معلومات

فیصل آباد کا بھائی

یہ کہانی عابد شیر علی کے والد چوہدری شیر علی کے زمانے سے شروع ہوئی تھی اور اب انہوں نے ہی پریس کانفرنس میں اسے بیان کیا ہے۔ یہ فیصل آباد میں سیاسی اقتدار کی جنگ ہے کبھی فیصل آباد کا مالک چوہدری شیر علی مئیر فیصل آباد کی شکل میں ہوتا تھا۔ پھر رانا ثناءاللہ مالک بن گیا۔ اور اقتدار کی جنگ بڑھتی گئی۔
فیصل آباد کے محلے خالصہ کالج کے رہائشی تین بھائی گوگا ، اچھا اور ببلو کچھ عرصے پہلے کراچی میں پکڑے گئے۔ ان کے ساتھ چوتھا بندہ گوجرانوالہ کا رحمان کمانڈو بھی تھا۔ یہ چاروں فیصل آباد کے ایک پولیس انسپکٹر فرخ وحید کے خاص بندے تھے۔ فرخ وحید نے ان کو خصوصی طور پر تیار کیا۔ تینوں بھائی ٹارگٹ کلر اور رحمان کمانڈو شارپ شوٹر بن گیا۔ پھر ان سے کام لینا شروع کردیا گیا۔
خرم باجوہ (جھمرہ) کا قتل ہوتا ہے۔ پھر بھولا گجر (ناظم آباد) کا قتل ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ لسٹ کم و بیش بیس تک جا پہنچتی ہے۔ پھر یہ سب قاتل بھاگ جاتے ہیں اور بالآخر کراچی سے پکڑے جاتے ہیں۔ ان کو واپس فیصل آباد لا کر تفتیش شروع ہوتی ہے اور آج کل تین بھائی فیصل آباد صدر جیل مکوآنہ میں قید ہیں۔
رانا ثناءاللہ کا دور کا ایک کزن اشفاق چاچو ہے۔ جو اس کا دست راست بھی ہے۔ زمینوں پر قبضہ ، بھتہ اور ٹارگٹ کلنگ کا پورا نیٹ ورک اشفاق چاچو سنبھالتا ہے۔ رانا ثناءاللہ اشفاق چاچو کے زریعے فیصل آباد کے اشتہاریوں سے رابطہ کرتا ہے۔ رابطہ کیلے پولیس انسپکٹر فرخ وحید فرنٹ مین کا کردار ادا کرتا ہے۔ اشتہاریوں سے رابطہ کرکے ان کے نام مطلوب افراد کی لسٹ میں سے نکلوانے کے عوض کڑوروں روپیہ کا مطالبہ اور ایک بندہ قتل کرنے کی سپاری دی جاتی ہے اور بدلے میں ان کے نام نکال دئیے جاتے ہیں۔
ماڈل ٹاؤن واقعہ کے بعد جب رانا ثناءاللہ پر برا وقت شروع ہوا تو کہانی تھوڑی خراب ہونا شروع ہوگئی۔ تینوں بھائی پکڑے گئے۔ انسپکٹر فرخ وحید انگلینڈ بھاگ گیا۔ بعد میں فرض وحید کے 11 بینک اکاؤنٹوں سے 3 ارب روپے نکلتے ہیں۔ خرم باجوہ بھی کچھ عرصہ فرخ وحید کے توسط سے رانا ثناءاللہ کیلے کام کرتا رہا تھا پھر فرخ وحید نے ہی اس کا کام تمام کروایا تھا۔
عابد شیر علی بہت عرصے سے رانا ثناءاللہ کے پیچھے لگا ہوا تھا اور پھر وہ جیل میں بند تینوں بھائیوں تک پہنچ گیا۔ ان سے ملاقات میں عابد شیر علی کو پتہ چلا کہ وہ تینوں بھائی رانا ثناء اللہ کیلے کام کرتے تھے اور دو بار عابد شیر علی کو بھی قتل کرنے آئے مگر موقع نا مل سکا۔
چوہدری شیرعلی نے ہر طرف سے ثبوت اکھٹے کرکے پریس کانفرنس کر ڈالی اور بہت ساری باتیں کھول کر رکھ دیں۔ اور مطالبہ کیا کہ کراچی اور وزیرستان کی طرح کا ایک آپریشن فیصل آباد میں بھی ہونا چاہئے۔ اس سے ملتی جلتی چند باتیں کچھ ماہ پہلے صاحبزادہ فضل کریم کے بیٹے حامد رضا نے ایک پریس کانفرنس میں کہیں تھیں۔
رانا ثناءاللہ کے ایک طرف پچھلے دنوں مارے جانے والے کالعدم جماعت کے سربراہ ملک اسحاق سے تعلقات سب کو معلوم ہیں۔ جوکہ پنجاب میں شیعہ قتل میں ملوث رہا اور دوسری طرف حافظ احمد لدھیانوی سے تعلقات جوکہ یہی کام بلوچستان میں کررہا ہے۔
اب یہ کہانی سمجھ سے باہر ہے کہ اگر ایک طرف رانا ثناءاللہ شہباز شریف اور پنجاب حکومت کا خاص بندہ ہے اور پنجاب کی بیوروکریسی آج بھی اس کے ہاتھ میں ہے۔ تو دوسری طرف عابد شیر علی نواز شریف کا بھانجا اور وفاقی حکومت کا اہم مہرہ۔ اب کون کس کے ساتھ ہے اور کون کس کے کہنے پر کام کررہا ہے۔ سمجھ سے باہر ہے۔ بس دھرنے کے دنوں میں چوہدری نثار اور اعتزاز احسن کی نورا کشتی یاد رکھیں۔
بس ایک بات سمجھ لیں کہ رانا ثناءاللہ کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ عوام آج بھی یہی سمجھتی ہے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی نواز شریف کے لانگ مارچ کی وجہ سے ہوئی تھی جبکہ اصل کہانی یہ ہے کہ وہ بحالی رانا ثناءاللہ نے کروائی تھی۔ جیسے ہی نواز شریف اپنے گھر سے نکلا رانا ثناءاللہ کا فون مصروف ہوگیا اور نواز شریف کے گوجرانوالہ پہنچتے پہنچتے رانا ثناءاللہ کے فون سے صدر زرداری ، آرمی چیف کیانی ، افتخار چوہدری اور نواز شریف کو ساٹھ یا ستر فون ہوئے اور چیف جسٹس بحالی کی ڈیل مکمل ہوگئی۔ کیونکہ رانا ثناءاللہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا کزن بھی ہے۔
پنجاب پر تیس سال سے قابض حکمرانوں نے پنجاب کو جو وزیرقانون دیا وہ خود قانون کا سب سے بڑا بلاد کاری ہے ۔۔۔اس سے اندازہ لگالیں ان کی گڈ گورننس کا۔۔۔