بلاگ معلومات

"فری میسن” انسانی تاریخ کی خفیہ ترین تحریک (دوسری قسط) – بلال شوکت آزاد

 

ان 9 افراد کی مجلس کا پہلا اور باقاعدہ اجلاس ایک اجلاس کم اور ایک مذہبی رسم کی ادائیگی کا موقع زیادہ تھا۔
اس وقت تمام 9 اراکین سے حلف لیا گیا کہ وہ اپنے معاملات کو مکمل طور پر پوشیدہ رکھیں گے اور تحریک کے ہر مطالبے پر آمنا صدقنا کہیں گے اور جو بھی ارکان اس تحریک کے مطالبے اور احکامات سے روگردانی کرے گا، کترائے گا اس کا انجام صرف اور صرف موت ہی ہوگا۔

اس تحریک نے آغاز سے ہی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے حواریوں کو قتل کرنا اپنا شیوہ بنا لیا تھا۔
ان کے ناپاک ہاتھوں موت کا شکار ہونے والا پہلا شخص پطرس تھا۔جسے نیرون نے اپنی یہودی بیوی بوبایا کے اکسانے پر قتل کیا۔البتہ بعض علماء اس تحریک کی تاسیس و قیام کا عرصہ بہت بعد کا بتاتے ہیں۔

ان کے خیال میں برٹش جنرل اسمبلی کا پہلا میسنری ممبر 1376ء میں ظہور پذیر ہوا جبکہ اس سے قبل ان کا کوئی واضح اتہ پتہ کہیں سے نہیں ملتا، باوجود تلاش بسیار اور گہری کھوج اور تجسس کے۔اس کا پہلا باقاعدہ اجتماع 1717ء میں ہوا اور انہوں نے لاطینی نام ARO BUARTEUR CONORIUM سے ایک پرچہ بھی نکالنا شروع کیا جس میں اپنے افکار نشر کرتے تھے اور لوگوں کو یہودی و صیہونی عالمی گریٹ گیم کا حصہ بناتے تھے۔

اس تحریک کا کچا چٹھا کھولنے والے محقق ڈاکٹر محمد علی الزعبی کی عرق ریز تحقیق کا نتیجہ یہ ہے کہ پہلے "مخفی قوت” اور اس کے مترادف ناموں سے یہ لوگ کام کرتے رہے اور 1717ء میں انہوں نے لندن کون میں اپنا نام تبدیل کرکے "فری میسن” اختیار کیا۔

اس اجلاس کی صدارت جیمس اینڈرسن نے کی جو دراصل سکاٹ لینڈ کا باشندہ و رہائشی تھا۔اسی نے شہرہ آفاق فری میسنری کتاب "قوانین” لکھی جو 1723ء میں لندن سے شائع ہوئی۔اس کتاب کو پہلی فری میسنری کتاب ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

جرمنی ان کا صحیح دشمن بن کر ابھرا۔جب انہیں محسوس ہوا کہ ہٹلر کو ان کی اصلیت کا علم ہوگیا ہے اور دوسری طرف ہٹلر کو یہ پتہ چلا کہ ان کا تعلق یہودیوں سے ہے تو پورے جرمنی میں راتوں رات ان کے مکاتب و ادارے بند کر دیئے گئے۔
تب انہوں نے کروٹ بدلی اور فری میسن کو چھوڑ کر جرمن ہاؤس کلب کا نیا روپ دھار لیا۔پھر جب اس پہچان کے ساتھ بھی جینا محال ہوا توروٹری کلب کا اچھوتا نام رکھ لیا۔

ایسے ہی بھیس بدلا بدلی چلتی رہی۔ لائنز کلب اور بنائی برتھ کلب بھی انہی کے دیگر ناموں میں سے ایک نام ہے۔
روٹری کلب پولی ہیرس نے امریکہ کے شہر شکاگو میں بنایا۔جس کی شاخیں دھیرے دھیرے پورے عالم میں پھیل گئی۔

جو انٹرنیشنل روٹری کلب کے نام سے باہم مربوط ہوگئے اور ان کا صدر دفتر ایفاوسٹن (امریکہ) میں ہے۔اس کلب کی رونق شہر کے امیر و معزز اور طاقت ور لوگ ہوتے ہیں۔پاکستان کے شہر فیصل آباد میں بھی اس کلب کی ایک خفیہ شاخ کافی عرصہ سے کام کررہی ہے۔(میرے خیال میں فیصل آباد پر فری میسن کی نظر کرم ہونے کی خاص وجہ اسکا انڈسٹریل اور مستحکم معیشت والا شہر ہونا ہے۔)

جس کی شامیں اکثر معزز امراء اور بعض اوقات انجانے میں پھنسے ہوئے نامی علماء بھی رنگین کر رہے ہوتے ہیں۔بہرحال یہ بھی ایک ذریعہ ہے فری میسن کا لوگوں کو عالمی سازش کے مہرے بنانے کا۔

لائنز کلب کی بنیاد 1951ء میں نیویارک (امریکہ) میں رکھی گئی جو بعد میں واشنگٹن میں منتقل کردی گئی اور پورے عالم میں اس کی بھی کئی برانچیں کھل گئیں۔اس کے بھی ممبران رؤسا و ملوک، نواب اور معزز شخصیات پر مشتمل ہوتے ہیں۔لاہور میں بھی اس کی ایک برانچ بظاہر میڈیکل اور فلاحی سہولتوں کی آڑ میں کام کرر ہی ہےفری میسن کا یہی خاصہ ہے کہ یہ لوگ معاشرے کا معصوم ترین نقاب چہرے پر سجا کر بہت ہی سرعت سے اپنے کام انجام دیتے ہیں۔
بنائی برتھ کلب کا قیام 1834ء میں عمل آیا۔اس کےصرف ایک مرکز برلن کی 1903ء میں تقریباََ 80 شاخیں تھیں۔آج کل اس کا صدر دفتر امریکہ میں ہے۔

یہ کلب صرف عورتوں کے لیے مخصوص ہے اور اس کی تقریباََ تمام کی تمام ممبرز یہودی عورتیں ہیں۔ان کلبوں کی مفصل تفصل کے لیے گوگل کریں یا پھر ڈاکٹر محمد علی الزعبی کی کتاب "الما سونیہ فی العمراء” پڑھیں۔تنظیم کے بڑےاس دشمن دین و دشمن انسانیت تنظیم کی بنیاد میں کام کرنے والے دو اشخاص تھے جن میں سے ایک یورپی آدم وائنز ہائپٹ اور دوسرا امریکی النسل البرٹ پائیک تھا۔

ان میں سے پہلا جرمنی میں 1748ء میں پیدا ہوا۔دینی تعلیم حاصل کرکے اپنا ایک مقام بنایا اور عزت پائی کہ علماء دین مسیحی میں یکتا روزگار ہوگیا۔اس کمال کو پہنچ کر ایسا شکار زوال ہوا کہ دین مسیح سے بلکل مرتد ہو گیا اور بعد از ارتداد الحادی عقیدہ اپنایا۔(پاکستان میں بھی الحاد آج بالکل اسی طریق اور انداز میں جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔اس میں آپ لبرل اور روشن خیالوں کے علاوہ مذہبی و دین دار لوگوں کو بھی اس کا شکار دیکھیں گے)

بہرحال، 1770ء میں یہودیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا اور ان کے علوم و فنون سے خوب استفادہ حاصل کیا اور پھر انہی کے تعاون سے ایک انجمن "محفل شوق اکبر” کے نام سے کھڑی کی۔اسکے بعد ایک "عالمی حکومت” بنانے کی آواز بلند کی جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے عالم کے اہل فکرو نظر افراد کے لیے ایک لالچ بن گئی کیونکہ اس حکومت کی باگ ڈور انہی کو سونپنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس کے اس اعلان سے بے شمار اعلیٰ پائے کے بڑے بڑے ادیب، ماہرین علوم وفنون اور علماء اقتصادیات و سیاسیات دھوکے اور لالچ میں آگئے جن کی تعداد دنوں میں ہزاروں سے تجاوز کرگئی تھی۔جو تعمیری صدا اس نے عالمی حکومتی لٹو گھما کر لگائی تھی وہ تو صرف ظاہری روپ تھا۔

اس کا اصل باطنی اور بھیانک مقصد تو یہ تھا کہ دنیا کی تمام غیر یہودی و الحادی حکومتوں کے علاوہ سبھی حکومتوں میں اندر کھاتے تخریب کاری کی جائے اور تمام ادیان عالم کو مٹا دیا جائے تاکہ یہودی و الحادی قوتوں کو ٹکر دینے والا کوئی نظریاتی دین، ملک، انسان اور تحریک نہ رہے۔

فری میسن اور اس کے زعماء کے یہ سب جتن صرف دجال کی حکومت اور نظام کو پروموٹ کرنے کا بہانہ ہیں ۔

لکھاری کے بارے میں

بلال شوکت آزادؔ

فطرت سےآرمی آفیسر, شوق سےصحافی اور پیشےسےمزدور ہوں۔ پرو پاکستان, پرو اسلام اورپروانسانیت بندہ ہوں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment