بلاگ معلومات

فوج کو گالی کیوں؟؟

لیاقت علی خان47 ء سے 51 ء تک وزیراعظم رہے اور پھر قتل کر دئیے گئے۔ خواجہ ناظم الدین 51ء سے 53ء تک اس عہدے پر فائز رہ سکے اور پھر برطرف ہو گئے۔ محمد علی بوگرہ کی کرسی 53ء سے 55ء تک محفوظ رہ سکی اور پھر انہیں جبراً مستعفی ہونا پڑا۔ چوہدری محمد علی 55ء سے 56ء تک ہی ٹک پائے اور ان سے بھی زبردستی استعفیٰ لیا گیا۔ حسین شہید سہروردی 56ء سے 57ء تک کرسی سنبھال پائے اور پھر حالات کے جبر کا شکار ہو کر مستعفی ہو گئے۔ پھر 57ء میں آئی آئی چندریگر آئے اور وہ بھی ایک سال کے اندر اندر مستعفی ہو کر گھر چلے گئے۔ 57ء میں ہی فیروز خان نون آئے اور 58ء میں رخصت کر دئیے گئے۔

صاحب! محض گیارہ برس میں 7 وزرائے اعظم آئے اور رخصت ہوئے۔ کیا اس وقت یہ سب کچھ فوج کروا رہی تھی؟ کیا اس وقت کی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسقدر طاقتور تھی کہ یہ سب کچھ محض اپنے زورِ بازہ سے کروا سکتی؟ سابق صدر پاکستان اسحق خان مرحوم کا شائع شدہ انٹرویو ریکارڈ پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمیں چھ ماہ سے زائد کا عرصہ لگا امریکہ کو یہ سمجھانے میں کہ حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں ون مین شو لایا جائے“۔ کس نے سمجھایا؟ کیا اس وقت فوج امریکہ کو یہ پٹی پڑھا رہی تھی؟ امریکہ کو پاکستان پر مسلط کرنے کا گناہ لیاقت علی خان سے سرزد ہوا۔ وہ جرنیل نہیں سیاست دان تھے۔ جب ایک بار ایوب خان جرنیل ہوتے ہوئے پاکستان کے اختیارات کلی کے یک و تنہا مالک بن گئے تو پھر یہ رواج چل نکلا۔ سلگتے، کھولتے جہنم کا در ایسا کھلا کہ پھر بار بار کھلتا رہا۔ کچھ عالمی حالات کچھ اپنے قائدین کی نااہلی اور کچھ امریکی مفادات کے حصول میں ہوس پسندی کا عنصر۔

پاکستان ایک بار ترنوالہ بن گیا تو پھر برسوں بیت گئے اسی منحوس چکر میں۔ اگر بھٹو اور مجیب سیاستدان ہوتے ہوئے کہیں دم لیتے اور صائب جمہوری رستہ اپناتے تو کیا یحییٰ خان کی چل پاتی؟ بلی تو شکار کرتی ہی ہے کہ یہ اس کی جبلت ہے۔ بعضے مگر چوہوں کی نالائقی بھی انہیں ترنوالہ بنا دیتی ہے۔ پی این اے کے مولوی کیا خود عقلِ سلیم سے عاری تھے؟ سیاست دان تھے۔ ہوش مند تھے۔ پھر کیوں بھٹو کی بے جا مخالفت میں اس حد تک حالات کو لے گئے کہ نتیجتاً مارشل لاء کا نفاذ ہوا۔ ضیاء الحق جیسا بودا سا موقع پرست کیسے کامیاب ہو سکتا تھا اگر سیاست کے نام پر فساد پھیلانے والے اس کے ممدو معاون نہ بنتے؟ ضیاء الحق اپنے انجام کو پہنچا تو پھر سے جمہوریت کے نام پر سیاست دانوں نے وہ اودھم مچایا کہ الامان۔ بے نظیر اور نواز شریف نے اپنے کرتوتوں سے جو ذلت کمائی اور ملک کا جو نقصان کیا اس کی تلافی آج تک ممکن نہ ہو پائی۔ گو میثاق جمہوریت ہوا مگر ایک دوسرے کے خلاف بے جا مقدمہ بازی سے باز نہ آئے۔

آج سیاسی فریقین اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہیں اور الزام دھرتے ہیں فوج پر۔ فوج اکیلی ذمہ دار نہیں۔ طالع آزماؤں کی ہوسِ اقتدار اپنی جگہ سچ ہے مگر یہ جو ہمارے جوان محاذوں پر جانیں دیتے ہیں اور ہم اپنے نرم گرم بستروں میں چین کی نیند سوتے ہیں کچھ اس کی تحسین بھی لازم ہے یا نہیں؟ ہوشمندو! ذرا سوچو تو سہی یہ اپنے ہی ملک کی فوج ہے۔ دشمن کی تو نہیں۔ ہمارے ہاں تو دشمن کے ہمدرد بھی بہت سے ہیں اور بے محابا بولتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ کوئی ان کا سدباب ہے یا نہیں؟ یہ جو آج کل پھر سے ایک اودھم مچنے اور طوفان پنپنے کو تیار ہے تو کیا یہ سب کچھ فوج کروا رہی ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ سیاستدانوں نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے تو پھر لامحالہ فوج کے ہاں بھی تو یہ عمل تطہیر ہوا ہو گا۔ آپ یہ جو غزالی کا قول سناتے ہیں کہ انسان اپنی غلطی سے نہیں بلکہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے پر مصر ہونے سے مات کھاتا ہے، تو صاحب! اقرار کہ یہ بجا ارشاد ہے۔ مگر یاد رکھیئے کہ چھوٹے آدمی کی بڑی غلطی اسقدر نقصان نہیں پہنچاتی جسقدر کہ بڑی ذمہ داری والے انسان کی چھوٹی سی غلطی ملک و ملت کا بیڑا غرق کرتی ہے۔ جمہوری لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ جمہوریت کو اس کی اصل روح کے ساتھ نبھایا جائے۔

بجا کہ ڈکٹیٹر برے مگر کچھ آپ کے فرائض بھی ہیں یا نہیں؟ آپ ملک کی اعلیٰ پارلیمان میں بیٹھ کر جو قوانین سازی کرتے ہیں وہ کس حد تک پاکستان اور پاکستانیوں کے مقدر سنوارتی ہے؟ ہاں آپ کی اپنی تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔ آپ کتنے صالح لوگ ہیں کہ درجنوں بیماریاں لاحق ہونے کے باوجود آپ ”خدمت خلق“ پر خود کو ہمہ وقت مامور کئے رکھتے ہیں۔ حتی کہ علاج کروانے کیلئے آپ کو آخر کار گرفتار کرنا پڑتا ہے۔ (یہ جملہ معترضہ ہے) جناب! دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنے کا تکلف کیجئے۔ ہم دیہاتی لوگ ہیں۔

ہم کہتے ہیں ہانڈی کا منہ کھلا ہو تو کتے کو منہ مارتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ پہلے آپ بھاگ بھاگ کر جرنیلوں کے پاس جاتے ہیں۔ اقتدار کی بھیک مانگتے ہیں۔ پھر وقت بدلنے پر اُسی فوج کو گالی بھی دیتے ہیں۔ یہ کیسی کج روی ہے؟ تو جناب سن لیجئے کہ پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری رویوں کا فروغ نہ ہونے کی وجہ خود جمہوریت کے چیمپئن سیاستدان ہیں اور یہ المیہ آج کا نہیں پہلے دن کا ہے۔ ایک بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام جمہوری جدوجہد کے باعث ممکن ہوا مگر طرفہ تماشا یہ کہ حضرت قائداعظمؒ نے مسند پر بیٹھتے ہی صوبہ سرحد میں قائم ڈاکٹر خان کی ؤجمہوری حکومت ختم کر کے اسمبلی توڑ دی۔ تاریخ کا طالب علم اب سوال تو اٹھائے گا۔ جواب یہ ہے کہ آغاز ایسا ہو گا تو پھر انجام بخیر کیسے ممکن ہے؟ آخری گذارش یہ ہے کہ اب حالات متقاضی ہیں کہ ملک کے تمام طبقات اور تمام ادارے باہم مل جل کر ملک کی تقدیر سنوارنے کی تگ و دو کریں۔ ہمیں اپنی ایک بوٹی کی ہوس میں دوسرے کی پوری گائے ذبح کر دینے والے قبیح انداز و اطوار سے گریز کرنا ہی پڑے گا۔ ورنہ سوائے گالیاں بکتے رہنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔