بلاگ معلومات

گدو بندر (حیدرآباد کا پاگل خانہ )

‎بچپن سے ہی سنتے آئے تھے کہ اگر کوئ غصے میں اول فول بکتا یا کوئ احمقانہ بات کرتا تو ازراہ مزاق کہا جاتا کہ اس کو گدو بندر بھیج دو- اب کمسنی میں تو گدو بندر سے ہمیں بندروں کا خیال آتا کہ شاید گدو بندر میں بہت سے بندر رہتے ہونگے اس لئے اس جگہ کو بندر کہاجاتا ہے لیکن بڑا ہونے پر پتہ چلا کہ یہ بندر دراصل بندر گاہ والا بندر ہے جیسے کہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ کا پرانا نام بندر روڈ اس لئے تھا کہ یہ کیماڑی کے بندرگاہ تک جاتا تھا- حیدراباد کا گدو بندر بھی دراصل دریائے سندھ پر موجود بندر گاہ تھا جہاں انڈس فلوٹیلا کمپنی کے دخانی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے- سندھ سے پنجاب تک روڈ اور ریلوے لائن نہ ہونے کی وجہ سے انگریز سامان و اجناس کی نقل و حمل کے لئے دریائے سندھ میں دخانی جہاز استعمال کرتے تھے- کراچی سے سامان حیدراباد کے گدو بندر بھجوایا جاتا جہاں سے اس سامان کو دخانی جہازوں میں لاد کر پنجاب اور لاہور تک پہنچایا جاتا- ریلوے لائن ڈالنے کے بعد پہلا ریلوے انجن بھی کراچی سے پہلے حیدراباد اور پھر وہاں سے انڈس فلوٹیلا کے شپ کے ذریعے لاہور پہنچایا گیا تھا – لاہور میں یہ انجن ھاتھیوں اور بیل گاڑیوں کی مدد سے گھسیٹ کر ریلوے اسٹیشن تک پہنچایا گیا تھا-

گدوبندر ایک دریائی گھاٹ تھا جو کسی زمانے میں سامان تجارت کی درآمد کا مرکز تھا ۔گدوبندر کو غلام شاہ کلہوڑا نے بنوایا تھا غلام شاہ کلہوڑا نے گدوبندر اپنے عہد حکومت میں اپنی دربار خاص گدو مل کی زیر نگرانی میں بنوایا تھا اس وقت اسے ٹنڈو گڈو کہا جاتا تھا یہ جگہ لطیف آباد نمبر 3میں واقع ہے بعد میں اسی جگہ ہسپتال قائم ہوا حیدرآباد میں ایشیاء کا پہلا دماغی امراض کا ہسپتال تھا جو 1871 ؁ء میں قائم ہوا – ایشیا میں دو بڑے پاگلوں کے ہسپتال تھے، ایک انڈیا رانچی میں دوسرا گدو- عجیب بات گدو رانچی والے سے بڑا ہے- اس کا نام "سر کواس جی جہانگیر مینٹل ہسپتال”رکھا گیا۔ مینٹل ہسپتال 690000 روپے سرمایہ سے قائم ہوا تھا اور یہ تقریباً 40 ایکڑ کی جگہ پر واقع ہے ہسپتال کی جگہ کامالک سر کاوس جی جہانگیر تھااور اس نے یہ زمین وقف کی تھی کہ صرف یہاں مینٹل لوگوں کا علاج مفت ہوگا یہ جگہ وقف کرنے کا بنیادی مقصد یہ تھا جیسے اس کی والدہ اس مرض میں انتقال کر گئیں تھیں اسی طرح دوسرے لوگ اس مرض سے نجات پائیں اور جتنے لوگ یہاں سے شفاء یاب ہونگے اس کا اجر سر کواس جی اور اس کی والدہ کو ملتا رہے گا ۔ ۔ یہ سر کاؤ س جی جہانگیر کون تھے ؟ انہوں نے ایسے افراد کے لئے جو ذہنی طور پر معذور یا مفلوج یا بیمار ہوتے ہیں،جنہیں مخبوط الحواس کہا جاتا ہے

، یہ ہسپتال کیوں قائم کیا تھا؟ سر کاؤس جی جہانگیر ممبئی کے ایک ایسے پارسی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس کے پاس پیسے کی ریل پیل تھی۔ ان کے والد کے نام کے ساتھ ’’ ریڈی منی ‘‘ کا لاحقہ لگا ہوا تھا جسے سر کاؤس جی جہانگیر نے ختم کردیا۔ جہانگیر کسی سرکاری کام سے لاڑکانہ گئے ۔ وہاں انہوں نے چند ایسے لوگوں کو دیکھا جو بلاوجہ سڑکوں کے کنارے کچرے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان سے گفتگو کی اور انہیں محسوس ہوا کہ یہ لوگ ذہنی طور پر آسودہ حال نہیں ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے لاڑکانہ میں ایک آسودہ گھر قائم کیا، پھر حیدرآباد آئے، گدو بندر میں زمین خریدی اور ذہنی اور نفسیاتی طور پر غیر آسودہ حال لوگوں کے لئے ایک آسودہ گھر تعمیر کرایا ۔ یہ سب کچھ 1852 ء سے قبل ہورہا تھا ،کیونکہ وسیع آراضی پر قائم یہ آسودہ گھر 1852 میں ہی مکمل ہو گیا تھا۔ سر کاؤ س جی جہانگیر نے ہسپتال کے قیام کے لئے کسی سے چندہ نہیں کیا، بلکہ اپنی ذاتی رقم خرچ کی۔

بعد میں مختلف حکومتوں کے دور میں مختلف قسم کی توسیع ہوتی رہی اور مختلف قسم کے ایم ۔ایس آتے رہے ۔ بینظر بھٹو کے پہلے دور میں وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ نے 1994 ؁ء میں نرسنگ اسکول کا قیام کیا بعد میں پرویز مشرف کے دور میں 2002 – 2003میں اسے کالج کا درجہ دیا گیا ۔پروفیسر قاضی حیدر علی نے کالج کے تمام کاموں کی نگرانی کی اور اپنے کام کو بخوبی سر انجام دیا انکی یاد میں انکے نام پر ایک آڈیٹوریم ہال بنایا گیا اور یہاں پر LUMHS کا ایک ڈیپارٹمنٹ W11A بھی بنایا گیا جس میں نفسیات کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے اسکے انچارج معین احمد انصاری صاحب ہیں- ہر سال 20سے 25طلبہ کا میرٹ پر اس شعبے میں داخلہ ہوتا ہے ۔ یہاں پر ایشیاء بھر سے دماغی مریض لائے جاتے ہیں اور ان کامفت علاج کیا جاتا ہے ابھی اس وقت تقریباً 350ذہنی مریض اس ہسپتال میں زیر علاج ہیں یہاں پر بہت سے ادنیٰ درجے کے دماغی مریض (پاگل )بھی ہیں جو حیدرآباد کے پاگل خانے کی حدود میں کھلے گھومتے رہے ہیں ۔ یہاں پر بہت سے سنگین پاگل بھی ہیں جو زنجیروں میں بندھے ہوئے ہوتے ہیں انکا بہت احتیاط سے علاج کیا جاتا ہے –

علاج کرنے والوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ علاج کے دوران اپنے آپکو ہوشیار رکھیں ۔ایک دفعہ کا واقع ہے کہ میرا دوست ہسپتال اپنے دوست سے ملاقات کرنے گیا اس نے پاگلوں کو کمروں میں بند دیکھا اسی دوران اوپر والے کمرے سے پاگل نے اسے اشارہ کرکے سگریٹ مانگی اس نے کہا کہ کوئی رسّی وغیرہ دو – تھوڑی دیر میں چار زابندوں سے بندھی ہوئی رسی آئی اس نے انہیں دو سگریٹ باندھ کر دی ۔ پاگل نے اوپر سے اسے لعنت دی ۔ اس نے پاگل سے پوچھا لعنت کیوں دے رہے ہو ؟ اس نے کہا یہاں چار بندے اپنی شلواریں اتار کر بر ہنہ ہوگئے اور تم نے صرف دو سگریٹ دی ہیں یعنی جو رسی نیچے آئی تھی وہ دراصل چار زابندوں کو آپس میں باندھنے سے بنی تھی- اور اسی طرح کے مختلف واقعات وہاں لوگوں کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں ۔ہسپتال میں علاج کے لئے اعلیٰ قسم کے ڈاکٹر موجود ہیں جو اپنے فرائض کو بخوبی سر انجام دے رہے ہیں ۔ وہاں پر جو پاگل علاج کے لئے لائے جاتے ہیں انکی مختلف وجوہات ہوتی ہیں ۔کوئی رشتہ داروں کے ظلم و ستم کی وجہ سے ، کوئی محبت میں ناکامی کی وجہ سے، کوئی دولت کے نشے میں،کوئی صدمے کو برداشت نہ کرنے کی وجہ سے ۔

پاگل خانے میں بہت سی قسم کی فلمیں ، شوٹنگ ، تحقیقاتی رپورٹ بھی بنائی جاتی ہیں۔ یہ پاگل خانہ درحقیقت عوام الناس کے لئے عبرت ہے کہ پاگل اپنے آپ کو پہچان نہیں سکتے اور اچھے برے میں تمیز پیدا نہیں کر سکتے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم خدا کی اس عظیم نعمت کو صحیح طریقے سے استعمال کریں جس طرح استعمال کرنے کا حق ہے ۔ ڈاکٹر ابراہیم خلیل صاحب 1935 سے 1955 تک سر کاؤس جی سائیکالوجی ہسپتال حیدرآباد میں سپرنٹنڈنٹ رہے ہیں یہ سندھی ادیب بھی تھے، ان کے کئی جلدوں پر مشتمل شاعری کے مجموعے بھی چھپے ہیںخیر ڈاکٹر صاحب نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھے عبرت کدہ- یہ کتاب 1962 میں چھپی تھی-

ڈاکٹر صاحب نے پاگل پن سے صحت یاب ہونے والے مریضوں سے ان کے پاگل پن کی وجہ پوچھی اور ان دل دہلانے والی وجوہات کو کہانی طرز پر افسانوں صورت میں لکھا تھا- اس کتاب میں کل 35 واقعات یا کہانیاں ہیں- یہ کتاب اب نایاب ہے لیکن ہمارے ایک انتہائ قابل دوست اسد اللہ مہر صاحب نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کیا ہے مگر یہ ترجمہ ابھی تک چھپا نہیں ہے- میں اسداللہ مہر صاحب کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے کمال عنایت سے مجھے اس کتاب کے دو واقعات کا اردو ترجمہ بھیجا ہے جسے میں ان شاء اللہ کل سے اپنی فیسبک پر احباب کے لئے شیئر کرونگا-

ڈاکٹر شیخ ابراہیم خلیل نے اپنی کتاب کا نام ’ ’ عبرت کدہ‘‘ درست ہی رکھا تھا۔ ڈاکٹر خلیل گدو بندر میں قائم پاگل خانے کے طویل عرصے تک انچارج تھے۔ عرف عام میں مشہور پاگل خانہ جو بنیادی طور پر ذہنی آسودگی کا مقام تھا جہاں ایسے افراد کو داخل کیا جاتا ہے جو ذہنی اور نفسیاتی طور پر غیر صحت مند قرار پاتے ہیں۔ ان کے قیام کے دوران علاج بھی کیا جاتا ہے۔ مخبوط الحواس افراد کی اس پناہ گاہ کو Lunatic asylum ماضی میں مشہور گدو بندر کے علاقے میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ علاقہ حیدرآباد میں اب حسین آباد کے نام سے جانا جاتا ہے اور پاگل خانے کا نام بھی تبدیل ہو چکا ہے ،لیکن عام لوگوں کے لئے یہ آج بھی پاگل خانے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس ہسپتال کے دوسرے طویل عرصے تک میڈیکل سپرنٹنڈنٹ رہنے والے ڈاکٹر حیدر علی جی قاضی مرحوم نے اس کا سرکاری نام سر کا ؤ س جی جہانگیر انسٹی ٹیوٹ آف سا ئی کاٹری منظور کرایا تھا

ایک زمانہ تھا کہ ذہنی مریضوں کو اس ہسپتال میں ایسے قید خانوں میں رکھا جاتا تھا، جیسے پولیس تھانوں میں آج بھی لاک اپ ہوتے ہیں۔ 60 کے عشرے تک لوگ ٹکٹ خرید کر پاگلوں کو دیکھنے جاتے تھے۔ ان میں بہت سارے ایسے لوگ بھی ہوتے تھے جو عبرت حاصل کرنے جایا کرتے تھے اور مریضوں کے لئے کھانے پینے کا سامان اور پھل لے جایا کرتے تھے۔ جگت مشہور چاچا اسماعیل قبرستانی مرحوم نے (ان کا نام اسماعیل قریشی تھا، لیکن عام لوگوں نے ان کے نام کے ساتھ قبرستانی کا لاحقہ اس لئے لگا دیا تھا کہ وہ قبرستان کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے اور مجھ جیسے لوگ انہیں صرف چاچا ہی کہہ کر مخاطب کرتے تھے) ۔۔۔ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ قیام پاکستان سے قبل ہندو گھرانوں کی لڑکیاں اتوار کے روز کھانے پکا کر پاگل خانے جایا کرتی تھیں اور اپنے ہاتھوں سے ان ذہنی مریضوں کو کھانا کھلایا کرتی تھیں۔ صبح سے شام تک خدا کی مخلوق کی خدمت کے بعد جب یہ لڑکیاں اپنے گھروں کو واپس ہوتی تھیں تو کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے تھے، کسی کے کپڑوں پر سالن وغیر گرا ہوا ہوتا تھا۔ کسی کے بال اجڑے ہوئے ہوتے تھے ، لیکن یہ لڑکیاں دوسرے اتوار کو بھی جاتی تھیں اور ان کا یہ ایک معمول ہوا کرتا تھا۔

اسے کہتے ہیں انسانی خدمت کا جذبہ۔ اب نہ وہ دور رہا ، نہ وہ لوگ رہے اور نہ ہی وہ جذبے۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ قریبی رشتہ دار بھی جب اپنے پیاروں کو ہسپتال میں داخل کرا کے جاتے ہیں تو پھر پلٹتے ہی نہیں کہ اپنے پیارے کا حال ہی معلوم کر لیں یا اس کی کوئی ضرورت پوری کردیں ۔ ہسپتال کی انتظامیہ کل بھی یہ رونا روتی تھی اور آج بھی اسے یہی گلہ ہے کہ رشتہ دار اپنے مریض کو داخل کرانے آتے ہیں ، داخل کرایا اور پھر بھول گئے۔ اپنے پیارے کو دوبارہ نہ پوچھنے کی معاشرتی وجہ بھی ہے کہ معاشرے کے لوگ طعنے بھی دیتے ہیں کہ پاگل کا بھائی یا رشتہ دار ہے۔ کئی مریض ایسے بھی ہیں جو ذہنی طور پر ٹھیک ہوجانے کے بعد جب اپنے گھروں کو لوٹے تو گھر والوں نے ان کی دواؤں پر توجہ نہیں دی۔ محلے والوں نے انہیں طعنے دینے شروع کر دیئے کہ یہ تو پاگل ہے۔ ان میں سے بہت سارے لوگ ہسپتال میں دوبارہ داخل کر ادیئے گئے۔گھر والے اس لئے بھی ڈرتے ہیں کہ پاگل کے ساتھ رشتہ داری کی وجہ سے طعنہ بازی کی صورت میں ان کی بیٹیوں کے رشتے ملنے مشکل ہو جا تے ہیں ۔

اس ہسپتال میں نہ جانے کن کن لوگوں نے اپنے پیاروں کو پاگل قرار دے کر داخل بھی کرا دیا۔ کئی ایسے خاندانوں اور افراد ہیں، جنہوں نے اپنی زوجاؤں ،بیٹوں، بیٹیوں ، بھائیوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر داخل کرا دیا ۔ بظاہر انہیں پاگل یا ذ ہنی مریض قرار دیا گیا، لیکن اصل میں وہ کسی نہ کسی معاملے ، خصوصا جائیداد کی غیر منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ تھے، جس کی وجہ سے انہیں راستے سے ہٹانا ضروری تھا ،سو ایک زمانے میں کسی کو پاگل قرار دے کر ہسپتال میں داخل کرادینا آسان تھا۔ بڑے بڑے دولت مندوں کو ان کے اپنے ہی رشتہ داروں نے یا پھر خود ان کے اپنے دولت مند ہونے کے زعم نے اس ہسپتال کی ہوا کھلائی ہے ۔ دولت مند ہونے کا زعم بھی تو پاگل پن کی ایک خطر ناک علامت ہے۔ آج بھی لوگ جس وقت چاہتے ہیں، اپنے کسی عزیز کو ہسپتال لے آتے ہیں، تاکہ داخل کر ادیا جائے، لیکن ہسپتال میں داخلے کا طریقہ کار تبدیل ہو چکا ہے اس کے لئے کسی مجسٹریٹ کا حکم درکار ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ہر کوئی کسی بھی وقت کسی کو داخل نہیں کرا سکتا ہے-

ہے تو یہ ذہنی مریضوں کا ہسپتال، لیکن در حقیقت عبرت کدہ ہے۔ بعض مریض تو اپنی حالت سے اتنے بے خبر ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی حاجات کا خیال تک نہیں رہتا۔ بعض اتنے پُر تشدد ہوتے ہیں کہ دوسرے شخص کو برداشت ہی نہیں کرتے ۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں ایک لمحہ ہوش ہوتا ہے جو دوسرے لمحے غائب ہوجاتا ہے۔ وہ آپ کے ساتھ ایسی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ کو بھی نہیں لگے گا کہ یہ ذہنی مریض ہے ،لیکن تھوڑی دیر میں وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگے گا تو آپ کو احساس ہوگا کہ یہ ذہنی طور پر آسودہ حال نہیں ہے۔ میں حال ہی میں ہسپتال گیا تھا۔ کرکٹ عالمی کپ کے حوالے سے گفتگو ہو رہی تھی۔ بعض لوگ پاکستانی اور بھارتی کھلاڑیوں کے نام بھی بتا رہے تھے۔ سینکڑوں ایسے مسائل ہوتے ہیں جو ذہنی آسودگی چھین لیتے ہیں۔ انسان کا ذہن پلٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ ہسپتال جا کر محسوس ہوتا ہے کہ ہسپتال کے باہر جگہ جگہ ایسے لوگ موجود ہیں جو ذہنی آسودگی سے محروم ہیں۔ ذہنی آسودگی ایسا قدرتی عطیہ ہے جس کا بدل سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ خدا کی مخلوق کی خدمت کی جائے۔ اس تماش گاہ میں حکومتیں غور و فکر نہیں کرتیں کہ ضرورت مند عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے لئے مستحکم و مربوط قسم کا نظام قائم کیا جائے اور لوگوں کے لئے تفریح کے زیادہ سے زیادہ موقع پیدا کئے جائیں، تاکہ لوگ ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہو سکیں اور اپنے ذہنی بوجھ کو برداشت کر سکیں یا بانٹ سکیں۔

ذہنی دباؤ، لاتعلقی اور ذہنی بوجھ برداشت کرنے کے طریقہ کار پر سکولوں سے ہی بچوں کو تربیت دینا ضروری ہے، تاکہ آنے والے دنوں میں وہ لوگ ٹینشن اور ڈپریشن جیسے مسائل سے نمٹنے کا طریقہ کار طے کر سکیں۔ ضروری نہیں کہ اگر پیسہ نہیں ہے تو خدمت نہیں کی جاسکتی ۔ لوگوں کو پانی پلانا بھی تو کسی خدمت سے کم نہیں ہے۔ سر کاؤس جی جہانگیر ہسپتال میں بعض افراد اور بعض غیر سرکاری تنظیمیں کھانے کا بندوبست کرتی ہیں۔ چاول کی دیگیں بھیج دی جاتی ہیں جو مریضوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں، حالانکہ ایسے مریضوں کے لئے خوراک کا مناسب بندوبست ہونا چاہئے نہ کہ روزانہ کھانے کے لئے چاول ہی دیا جائے، لیکن کیا کیا جائے۔ ملک بھر میں سرکاری اداروں کا جو حال ہے، یہ ہسپتال بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ صفائی ستھرائی برائے نام ہے۔ ذہنی مریضوں اور مخبوط الحواس افراد کا یہ ہسپتال ایک عبرت کدہ ہے ۔ خدا کی پناہ طلب کریں۔ یوں تو ملک پاکستان میں اور بھی بڑے بڑے پاگل خانے ہیں لیکن ان تمام پاگل خانوں میں سب سے قدیم اور ایشیا کا بڑا پاگل خانہ حیدرآباد کا گدو بندر ہے. 17 ایکٹر پر مشتمل اس پاگل خانے میں 11 وارڈ ہیں، ملکی اور غیر ملکی کئی پاگل یہاں موجود ہیں. یہاں آنے والے مریضوں کی تعداد کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ رواں سال جولائی کے مہینے میں آنے والے مریضوں کی تعداد 6551 ہے. پاگل پنے کی وجوہات میں عشق میں ناکامی، گھریلو ناچاقی، بیروزگاری سر فہرست ہے. یہاں امیر کبیر لوگوں کے بچے اور غریب سب ہی ہیں. دوائیاں اور کھانا پینا مفت ہے. اس ہسپتال کی ایک عجیب بات یہ ہے کہ جب مریض صحت یاب ہوجائے تو اسے گھر تک پہنچاتے ہیں. یہ معلومات 2016 کی ہیں جس وقت عبرت کدہ کا مقدمہ لکھنے کے سلسلے میں وہاں جانا ہوا