معلومات

یورپ میں بھنگ کی سمگلنگ کے سب سے بڑے راستے کو بند کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

’اب ہم ان کے علاقوں میں ہیں۔ یہ بات یونان کے منشیات کی روک تھام کرنے والے تینوں افسران میں سے ایک نے چلتے چلتے کہی۔ انھوں نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی اور ان کی بندوقیں تیار تھیں۔

تھوڑے فاصلے پر آگے البانیہ کی سرحد ہے جہاں سے لوگ چھپ چھپا کر ادھر ادھر آتے جاتے ہیں۔ یہ یورپ میں بھنگ کی سمگلنگ کا سب سے بڑا زمینی راستہ ہے۔

یونانی سرحدی گاؤں ہراوگی آئونینا قریب ہی ہے لیکن وہاں سرحد کی نشاندہی کے لیے کوئی نشان یا خاردار تار یا پھر روکاوٹ نہیں ہے۔

یونانی افسر لیمبروس سومانس اپنا زیادہ تر وقت ان پہاڑوں کی نگرانی میں گزارتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سرحد کے اس پار کے گاؤں میں آباد البانیائی باشندے پیدل بھنگ کی سمگلنگ کرتے ہیں۔۔۔ وہ مضبوط لوگ ہیں اور وہ اپنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح سرحد پار کرنے کے تمام راستے جانتے ہیں۔ وہ جنگل میں کئی دنوں تک زندہ رہ سکتے ہیں۔‘

یونان کی پولیس نے رواں سال کے آغاز سے اب تک ڈیڑھ ٹن بھنگ ضبط کی ہے۔ پچھلے دو برسوں میں انھوں نے تقریبا نو ٹن بھنگ ضبط کی۔
سمگلر عام طور پر کلاشنکوف سے لیس ہوتے ہیں اور وہ 40 سے 50 کلوگرام بھنگ سے بھرے بیگ اپنی پیٹھ پر لاد کر سرحد پار کرتے ہیں۔

وہ منشیات کو کسی بڑے درخت یا کسی چشمے جیسے مخصوص مقامات کے آس پاس چھپا دیتے ہیں اور پھر ان بیگز کو یونانی نیٹ ورک کے لوگ اٹھا لیتے ہیں۔ البانیہ میں ایک کلو بھنگ تھوک کے حساب سے ایک ہزار یورو کا آتا ہے لیکن یونان یا اٹلی میں اس کی دگنی قیمت ادا کی جاتی ہے۔
پولیس سرحد کے دونوں اطراف باقاعدہ چھاپے مارتی ہے لیکن سمگلنگ پھر بھی جاری ہے۔

یہ سب کچھ سنہ 2014 کے موسم گرما میں بدلنے والا تھا جب البانیہ کے خصوصی دستوں نے یونانی سرحد سے تقریبا 30 کلومیٹر دور لیزارت گاؤں میں ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا۔

کئی دنوں تک لڑائیاں ہوتی رہیں۔ پولیس پر راکٹ سے داغے جانے والے دستی بم اور مارٹر گولے فائر کیے گئے لیکن آخر میں دس ٹن سے زیادہ چرس، ہزاروں بھنگ کے پودے اور اسلحہ ضبط کیا گیا۔
بین الاقوامی منظم جرائم کے خلاف گلوبل انیشی ایٹو کے مطابق اس کے باوجود سنہ 2016 تک البانیہ کی بھنگ کی معیشت پورے ملک میں پھیل چکی تھی۔

بلقان پہلے ہی دنیا میں منشیات کی سمگلنگ کے سب سے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔
اب بھنگ سے نہ صرف دیہات کے کاشتکار بلکہ یورپی یونین میں اس کو فروخت کرنے والے جرائم کرنے والے منظم گروہ بھی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔

گلوبل انیشی ایٹو کے مطابق یہ غیر قانونی تجارت البانیہ کے نوجوانوں کے لیے پیسہ کمانے کا ایک طریقہ بن کر ابھری ہے۔
ایک کاشتکار کی کہانی

39 سالہ آرٹن البانیہ کے بھنگ تیار کرنے والے نوجوانوں میں سے ایک ہیں۔

ساحلی شہر ولور کے ایک بار میں انھوں نے بتایا کہ کم از کم جب تک آپ پکڑے نہیں جاتے اس وقت تک کس طرح آپ بہت زیادہ دولت کما سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’آپ مقامی پولیس چیف یا ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے اہلکار کو رشوت دے سکتے ہیں لیکن اگر کوئی آپ کو پکڑ لیتا تو پھر یہ سب آپ جانیں۔‘

آرٹن اصلی نام نہیں ہے۔ انھوں نے دو سال اٹلی میں گزارے لیکن اب وہ اپنے گھر سے کاروبار چلانے کے لیے واپس آ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’اس سال ہمیں ٹیپلن نامی قصبے کے قریب چراگاہوں میں زمین کا ایک اچھا ٹکڑا ملا ہے جہاں پہاڑوں کے راستے تین گھنٹے پیدل چل کر پہنچا جا سکتا ہے۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے بھنگ کے 50 ہزار پودے لگائے ہیں جو کہ البانیہ کے حساب سے بھی بڑی تعداد ہے۔

’یہاں تین بنیادی اصول ہیں۔ پانی تک رسائی، پولیس سے دور رہنا اور آنکھیں کھلی رکھنا اور صبر۔‘

وہ دو کلومیٹر دور چشمے سے پانی اپنے کھیتوں میں پہنچاتے ہیں، ان کے والد کھاد لاتے ہیں تاکہ وہ خود سی سی ٹی وی کیمرے سے دور رہیں۔
جب بھنگ فروخت کے لیے تیار ہوجاتی ہے تو اسے سرحد کے قریب واقع گاؤں میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ پھر سمگلر اسے ’یا تو پیدل یا پھر خچروں پر لاد کر یونانی علاقوں میں‘ لے جاتے ہیں۔

البانیہ کے وزیراعظم ایڈی رما نے یورپی یونین میں داخلے کے لیے اپنی کوششوں میں اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ وہ منشیات کے خلاف جنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

لیکن کچھ بھی نہیں بدلا اور بھنگ تیار کرنے والوں نے نئی منڈیوں کی تلاش شروع کر دی اور نہ صرف یونان اور اٹلی بلکہ انھوں نے ترکی، جرمنی، نیدرلینڈز اور برطانیہ کا بھی رخ کیا۔

رواں سال امریکی محکمہ خارجہ کی منشیات کی سالانہ رپورٹ میں البانیہ کو ’بین الاقوامی منظم جرائم کے نیٹ ورکس کا گڑھ بتایا گیا ہے جو پورے یورپ اور اس سے باہر غیر قانونی منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہے۔‘

اب البانیہ کے رہنما نے اس غیر قانونی تجارت کو ایک جائز معاشی اثاثے میں تبدیل کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ مئی میں انھوں نے اچانک اعلان کیا کہ حکومت گذشتہ ایک سال سے بھنگ کے طبی استعمال کو قانونی حیثیت دینے کے بل پر کام کر رہی ہے اور یہ کہ بھنگ کی غیر قانونی کاشت قابو میں ہے۔
یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے البانیہ کو نہ صرف منظم جرائم اور بدعنوانی سے نمٹنا ہے بلکہ اسے یورپی یونین کو یہ بھی باور کرانا ہو گا کہ وہ ایسا کر رہا ہے۔

ایک سینیئر سرکاری عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابھی تک کسی بھی چیز کو درست نہیں کیا گیا اور البانیہ کے پڑوسی ممالک کے تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں جلد بہتری کا امکان نہیں:

یونان نے صنعتی اور طبی دونوں سطح پر بھنگ کو قانونی حیثیت دی لیکن اس کا معاشی اثر بہت کم ہے۔
شمالی مقدونیہ میں طبی بھنگ کی کاشت قانونی ہے لیکن ٹنوں بھنگ کی کلیاں اور تیل وہاں ذخیرے میں ہیں اور جتنی زیادہ مدت وہ وہاں رہیں گے اتنا ہی خطرہ غیرقانونی مارکیٹ میں جانے کا پیدا ہو گا۔
البانیہ کی پولیس نے غیر قانونی بھنگ کی کاشت کی تلاش کے لیے ڈرونز کا استعمال شروع کردیا ہے کیونکہ اس کی کاشت میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یونانی سرحد کے دونوں اطراف گھنے جنگل نے یورپ کے سب سے بڑے بھنگ کے راستے پر سمگلروں کا سراغ لگانا اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
اس مضمون میں تیرانا سے ولادیمیر کرج نے تعاون کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
بشکریہ بی بی سی اُردو