ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

فری میسن، انسانی تاریخ کی خفیہ ترین تحریک (چھٹی قسط) – بلال شوکت آزاد

ایمان باللہ یا ایمان بالخدا۔فری میسن کے مظاہر میں اولین دعویٰ اور اعلان اور کچھ نہیں بلکہ یہ ہے کہ اللہ پر ایمان رکھنے کی طرف دعوت دیتی ہے، راغب کرتی ہے۔کیونکہ تمام الہامی مذاہب میں اللہ کی حمد وثنا ایک مشترک بات ہے اور خاص کر اللہ کو ماننے والوں میں مسلمان سر فہرست ہیں الحمداللہ۔

اس لیے اس تنظیم کی یہ مجبوری بھی تھی کہ وہ اپنے منشور میں اللہ پر ایمان کو لازمی درج کرے۔کیونکہ ایک مسلمان کو براہ راست اس کے آفاقی و کائناتی دین سے مرتد کرنا ممکن مگر بہت مشکل ہے لیکن اگر مسلمان کو ایمان باللہ کی ‘شوگر کوٹڈ’ گولی سے شامل کرکے مرتد کرنا آسان ہو تو کیا حرج ہے ایمان باللہ کا دعویٰ کرنے میں؟

اس بات کے ثبوت کے طور پر ان کی قدیم ترین “قدیم وصیتیں” (Old Charges) جو 1734ء میں لکھی گئی اور داود کاسلی کے ہاتھ کا قلمی نسخہ برٹش میوزیم کے انا جیل سیکشن کے سٹور نمبر 17 شیلف A میں محفوظ ہے۔اس کی وصیت عام دیکھیں تومختصراََ یوں ہے:”ہر بھائی پر اللہ ، کسینیہ مقدسہ اور راہب و پادری کی محبت و احترام فرض ہے۔ان تینوں کی اسی طرح حفاظت کرے جیسے اپنی جان کی کرتا ہے۔”جب نووارد ان کا رکن بنتا ہے تو سب سے پہلے اس کے ہاتھ میں اس وصیت کا نسخہ دیا جاتا ہے۔

جس سے شہد کی طرح ایمان باللہ کا درس ٹپک رہا ہوتا ہے اور نوارد اس احساس میں گم ہو جاتا ہے کہ وہ اب تک بھٹک رہا تھا اور اب اس کو سیدھی راہ ملی ہے جو اس کو اس کی منزل جنت تک لے کر جائے گی۔بالکل وہی سبق اور وہی نشانی ہے جو دجال کے خروج سے منسوب ہے کہ دجال کی جنت دراصل دوزخ ہوگی اور دجال کی دوزخ دراصل جنت ہوگی۔نووارد اس وصیتی نسخے کو ہاتھ میں لے کر ان کے اس سبق کو جو صرف بظاہر ہوتا ہے کہ، ان کے ہاں اللہ کی محبت و ایمان عین فرض ہے باقی تنظیمی فرائض کی مانند، ازبر کرلے یہ ان کی منشاء ہوتا ہے۔

ان کا ہر جلسہ شروع ہو تو باقاعدہ خالق کائنات کا نام لے کر کرتے ہیں اور اسی نام سے جلسہ ختم بھی کرتے ہیں۔وہ انسانی فطرت کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے ہیں اپنے پوشیدہ اور خطرناک عزائم کی تکمیل کے لیے۔”خدا”پر ایمان یا”خدا”کا ڈر انسان کی اولین فطرت ہے۔خواہ انسان “خدا”کی حاکمیت اور پرستش کو کسی بھی روپ میں اپنے عقیدے اور سمجھ کے مطابق تسلیم کرے پر یہ بات طے ہے کہ وہ کسی نا کسی “خدا” کا قائل ضرور ہوگا۔

اب رہ گئی بات اللہ کی حاکمیت کا رد کرنے والوں کی تو وہ “خدا” کے نام اور “خدا نامہ” کو ترجیح دے کر یہی باور کراتے ہیں کہ خدا اور اللہ ایک ہی بات کے دو رخ ہیں جبکہ لفظ “خدا” خود اپنے آپ میں ایک کہانی اور مفصل مضمون ہے جبکہ اللہ تو وہ ہے جس پر ایمان کسی ثبوت کا محتاج نہیں، جس کا نہ کوئي باپ ہے نہ بیٹا، اس کا کوئی شریک نہیں۔فری میسن نے لفظ “خدا” کو اسی لیے منتخب خاص کیا ہے کہ سیدھے سادھے مومن بھی اس لفظ کے دھوکے میں آجائیں۔”خدا اور خداؤں”کا فرق بھول کر کفر کدے میں اتر جائیں۔

آج الحاد براہ راست اللہ کے نام پر ہٹ کرتا ہے مگر کبھی آپ کسی ملحد سے “خدا یا خداؤں” پر حرف تنقید اور اول جلول دلائل نہیں سنیں گے۔بس اسی طرح کے تناظر کے ساتھ فری میسن کا یہ ظاہر ہے کہ وہ اللہ پر ایمان کو شامل منشور رکھتی ہے۔
جہاں پر “خدا” کے صیغے کے ساتھ کام چل جائے وہاں وہ اللہ تعالی کا نام نہیں لیتے۔

احترام دین۔۔یہ تنظیم ہر مذہب کے مذہبی تہواروں کے موقع پر اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ ہم تمام ادیان کا احترام اور ان سے محبت کرتے ہیں۔آج آپ اس کی مثالیں عام دیکھ سکتے ہیں۔آپ اس طرح کے فقرے اور بیانات برصغیر پاک وہند، بالخصوص دو قومی نظریے کی بنیاد پر بننے والے ملک پاکستان میں، خاص طور پر سنتے اور پڑھتے ہوں گے جو اس نظریے کھلم کھلا رد ہیں کہ”جس خدا کو آپ پوجتے ہیں اسی کو ہم””پاکستان کسی مذہب کے نام پر نہیں بنا””آپ خدا کو بھگوان کہتے ہیں اور ہم اللہ”وغیرہ وغیرہ جو پاکستان سے جذبہ خیر سگالی اور احترام دین کے نام پر ادا اور نشر کیے جاتے ہیں۔

اور بھارت میں خیر سیاست تو مذہب آلود ہے اس لیے وہاں سے بیانیے نشر ہونا ایک دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔
مگر ہاں بھارتی فلم نگری اور ٹیلی ویژن پر ایک خاص شیریں لب و لہجہ اپنا کر عیدین و حج کے موقعہ پر ہندو اداکاروں سے بالخصوص اسلامی طور طریقوں پر عمل دکھا کر اور بیانیے ادا کروا کر یہی سبق باور کرایا جارہا ہوتا ہے کہ ہم سبھی ادیان کا احترام اور محبت کرتے ہیں۔

اور اب تو کچھ عرصہ سے ایسٹر و کرسمس کے تہواروں پر اچھے خاصے دیندار اور مذہبی سوجھ بوجھ رکھنے والے بلکہ مولانا حضرات تک عیسائیوں کے ساتھ شامل ہونا اور کیک کاٹنے کو فخر سمجھتے ہیں اور اب تو یہ رسم بد پاکستان کے طول وعرض پر سال میں دو دفعہ الگ الگ تہواروں پر منانا ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔ہولی دیوالی بسنت و بیساکھی کا تو اپنا ایک الگ موضوع ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کے ہندو عید منائیں یا نہ منائیں مگر پاکستان کے مسلمان ہندوؤں کے مذہبی تہواروں کو منانے کے دلدادہ بنتے جا رہے ہیں پچھلے کچھ چند سالوں سے۔خاص کر حکومتی شہہ اور سرپرستی بھی اگر شامل ہو تو خاص تو خاص عام مسلمان بھی ہولی کے رنگوں میں بہا کر ،دیوالی کے پٹاخوں میں جلا کر ، بسنت کی گڈیوں میں اڑا کر اور بیساکھی کے میلے سجا کر احترام دین اور بین المذاہب رواداری کا ثبوت فراہم کرتے کرتے دنیا کو اپنے ایمان اور دین سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔کیسا میٹھا طریقہ اپنایا ہے فری میسن کے یہود اور ہنود نے مسلمانو ں سے ان کا ایمان چھین کر مرتد کرنے کا؟

اتنا بھیانک کہ کب اسلام کو ایک مسلمان ان حرکات و سکنات میں پڑ کر فراموش اور پس پشت کر دیتا ہے کہ ساری زندگی جان نہ پائے کہ اب وہ مسلمان تو ہر گز نہیں رہا ہاں مگر مذہبی لوگوں کا منہ بند کرنے کو لبرل اور روشن خیال کہلوانا پسند کرتا ہے۔بہرحال فری میسن کی ایک مذموم چال کے یہ ثمرات ہیں کہ احترام ادیان اور بین المذاہب رواداری کے نام پر ادیان کو مدغم کردیا جائے یا اور کچھ نہیں تو انکی اصل شکل بگاڑ دی جائے خاص کر اسلام کی۔

بیشک ہر نبی علیہ اسلام اسلام کا پیغمبر تھا اور اسلام ہی دین فطرت اور ہر بچے کا پیدائشی دین ہے۔فری میسن احترام دین کی خاطر ان کے تقدس و احترام کی خاطر انہیں بلند مقام دیتے ہیں جس جلسے میں نووارد کو رکن کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔اسی جلسے میں چیف اس نووارد کارکن کو کہتا ہے کہ”ہماری تنظیم میں ایسی کوئی چیز نہیں جو شرائع اور دینی تعلیمات سے ٹکراتی ہوں۔

ہم کسی ایسے شخص کو قبول نہیں کرتے جو دین و وطن کا محب نہ ہو اور خدا (اللہ) کے وجود کا اقرار نہ کرتا ہو۔”اس تحریک کے دستور میں مرقوم ہے کہ”تم اپنے دین کا احترام کرو، اپنی کتاب کو مقدس سمجھو حتی کہ اپنے دین کے علاوہ دیگر ادیان عالم کا بھی احترام کرو۔”اب اگر ہم اسی دستور کو پکڑ لیں تو آج ہم دیکھتے ہیں کہ ملکوں خاص کر مسلمان ملکوں کے فری میسنری حکمرانوں کو مذہبی عدالتوں سےبے خوف و خطر عالمی یہودی وصہیونی ریاست کے قیام اور دجال کے خروج کو کارآمد بنانے میں اس دستور پر عمل کرنے سےمدد ملتی ہے۔

اب حکمران بھگوان کو اللہ کہہ دے یا اسلام اور ہندو ازم کا خدا ایک ہی خدا کو مان لے کون سادہ اور بھولا بھالا مسلمان اس کے ایمان پر شک کرے گا اور کون اس کو کوئی مذموم سازش کہے اور سمجھے گا؟سب سکون میں رہیں گےچند سر پھروں کےعلاوہ اور وہ حکمران بڑے سکون سے اپنے مقاصد حاصل کرتا رے گا اور عوام بار بار اسی کو اس رواداری کےمظاہرے پر بیوقوف بن کر لاتی رہے گی۔ یہ ہوتا ہے ایک تیر سے دو شکار!احترام ادیان اور ایمان باللہ کے علاوہ بھی کئی مظاہر ہیں اس خفیہ تنظیم کے۔

جن کا استعمال بھی یہ مبتدی کو پھنسائے رکھنے کو کرتے رہتے ہیں۔ روزمرہ انسانی فطری معاملات پر ان کی گرفت بہت سخت ہے۔
گزشتہ قسط میں ہم واقف ہوئے ان کی ادیان کے متعلق سوچ اور عمل سے اور خدا (اللہ) پر ایمان کےمتعلق ان کے ظاہر اور باطناََ نظریہ سے۔اب بات کرتے ہیں ان کے اگلے مظہر “حسن اخلاق” کی۔

حسن اخلاق۔۔اس تنظیم کا یہ بھی ایک واضح اعلان ہے کہ چونکہ یہ ایک انسانی تنظیم ہے جوحسن اخلاق کی دعوت دیتی ہے۔اب یہ بات تو ہر انسان جانتا ہے کہ جب بھی انسان کسی جماعت یا تنظیم کی بنیاد ڈالے گا اور اس کا مقصد اگر ہر رنگ نسل مذہب اورہرعقیدے کے لوگوں کو ساتھ ملانا ہو تو وہ تین بنیادی قوانین تو ضرور بالضرور اپنے منشور میں رکھے گا۔ایمان باللہ، احترامِ ادیان، حسن اخلاق اور سیاست سے گریز۔اب اسی تناظر میں ان کے شعار یعنی موٹو کو دیکھیں جو فوری طور پر یہ احساس اجاگر کرتا ہوا نظر آئے گا کہ یہی لوگ خدام دین ہیں۔ان کا موٹو کچھ یوں ہے:حریت،مساوات، اخوت وہ پہلے جلسہ میں نووارد پر یہ واضح کرتے ہیں کہ”ہم داعی اخلاق، داعی تقویٰ و فضیلت ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ فقرو فاقہ کے مارے ہوئے مصیبت زدہ لوگوں سے ہر ممکن تعاون کریں اور صدقہ واحسان سے کام لیں۔
سیاست سے گریز۔فری میسن کا یہ بھی ایک علانیہ دعویٰ ہے کہ ہم سیاست میں قطعاََ حصہ نہیں لیتے بلکہ ہر جائز حاکم کے حکم کی تعمیل ضروری سمجھتے ہیں حتیٰ کہ کہ عسکری و سیاسی حالات پر بحث و تکرار بھی ان کے ہاں سخت ممنوع ہے۔مطلب یہ کہ فری میسن ان مظاہر کی رو سے خود کو ایک دینی مگر معتدل مزاج تحریک منوانے پر زور دیتی ہے۔نووارد کو آغاز میں انہی باتوں سے واقف کروایا جاتا ہے تاکہ وہ ایک دم کوئی جذباتی فیصلہ نا کرے اور نا ہی اسے کسی طرح کا منفی شک ہو۔بہرحال اس تنظیم کے ان مظاہر کے مقابلے میں اس کا باطن بہت ہی زہریلا اور خطرناک ہے۔اب ہم روشنی ڈالیں گے اس تنظیم کے باطن پر۔

فری میسن کا باطن۔۔گزشتہ چند اعلانات ایسے ہیں جو حقیقتاََ دینی، اخلاقی اور انسانی اقدار کے حامل ہیں لیکن یہ صرف لوگوں کو پھانسنے کے لیے صرف ظاہری طور پر ہی ہیں۔پس منظر میں ان کا نام ونشان نہیں بلکہ سراسر ان کا الٹ ہے۔اندرون خانہ ان کے نظریات کچھ یوں ہیں۔

1-شیطان پر عمل۔۔گزشتہ سطور اور اقساط میں ان کےظاہری اور اعلانیہ مبادیات پڑھنے کے بعد یہ عنوان غیر متوقع اور یہ بات نا قابل یقین لگتی ہے کہ وہ شیطان پر ایمان رکھتے ہوں مگر حقیقت یہی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت ان کے وثائق و دستاویزات ہیں۔جنرل البرٹ ہائیک، جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اس کا 14 جولائی 1889ء کا مکتوب، جو اس نے تحریک کی جنرل کونسلز کے روئسا کو لکھا تھا، اس میں انہیں نصیحت کرتے ہوئے لکھتا ہے:”ہم پر واجب ہے کہ ہم عوام کو یہی باور کرائیں کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی کی عبادت کرتے ہیں جبکہ ہم درجہ علیا کو پہنچے ہوئےلوگوں کو یہ فریضہ بھی بھولنا نہیں چاہیے کہ ان اوہام و خرافات کے پس پردہ اپنا شیطانی عقیدہ محفوظ رکھیں۔”

مزید لکھتا ہے کہ”ہاں شیطان ہی ہمارا معبود حقیقی ہے۔لیکن افسوس! اڈونائے (Adonai) بھی ایسے ہی ہے۔۔ ۔ ۔ (اڈونائے لاطینی زبان کا لفظ ہےاس سے وہ معبود حقیقی اور خالق کائنات مراد لیتے ہیں)۔ حقیقی دین اور صاف فلسفہ یہی ہے کہ شیطان پر اڈونائے کے برابر ایمان لایا جائے لیکن شیطان معبود نوروخیر ہے جبکہ اڈونائے معبود ظلام وشر ہے۔ ” نقل کفر، کفر نہ باشد، العیاذ باللہ۔۔مطلب بالکل واضح ہے کہ فری میسن کا اصل مذہب شیطان کی پوجا اور اس کے چیلے چانٹوں کا خروج ہے۔
اب بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ایمان باللہ، احترام ادیان، حسن اخلاق اور سیاست سے گریز جیسے روشن اصولوں کے پس پردہ صرف ظلمت کے اندھیرے اور شیطانیت کے راج کے خطرناک منصوبے ہیں۔بالکل یہ یہودی و صہیونی زعماء کے لیے دجال کی خاطر ازحد ضروری بھی ہے کہ وہ شیطان کی عبادت اور محبت کا خالص عقیدہ اپنائیں۔جن چار اصولوں سے یہ نوواردین کو گھیرتے ہیں در پردہ انہی کی مخالفت اور ان کے خلاف عملاََ بر سر پیکار ہیں۔

قارئین! آج سے قبل جب اس تحریک سے پہلے انسان نے پردہ اٹھایا تھا تو اسے بھی عوامی سوال جواب کا سامنا تھا۔لوگوں نے من گھڑت کا ٹھپہ لگا کر اس تحریک کی کہانی کو رد کردیا تھا۔

پھر تاریخ نے ان کے کارنامے دیکھے دو عظیم جنگوں،اسرائیل کا قیام اور خلافت کے اختتام اور بے شمار سازشی حادثات اور نظریات کی صورت۔

آج کے پڑھے لکھے لوگ بھی کچھ زیادہ الگ رویہ نہیں دکھا پارہے اس تحریک کی اصلیت پر پہلے پہل کے لوگوں کی طرح۔آج کے لوگ بھی باوجود تاریخی و دستاویزی ثبوتوں کے اس کو من گھڑت ہی مانتے ہیں لیکن کوئی بات نہیں تاریخ کا سفر ابھی جاری و ساری ہے۔

جب ان کے مزید کارنامے حواس خمسہ سے دیکھیں گے تو یقین بھی کر لیں گے۔

تبصرے
Loading...