بلاگ

فقیری کیا ہے؟

فقیری اپنے شیخ کے ہاتھوں اپنی انا کو پامال کرنے کا نام ہے. جس کا مقصد الله کی محبت اور معرفت کو پانا ہے.! لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فقیری کا مسافر ایک شخص کا کلمہ پڑھتا ہے، ایسا نہیں ہے، کلمہ تو وہ اللہ کا پڑھتا ہے بات یہ ہے کہ الله والے، الله سے ملوا دیتے ہیں. جس کے پاس جو ہو دوسرے، اور اسکے پاس بیٹھنے والے کو وہی ملتا ہے سو انکے پاس الله موجود ہوتا ہے، ان سے ملنے والے کو بھی الله ہی ملے گا.!

زندگی کی الجھنوں میں انسان کو سمجھ نہیں آتی کہ روز مرہ معاملات نپٹا لینے کے بعد، نماز کی پابندی کے باوجود اسکا دل کہیں ٹھہرتا کیوں نہیں ہے، اسے سکون قلب میسر کیوں نہیں، وہ کیا چاہتا ہے جو ملتا نہیں ہے، حالانکہ اسکے پاس سب کچھ موجود ہے. انسان جب ایسی سوچ کا مسافر بن جاتا ہے تو وہ خود کو تلاش کرنا شروع کرتا ہے اسی سفر میں وہ الله کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے کیونکہ خود سے خود تک کا سفر ہی الله کی تلاش کا سفر ہے. اس تلاش کو فقیری کے بنا ںا مکمل سمجھا جائے.

انسان جب اس سفر پر نکلتا ہے تو کشمکش ساتھ نہیں چھوڑتی، وہ نہیں جانتا اسے کس جانب جانا ہے، وہ علم والوں کے پاس جاتا ہے، کہیں سے کوئی تسبیح لیتا ہے کہیں سے کوئی اذکار لیتا ہے، تسبیحات اور اذکار کے لئے خود کو تیار کر کے الله کے حضور بیٹھتا ہے، انوارات اس تک رسائی کرتے ہیں لیکن وہ کسی سے کہہ نہیں سکتا، کسی کو بتا نہیں سکتا، کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے، اسکی کیفیات کیا ہیں، کیا وہ جو اسے دکھائی دے رہا ہے درست ہے یا نہیں، کس جگہ پر اسے کس طرف جانا ہے، کہاں پر اپنی اصلاح کی ضرورت ہے، اس سب کے لئے اسے ایک شیخ کی رہنمائی درکار ہوتی ہے.

شیخ کون ہوتا ہے، وہ جو سلوک میں ڈگری یافتہ ہو، جس نے راہِ سلوک مکمل کر لی ہو، وہ جو سالوں سے اپنے نفس کے خلاف جدوجہد کر رہا ہو. شیخ کا مقصد سالک کو خود سے جوڑنا نہیں بلکہ سالک اور مسافر کو رب سے جوڑنا ہے، اسکے دل میں ایک الله کی عبادت اور محبت کا وصف ڈال دینا ہے اور اسی سفر میں نبی کریمﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرنا ہے، اس سب میں انکی غرض صرف آخرت ہے، الله کی رضا ہے،.! شیخ ہی وہ ہستی ہیں جو آپکو بتاتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے، اس راہ میں کہاں پر چونکنا ہے اور کہاں پر آگے بڑھنے کی سعی کرنی ہے، کہاں پر اور مشقت کی ضرورت ہے کہاں پر خود کو کنٹرول کرنا ہے. در اصل سالک ایک پودا ہے جسے شیخ کی صحبت، محبت، شفقت، علم، توجہ اور فیض پروان چڑھاتا ہے جس سے وہ ایک درخت بن جاتا ہے.

اب بات یہ ہے کہ اگر کوئی چاہے مجھے خدا کی تلاش ہے، کہ میں مکمل یکسوئی کے ساتھ الله کی جانب رجوع کر سکوں، میں مکمل الله کا ہو سکوں تو ایسا ایک شیخ کے بنا ممکن نہیں ہے. دنیا میں، آپکی زندگی میں کوئی ایک وقت تو ایسا ہونا چاہیے کہ آپ مکمل یکسو ہو کر الله پاک کے سامنے بیٹھ سکیں کہ میں الله کی بات سن سکوں، میں اپنے اندر اسے کھوج سکوں، میں اسکے راستے کا مسافر بن سکوں، تو ایسا کرنے کے لئے آپکو کچھ وقت دینا ہو گا. آپکو اپنے لئے ایک سلسلہ منتخب کرنا ہو گا جو ان لوگوں کی محبت کے ساتھ آگے لے جا سکے جنہوں نے الله پاک کی راہ میں خود کو فنا کر دیا اور بقا کی محبت نے انکو ایسا باقی رکھا کہ آج بھی لوگ انکا نام ادب سے لیتے ہیں.! سلسلہ کے بزرگ اسکی ایک مثال ہیں. انہی میں سے کچھ بزرگان جنکا ذکر حضرت علامہ محمد اقبال ؒ نے اپنے کلام میں کیا، سلسلہ نقشبندیہ کے ہیں جنکے نامِ گرامی حضرت بایزید بسطامی ؒ ، حضرت فرید الدین عطار ؒ اور حضرت مجدد الف ثانی ؒ ہیں.

شیخ کس کو بنایا جا سکتا ہے؟ وہ جس سے آپکا رابطہ آسان ہو. کیونکہ آپ نہیں جانتے کونسی روشنی فالز ہے اور کونسی روشنی حقیقت میں روشنی ہے. آپ نہیں جانتے جسے آپ ٹھیک سمجھ رہے ہوں وہ در اصل غلط ہو اور جسے آپ ٹھیک نہ سمجھیں وہ اصل میں ٹھیک ہو، یہ آپکے شیخ آپکو بتائیں گے. ہم کسی سے محبت تو رکھ سکتے ہیں لیکن انھیں شیخ نہیں کہہ سکتے جب تک کہ وہ ہماری تربیت کا ذمہ نہ لیں. اس راہ میں جتنا ضروری مرید کا خالص ہونا ہے اس سے کہیں بڑھ کر شیخ کا سکھانے کے لئے پر عزم ہونا ہے. کہ جب تک بیعت دونوں جانب سے نہ ہو کچھ حاصل نہیں ہوتا. اصل سفر سلوک ہے، الله کی راہ میں اسکو پانے کا جتن ہے، خود پر اسکا ذکر لازم کر لینا ہے، جیسے کوئی انسان نماز کا عادی ہو جائے تو نماز اسے نہیں چھوڑتی اسی طرح جس شخص کو الله کا ذکر کرنے کی توفیق مل جائے ذکر اسے نہیں چھوڑتا. عام انسان سمجھتا ہے کہ وہ کسی درگاہ پر ایک بار چلا جائے گا تو فیض مل جائے گا، کوئی سمجھتا ہے کہ کتابیں پڑھنے سے تمام علم حاصل ہو سکتا ہے تو ایسا نہیں ہے، علم سینہ بہ سینہ بھی منتقل ہوتا ہے.فقیری کا علم پڑھنے سے نہیں آتا.

فقیری ایک سمندر ہے جو اس میں ڈوبا نہیں وہ اس سے واقف نہیں ہو سکتا، جو اندر ہی نہیں اترا وہ باہر سے کھڑا ہو کر صرف سطح کو دیکھ سکتا ہے، جو اس میں ڈوبا وہی جانتا ہے اسکی گہرائی کیا ہے، اور تیرنا اسے ہی آئے گا جسکا شیخ کامل ہو. ورنہ سطح پر پھرتا رہے گا…فقیری اپنانے اور شیخ کی صحبت میں سلوک کا مسافر بننے سے انسان کو کیا کچھ حاصل ہوتا ہے.!انسان یکسو ہو کر الله کی جانب رجوع کرتا ہے.جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ اسکی زبان، قلب، دل اور روح الله کا ذکر کر رہے ہیں تو وہ خود کو گناہ میں شامل نہیں ہونے دیتا، اسکا دل، نگاہ اور سوچ پاک ہو جاتی ہے.فقیری میں جو شے انسان کو ملتی ہے وہ پاکیزگی ہے، ہر وقت ذکر کرنے والا الله کے خیال میں محو رہتا ہے، وہ ہر جگہ سے اپنا لباس بھی بچا کر گزرتا ہے کہ کوئی گندگی مجھے چھو نہ لے، آخر تو اسے الله کے سامنے حاضر ہونا ہوتا ہے.

فقیری دین اور دنیا دونوں کو بیلنس کرتی ہے. انسان یہ جان لیتا ہے کہ دنیا کچھ نہیں اور مجھے آخرت میں الله اور الله کے نبیﷺ کا ساتھ چاہیے جس کے لئے مجھے آج کوشش کرنا ہے، دوسری جانب وہ دنیاوی معاملات کو بہتر طرز پر نبھاتا ہے کہ کہیں پکڑ نہ ہو جائے…نفس کو مارنا جو کہ ایک عام انسان کے لئے بہت مشکل ہے، فقیر کی دن رات کی ریاضت نفس کو دبا دیتی ہے، بار بار ذکر الله، اس پر ضرب کی مانند لگتا ہے جسکے بعد نفس مزید پنپنے نہیں پاتا…

ادب اور سکون قلب ملتا ہے، حضوری قائم ہوتی ہے، بے چینی ختم ہو جاتی ہے.کسی سے بدلہ لینا کا تصور منہدم ہو کر رہ جاتا ہے. کسی کو پلٹ کر جواب بھی نہیں دیا جاتا کہ ہمارے اعمال اور ذکر ضائع نہ ہو جائےفقیری کی سب سے بڑی مہربانی اور نشانی "عاجزی” ہے…شیخ سے جڑنے کا مقصد ان سے وابستہ ہونا، انکی تعلیمات کو اپنانا اور الگ راستہ اپنانا نہیں، بلکہ ان سے وابستگی کا مقصد الله کی محبت اور معرفت حاصل کرنا ہے، یہ آخری نقطہ ہے جسے بہت سے لوگ ابتدا میں سمجھ نہیں پاتے اور راہ سے فرار حاصل کر لیتے ہیں. جبکہ الله اپنے نور سے آپکے دل اور من کو روشن کر دیتا ہے. اس سفر میں مشکل آتی ہے، شیطان کبھی کسی صورت میں آپکے پاس آئے گا، کبھی روپ بدل کر سامنے ہو گا، کبھی ڈرائے گا کبھی لگے گا پیچھے سے وار کرنے کے لئے کھڑا ہے. ایسے میں گھبرانا نہیں اپنے شیخ سے رابطہ مضبوط رکھیں. جب اعتماد کریں تو مکمل کریں، جب چلیں تو یقین کے ساتھ چلیں، الله کی راہ غلط نہیں ہو سکتی،اگر یہ راہ غلط ہوتی تو الله کے نیک بندوں کا نام قائم نہ رہتا.! اپنے دل سے پوچھیں وہ کیا کہتا ہے…!! یہ دلوں کا معاملہ ہے، اسے دلیل سے نہیں سمجھا جا سکتا، اسے صرف دل والے ہی قبول کرتے ہیں.!