بلاگ

گوادر میں تیزی سے ختم ہوتے سبز کچھوے

مکران کے ساحلی علاقے “دران” جیوانی ، “تاک” ، اورماڑہ اور پاکستان کے سب سے بڑےجزیرے ”اسٹولہ” کو گرین ٹرٹل کے لئے محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین حیاتیات کی نظر میں یہ علاقے آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے سبز کچھوؤں کی افزائش نسل کے لئے محفوظ زون ہیں۔ دوسری جانب آئے روز ان علاقوں میں معدوم نسل کے کچھوؤں کا مردہ حالت میں پایا جانا ایک تشویش ناک امر ہے۔

گزشتہ روز گوادر کے مغربی ساحل “پدی زر” میں ایک مردہ کچھوا پایا گیا جس کا تعلق نایاب نسل کے سبز کچھوے (Grean sea Turtle سے تھا۔ اس سے پہلے بھی مکران کے ساحلی علاقوں میں یہ کچھوے مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سبز کچھوے کا وزن 100 کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہےاور یہ روزانہ 20 سے 40 کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کچھوؤں کے نیسٹنگ ایریا بھی تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ اس وقت اس کچھوے کی نسل دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ معدوم ہوتی جارہی ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ مکران کے ساحل کے گرم پانیوں میں سبز کچھوے کی تحفظ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیےجارہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سبز کچھوے اورماڑہ کے ساحلی علاقہ “تاک” ، جیوانی کے ساحل “دران” اور اسٹولہ جزیرے میں انڈے دیتے ہیں اور انکے نیسٹ انہی ساحلی خطے میں موجود ہیں۔

گوادر سے تعلق رکھنے والے ماہر حیاتیات اور ڈپٹی ڈا ئریکٹر انوائرنمنٹ عبدالرحیم گوادر کا کہنا ہے کہ گوادر کے مغربی ساحل پدی زر میں مردہ حالت میں پائے جانے والی کچھوےکی موت پلاسٹک کے جال میں پھنس جانے سے ہوئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ مکران کے ساحلی علاقوں میں زیادہ تر کچھوے پلاسٹک کے جال میں پھنس کر موت کے شکنجے میں چلے جاتے ہیں۔ یہ جال ممنوع ہونے کے باوجود ماہی گیر انہیں شکار کےلئے استعمال کررہے ہیں، جن کی زد میں آکر نایاب نسل کے کچھوؤں کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں میں شعور کی کمی ہے۔ اگر کچھوے ماہی گیروں کے جال میں پھنس جائیں تو ماہی گیروں کو چاہئے کہ وہ انہیں آزاد کرکے واپس سمندر میں چھوڑ دیں۔ گوادر کے مقامی رائٹر عبدالحلیم کا کہنا ہے کہ گوادر کا ساحل آبی حیات کے لئے ایک زرخیز ساحل ہے، جہاں مختلف اقسام کی نایاب سمندری مخلوق پائی جاتی ہیں۔ انکے مطابق یہاں کے ایکوسسٹم میں سبز کچھوے اور دیگر سمندری مخلوق پائی جاتی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 4600 کچھوے ماہی گیروں کی جانب سے دوران شکار پلاسٹک کے جال اور ہک میں پھنس کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔1990 کے بعد دوران شکار جال کی زد میں آکر کچھوؤں کی موت میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ماہرین اسکی وجہ پلاسٹک کے جالوں کا بے جا اور بے دریغ استعمال سمجھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھوے سمندری حیات کے لئے اہم ہیں، جبکہ ساحل میں گندگی اور پلاسٹک کے تھیلوں اور جالوں کی وجہ سے کچھووں کی موت واقع ہورہی ہے۔ کچھوے پلاسٹک کے تھیلوں کو جیلی فش سمجھ کر کھاتے ہیں جوکہ انکے معدے میں پھنس جاتے ہیں۔ کچھوے سمندر کے اندرموجود غیر ضروری گھاس اور دیگر مخلوق کو کھا جاتے ہیں جس کی وجہ سے سمندر صاف ہوجاتا ہے جوکہ ایکوسسٹم کے لئے کافی اہم ہے۔ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا کہ سمندر میں گندگی کی وجہ سے جیلی فش کی افزائش نسل میں اضافہ ہورہاہےکیونکہ جیلی فش آکسیجن کے بغیر گندگی اور آلودہ پانی میں تیزی کے ساتھ افزائش نسل پاتی ہے جبکہ کچھوے جیلی فش کو کھا کر سمندر کی ایکو سسٹم کو بہتر بناتے ہیں۔