بلاگ معلومات

علاج ڈاکٹر سے کروانا چاہیے یا حکیم سے؟

یہ ایک بڑا سادہ سا سوال ہے جو میڈیکل کے ایک دوسرے گروپ میں پوچھا گیا تھا . وہاں جو جواب لکھا تھا وہ یہاں بھی پوسٹ کر رہا ہوں . شاید اس سوال کا اس گروپ سے ڈائریکٹ تعلق نہ ہو . ایسی صورت میں میری معذرت قبول فرمائیں .

میڈیکل میں صرف بہت زیادہ محنتی اور انتہائی زہین بچوں کو لیا جاتا ہے . پھر انھیں پانچ سال کالج میں , دو سال ہاؤس جاب میں , یعنی سات سال کی سخت پڑھائی اور ٹریننگ کے بعد پہلی ڈگری دی جاتی ہے . آج کل اسپیشلائزیشن کا دور ہے جس میں مزید سات آٹھ سال لگ جاتے ہیں . ان پندرہ سالوں میں بڑے بڑے پروفیسر ان کا امتحان لیتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں کہ ان ڈاکٹرز نے سب کچھ سیکھ لیا ہے . دوسری طرف حکمت میں زیادہ تر وہ لوگ آتے ہے جو باقی ہر طرف سے ناکام ہو چکے ہوتے ہیں . عام طور پر جو کچھ اور نہی کر سکتے وہ حکمت شروع کر دیتے ہیں . ان میں سے اکثر کی , جی میں نے اکثر کی کہا ہے سب کی نہی , اکثر کی تعلیم بہت واجبی سی ہوتی ہے . سو سو روپے والی کتابیں پڑھی ہوتی ہیں اور کسی ادارے سے تعلیم حاصل نہی کی ہوتی . اگر ہو بھی تو طب کے تعلیمی اداروں کا حال سب کو پتہ ہے کہ کس سطح کے لوگوں کو داخلہ ملتا ہے اور کس طرح اسناد بانٹی جاتی ہیں .

ایک ڈاکٹر نے انسانی جسم کی اناٹومی , اس کا اندرونی نظام اور جسم کی کارکردگی کو بہت تفصیل سے پڑھا ہوتا ہے . ڈاکٹر انسانی جسم کو سمجھتا ہے . حکیم کو تو سرے سے ہی کسی مردہ یا زندہ کی باڈی کو کھول کر دیکھنے کی اجازت ہی نہی ہوتی . حکیم کو کیا پتہ کہ اندر کیا ہے اور کیا ہو رہا ہے . بس سنی سنائی باتیں ہی پتہ ہوتی ہیں . آپ کسی بھی ڈاکٹر سے انسانی جسم کے کسی بھی میٹابولزم کے بارے میں پوچھیں وہ فر فر بتانا شروع کر دے گا . حکیم سے ایک بنیادی کریب سائیکل کا پوچھیں وہ گھوم جائے گا . اسے کریب سائیکل لکھا ہوا دکھا دیں وہ پھر بھی بیان نہی کر سکے گا کہ یہ کیا ہے . جسے جسم کے اندرونی سسٹم کا ہی نہی پتہ وہ تشخیص اور علاج کیا کرے گا .

ڈاکٹر کے پاس تشخیص کے لیے مختلف آلات ہوتے ہیں . وہ صرف نبض پر ہی بھروسہ نہی کرتا بلکہ سٹیتھوسکوپ سے ڈائریکٹ دل کی دھڑکن کو سنتا ہے . وہ مریض کا بلڈ پریشر چیک کر سکتا ہے , دل کی ای سی جی کر سکتا ہے , الٹرا ساؤنڈ کر سکتا ہے . اس کے علاوہ ڈاکٹر کے پاس ایک بہت بڑی سہولت لباٹری ٹیسٹ کی ہوتی ہے . ایکس رے کروا سکتا ہے , سکین اور ایم ار آئی کروا سکتا ہے . انجیوگرام اور انجیوگرافی کروا سکتا ہے . بلڈ ٹیسٹ , پیشاب ٹیسٹ , سیمن ٹیسٹ اور ہزاروں دوسرے ٹیسٹ . ڈاکٹر تکے لگانے کی بجائے مختلف ٹیسٹ کروا کر اصل بیماری کا پتہ لگاتا ہے . جب تک اصل بیماری کا پتہ نہ لگے تو ظاہر ہے صحیح علاج بھی نہی ہو سکتا . مریض کی بتائی ہوئی علامات ہمیشہ سطحی سی ہوتی ہیں . وہ صرف درد , حرارت , کمزوری اور بیچینی وغیرہ کے بارے میں بتا سکتا ہے . صرف ان علامات سے ہر بیماری کا پتہ نہی لگ سکتا . حکیم کے پاس تشخیص کی ایسی کوئی جدید سہولت نہی ہوتی . اگر حکیم کوئی لباٹری ٹیسٹ کروا بھی لے تو اسے پتہ نہی ہوتا کہ اس میں کیا لکھا ہے اور اس کا کیا مطلب ہے . چند حکیم کچھ ٹیسٹ کے نمبروں کو رٹا لگا لیتے ہیں لیکن تشخیص کے لیے یہ کافی نہی ہوتا . ان نمبروں کی بنیادی تفصیل اور میٹابولزم میں ان کے کردار کی تفصیل پتہ ہونا ضروری ہے اور حکیم نے یہ تعلیم سرے سے حاصل ہی نہی کی ہوتی .

ڈاکٹر جو میڈیسن دیتا ہے ان کی حکومتی نگرانی میں ہر طرح کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے , تمام سائیڈ افیکٹ کو ریکارڈ کیا جاتا ہے اور ہر طرح کی تسلی کے بعدد لائسنس جاری کیا جاتا ہے . یہ کام پاکستان جیسی حکومتیں نہی کرتیں کہ جہاں رشوت دے کر کچھ بھی کروا لیا جائے بلکہ امریکا اور یورپ میں کیا جاتا ہے جہاں اس سسٹم میں کوئی کرپشن نہی ہوتی . اس کے برعکس کسی بھی حکیمی دوائی پر کوئی بھی سائیڈ افیکٹ نہی لکھا ہوتی , بعد میں چاہے کسی کے گردے فیل ہوں یا سیدھا قبر میں ہی پہنچ جائے . ہاتھ کنگن کو آر سی کیا . اگر کوئی شک ہے تو آپ کسی بھی ہسپتال میں چلے جائیں , آپ کو بہت سے ایسے مریض ملیں گے جو حکیمی علاج کی وجہ سے زندگی کے آخری کنارے پہنچ گئے اور اب ہر ہفتے ڈیالسس پر ہی ان کی زندگی منحصر ہے . کوئی بھی للو پنجو حکیمی نسخے دینا شروع کر سکتا ہے . ان میں بہت زیادہ رسک ہوتا ہے . ابھی پچھلے ہفتے ایک حکیم صاحب نے گروپ میں ایک نسخہ پوسٹ کیا جس میں پارہ استمعال کیا تھا . اس بیوقوف کو پتہ ہی نہی تھا کہ پارہ انسانی جسم کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اور انٹرنیشنل لیول پر اس کے استعمال پر پابندی ہے . یورپ اور امریکہ میں اگر کوئی تھوڑا سا پارہ بھی کسی گٹر یہ گندے نالے میں پھینک دے تو وہ گرفتار ہو جاتا ہے اور جیل کی ہوا کھاتا ہے کیونکہ پارہ گندے نالے سے بھی انسانی زندگی کو نقصان پہنچاتا ہے . الہ ماشاللہ ہمارے حکیم اسے انسانوں کو کھلا رہے ہیں . ابھی بھی آپ نے حکیم کے پاس جانا ہے تو شوق سے جائیں لیکن پلیز اس کے بعد ہسپتال نہ آیا کریں . ہسپتال میں پہلے ہی بہت رش ہوتا ہے .

اگر بالفرض ایک ڈاکٹر آپ کو وہی چیز کھانے کو کہے جو ایک حکیم نے بھی کہی ہو تب بھی ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہوتا ہے . مثلاً ایک حکیم آپ کو کہتا ہے کہ آنکھوں کی کمزوری کے لیے گاجریں کھائیں . ایک ڈاکٹر بھی آپ کو آنکھوں کی کمزوری کے لیے وہی گاجریں ہی بتا سکتا ہے لیکن پھر بھی ڈاکٹر کی بات زیادہ مستند ہو گی . کیونکہ حکیم کو صرف یہ پتہ ہے کہ گاجر کا آنکھوں کی کمزوری میں فائدہ ہوتا ہے . بس اس کا علم یہیں تک ہے . جبکہ ڈاکٹر کو پتہ ہوتا ہے گاجر میں ایک فیصد پروٹین , 0.2 فیصد فیٹ , دس فیصد کاربوہائیڈریٹس , ایک فیصد فائبر , کلشیم , آئرن , پوٹاشیم , سوڈیم , زنک , وٹامن بی , سی , کے , ای اور بہت بڑی تعداد کیروٹین کی ہوتی ہے . اس کیروٹین سے جسم میں وٹامن اے بنتا ہے جو اعصابی نظام کے اس حصے کو مدد کرتا ہے جس کا تعلق آنکھوں سے ہے . ڈاکٹر کو پتہ ہے کہ مریض اگر ڈیالسس پر ہے تو بھی اس کی نظر کمزور ہو گی لیکن ایسے مریض کو گاجر نہی دینی . ڈاکٹر کو معلوم ہے کہ ہرنیا یا السر کے مریض کے لیے گاجر مناسب نہی ہے . لہٰذا اگر ڈاکٹر آپ کو گاجر کھانے کو کہ رہا ہے تو آپ اس پر اعتماد کر سکتے ہیں لیکن اگر حکیم وہی بات کہ رہا ہے تو آپ اپنی جان پر رسک لے رہے ہیں .

اگر ابھی بھی سمجھ نہ آے تو یہ دیکھ لیں کہ زیادہ تر تعلیم یافتہ لوگ کس سے علاج کرواتے ہیں اور زیادہ تر انپڑھ لوگ کس کے پاس جاتے ہیں بشرطیکہ آپ کو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہے . اگر آپ تعلیم کو فضول چیز سمجھتے ہیں تو شاید آپ کو اس مثال کا کوئی فائدہ نہ ہو . حرف آخر , ایک وقت تھا کوئی ڈاکٹر نہی تھا صرف حکیم تھے . اگر وہ علاج میں کامیاب تھے تو معاشرے میں ڈاکٹروں کی جگہ کس طرح بن گئی ؟ یہ کس طرح ہو گیا کہ ڈاکٹر کامیابی سے ہر جگہ پھیلتےچلے گئے ؟ ایک بات میں اکثر کہا کرتا ہوں . سوچیں کیا وجہ ہے کہ لوگ ہمیشہ حکومت یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے علاقے میں ہسپتال بنایا جائے , ہمارے گاؤں میں ڈاکٹر بھیجا جائے . کیا وجہ ہے کہ کوئی اس لیے جلوس نہی نکالتا کہ ہمارے علاقے میں حکیم خانہ کھولا جائے . جذبات یا انا پرستی کو سائیڈ میں رکھ کر دماغ سے سوچیں , جواب مل جائے گا .

تحریر : مرزا یوسف بیگ