افسانے

فرقہ پرست کون ہے ؟ از ابوبکر قدوسی

رات دو بجے درد سے بے چین ہو کے اٹھا ، کہ مدت سے شکم پروری کی بے اعتدالی نے مریض کر چھوڑا – کچھ افاقہ ہوا تو لامحالہ ذہن رات کی پوسٹ کی طرف چلا گیا – دیکھا تو چودہ طبق روشن ہو گئے بلکہ اس سے سے بھی سوا -کسی نے فرقہ پرستی کی بات کی ، کسی نے مجھ پر الزام دھرا ، کسی نے مسلک پرستی کا طعن کیا ایک دوست کی زبان تو یہ رہی کہ غیر مقلدوں کی دم پر مفتی صاحب کا پاؤں آ گیا – ہمارے بھی بعض دوست برسے اور خوب برسے ، کچھ ہمارے افراد نے بھی زیادتی کی …کچھ کو روکا کسی کو سمجھایا .ناروا کمنٹ دلیلٹ کیے ….لیکن خود خاموش رہا کہ صبح دیکھیں گے –

دوستو ! اور ہاں میرے دیوبندی دوستو! ذرا ٹھنڈے ہو گئے ہیں ، تو مجھے بتائیے کہ میری پوسٹ اسی جگہ موجود ہے ، آپ کے کمنٹ بھی ، دوستوں کے جواب بھی …..؟
اگر موجود ہے کہ تو اس پوسٹ میں سے کوئی ایک ایسا جملہ نکال کے دکھائیے کہ جو مسلک دیوبند کے خلاف ہو …مسلک دیوبند کے بزرگوں پر کیچڑ اچھالا گیا ہو .. مسلک دیوبند کے کسی مسلے کو لے کر طنز کیا گیا ہو ؟؟؟

تمام تر پوسٹ میں ایک واحد بزرگ مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کا تذکرہ ہے جو رحمت کی دعا کے ساتھ ہے ، عزت کے ساتھ ہے ..مزید یہ کہ ان کا تذکرہ ان کی تعریف پر مبنی ہے کہ ان کا اخلاق کیسا عمدہ تھا …. ان کے تذکرے کا مقصود یہ تھا کہ مخاطب مفتی صاحب کو احساس دلایا جائے کہ آپ کے اکابر کا یہ اخلاق تھا ، اور آپ ؟؟؟؟؟؟
اب آتے ہیں فرقہ پرستی کی بات کی طرف -۔۔۔ آپ شائد بھول بیٹھے کہ ہاں یہاں میں بھی ہوں ۔۔۔ اس زمین اور آسمان کے درمیان میں بھی ہوں ہاں آپ بھول گئے کہ آج سے تین برس پہلے فیس بک کا ماحول کیا تھا …. فرقہ پرستی تب تھی ، نفرتیں تب پھیلائی جا رہی تھیں ….میں یہ نہیں کہتا کہ اس کو میں نے ختم کیا ، لیکن … ۔۔۔۔ تائب تھے احتساب سے جب سارے بادہ کش ۔۔۔مجھ کو یہ افتخار کہ میں میکدے میں تھا

جی جب سب بھاگ لیے تھے ، یا خود اسی نفرت کا حصہ بن کے میدان میں تھے ، یہ حر فقیر کھڑا رہا اور اب یہ وقت آ گیا کہ معاملہ لبرلز اور منکرین حدیث اور متجددین تک ان پہنچا تھا ، فرقہ پرستی دور کہیں دور منہہ چھپائے کھڑی تھی ….

مجھ کو فرقہ پرستی کے طنز سے نوازنے والے دوست ذرا یہ تو فرمائیے کہ جب الیاس گھمن کے اوپر بارش کے قطروں کی طرح سکینڈل پر سکینڈل برس رہے تھے ، خود دیوبندی حضرات پریشان تھے کہ دفاع کیا جائے تو کیونکر کیا جائے ، ایسے میں ایک نہیں تین یا چار طویل مضامین لکھے ، یہ مضمون صرف میرے پیج پر محدود نہ رہے بلکہ بڑی ویب سائٹس نے بھی لگائیں ..اس گھمن کے دفاع میں کہ جس کی نظر میں شائد میں مسلمان بھی نہ تھا –

میری محنت کا حاصل وصول ایک صاحب کا دوسرے کو مینشن کر کے یہ کمنٹ تھا "آو یار دیکھو ، کیسے مولویوں کا میچ پڑا ہوا ہے ” سوال یہ ہے کہ ایک فرد پر تنقید بھلے اعتدال سے بڑھی ہوئی ہی کیوں نہ ہو …ایک مسلک پر تنقید کیونکر شمار کی گئی ؟ کیا مفتی طارق مسعود کا نام ہی دیوبندیت ہے ؟ کیا ان پر تنقید کا مطلب ہے دیوبندیت کو برا کہا گیا ؟

جناب ! وہ کب سے ہدایہ ہو گئے ، قدوری بن گئے ، اور درمختار ٹہرے – دوستوں نے زبیر علی زئی صاحب کی زبان پر اعتراض کیے ..مجھے یاد ہے ان کی زندگی میں بھی ہم ان کو کہا کرتے تھے کہ آپ کا علمی مقام اس سے کہیں بلند تر ہے کہ آپ اتنے تلخ کام ہوا کریں ، آخر آخر ان کو یہ بات سمجھ آئی اور یہی وجہ تھی کہ ان کی آخری تحاریر میں دیوبندی علما کے نام کے ساتھ صاحب کا اضافہ ہو گیا تھا …مجھے یاد ہے کہ آخری دنوں میں برادر عمر فاروق قدوسی سے ملاقات میں بھی کہا تھا آپ کاموقف اس معاملے میں درست ہے – رہا ان کا پہلے مضامین میں زبان ، تو مجھے بتائیے کہ میں نے کب اس کا دفاع کیا ؟ بلکہ مجھے ان کے اس طرز تحریر سے اختلاف ہے ان کے لکھنے میں ابتدائی دنوں میں بہت تیزی تھی جو ناروا تھی -لیکن اس کے باوجود یہ کہوں گا کہ گالی ، بداخلاقی کوئی میرا بھائی بھی کرے تو میرے لیئے قابل مذمت ہے

اب میرے معتدل دوستوں سے مکرر گزارش ہے کہ ذرا اس پوسٹ پر جائیے اور اس کو دیکھئے اور ڈھونڈیئے کوئی لفظ ، کوئی سوشہ ، کوئی رمز ، کوئی اشارہ مسلک دیوبند کے خلاف ، پھر مزید وقت "برباد ” کیجئے اور کمنٹس دیکھئے اور انجوائے کیجئے -اور ہاں آخر میں اصل "فرقہ پرستوں ” کو مخاطب کر کہتا ہوں کہ قران کی ذکر کردہ وہ بڑھیا نہیں کہ سوت کاتوں ور خود ہی برباد کر دوں ….ان شا اللہ ہم سوشل میڈیا کا ماحول ان فرقہ پرستوں کے ہاتھ برباد نہیں ہونے دیں گے