ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

“فری میسن” : انسانی تاریخ کی خفیہ ترین تحریک (ساتویں اورآخری قسط) ۔ بلال شوکت آزاد

اِن کا حقیقی معبود کون ہے؟اس سوال کا جواب ہمیں ایک فری میسنری پروفیسر عبدالحلیم الیاس خوری کی کتاب سے ملتا ہے۔
وہ ساری خدائی کو اپنے آپ پر قیاس کرتے ہوئے رقم طراز ہے کہ”ایسا کوئی شخص باقی نہیں جو اللہ اور خلود ونفس پر ایمان رکھتا ہو، ماسوائے احمقوں اور دیوانوں کے۔ اے قارئین! میسنری ہو جاؤ یا اللہ پر ایمان رکھنے والوں میں رہو۔ ”

ایک اور جگہ موصوف رقم طراز ہیں کہ “حقیقی خدا و معبود صرف مادہ ہے۔ “(الماسونیہ ذالک المجہول، ص 43)۔

یہ بات تو ہم شروع دن سے جانتے اور بیان کرتے آرہے ہیں کہ یہ تحریک صرف شیطانی اور دجّالی مقاصد کی تکمیل کے ایجنڈے پر کام کرتی ہے، تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اس کے ظاہر کی طرح اس کے باطن میں شیطان اور دجّال کی محبت کے بجائے ایک اللہ کی محبت ہو؟

یہاں نوواردوں کو درجوں میں ترقی در ترقی کے ساتھ اپنے مذہبی عقائد سے جانتے بوجھتے اور ہنسی خوشی ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور جب نادیدہ خدا کو ردّ کرکے وہ ایک مادہ پرست تنظیم کا حصہ بنتا ہے اور تفریح طبع کے مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس کا دل بہک نہ جائے احساس گناہ کی وجہ سے یو اس کو مادے کو ہی حقیقی معبود اور اللہ ماننے کا درس ازبر کیا جاتا ہے۔

آپ لوگ مشعال، سلمان حیدر اور وقاص گورایہ جیسے انسانوں کی صورت میں مادہ پرست یا مادے کو بطور اللہ اور معبود ماننے والوں کو اپنے حواس خمسہ سے پورے ہوش و حواس کے ساتھ دیکھ چکے ہیں۔بہرحال، مادہ پرستی یا مختصراََ الحاد ہی اس تنظیم کی بقا کا راز اور بنیادی عقائد کی جڑ ہے۔

دین سے جنگ : فری میسن کے ارکان کا الحاد، ارتداد، خدا کے انکار، شیطان پر ایمان، اور مادے کو معبود سمجھنا تو ان کے خود کے وثائق اور قدیم دستاویزات سے معلوم ہوگیا۔لیکن اسی پر بس نہیں بلکہ تمام ادیان عالم کے احترام کا دعویٰ کرنیوالوں کا ذاتی اور اندرونی رویّہ یہ ہے کہ وہ دین کے سخت دشمن اور دین کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ان کے ایسٹرن فرینچ کے دستور پر پہلے ہی نمبر کے تحت لکھا ہے کہ”فری میسن کا کوئی دین نہیں ہے اور نہ ہی اس کے قانون میں شرائع دینیہ کا دخول اسے پسند ہے۔ “دوسرے نمبر کے تحت لکھا ہے کہ”وہ کسی ممبر کو شریعت کی اتباع پر مجبور نہیں کرتے، جو چاہے کرے، اسے دین کے سلسلہ میں یہ خود اختیاری حاصل ہے کہ دین میں سے کوئی پسندیدہ کام کرنا چاہے تو کرے یا سب کام چھوڑدے۔ ”

1856ء میں فرانس میں ان کا یہ بلیٹن نشر کیا گیا “ہمارے اور ادیان کے مابین جنگ بند نہیں ہو سکتی اور ہم اس وقت تک دم نہیں لیں گے جب تک کہ تمام معابد و عبادت گاہوں کو بند نہیں کردیا جاتا۔ “1923ء کے ایک بلیٹن میں یہ نشر کیا گیا کہ
“اہل دین تمام دنیا پر تسلط حاصل کرنا چاہتے ہیں ہمیں تمام ادیان کے خلاف جنگ کرنے میں کوئی تردد اور پس وپیش نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ دین ہی انسانیت کے حقیقی دشمن ہیں۔ ”

1900ء میں بلغراد میں ہونے والی ان کی عالمی کانفرنس میں ایک مقرر نے یہ تک کہہ دیا کہ”ہم اہل دین اور ان کے معابد و عبادت گاہوں پر فتح پالینے پر ہی اکتفا نہیں کریں گے بلکہ ہماری اساسی غرض تو ان سب کے وجود کو نیست ونابود کرنا ہے۔ ”
جیسا کہ اوپر موجود سبھی بیانیے ایک ہی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ادیان کا حترام تو ان کا مظہر ہے مگر ادیان کو مدغم کیے بغیر یہ ان کا نام ونشان نہیں مٹا سکتے ایک ایک کرکے۔ اور یہ ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ آخر یہ لوگ اصلیت میں کیا ہیں اور ان کا مقصد اس سب جھمیلے سے کیا ہے؟

تو دوستو! جان لو کہ یہودی خود بھی ان کا شکار ہیں کہ وہ اہل کتاب بھی ہیں اور اہل دین بھی اور یہ تنظیم زیادہ گہرے نقوش درجہ بہ درجہ جن مذاہب پر نقش کرہی ہے وہ یہودیت، اسلام، عیسائیت، بدھ مت، ہندومت، جین مت، کنفیوشس مت اور دیگر سبھی غیر معروف ادیان عالم۔ تو اگر یہودیت بھی ان کا شکار ایک اولین فریق ہے تو یہ دراصل کون لوگ ہیں؟

تو جناب صہیونیت کی اصلاح ہی اصل میں ان پر فٹ ہے چونکہ ان کے مقاصد اور نظریات زیادہ تر یہودی متھالوجی سے ملتے بلکہ اکثر مشترک ہیں تو یہ لوگ یہودی صہیونی کے نام سے جانے جاتے ہیں عرف عام میں فری میسنری کے علاوہ۔

عدم اخلاق: اپنے موٹو حریت، مساوات اور اخوت کے برعکس ان میں اخلاقی اقدار ناپید ہیں۔نہ اراکین کو حیرت وآزادی نصیب ہے، نہ کالے، گورے، مرد، عورت میں مساوات وبرابری، حتی کہ کالے رنگ والے کو وہ رکنیت ہی نہیں دیتے ماسوائے سپیشل کیسز میں۔اور رہ گئی اخوت تو وہ فری میسنریوں کے مابین باہمی حد تک ہی ہے۔

عریانیت و بے حیائی: عریانیت و بے حیائی تو ان کے ہاں ایک طرح سے روز کا معمول ہے۔کلبوں میں ننگے ڈانس کرنا، سواحل پر ننگے نہانا ان کے ہاں باعث عار وشرم نہیں۔ اس سلسلہ کی مثال کے لیے فرانسیسی میسنریوں کے سردار اور فرانس کے ایک وزیراعظم لبون بلوم کی کتاب “شادی” جسے میسنریوں نے نشر کیا اور پھر اس کے کئی زبانوں میں ترجمے کیے۔ اسے پڑھنے کے بعداندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کی غلیظ ترین، فحش اور عریاں کتاب ہے۔

اس کا مولف 1939ء سے 1946ء تک فرانس کا وزیراعظم تھا۔ ان کے مابین باہمی اخوت اس حد تک ہے کہ اپنے میسنری بھائی یا تحریک کی راہ میں دین، وطن، باپ، ماں، خاوند، بیوی یا اولاد چاہے کوئی بھی آجائے وہ فوقیت صرف میسنری ساتھی اور تحریک کو ہی دیں گے۔تفصیلات کے لیے دیکھیے “حقیقہ الماسونیہ” ڈھائی سو بڑی تقطیع کے صفحات پر مشتمل ہے۔
یہ کتاب رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے شائع کی ہے ۔فری میسن کی پوری تاریخ، میسنری قائدین کے بیانات، ان کی دستاویزات اور رموزو اشارات (Code words) اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ یہ تحریک یہودی النسل ہے۔اس کی ولادت و نشات عہد موسیٰ میں ہوئی یا عہد مابعد میں۔ یہ یہودی فکر کی حامل اور یہودیوں کی خطرناک خفیہ سازش ہے۔
اس بات کے درجنوں ثبوت حقیقت کو واشگاف کرتے ہیں کہ یہ تحریک بنت الفکر یہودی ہے۔ان تمام دلائل و بیانات اور دستاویزات کا یہاں نقل کرنا ممکن نہیں۔

صرف یہ ذہن نشین رکھیں کہ شروع میں تمام ادیان اور اہل ادیان کے احترام و تکریم پر زور دینے والی 33درجات پر مشتمل اس تحریک کے 18 ویں درجے میں جاکر انجیل اور قرآن غائب ہوجاتے ہیں اور ان کی اپنی مخصوص تعلیمات ہی رہ جاتی ہیں اور 33 ویں درجے کے بعد ان کے چیف باس اور اس درجے تک پہنچنے والے نئے رکن کے مابین جو مکالمہ دہرایا جاتا ہے۔ وہی ان کے عقائد ونظریات کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔

مکالمہ یوں شروع ہوتا ہے:س۔ تونے کس چیز پر قسم کھائی؟ج۔ تورات پر!۔۔س۔ کیا اس کے علاوہ بھی تو کسی کتاب کو جانتا ہے؟۔۔ج۔ ہاں، قرآن اور انجیل ہیں۔ یہ ایمان سے خارج اور انسانیت سے نکلے ہوئے لوگوں کی کتابیں ہیں اور میرا ایمان ہے کہ محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم اور مسیح علیہ السلام ہمارے عقیدے کے سخت دشمن ہیں۔۔۔س۔ کیا تو ان دونوں کتابوں پر ایمان رکھتا ہے۔۔۔۔ج۔ ہرگز نہیں ! میں صرف تورات پر ایمان رکھتا ہوں، جو صحیح کتاب ہے اور جو موسٰی علیہ السلام پر اتاری گئی تھی۔۔۔س۔ دین اسلام اور دین مسیح کے بارے میں تیری کیا رائے ہے؟۔۔ج۔ دین مسیح کی تعلیمات تو تورات سے اخذ کی گئیں ہیں اور دین اسلام کی تعلیمات تورات اور انجیل سے ماخوذ ہیں۔۔۔س۔ کیا اصل، فرع سے افضل ہے؟
ج۔ بے شک اصل فرع سے افصل ہے۔۔۔۔ہیکل میں موسٰی و ہارون کی دو تقویریں یا مورتیاں رکھی ہوتی ہیں ان کی طرف اشارہ کرکے پوچھا جاتا ہے۔۔س۔ یہ کون ہیں؟۔۔ج۔ یہ موسٰی علیہ السلام ہیں۔۔۔س۔ یہ کون ہیں؟۔۔ج۔ یہ ہارون علیہ السلام ہیں۔
س۔ کیا تو ان کے علاوہ کسی پر ایمان رکھتا ہے؟۔۔ج۔ ہرگز نہیں۔۔۔س۔ تب تو ان دونوں کے علاوہ پر لعنت بھیج اور علاوہ وہ ہیں جو ان کے بعد آئے۔

قارئین اس بے ہودہ سوال کا جواب میں پڑھ کر اس قدر بے چین ہوا ہوں کہ بیان نہیں کرسکتا مگر وہ الفاظ ایسے ہیں کہ میرا قلم اور ضمیر گوارا نہیں کرتے کہ آپ لوگوں کو اس کی آگاہی ہو یا من وعن سوال کا جواب پڑھ کر آپ کی روح بھی بے چین ہو اور غصہ آئے جس کو آپ کسی پر اتار نہ سکیں اور نہ ہی پی سکیں۔بہرحال سوال ہی اس کے بے ہودہ جواب کا واضح اشارہ ہے کہ وہ کیا کہنا اور پوچھنا چاہتے ہیں۔

بہرحال، آپ حضرات نے اگر کسی ملعون شاتم رسول بلاگر کا فیس بکی بلاگ دیکھا ہو تو بالکل وہی الفاظ اس سوال کے جواب میں فری میسنری ادا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔پھر بھی اگر آپ کو اس بکواس سوال کا جواب جاننے یا پڑھنے کی جستجو ہو تو اس مکالمے کے اختتام پر میں اس کتاب کا حوالہ درج کرہا ہوں جس سے یہ مکالمہ میں نے نقل کیا ہے۔
س۔ تیرا رب کون ہے؟۔۔ج۔ میرا رب وہ ہے جو اسرائیل کا رب ہے اور اسرائیل کی تائید کرنے والا ہے۔ (حقیقتہ الماسونیہ، 42۔ 45)

اس تحریک کی جڑیں ماضی سے لے کر حال اور اب مستقبل میں بھی بہت گہری ہیں۔اس تحریک کے ان گنت چھوٹے بڑے جان لیوا اور خطرناک انسانیت و مذہب کش کارنامے ہیں۔

ہم سب کی تفصیل یہاں لکھنے اور اکٹھی کرنے بیٹھ جائیں تو ایک پوری لائبریری اس کے متعلق مواد سے پر ہوجائے۔لیکن آپ کی تجسس طبع کی خاطر میں یہاں کچھ ماضی کے پر وثوق واقعات پر روشنی ڈالنا چاہوں گا تاکہ آپ کو اس تحریک یا تنظیم کے متعلق جو غلط فہمی یا خوش فہمی ہے کہ یہ من گھڑت مولویانہ قصے ہیں تو وہ دور ہوجائے۔

آغاز سے لے کر آج تک اس کے نام بدلے مگر مقاصد وہی رہے۔ جبکہ پرانا نام اس کو اس قدر موافق آیا کہ آج یہ دو حصوں میں بٹ کر بھی ایک ہی شمار کی جاتی ہے اور اس کے نئے نام سے زیادہ عوام اس کے پرانے یعنی اسرائیل کے قیام تک لیا جانے والا نام ہی لیتی اور پکارتی ہے۔

جی بالکل یہ تنظیم اسرائیل کے قیام اور دنیا میں مذہبی تصادم کی روح رواں ہے۔ آج لوگ اس تنظیم کی جدید اور سرکاری شکل موساد اور شین بیٹ سے واقف ہیں مگر میں آپ قارئین کو بتاتا چلوں کہ یہ دونوں ایجنسیاں اور اسرائیلی پارلیمنٹ و سینیٹ اس تنظیم کے ہی زیر سایہ ہیں اور یہ تنظیم ایک نادیدہ حکومت کی سرپرست اعلیٰ اور ایک کونسل کی شکل میں اسرائیل کی جڑوں میں بیٹھی ہے۔

اس تنظیم نے بہت سست روی مگر فعالیت کے ساتھ اس دنیا کا نقشہ اپنی مرضی سے ترتیب دیا ہے۔دن رات اس کے موجودہ زعما اور کارکن دیوار گریہ پر خوش وخضوع کے ساتھ رو رو کر مسیح الدجال کی آمد کی مناجات اور دعائیں کرتے ہیں۔
اب میں آپ کو وہ دستاویزی ثبوت کی کچھ تفصیل بتاؤں گا جس نے اس تنظیم اور اس کے مقاصد اور کارناموں سے گزشتہ صدی میں پردہ اٹھایا۔

آپ میں سے کئی حضرات نے فری میسن، الومیناٹی، دجال، سب کو دیکھتی ایک آنکھ، پرزم اور برمودا ٹرائی اینگل کی تفصیلات سنی ہوں گی اور شاید آپ یہودی پروٹوکولز (Zion Protocols) سے بھی واقفیت ہو۔ تو میں آپ کو بتادوں کہ اوپر یا اس سے پہلے بیان کردہ ساری معلومات کا راز طشت ازبام کرنے والی خفیہ دستاویزات یہی یہودی پروٹوکولز ہیں۔

ڈاکٹر ای مارسڈن نے گزشتہ صدی میں اسے کسی خفیہ ذرائع سے لے کر مزید تفصیلات شامل کرکے دنیا کے سامنے شائع کردیا تھا جس کا اردو ترجمہ محمد یحییٰ خان نے 2004 میں پاکستان میں متعارف کروایا۔میں آپ کی تشفی کے لیے یہاں ان پروٹوکولز کے عنوان درج کرہا ہوں، تفصیل اور تجزیہ کسی نئے سلسلے کے ساتھ لے کر حاضر ہوں گا۔ان شاء اللہ۔
یہودی پروٹوکولز کل ملاکر 24 ہیں جو ایک کتابی شکل میں دستیاب ہیں۔

بنیادی نظریہ، عملی اقدام،فتح کے طریقے،مذہب پر مادے کی فوقیت،حصول اقتدار کی تکنیک،عالمی جنگیں،عبوری حکومت،دوبارہ تعلیم کی ضرورت،آمریت اور جدید ترقی، اقتدار کے لیے تیاری، کلیت پسند ریاست، پریس پر کنٹرول، اہم راہیں، مذہب کے خلاف جنگ، مستبدانہ دباؤ، برین واشنگ،اتھارٹی کا غلط استعمال،مخالفین کی گرفتاریاں،حاکم اورمحکوم،مالیتی پروگرام،قرضے اور سرمایہ،قوت زر،اطاعت پر آمادگی،حکمران کی اہلیت

ان پروٹوکولز کا مطالعہ اور تجزیہ وقتاً فوقتاً یہود بالخصوص فری میسن کے ماضی اور حال کے منصوبوں کا آئینہ دار ہے اور مستقبل کے حالات کو بھی سمجھنے میں مدد دیتا رہے گا۔

فری میسن اور یہودیوں کے ان پروٹوکولز کو پڑھ کر بھی کوئی اس غلط فہمی میں ہے کہ یہ تحریک کوئی من گھڑت کہانی ہے یا ان کا وجود سرے سے ہے ہی نہیں تو اس انسان کو ضرور دماغی علاج کی اشد ضرورت ہے یا پھر تجدید ایمان ہی کافی ہے۔
جو لوگ اس کے اس تاریخی بلکہ یوٹرن کارنامے سے واقف نہیں تو وہ سپئر مین ٹموتھی کا ایک مضمون مطالعہ کرلیں جس نے ٹائی ٹینک جہاز کے ڈوبنے یا یوں کہیں کہ اس کے ڈوبنے کے ڈرامے کے پیچھے موجود تاریخ کی بہت بڑی سازش اور اس کی کڑیاں ڈھونڈ کر اس ون ورلڈ آرڈر اور عالمی حکومت کے قیام کے مقاصد بیان کیے ہیں۔

آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ اگر ٹائی ٹینک نہ ڈوبتا، تو دونوں عالمگیر جنگیں کبھی برپا نہیں ہوتیں۔اقوام متحدہ کا ادارہ وجود میں نہ آتا جس کے سائے تلے دنیا کا ہر ناجائز کام جائز ہو کر پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے۔جس کی عین ناک کے نیچے مظلوم کی گردن کٹتی ہے، مگر اسے ظالم کے ساتھ ہمدردی جتانے اور اس کی اشک شوئی کرنے سے فرصت نہیں ملتی۔تف ہے ہماری عقلوں پر کہ نصف صدی سے زیادہ گزرنے اور اقوام متحدہ کا تمام ریکارڈ دیکھنے اور جاننے کے بعد بھی ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے در پر کسی کی شنوائی ہو سکتی ہے۔ ہم آج تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ یہ ادارہ صرف خاص ممالک اور طبقوں کے مفاد کو تحفظ دینے کے لیے وجود میں آیا۔

اسے بھوک، غربت و جنگ زدہ، بے خانماں، مقہور و مظلوم انسانیت سے رتی برابر ہمدردی بھی نہیں۔یہ فضول باتیں اس کے ایجنڈے کا حصہ تھیں، نہ ہیں اور نہ کبھی ہوں گی۔اقوام متحدہ کو وجود میں لانے والوں کا پیسہ دنیا میں قیام امن نہیں بلکہ چھوٹے تنازعات کو باقاعدہ جنگوں میں تبدیل کرنے پر خرچ ہوتا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جنگ میں ملوث فریقین کے ہاتھوں اپنا بنایا ہوا اسلحہ فروخت ہو سکے۔ایک مقصد تیل سے مالا مال عرب ممالک میں اپنی منشا و مرضی کی قیادت لانا اور اسرائیل کو طاقتور بنا کر انہیں دفاع کے نام پر بے دریغ اسلحہ فروخت کرنا تھا۔اقوام متحدہ کو وجود بخشنے والی طاقتوں نے پہلی جنگ عظیم کے لیے موافق حالات پیدا کیے۔انہی نادیدہ طاقتوں نے ہٹلر کو اپنی انگلیوں پر نچایا۔

اس کے نازی ازم کو فروغ دینے کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہایا تاکہ دوسری عالمگیر جنگ کا جواز پیدا کیا جا سکے جس نے اسلحے کی تجارت کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا۔انہی نادیدہ طاقتوں کی ایما پر یہود کے ساتھ انسانیت سوز مظالم روا رکھے گئے تاکہ اگلے چل کر یہودی ریاست کو وجودمیں لایا جا سکے۔اس سے کہیں یہ نہ سمجھا جائے کہ انہیں یہودیوں سے ہمدردی ہے، ایسا ہرگز نہیں۔

وہ یہود پر رحم کھاتے تو نازی جرمنی سے انہیں برطانیہ، فرانس یا روس کی طرف فرار کا راستہ دے دیتے۔ان بے بسوں پر جان بوجھ کر چاروں طرف سے گھیرا تنگ کیا گیا۔ ان کے لیے صرف دو ہی راستے کھلے رکھے گئے کہ یا تو جرمنی سے نکل کر فلسطین کی طرف کوچ کر جائیں یا انہیں جانوروں کی طرح ہانک کر کیمپوں میں لایا جائے۔

کسی بھی قوم کو اگر ریاست بنانا مقصود ہو، تو وہ حصول کے لیے ایسا جان لیوا راستہ کبھی اختیار نہیں کرتی جس پر چل کر یہودی قوم اسرائیل تک پہنچی۔یہ ملک یہودیوں کو بطور تحفہ نہیں ملا بلکہ اس ریاست کے قیام کے پیچھے مخصوص طاقتوں کے اپنے عزائم پوشیدہ ہیں۔

ایک یہ کہ ہیکل سلیمانی کی کھدائی کر کے سحروافسوں کی وہ قدیم کتابیں بازیاب کی جائیں جنہیں حضرت سلیمانؑ نے فتنہ و فساد کی بیخ کنی کے لیے زمین کی گہرائیوں میں دفن کیا تھا۔اقوام متحدہ کا منصوبہ قحط مٹانا نہیں، بڑھانا ہے۔اسے وجود میں لانے والوں کا پیسہ مونسانٹو (اقوام متحدہ کے تحت معیاری بیج فراہم کرنے والے ادارے) پر خرچ ہوتا ہے۔اس ادارے سے منسلک ماہرین بیجوں کا معیار نہیں بڑھاتے بلکہ ان میں جینیاتی ردوبدل کرتے ہیں۔

چنانچہ غیر نامیاتی غذاؤں نے جنم لیا جنہوں نے کئی جدید امراض مثلاً موٹاپے کو باقاعدہ وبائی مرض کی شکل دے دی۔
آج سے چالیس پچاس سال پہلے امریکہ میں دس میں سے ایک آدمی فربہ ہوتا تھا۔آج دس میں سے سات آدمی موٹاپے کا شکار ہیں۔اب دکانوں میں خوردنی اشیا کی نہ ختم ہونے والی فہرست دیکھ کر انسان چکرا جاتا ہے کہ کیا خرید لے اور کیا نہ خریدے؟ان غیر نامیاتی غذاؤں نے کبھی نہ ختم ہونے والی بھوک کو جنم دیا۔لوگ بسیار خوری کی وجہ سے پھول کر کپّا بن گئے مگر بھوک ہے کہ مٹتی ہی نہیں۔

آج یورپ اور امریکہ دونوں کی سڑکوں پر لوگوں کی اکثریت موٹاپے کی وجہ سے عجب مضحکہ خیز چال چلتی ۔اقوام متحدہ کو وجود میں لانے والوں کا پیسہ “بگ فارما” کے ذریعے علاج نہیں امراض کی علامات وقتی طورپر دبائے رکھنے پر خرچ ہوتا ہے تاکہ میں اور آپ دن رات محنت مشقت کر کے ان کی مہنگی ادویہ خرید سکیں۔

سرطان اور دیگر موذی امراض کاخوف ہمیشہ ننگی تلوار کی طرح ہمارے سروں پر لٹکتا رہے اور ان سے نمٹنے کے لیے ہم ہرجائز و ناجائز وسیلہ اپنانے سے لمحہ بھر کو نہ ہچکچائیں۔یہ مونسانٹو اور بگ فارما کن طاقتوں کی نمائندگی کرتی ہیں؟ان کی ڈور کن نادیدہ ہاتھوں میں ہے؟میں اور آپ تو یہی کہیں گے کہ یہودیوں کے ہاتھوں میں ہے ۔ مگر ٹھہریے، یہاں ہم بڑی غلطی کر رہے ہیں۔یہود میں آٹے میں نمک کے برابرلوگ ان نادیدہ قوتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

لیکن یہی مقدار دوسری اقوام میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس بات کی تفصیل میں جانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم ایک غلط بات بار بار دہرا کر مزید غلط فہمیوں کا شکار نہ ہوں۔جن خفیہ ہاتھوں نے یہودی مذہب میں صیہونی فرقے کو فروغ دے کر پورے مذہب اور قوم کو یرغمال بنایا، وہی طاقتیں عیسائیت میں بھی کیتھولک فرقے کے ذریعے بنیادی تبدیلیاں لا کر مطلق العنان پاپائے روم کو سرچشمہ طاقت اور اقتدار بنانے کی ذمے دار ہیں۔ پاپائے روم کی تابعداری کا عیسائی مذہب سے کوئی واسطہ نہیں، یہ گھن چکر محض دولت اوراقتدار کے لیے وجود میں لایا گیا۔

چونکہ موجودہ زمانے میں اقتدار کا محور مذہب سے تجارت کی طرف منتقل ہو چکا لہٰذا اب ان طاقتوں کا محور بھی عالمی تجارت اور ذرائع ابلاغ ہیں جس کے ذریعے مختلف ممالک کے سیاہ و سفید کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

وسطی یورپ کے خزر۔۔اب اصل حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اسلامی فتوحات کے عروج کا زمانہ تھا۔
اسلامی لشکر یورپ کی سرحدوں تک پہنچ چکے تھے۔وسطی یورپ میں خزر (Khazar) نام کی ایک کافر قوم رہتی تھی جن کے عقیدے کا ماخذ اور محور مصری فراعنہ کی تریمورتی (ہورس اور ایزیس) تھی۔اسلامی فتوحات کے نتیجے میں خزر قوم عجیب صورت حال سے دوچار ہو گئی۔

ان کے ایک طرف عیسائی برسراقتدار تھے تو دوسری طرف اسلامی لشکراِن کی سرحدوں پر آپہنچے۔ خزروں کو خدشہ تھا کہ ہر دو قوموں کے ساتھ ٹکراؤ کے نتیجے میں وہ نیست و نابود ہو جائیں گے۔دونوں میں ان کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے تھے۔ لہٰذا غنیمت یہی تھا کہ قوم خزر کوئی درمیانہ راستہ چن لے تاکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ پُر امن طور پر رہ سکے۔چنانچہ انہیں یہ حل نظر آیا کہ خود کویہودی ظاہر کر دیں اور یہی ان لوگوں نے کیا۔ یہودی مذہب اور نسل کے ساتھ ان کا دور دور تک واسطہ نہیں۔ مگر یہود کے لبادے میں جو نقصان اِس قوم نے یہودیت، عیسائیت اور اسلام کو پہنچایا، اسے جان کر حیرت ہوتی ہے۔

انہیں چاہیے آپ اشکنازی یہودی کہیں، فری میسنری کا نام دیں، الومناتی اور یسوعی کہیں، یا روتھ شیلڈ اور جے سوٹ، اپنے مقاصد اور طریقہ واردات میں وحدت و پختگی میں یہ ایک ہی محور کے گرد گھومتے ہیں۔انہوں نے کمال ہوشیاری سے اپنے مشرکانہ عقائد کی قلعی عیسائیت کے اوپر چڑھا کر عیسائیوں کو عقیدہ تثلیث کے گورکھ دھندے میں الجھا دیا۔اس کی گرد میں حضرت عیسیٰؑ کی دعوت حق نہ صرف گم ہوئی بلکہ اس کا مفہوم ہی اپنے نقطہ آغاز سے 180 کے زاویے پر بالکل مخالف سمت چلا گیا۔

عقیدہ تثلیث کا منبع وہی فراعنہ مصر ہیں جن کی علامت ہرم اور ایک آنکھ پر مشتمل ہے۔حیرت ہے، بالکل یہی علامت امریکہ کے کرنسی نوٹ پر کہاں سے اور کیوں آ گئی؟کیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی دنیا (امریکہ) کا وجود ہی ان قوتوں کی مرہون منت ہے؟

بین المذہبی تنازعات اور انسانی معاشروں میں وسیع پیمانے پر جنم لیتی تبدیلیوں کے پیچھے پوشیدہ ہاتھ انہی قوتوں کا ہے۔ اقوام متحدہ کے قیام، بگ فارما، مونسانٹو اور دونوں عالمگیر جنگوں کے پیچھے بھی انہی کا ایجنڈا کام کر رہا ہے۔ڈی پاپولیشن یعنی آبادی کو کم کرنا اور زمین پر بسنے والے انسانوں کو ایک مخصوص حد میں لانا اِن کے ایجنڈے کا محور ہے؟ اس مقصد کے حصول کی خاطر مختلف بیماریاں مثلاً ایڈز، ایبولا، برڈفلو وغیرہ ایجاد کرنا، خاندانی منصوبہ بندی لاگو کرنا، پینے کے پانی میں فلورائیڈ ملانا، غیر موثر ادویات کو فروغ دینا، مونسانٹو کے ذریعے خوردنی اشیا کے بیجوں میں جینیاتی تبدیلی لانا، عام پانی کے بجائے بوتل کے پانی کو فروغ دینا ان کے منصوبے ہیں تاکہ نیوورلڈ آرڈر کی راہ ہموار ہو سکے۔

اس گروہ کی علامت وہی فراعنہ مصر کی ہر طرف دیکھنے والی آنکھ ہے یعنی ایسی برسراقتدار آنے والی قوت جس کی آنکھ سے کسی کی ادنیٰ سے ادنیٰ چیز بھی پوشیدہ نہیں۔آج کل آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کا بینک اکاؤنٹ، ای میل، ہیلتھ رپورٹ غرض ہر ذاتی قسم کی چیز کمپیوٹر میں محفوظ ہے، جن تک رسائی انگلیوں کے ذریعے چند سیکنڈوں کا کام ہے۔

دین اسلام کا دجال۔۔دلچسپ بات یہ کہ ایسی ہی ایک آنکھ والی قوت کی پیشین گوئی مذہب اسلام میں بھی کی گئی ہے جسے “دجال” کہتے ہیں۔اس کے متعلق پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس کے ایک ہاتھ میں پانی کا دریا ہو گا جبکہ دوسرے میں روٹی کا پہاڑ۔

بہت خوب! تو اب ڈبلیو ایچ او کے بارے میں کیا خیال ہے جس کے ہاتھ میں تمام فصلوں کے بیج اور بوتل بند پانی کے کارخانے ہیں۔ یہ کارخانے کن لوگوں کی ملکیت ہیں؟جی ہاں آپ نے صحیح اندازہ لگایا، وہی جے سوٹ، روتھ شیلڈ اور راک فیلرز جن کی بنیادیں خزر قوم سے پھوٹی ہیں۔ان کا خدا فرعون مصر (ایک آنکھ والا) ہورس یا (دجال) ہے۔اور جو نیوورلڈآرڈر (ہورس یا دجال کی حکومت کے لیے ) ہزاروں سال سے سرگرم عمل ہیں۔ ان سب حقائق کی ایک چھوٹی سی جھلک دیکھنے کے لیے آئیے چلتے ہیں امریکی جزیرے جیکال کی طرف۔فیڈرل ریزرو سسٹم کا گھن چکر۔

یہ نومبر 1910ء کا زمانہ ہے۔امریکی سینیٹر نیلسن آلڈرچ سمیت چھے اور اشخاص، تب کے مالدار اورماہر بینکار انتہائی رازداری کے ساتھ جزیرہ جیکال پہنچے۔پورے 9 دن تک ایک خاص کمرے میں ان کے اجلاس ہوتے رہے۔ میں یہ نقطہ زیر بحث رہا کہ اجلاس کے شرکا (جو آپس میں حریف تھے ) اگر ایک دوسرے کے حلیف بن کر منافع بخش کاروبار میں سرمایہ کاری کریں، تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہو گا۔ لہٰذا متفقہ طور پر ایک مشترکہ بینک (فیڈرل ریزروسسٹم) کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ خالص سودی منافع کے لیے قائم کیا گیا بینک ہے جس کا ایک شراکت دار وہائٹ اسٹار لائن کمپنی کا مالک جے پی مورگن بھی تھا۔

مگر جہاں اس بینک کے قیام کے لیے جے سوٹ، روتھ شیلڈ اور فری میسن آپس میں شیر و شکر ہو گئے، وہاں برطانیہ کی کچھ بااثر شخصیات خلاف بھی تھیں۔ مزیدبرآں یہ لوگ لیگ آف نیشنز کے خاتمے اور قیام اقوام متحدہ کے بھی سخت مخالف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ لیگ آف نیشنز منصفانہ قوت فیصلہ رکھنے والا ادارہ ہے جس کے فیصلوں کو کوئی ملک یا ادارہ سبوثاژ نہیں کر سکتا۔

مگر اقوام متحدہ کے قیام سے ایسی عالمی طاقت کا ظہور ہو گا جو جانب دارانہ فیصلے کر سکتی ہے۔ چنانچہ وہ امریکہ جا کر امریکی عوام اور حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ امریکی عوام کو بتانا چاہتے تھے کہ فیڈرل ریزروسسٹم انہیں کس گھن چکر میں پھنسانے والا ہے۔

تب امریکی عوام کے سان گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اس بینک (فیڈرل ریزروسسٹم) سے آسان شرائط پر ملنے والا قرضہ انہیں دیمک کی طرح چاٹ جائے گا۔ گھر، گاڑی، ملازمت، دیگر اخراجات اور لامتناہی ٹیکسوں کی ادائیگی کے لیے دن رات انتھک محنت اور مشقت انہیں ذہنی طور پر اپاہج بنا دے گی۔ انہیں اس بات کا علم ہی نہیں ہو گا کہ 50، 60 سال کی مختصر زندگی میں کولہو کے بیل کی طرح محنت و مشقت کر کے جو پیسہ بناتے ہیں، وہ جاتا کہاں ہے اور نتیجے میں انہیں کیا ملتا ہے؟ دیوالیہ پن، بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا اور الزائمر!۔

فیڈرل ریزرو سسٹم اور اقوام متحدہ کی مخالفت کرنے والے ان انسان دوست افراد میں بنجامن گوگنہائم، آئسی ڈورسٹراس اور جیکب آسٹر سرفہرست تھے۔ امریکہ تک سفر کے لیے ان کی نظر انتخاب ٹائی ٹینک پر پڑی۔ اس وقت ٹائی ٹینک جہاز کی سفری سہولیات اور جے پی مورگن اور دیگر سرکردہ ہستیوں کے لیے سجائے گئے فرسٹ کلاس کیبن کا بڑا شہرہ تھا۔ فرسٹ کلاس کیبن کا ٹکٹ 50 ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہو رہا تھا جو اس زمانے میں بڑی رقم تھی۔ چنانچہ ان لوگوں نے خوشی خوشی فرسٹ کلاس کیبن کے ٹکٹ خرید لیے۔

ان کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ عین روانگی سے قبل جے پی مورگن اور اس کے ساتھی اپنی بکنگ ملتوی کر انہیں بحر اوقیانوس میں غرق کرنے کی خاطر سفاک کپتان کے حوالے کر دیں گے۔ جہاز کی روانگی سے قبل جے پی مورگن سمیت 55 افراد نے اپنی بکنگ ملتوی کر دی۔ اس نے بیماری کا بہانہ کیا۔ مگر جہاز کی روانگی کے دو روز بعد اسے فرانس کے ایک پرتعیش ہوٹل میں اپنی محبوبہ کے ہمراہ دیکھا گیا۔ بقیہ 54 افراد نے یہ کہہ کر اپنی بکنگ ملتوی کرائی کہ ان کی بیویوں نے برے خواب دیکھے ہیں۔ عجیب اتفاق کہ ان سب کی بیویوں نے ایک ساتھ ہی ڈراؤنے خواب دیکھے ۔جنہوں نے بکنگ ملتوی کرائی۔

اگر منصوبے کا جائزہ لیا جائے، تو اس کی گہرائی اور تاریکی ٹائی ٹینک کی آبی قبر سے بھی زیادہ دہشت ناک، تاریک اور سفاک ہے۔ دنیا پر اپنا ایجنڈا مسلط اور نیو ورلڈ آرڈر کے قیام کی خاطر راستہ ہموار کرنے کے لیے انہوں نے جان بوجھ کر بوڑھے اولمپک جہاز کو ٹائی ٹینک کا نیا نام دے بحراوقیانوس کی بے رحم موجوں کے حوالے کر دیا۔

گویا ٹائی ٹینک (اولمپک) بطور چارہ استعمال ہوا۔ اس کے ذریعے بعض بااثر اور مالدار ترین ہستیوں کو پیش منظر سے ہٹانا مقصود تھا تاکہ ایک طرف فیڈرل ریزروبینک اور اقوام متحدہ کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے اور دوسری طرف ان کی بے اندازہ دولت بھی ہاتھ آ جائے۔

ڈوبنے والی مالدار ہستیوں کی مجموعی دولت کا تخمینہ اس وقت پانچ کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھا جسے یسوعی کارندوں نے مختلف حربے استعمال کر کے پسماندگان سے وصول کر لیا۔

ہمیں اس بات پر تعجب نہیں کہ ڈوبنے والوں کے پسماندگان مختلف مواقع اور جگہوں پر پراسرار انداز میں مردہ پائے گئے۔آئیے، اب دیکھتے ہیں کہ بکنگ ملتوی کرانے والے لوگ کون تھے؟ ان میں سرفہرست جے پی مورگن کا دست راست اور کاروباری شراکت دار، امریکی سٹیل کے کارخانوں کا مالک ہنری کلے فرک تھا جس کا کاروبار عالمگیر جنگوں میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کر گیا۔

ریلوے لائن اور بحری شپ یارڈ کا مالک جورج ڈبلیو وانڈر بیلٹ بھی جس نے دونوں عالمی جنگوں میں دور دراز تک ریلوے لائن بچھا اور نئے بحری جہاز بنا کر خوب منافع کمایا۔ امریکن چاکلیٹ پروڈکشن ہرشی کا بے تاج بادشاہ ملٹن ہرشی جس نے دونوں عالمگیر جنگوں کے دوران فوجیوں کو چاکلیٹ کی فراہمی کا ٹھیکا لیا۔امریکہ میں اشکنازی یہود کی زیر نگرانی کام کرنے والی فلمی کمپنیوں نے باقاعدہ فلم انڈسٹری کی شکل اختیار کر لی جسے ہم “ہالی ووڈ” کے نام سے جانتے ہیں۔

ذرا غور کیجیے، اس نام کے پیچھے کیا فلسفہ کار فرما ہے؟ ہالی ووڈ کے لغوی معنی ہیں مقدس یا جادوئی چھڑی۔وہی چھڑی جو سحر وافسوں کے دوران استعمال کی جاتی ہے۔ نام ہی سے ان کا اصل عقیدہ نمایاں ہے۔ یہ قدیمی دیوی دیوتاؤں (فراعنہ مصر) کو پوجنے والے کافرہیں مگر خود کو (اشکنازی) یہودی ظاہر کرتے ہیں۔کئی یہودی انہیں اپنے میں سے ماننے کو تیار نہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ کس طرح اپنے مذموم عزائم کے لیے ان کا استحصال کر رہے ہیں۔

ہالی ووڈ دولت کمانے کے لحاظ سے کئی صنعتوں سے آگے ہے۔ وہاں باقاعدہ سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے باہم امتزاج سے ایسی کئی فلمیں بنتی ہیں جو مستقبل کے حالات کی عکاسی کریں۔ کم لوگوں کو علم ہو گا کہ ان فلموں کے بنانے میں بنیادی اوّلیت اور فوقیت سائنسی تحقیق اور نظریات کو دی جاتی ہے۔اس ضمن میں سائنس دانوں کی پوری ٹیم دن رات سائنسی تحقیق و جستجو میں مصروف رہتی ہے۔ بلکہ مختلف موضوعات کے الگ الگ شعبے قائم ہیں جہاں سائنسی بنیادوں پر مبنی کہانیاں لکھیں اور فلمائی جاتی ہیں۔ یہ محض دیوانے کی بڑ نہیں بلکہ پوری تحقیق و تفتیش اور حقائق پر مبنی کہانیاں ہوتی ہیں۔

ٹائی ٹینک اور ٹوئن ٹاورز۔۔یہ محض نظریہ ہے کہ ٹائی ٹینک (اولمپک) برفیلی تودے سے ٹکرا کر دو نیم ہو گیا جیسا کہ امریکی سرکاری بیان کے مطابق ہوائی جہازوں کے ٹکرانے سے “ٹون ٹاورز” زمین بوس ہو گئے۔اگر اسے سچ مان بھی لیا جائے، تو یہ بات سمجھ اور منطق سے بالاتر ہے کہ عین اسی وقت بلڈنگ نمبر سات خود بخود کیسے زمین بوس ہو گئی؟ حالانکہ اس کے ساتھ پرندہ بھی نہیں ٹکرایا۔

سادگی اور بے وقوفی کی انتہا دیکھیے، مضبوط بنیادوں پر استوار ٹوئن ٹاورز کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ہوائی جہاز ٹکرانے یا شدید قسم کے زلزلے سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن وہ ایسے ہوائی جہازوں کے ٹکرانے سے زمین بوس ہو گئے جو اِن دیوہیکل عمارتوں کے سامنے مچھر کی حیثیت رکھتے تھے۔

درون خانہ حقیقت یہ تھی کہ لیری سلورسٹین نامی کروڑ پتی شخص نے ان عمارتوں کا سودا ننانوے برس کی اقساط پر کیا ہوا تھا اور ان کی انشورنس بھی اسی کمپنی سے کرائی جو ٹکرانے والے ہوائی جہازوں کی انشورنش کراتی ہے۔

کیا یہ اتفاق ہے؟واقعہ نائن الیون سے ایک دن پہلے نیویارک ہوائی اڈے سے جہازوں کی پروازوں کا خصوصی مظاہرہ کیا گیا۔ اس دوران کنٹرول روم کو آگاہ کیا گیا کہ آج جو کچھ بھی ہو گا، آپ اسے معمول کے مطابق سمجھیے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں مظاہرے کا حصہ ہو گا۔ نتیجتاً اگلے روز یعنی گیارہ ستمبر کو دو ہوائی جہازوں کی غیر معمولی پرواز منظر عام پر آئی، تو کنٹرول روم سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایک اور اتفاق؟نائن الیون سے ایک ہفتہ قبل ٹوئن ٹاورز میں ایک اسکول کی طرف سے کچھ طالب علم خصوصی طور پر آرٹ کی نمائش لگانے آئے۔ انہیں ہر کمرے میں جانے کی کھلی اجازت ملی کہ دروازوں پر مختلف رنگا رنگ چمکدار چیزیں چپکانی تھیں۔ عمارتوں کے ملبے سے ملنے والی ایسی ہی چیزوں کا جب جائزہ لیا گیا تو پتا چلا کہ یہ دھماکا خیز مواد تھا جس کے ذریعے عمارتوں کو گرایا جاتا ہے۔

ایک اور اتفاق؟یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ حادثے والے دن مخصوص (اشکنازی) لوگوں کا ایک فرد بھی عمارت میں موجود نہیں تھا۔
ایک اور اتفاق؟اسی طرح امریکی شہر، اوکلاہوماسٹی میں دھماکوں کے دوران بھی کچھ مخصوص لوگ جائے وقوعہ سے غائب تھے۔
ایک اور اتفاق؟(ٹائی ٹینک جو کبھی نہیں ڈوبا تصنیف سپئیر مین ٹموتھی/حسن بی بی۔ اردو ڈائجسٹ 2016ء )اس دنیا میں کچھ بھی اتفاق سے نہیں ہوتا یہاں تک کہ یہ دنیا بھی کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پلان اور منشا کا نتیجہ ہے۔
اس لیے پریشانی لینا ایسے منصوبوں اور تحریکوں کی ہماری ذمہ داری ہے۔اللہ سب کو حفظ و امان میں رکھے۔

(ختم شد)

تبصرے
Loading...