بلاگ ظنز و مزاح

گنج پن کا مکمل علاج

میری بیگم کو شدید پریشانی ہے کہ میرے بال تیزی سے جھڑ رہے ہیں اور میں اس کو سمجھاتا ہوں کہ بیگم جھڑنے دو یہ گنج برآمد ہو گا تو اچھا ہو گا گنج پن کا گہرا تعلق معیشت سے ہوتا ہے امیر بندہ گنجا ہی ہوتا ہے ماسوائے ان غربیوں کے جو فیشن میں ٹنڈ کروائے پھرتے ہیں مگر اس کا کہنا ہے آپ سادے سادے اچھے نہیں لگتے اگر گنجے ہو گئے تو میں دنیا کو کیا منہ دکھاوں گی ۔۔!

گنج اور توند ہمارے مردوں کی شناختی علامت ہے۔ بیگم پریشانی میں یوٹیوب پر بال جھڑنے سے روکنے کے ٹوٹکے دیکھتی رہتی ہے۔ ایک دن پیاز کا پانی لے کر آ گئی اور زبردستی میرے بالوں پر لگا دیا۔ ساری رات مجھے ناک بند کر کے سونا پڑا۔ یہ عمل ایک ہفتہ مسلسل جاری رہا مگر مجال ہے ٹکے کا فرق بھی پڑا ہو۔ پھر اس نے ایک نیا ٹوٹکا دیکھا۔ مجھے کہنے لگی کہ بکرے کی ریڑھ کی ہڈی میں جو حرام مغز ہوتا ہے وہ مجھے ڈیڑھ پاو لا کر دیں۔ میں نے سنا تو میرا دماغ چکرا گیا۔ میں نے کہا کہ تم الو کا خون منگوا لو، بکرے کے سینگ لا دیتا ہوں، کبوتر کی سری مل جائے گی، کالی بلی کا خون بھی لا دیتا ہوں تم نے شوہر کو تابعدار رکھنے کے لئے جو عمل کرنا ہے کر لو مگر یہ بکرے کی ریڑھ کی ہڈی سے برآمد شدہ حرام مغز ڈیڑھ پاو کہاں سے جمع کر کے لاوں ؟ ۔۔۔ اس نے سن کر مجھے خوب کوسا اور کہنے لگی تعویز نہیں کرنا آپ کے بالوں کا علاج کرنا ہے ۔۔۔

میں مجبور کر دیا گیا تو قصائی ٹو قصائی گھوما۔ جس سے بات کروں وہ قصائی پہلے مجھے سر سے پاوں تک گھورے پھر پوچھے کہ بھائی حرام مغز کا کیا کرنا ہے ؟ جب اسے جواب دوں تو پہلے وہ ہنسیں اور پھر جو تھوڑا بہت ان کے پاس حرام مغز جمع ہو مجھے شاپر میں ڈال دیں۔ پچاس قصائیوں سے اپنا مزاق اڑوا کر آخر آدھ کلو حرام مغز میں نے جمع کر لیا۔۔۔ ایک رات میں گھر آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گھر کے چاروں طرف ایسی بھیانک بدبو پھیلی ہے کہ جیسے کوئی چربی پگھلا رہا ہو۔ گھر میں داخل ہوا تو غش پڑ گیا۔ بچے و بیگم چہرے کو ڈھانپے بیٹھے تھے۔ معلوم ہوا کہ بکرے کا حرام مغز خالص سرسوں کے تیل میں فرائی ہوا ہے اور اب وہ جادوئی مرہم تیار ہے جس کی آخری آرامگاہ میرا سر بنے گا۔۔۔

بیگم وہ حرام کا مرہم روزانہ رات اپنا اور میرا چہرہ ڈھانپ کر ملنے لگتی اور پھر صاحبو اس کی "خوشبو” نیند اڑا دیتی۔ میں بازار سے سر ڈھانپنے والا سامان لے آیا جو عمومی طور پر شیف یا کک سر پر پہنتے ہیں تا کہ بال ٹوٹ کر کھانے میں نہ گر پائیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ سر پر مرہم لگنے کے بعد مرے ہوئے کتے جیسی بدبو پھیلتی نہیں تھی۔۔۔

یہ خبیث ٹوٹکا پندرہ دن چلا مگر مجال ہے بالوں کو اثر پڑا ہو البتہ جوئیں بمعہ اگلی نسل کے قیامت تک کے لئے تلف ہو گئیں ۔۔۔ روزانہ صبح کو تین بار شیمپو سے رگڑ رگڑ کر سر دھونے کے بعد بھی عجیب سی بو بالوں میں رہ جاتی۔ ایک دن میں بازار سودا سلف لینے گیا تو دکان والا بولا ” یار ! ایتھے اچار دی ڈبی کنے کھولی اے؟ ” ۔۔۔ گھر واپس آ کر میں نے اعلان بغاوت کر دیا تو بیگم کا منہ بن گیا۔ اب بیگم کو منانے کے واسطے مجھے ایک ترکیب سوجھی۔ ایک دن میں نے خوشی خوشی اسے کہا کہ آخر کامیاب ٹوٹکا مل گیا۔ بس تم ایسا کرنا بارش کا پانی ایک پیتل کے برتن میں جمع کرنا ہے۔۔۔ بیگم کو تسلی ہو گئی اور اب وہ بارش کے انتظار میں لگ گئی اور میں خوش ہو گیا کہ چلو لمبے عرصے کے لئے جان چھٹی۔۔۔ شو مئی قسمت کہ اگلے دن ہی بارش برس گئی۔ اس نے پیتل کا برتن بارش کے پانی سے لبالب بھر لیا اور بولی اب آگے کیا کرنا ہے ؟

مزید پڑھیں: کرکٹ ورلڈ کپ، تاریخ و حقائق

مجھے گھبراہٹ میں کچھ نہ سوجھا تو میں نے کہا کہ بیگم اب اسے ایک ہفتہ چھت پر رکھ دو اس پانی کو سات دن چاندنی راتوں میں رکھنا ہے پھر سر پر لگانا ہے۔ اس نے وہ برتن چھت پر رکھ دیا۔ مجھے یقین تھا کہ سات دنوں میں پرندے وہ پانی پی کر ختم کر دیں گے تو قصہ ہی ختم ہو جائے گا مگر مجال ہے پرندوں نے اسے منہ بھی لگایا ہو۔ سات دن بعد پیتل کا برتن نیچے اتر کر میرے منہ کے سامنے موجود تھا اور پانی کی مقدار اچھی خاصی برقرار تھی۔۔۔ سورج نے بھی پانی نہیں چھوا تھا شاید ۔۔۔

میں نے اس کہا کہ اب اس پانی میں خشخاش ڈال کر اسے اچھی طرح ابالنا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ ابل ابل کر پانی بھاپ بن کر اڑ جائے گا باقی خشخاش کے دانے ہی بچیں گے مگر بیگمات سیانی ہوتی ہیں وہ ایسا محلول بنا لائی جس کی رنگت ہلکی سبز سی تھی۔ ناچار مجھے وہ محلول بالوں پر لگانا پڑا البتہ یہ سچ میں خوشبودار تھا۔

دو دن میں یہ محلول ختم ہو گیا۔ نہ بالوں کو فرق پڑنا تھا نہ پڑا البتہ بیگم مایوس نہیں ہوئی۔ کل ہی مجھے حکم صادر ہوا ہے کہ تارے میرے کا تیل، کوکونٹ آئیل، بڑی آلائچی، سوکھی میتھی اور ہرا پیاز لانا ہے۔ پہلے تو لسٹ پڑھ کر مجھے لگا کہ شاید بیگم کا حیدر آبادی مٹن کڑاہی بنانے کا من ہے مگر آخر میں تارے میرے کا تیل لکھا پڑھ کر میں نے پوچھا کہ اس کا کیا کرنا ہے ؟ بولی ” وہی !!! آپ کے جھڑتے بالوں کا علاج” ۔۔۔۔۔