ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

“فری میسن” انسانی تاریخ کی خفیہ ترین تحریک (پانچویں قسط) – بلال شوکت آزاد

گزشتہ اقساط میں فری میسن کے اسرار اور ان کی پراسرار حرکات کا تذکرہ کیا تھا، آج اس تنظیم میں شمولیت کے لیے لیاجانے والا حلف یہاں پر بیان کیا جائے گا۔نووارد کو شربت اور کڑوا پانی پلانے کے بعد احساس دلایا جاتا ہے کہ اس زندگی کی مٹھاس بھی اور بعض اوقات یہ تلخ بھی ہو جاتی ہے۔

اگر نووارد پھر بھی “میسنری نور” کے حصول کے لیے بضد اور بے چین رہے تو وہی چیف اس کو رکوع کی حالت میں کرکے اس کی کتاب مقدس (مطلب قرآن، انجیل، توریت یا زبور جس کا بھی وہ ماننے والا ہے اس کی وہی کتاب) دکھا کر چیف کہتا ہے کہ”تو نے اندھیرے کمرے میں کافی وقت گزارا ہے۔تنظیم تجھ سے خون کا آخری قطرہ تک بہادینے کے عہد پر تیری کفالت کرتی ہے۔ کیا اب بھی تو ہماری رکنیت حاصل کرنے پر مصر ہے؟

اگر نووارد کا جواب “ہاں” میں ہی ہو جو کہ ہوتا ہے تو چیف یقین دہانی دلاتا ہے کہ تجھے یہ نور عطاء کیا جائے گا۔اس سارے عمل کے دوران اس نووارد کی آنکھوں پر کالی پٹی اور گلے میں رسی موجود ہے۔جب وہ تنظیم کے تمام رسم و رواج اور عہدو پیمان سے فارغ ہوتا ہے تو اس کی آنکھوں کی پٹی اتاری جاتی ہے تو وہ نیم وا آنکھوں سے جو منظر دیکھتا ہے وہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ دو تیز دھار تلواریں اس کے منہ اور دل طرف تانی گئی ہوتی ہیں۔

تب اسے سنجیدگی سے باور کرایا جاتا ہے کہ “بوقت ضرورت یہ تلواریں تیری مدد و نصرت کے لیے استعمال ہوں گی لیکن اگر تونے عہدشکنی یا غداری کی تو یہی تلواریں تیرے لیے سامان اجل ہوں گی اور یہ جو رسی تیرے گلے میں بشکل پھندا موجود ہے یہ تیری عہدشکنی کا پتہ چلنے پر تیری پھانسی بن جائے گی۔

اب تو ہمارا بھائی بن گیا ہے اور تیرے حقوق و فرائض وہی ہوں گے جو ہمارے دیگر بھائی بہنوں کے ہیں۔اب گویا یہ مبتدی یہ نووارد، ان کے لیے پہلے درجے کا فری میسنری بن گیا ہے۔(حوالہ: الماسونیہ فی العمراء از ڈاکٹر علی الزعبی)

درجہ بدرجہ ترقی کا طریقہ کار
اس کے بعد ترقی کی منازل کا سلسلہ کچھ یوں شروع ہوتا ہے۔ اس نوارد مبتدی یا فری میسنری کو صلاحیت اور بڑھتی کارگزاری کے ساتھ آہستہ آہستہ اوپر کے درجات میں ترقی دی جاتی ہے۔وہ پہلے سے دوسرے، تیسرے حتی ٰ کہ بیسویں درجے تک پہنچتا ہے۔ یاد رہے ہر درجے میں ترقی کے وقت اس مبتدی کو عہد وپیمان کے سارے عمل سے دوبارہ گزرنا پڑتا ہے۔ہر بار عہدو پیمان اور وفاداری کا حلف نامہ دینا پڑتا ہے۔ڈاکٹر علی الزعبی نے ان کے ہر درجے کے عہدو پیمان کی مکمل تفصیل اپنی تصنیف “الماسونیہ فی العمراء” میں تفصیلاََ درج کی ہوئی ہے۔بہرحال مختصر یہ کہ وہ ہر بار اگلے درجے میں ترقی دینے کے لیے عہدو پیمان میں کڑی سے سے کڑی شرائط کا اضافہ کرتے جاتے ہیں۔مثلاََ تنظیم کے اسرار ورموز کو ہمیشہ مخفی رکھوں گا۔

تنظیم کے مقاصد کو نافذ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کروں گا۔نہ کسی ڈر یا خوف سے پیچھے ہٹوں گا۔اپنی جان کی بھی پروانہیں کروں گا۔میں اعزاء و اقارب کے تعلقات اور نسبی، عصبی، رحمی، مذہبی، سیاسی اور قومی مفادات سے بالاتر ہوکر اپنا مشن یاد رکھوں گا اور جاری رکھوں گا۔میں اپنے ماں باپ، بہن بھائی، شریک حیات و اولاد اور دوست و احباب سے رشتے ناطے توڑ دوں گا تاکہ مشن کی عظمت اور تکمیل کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ بن سکے۔بہرحال، گزشتہ اقساط کے بعد مختلف فورم پر مجھے اس تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ اگر یہ خفیہ تحریک ہے تو اس کی اتنی باریک و پیچیدہ معلومات کیسے منظر عام پر آگئیں ؟

تو ایک بار پھر واضح کردوں روئے انسانی کی یہ قدیم اور خفیہ تحریک اب بھی کافی حد تک یہ خفیہ ہی ہے۔ لیکن یاد رکھیں مرتد صرف مذاہب کے ماننے والے نہیں ہوتے بلکہ ایسی تنظیموں میں کام کرنے والے لوگ بھی ایک لمبا عرصہ گناہوں کی دلدل میں رہ کر ضمیر کی آواز پر مرتد ہو جاتے ہیں اور پھر وہ کسی نا کسی قابل اعتبار انسان کو راوی بناکر سارے معلوم رازوں سے پردہ اٹھا کر اوروں کو محفوظ کرنے کی غرض سے مگر گمنام ہی رہ کر تفصیلات فراہم کر جاتے ہیں۔

بس ایسی ہی روایات و واقعات اور پھرمستند محققین کی تحقیق کی روشنی میں ہمارے جیسے صحافت اور علم کے طالبوں کو قلم اٹھانے اور ان کی ساری تحقیق کو مزید تحقیق کے ساتھ منسلک کرکے سادہ الفاظ میں عوام تک پہنچانے کا شوق سر پر سوار ہوجاتا ہے۔ایسی عبرت ناک باتیں سننے میں من گھڑت روایات اور کہانیاں ہی لگتی ہیں لیکن مقصد ٹھیک ٹھیک بات پہنچانا ہے باقی یہ کام تو اللہ کا ہے کہ کسی کو سمجھ بوجھ اور ہدایت دے۔

ہم نے اب تک جانا کہ فری میسن کا قیام کب ہوا؟اس کے قیام کا مقصد کیا تھا؟اس کے بانیان اور زعماء کون تھے؟
اس کے اسرار کیا ہیں ؟اس کا دجال اور اس کے خروج سے کیا لینا دینا ہے؟اس کا یہودیت اور صہیونیت سے کیا تعلق ہے؟ان کا معاشرے پر کیا اثر ہے؟اس کا طریقہ کار کیا ہے؟

اور اس میں داخل ہونے کے لیے کسی نووارد کو کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں اور وہ کس حلف کو اٹھانے کا پابند ہوتا ہے؟
اب ہم بات کریں گے فری میسن کی ایجادات اور اس کی اختراعات کی۔جس طرح ہر ملک اور ہر علاقے کی زبانیں مختلف اور الگ لہجے والی ہوتی ہیں اور ان کے لکھنے کا انداز بھی مختلف ہوتا ہے۔ایسے ہی میسنریوں کی بھی ایک الگ اور مستقل زبان ہے۔ جسے وہ اپنے مخصوص انداز میں لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ یہ جدت صرف الگ حروف تہجی کی ایجاد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وہ اعداد و ارقام سے بھی حروف کا کام لیتے ہیں۔ ہر حرف کے بدلے ان کے ہاں ایک عدد ہے۔
جو کچھ یوں ہے،
(A=70) (B=2) (C=3) (D=J2) (E=15) (F=20) (G=30) (H=33) (I=38) (J=38) (K=9) (L=10) (M=40) (N=60) (O=80) (P=8) (Q=82) (R=83) (S=84) (T=85) (U=86) (V=90) (W=90) (X=91) (Y=94) (Z=95)
فری میسنریز کو جب کوئی لفظ یا جملہ لکھنا ہوتا ہو تب وہ چند اعداد لکھ کر اپنا مطلب بیان کرلیتے ہیں۔مثلاََ لفظ میسن (MASON) لکھنا ہو تو وہ یہ ارقام لکھتے ہیں :40۔ 70۔ 84۔ 8۔ 60۔ان کے ہر درجے کے میسنری کے لیے الگ رموزواوقاف اور اشارات ہیں۔جنہیں وہی جانتا ہے جو جس درجے میں ہو۔جونیئر درجے والے کو اپنے سینیئر درجے والے فری میسنری کے رموزو اشارات کا علم نہیں ہوتا۔یہیں تک اکتفا نہیں ہے بلکہ ان کے ہر درجے والے فری میسنری کا لباس بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔اور ہر درجے کا ایک الگ بیج بھی ہوتا ہے جسے سینے پر سجایا جاتا ہے جو اپنے آپ میں گویا ہر درجے والے فری میسنری کا مکمل تعارف ہوتا ہے۔ ان چیزوں کا استعمال وہ صرف اپنے جلسوں اور نجی محافل میں کرتے ہیں۔

عام جگہوں پر اگر ان کو کسی دوسرے فری میسنری سے تعارف کروانا اور ملنا مقصود ہو تو وہ اپنی رنگ فنگر میں ایک “M” کے نشان والی انگوٹھی الٹی کرکے پہنتے ہیں وہ ملاقات کے وقت سیدھی کرکے دکھا دیتے ہیں تاکہ دوسرے فری میسنری کو کوئی شک وشبہات نا رہ جائیں۔اس کے علاوہ ملاقات پر سلام دعا کا طریقہ اور دعائیہ جملے بھی مخصوص ہوتے ہیں جو ان کی پہچان کروانے میں ان کی مد کرتے ہیں۔ان کی زبان، حروف تہجی، لباس، مخصوص بیجز اور مخصوص انگوٹھی کی طرح ان کے ماہ وسال بھی اپنے مخصوص ہیں جن کا آغاز انہوں نے مارچ 1831ء میں باقاعدہ کیاجو کچھ اس طرح ہے،
میسنری مہینے = دن۔نیسنان = 30۔جیتار = 29۔سیفان = 30۔تموز = 29۔آب = 30۔ایلول = 29۔تشرین = 30۔سیسفان = 30۔نیسلیف = 30۔ثوبات = 29۔ششیفات = 30۔آذار = 29 (حوالہ: معجم الماسونیہ والماسونیین)

اس تحریک کے جو ظاہر مبادیات ہیں وہ بہت ہی دلکش اور جاذب نظر ہیں۔جو کوئی بھی اس کی اولین باتیں سنتا اور پڑھتا ہے وہ اس تحریک کو کوئی مذہبی و اصلاحی قسم کی تنظیم سمجھتا ہے۔

جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہی ہوتی ہے۔ ان کے مظاہر بالکل ایسے ہیں جن سے ہر انسان دھوکہ کھا جاتا ہے اور یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ لوگ یا تو اپنا ایمان گنوا بیٹھتے ہیں اس کی ظاہری شکل پر یقین کرکے یا پھر جو اس طرح اس کے جال میں نہیں پھنستے تو ان کو یہ سرے سے ہی کوئی بکواس اور من گھڑت بلکہ ماورائی تنظیم لگتی ہے بالکل جن بھوتوں اور کالے علم کی طرح۔یہاں ہم ان کے ظاہری اعلانات کو دیکھیں گے اور پھر ان کے پس پردہ جو خفیہ نظریات کار فرما ہیں ان کا جائزہ لیں گے۔

اس تنظیم کی جڑیں بہت گہری اور اس کے اسرار ان گنت ہیں۔ اگر ہم اس کو کھدیڑنے لگیں تو بے شمار سچائیاں اور خفیہ راز طشت از بام ہو ں گے مگر ہم بڑی مشکل سے اس کے گزشتہ دو ڈھائی سو سال کی تاریخ اور چند باتوں کو ہی جان پائے ہیں۔ اس کی حقیقت کا سراغ بیسویں صدی کے مشہور مگر جان لیوا واقعات کے بعد لگایا گیا۔جن واقعات نے خاص کر عیسائیوں بالخصوص برطانوی راج کو چوکنا کیا وہ ٹائی ٹینک جہاز کا غرق ہونا اور اسی کے ساتھ لیگ آف جسٹس کے تمام عہدہ داروں کا اس جہاز کے ساتھ مر جانا تھا۔

ٹائی ٹینک جہاز دراصل ٹائی ٹینک جہاز نہیں بلکہ اسی کے حجم اور وزن جیسا ایک ناکارہ جہاز “اولمپس” تھا۔اس جہازی کمپنی کا مالک ایک یہودی تھا اور اس نے کیوں یہ سازش کی اور جہاز ڈبوانے کے پیچھے کیا مقاصد تھے یہ ایک الگ موضوع ہےبہرحال برطانوی سراغ رسانوں اور محققین کو اسی طرح کے حادثات نے ان کی تلاش کی جانب راغب کیا اور جو وہ ان کا ڈھونڈ پائے آج وہ کسی نا کسی طرح ہمارے تک پہنچ رہا ہے۔

(جاری ہے )

تبصرے
Loading...