی فتح ہوگی.دنیا کی تمام شیطانی طاقتیں اور مشرق لوگ ایک طرف اکٹھا ہو جائیں گےجبکہ اللہ کی واحدانیت اور بزرگی پہ یقین رکھنے والے لوگ ایک طرف ہو جائیں گےیہ حق و باطل کا آخری معرکہ ہوگا اور دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہوگی جس پر دنیا کے بڑے مزاہب یعنی مسلمام عیسائی اور یہودی تینوں متفق ہیں کہ یہ جنگ ہوکر رہے گی

مسلمانوں کی اصطلاح میں اسے "الملحما الکبری” یعنیthe great battlجبکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی اصطلاح میں اسے آرمیگڈون(Armageddon) اور عام اصطلاح میں اسے جنگ ہرمجدون کے نام سے جانا جاتا ہےلحاظ یہ تو طے ہے کہ یہ جنگ ہوکر رہے گی..لیکن سوال ہے کہ کب اور کہاں ہوگی؟انسانیت کو صفحہ ہستی مٹانے کیلئے اس جنگ کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیںآخر یہ کسطرح ہوگا کہ اچھائی اور برائی آمنے سامنے آ جائیں گی اور اس محرکات کیا ہوں گےاور شکست اور فتح کن کی ہوگی ان پیچیدہ سوالات کے جوابات ہم اس تحریر میں جانیں گے….

ہرمجدون عبرانی زبان کا لفظ ہے ‘ہر’ کے معنی پہاڑ اور ‘مجیدون’ فلسطین کی ایک وادی کا نام ہے جوکہ اس وقت اسرائیل میں واقعہ ہےزندگی کا خاتمہ کرنے والی اس جنگ کا میدان یہی وادی ہوگییہ وادی تاریخ میں بھی بیشمار جنگوں کا میدان رہ چکی ہےکیونکہ جو بھی اسکی اونچائی پر قبضہ کر لیتا ہے وہ نا قابل تسخیر ہو جاتا ہےاسلامی روایات کے مطابق آخری دور میں ہونے والی جنگ کو دو ادوار میں تقسیم کیا گیا ہےپہلے دور کی جنگ عظیم یا آخری صلیبی جنگ یعنی جنگ ہرمجدون کہلاتی ہےجبکہ دوسرا دور دجال کے خلاف آخری معرکہ ہوگااحادیث مبارکہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ آخری جنگ ضرور ہوگی جس سے دنیا کا نقشہ بدل کر رہ جائے گایہ اتنی خوفناک ہوگی کہ اگر سو مسلمان حصہ لیں گے تو ننانوے شہید ہو جائیں گےلیکن اس خونریز جنگ میں انسانیت کا مکمل خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ یہ قیامت کی ابتدا ہوگیقران کریم میں سورہ محمد میں اللہ تعالی یہ ارشاد فرماتا ہے کہ:”پھر کیا وہ اس گھڑی کا انتظار کرتے ہیں کہ ان پر ناگہان آئے، پس تحقیق اس کی علامتیں تو ظاہر ہو چکیں ہیں”(آیت:18)

جنگ ہرمجدون کے متعلق سنن ابو داود کی واضع ایک حدیث ہےجس میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہےحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ارشاد ہے کہ آنے والے وقت کہ میں ایک ایسا دور آنے والا ہے کہ جب سب قومیں متفقہ طور پر امت مسلمہ پر اسطرح ٹوٹ پڑیں گی کہ جیسے کھانے والے ایک پیالہ پر ٹوٹ پڑتے ہیںاس دوران صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہوگیآپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا نہیں تم تعداد میں زیادہ ہوگے مگر اللہ تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارا رعب اور دبدبہ نکال دے گا اور تمہیں وہم میں مبتلا کردے گا یعنی تمہاری دنیا سے محبت اور موت سے نفرت

طاعون کا پھیلنا : حضرت عوف بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے چھ علامتیں شمار کرو؛ میری وفات پھر بیت المقدس کی فتح پھر تم میں ایک وبا شدت سے پھیل جائے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیلتا ہے-بخاری (٣١٧٦) كتاب الجزية

سیاہ موت (انگریزی: Black Death، عربی: موت الاسود، فارسی: مرگ سیاہ)، جسے سیاہ طاعون بھی کہا جاتا ہے، ایک تباہ کن وبائی مرض تھا جس نے 144 ویں صدی کے وسط میں (1347ء – 1350ء) یورپ کو جکڑ لیا اور یورپ کی دو تہائی آبادی اس کا ہاتھوں لقمہ اجل بن گئی۔ تقریباً اسی زمانے میں ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے متعدد علاقوں میں بھی متعدی امراض پھوٹے، جو اس امر کا اشارہ کرتے ہیں کہ یورپ میں پھیلنے والا طاعون دراصل کثیر علاقائی وبائی مرض تھا۔ مشرق وسطیٰ، ہندوستان اور چین کو ملا کر اس طاعون نے کم از کم 7 کروڑ 50 لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔

یہی مرض مختلف شدت سے 1700ء تک یورپ میں ہر نسل میں آتا رہا۔ بعد میں آنے والے معروف طاعونوں میں 1629-1631ء کا اطالوی طاعون، لندن کا عظیم طاعون (1665-66ء)، ویانا کا عظیم طاعون (16799ء) مارسے (Marseilles) کا عظیم طاعون 1720-1722ء اور ماسکو کا طاعون 17711ء شامل ہیں۔ حالانکہ مرض کی شناخت کے حوالے سے تنازع موجود ہے لیکن اس کی وبائی شکل کا 18 ویں صدی میں خاتمہ ہو گیا۔

غزوہ ھند !حضرت ابو ھریره نے بیان کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے ایک لشکر ہند پر حملہ کرے گا اور اللہ کے فضل سے فتح یاب ہو گا پھر جب وہ شاہان ہند کو بیڑیوں میں جھکڑ کر واپس پلٹیں گے تو اللہ ان کے تمام گناہ معاف فرما دے گا اور وہ شام میں سیدنا عیسی کو اپنے درمیان پا لیں گے ۔اب دور حاضر میں کچھ لوگ کہ رہے ہیں محمد بن قاسم والا لشکر غزوہ ہند لڑ چکا ۔ان حضرات سے سوالات ہیں ۔کیا محمد بن قاسم جب واپس لوٹے تو سیدنا عیسی کو ملے ؟

تحریر کو مزید طول دینے کے بجائے ہم اپنے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں ۔دوستوں فرض کیا جنگ شروع ہو چکی ہے دشمن کی فوجوں نے ہمیں یرغمال بنا لیا ہے ۔ اور ہم کس طرح ان کی قید سے بھاگنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ایک جنگل میں پناہ حاصل کرلیتے ہیں ۔ تو ہمیں پہلے سے ہی تربیت ہونی چاہیے ایسے حالات میں ہم نے جنگل میں کس طرح رہیں کہ دشمن کی نظروں میں بھی نا ائیں اور کیڑے مکوڑوں اور جنگلی جانورں سے محفوظ رہیں ۔ اگر کوئی دشمن ہمارے لیے انتہائی آسان حدف ہو تو ہم اس کو کیسے حاصل کریں جبکہ ہمارے پاس کوئی ہتھیار نا ہو ۔دوستوں آج کی وڈیو میں ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ ہم جنگل میں اپنے لیے پناہگاہ یا مورچہ کس طرح بنائیں ۔

غزوہ ھند ، گوریلا وار اور احتیاطی تدابیر( حصہ اول )بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِاسلام و علیکم قارئین حضرت انتہائی باریک اور بہت پیچیدہ موضوع پر اپنی آدھی ذندگی کی محنت کا ثمر آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔گزارش ہے میری تحریر کو حرف آخر نہ سمجھا جائے آخر انسان ہوں خطا سرزد ہو سکتی ہے "حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ آخری زمانے میں جنگوں پر جنگیں ہونگی جس سے دنیا کی آبادی کا ایک تہائی حصہ جنگوں میں مارا جائے گا اور ایک تہائی حصہ طاعون کی وبا پھیلنے سے ہلاک ہو جائے گا اور ایک ٹہائی حصہ زندہ رہے گا "فرض کیا اگر دنیا کی آبادی 6 ارب ہے تو اس میں سے دو ارب جنگوں میں ہلاک ہونگے اور دو ارب طاعون کی وبا سے ہلاک ہونگے اور دو ارب باقی رہیں گے ۔ اب ہم زرا غور کریں تو دنیا کی تقریبا ادھی آبادی صرف چار ممالک چین ، انڈیا ، بنگلادیش اور پاکستان میں موجود ہے جو تقریبا 3 ارب کے قریب ہے اب اس حدیث مبارکہ کے روسے ان 3 ارب میں سے دو ارب آبادی ہلاک ہوگی ۔ سب سے پہلے ہم جنگوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے جو حدیث مبارکہ کی صورت میں 1400 سال پہلے ہمیں بتا دیں گئیں ہیں جو زمانہ آخرت میں برپا ہونگی ۔ ہم تفصیل میں جانے کی بجائے اپنے مقصد کی طرف بڑھیں گے لیکن کچھ پس منظر بیان کرنا ضروری ہے جو احدیث مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے ۔ ایک طرف پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ ہو رہی ہوگی جو چھ سال تک جاری رہے گی اس جنگ کو ہی بہت سے اولیا کرام نے غزوہ ھند کا نام دیا ہے جبکہ دوسری جانب جنگ ہرمجدون ہونگی اس میں امام مہدیؑ اپنی فوجوں کے ساتھ باطل قوتوں سے ٹکرا جائیں گے ۔یہ دونوں جنگیں ایک ساتھ ہونگی ۔ غزوہ ھند میں پہلے پاکستان اپنے بہت سے علاقے کھو دے گا ۔ لیکن پاکستان کو ترکی ایران اور وسطی ایشائی ریاستوں سے مدد ملے گی اور ایک گوریلا وار شروع ہوگی جس میں آخر فتح پاکستان کی ہوگی اور ہندوستان پر قبضہ کر لیا جائے گا جبکہ دوسری طرف جنگ ہرمجدون میں امام مہدیؑ کے لشکر کو فتح ہوگی ۔ اور دجال نکل آیے گا ۔ دجال کو قتل کرنے کےلیے حضرت عیسیؑ کا ظہور ہوگا جب پاکستان سے مجاہدین شام کی طرف جائیں گے تو وہاں حضرت عیسیؑ کو پائیں گے ۔ جنگ ہرمجدون !جب سے یہ دنیا معرض وجود میں آئی ہے حق اور باطل کی جنگ اسی روز سے جاری ہےکیونکہ جس روز شیطان نے متکبر ہوکر اللہ کے حکم سے حضرت آدم علیہ کو سجدے کرنے سے انکار کیا اسکو زلیل کرکے بارگاہ الہی سے نکال دیا گیا. اسی روز سے وہ انسان کا دشمن ہے اور ہر وہ حربہ آزماتا ہے جس سے انسان کو راہ راست سے ہٹا دے اور اسے بہکا کر دنیا میں فتنہ اور فساد برپا کرےلحاظ حق و باطل کی یہ جنگیں دنیا میں آج بھی جاری ہیںاور ایک وقت آئے گا کہ اللہ انکی رسی بلکل ڈھیلی چھوڑ دیگا اور وہ کھل کر دنیا کے سامنے آئیں گےدنیا کے تمام جمہوری اور ترقی یافتہ ممالک سمٹ کر ایک میدان جنگ میں اکٹھا ہو جائیں گےاس جنگ میں دنیا کے بڑے بڑے ممالک صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے اور بہت سی خونریزی ہوگیمگر بہت سی قربانیاں دے کر آخر میں حق کی فتح ہوگی.دنیا کی تمام شیطانی طاقتیں اور مشرق لوگ ایک طرف اکٹھا ہو جائیں گےجبکہ اللہ کی واحدانیت اور بزرگی پہ یقین رکھنے والے لوگ ایک طرف ہو جائیں گےیہ حق و باطل کا آخری معرکہ ہوگا اور دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہوگیجس پر دنیا کے بڑے مزاہب یعنی مسلمام عیسائی اور یہودی تینوں متفق ہیں کہ یہ جنگ ہوکر رہے گیمسلمانوں کی اصطلاح میں اسے "الملحما الکبری" یعنی the great battleجبکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی اصطلاح میں اسے آرمیگڈون(Armageddon) اور عام اصطلاح میں اسے جنگ ہرمجدون کے نام سے جانا جاتا ہےلحاظ یہ تو طے ہے کہ یہ جنگ ہوکر رہے گی..لیکن سوال ہے کہ کب اور کہاں ہوگی؟انسانیت کو صفحہ ہستی مٹانے کیلئے اس جنگ کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیںآخر یہ کسطرح ہوگا کہ اچھائی اور برائی آمنے سامنے آ جائیں گی اور اس محرکات کیا ہوں گےاور شکست اور فتح کن کی ہوگی ان پیچیدہ سوالات کے جوابات ہم اس تحریر میں جانیں گے….ہرمجدون عبرانی زبان کا لفظ ہے 'ہر' کے معنی پہاڑ اور 'مجیدون' فلسطین کی ایک وادی کا نام ہے جوکہ اس وقت اسرائیل میں واقعہ ہےزندگی کا خاتمہ کرنے والی اس جنگ کا میدان یہی وادی ہوگی یہ وادی تاریخ میں بھی بیشمار جنگوں کا میدان رہ چکی ہےکیونکہ جو بھی اسکی اونچائی پر قبضہ کر لیتا ہے وہ نا قابل تسخیر ہو جاتا ہےاسلامی روایات کے مطابق آخری دور میں ہونے والی جنگ کو دو ادوار میں تقسیم کیا گیا ہےپہلے دور کی جنگ عظیم یا آخری صلیبی جنگ یعنی جنگ ہرمجدون کہلاتی ہےجبکہ دوسرا دور دجال کے خلاف آخری معرکہ ہوگااحادیث مبارکہ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ آخری جنگ ضرور ہوگی جس سے دنیا کا نقشہ بدل کر رہ جائے گایہ اتنی خوفناک ہوگی کہ اگر سو مسلمان حصہ لیں گے تو ننانوے شہید ہو جائیں گےلیکن اس خونریز جنگ میں انسانیت کا مکمل خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ یہ قیامت کی ابتدا ہوگیقران کریم میں سورہ محمد میں اللہ تعالی یہ ارشاد فرماتا ہے کہ:"پھر کیا وہ اس گھڑی کا انتظار کرتے ہیں کہ ان پر ناگہان آئے، پس تحقیق اس کی علامتیں تو ظاہر ہو چکیں ہیں"(آیت:18)جنگ ہرمجدون کے متعلق سنن ابو داود کی واضع ایک حدیث ہےجس میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ارشاد ہے کہ آنے والے وقت کہ میں ایک ایسا دور آنے والا ہے کہ جب سب قومیں متفقہ طور پر امت مسلمہ پر اسطرح ٹوٹ پڑیں گی کہ جیسے کھانے والے ایک پیالہ پر ٹوٹ پڑتے ہیںاس دوران صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہوگیآپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا نہیں تم تعداد میں زیادہ ہوگے مگر اللہ تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارا رعب اور دبدبہ نکال دے گا اور تمہیں وہم میں مبتلا کردے گا یعنی تمہاری دنیا سے محبت اور موت سے نفرتطاعون کا پھیلناحضرت عوف بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے چھ علامتیں شمار کرو؛ میری وفات پھر بیت المقدس کی فتح پھر تم میں ایک وبا شدت سے پھیل جائے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیلتا ہے-بخاری (٣١٧٦) كتاب الجزيةسیاہ موت (انگریزی: Black Death، عربی: موت الاسود، فارسی: مرگ سیاہ)، جسے سیاہ طاعون بھی کہا جاتا ہے، ایک تباہ کن وبائی مرض تھا جس نے 144 ویں صدی کے وسط میں (1347ء – 1350ء) یورپ کو جکڑ لیا اور یورپ کی دو تہائی آبادی اس کا ہاتھوں لقمہ اجل بن گئی۔ تقریباً اسی زمانے میں ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے متعدد علاقوں میں بھی متعدی امراض پھوٹے، جو اس امر کا اشارہ کرتے ہیں کہ یورپ میں پھیلنے والا طاعون دراصل کثیر علاقائی وبائی مرض تھا۔ مشرق وسطیٰ، ہندوستان اور چین کو ملا کر اس طاعون نے کم از کم 7 کروڑ 50 لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔یہی مرض مختلف شدت سے 1700ء تک یورپ میں ہر نسل میں آتا رہا۔ بعد میں آنے والے معروف طاعونوں میں 1629-1631ء کا اطالوی طاعون، لندن کا عظیم طاعون (1665-66ء)، ویانا کا عظیم طاعون (16799ء) مارسے (Marseilles) کا عظیم طاعون 1720-1722ء اور ماسکو کا طاعون 17711ء شامل ہیں۔ حالانکہ مرض کی شناخت کے حوالے سے تنازع موجود ہے لیکن اس کی وبائی شکل کا 18 ویں صدی میں خاتمہ ہو گیا۔غزوہ ھند ! حضرت ابو ھریره نے بیان کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے ایک لشکر ہند پر حملہ کرے گا اور اللہ کے فضل سے فتح یاب ہو گا پھر جب وہ شاہان ہند کو بیڑیوں میں جھکڑ کر واپس پلٹیں گے تو اللہ ان کے تمام گناہ معاف فرما دے گا اور وہ شام میں سیدنا عیسی کو اپنے درمیان پا لیں گے ۔اب دور حاضر میں کچھ لوگ کہ رہے ہیں محمد بن قاسم والا لشکر غزوہ ہند لڑ چکا ۔ان حضرات سے سوالات ہیں ۔کیا محمد بن قاسم جب واپس لوٹے تو سیدنا عیسی کو ملے ؟تحریر کو مزید طول دینے کے بجائے ہم اپنے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں ۔دوستوں فرض کیا جنگ شروع ہو چکی ہے دشمن کی فوجوں نے ہمیں یرغمال بنا لیا ہے ۔ اور ہم کس طرح ان کی قید سے بھاگنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ایک جنگل میں پناہ حاصل کرلیتے ہیں ۔ تو ہمیں پہلے سے ہی تربیت ہونی چاہیے ایسے حالات میں ہم نے جنگل میں کس طرح رہیں کہ دشمن کی نظروں میں بھی نا ائیں اور کیڑے مکوڑوں اور جنگلی جانورں سے محفوظ رہیں ۔ اگر کوئی دشمن ہمارے لیے انتہائی آسان حدف ہو تو ہم اس کو کیسے حاصل کریں جبکہ ہمارے پاس کوئی ہتھیار نا ہو ۔ دوستوں آج کی وڈیو میں ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ ہم جنگل میں اپنے لیے پناہگاہ یا مورچہ کس طرح بنائیں ۔

Posted by ‎فہیم پاکستانی‎ on Thursday, January 24, 2019