بلاگ کالمز

اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں

کچھ لوگ مر کر بھی امر ہو جاتے ہیں لوگوں کے دلوں میں،  انکی یادوں میں اور اقوام کی تاریخ میں۔۔۔
   بھارتی ظلم و سربریت کا شکار وادئ جنت نظیر کے جسے کشمیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے بھی ایسی لازوال داستانوں، انمٹ کہانیوں اور لہو رنگ واقعات سے بھری پڑی ہے۔ میں ان تمام لوگوں کا ذکر کرنے لگ جاؤں جو اس دھرتی کیلئے اپنی جان قربان کر کے لازوال ہو گئے، جن کی یادیں ابھی بھی اور ہمیشہ کیلئے لوگوں کے دلوں میں بسی ہیں تو یہ داستاں بہت لمبی اور طویل ہے اور اس مختصر تحریر میں اس کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔۔۔
    لیکن میں ان چند ستاروں کا ذکر کروں گا جو کہکشاں ہو گئے۔۔۔  وہ جن کے لہو نے آزادی کشمیر کو اک نئی جلا بخشی ہے۔۔۔ ان میں برھان وانی سر فہرست ہے کہ وہ بانکا سجیلا خوبصورت نوجواں کہ جسے بھائی کی شہادت نے گن اٹھا کر مسلح جدو جہد پر مجبور کیا۔
      اور پھر اسکی شھادت نے منظر نامے پر کیا خوب رنگ بکھیرا ایسا رنگ کہ جو ان مٹ ہے کہ جسے کبھی گہنایا نہیں جا سکتا۔۔۔ ہاں اس خوبرو جوانِ رعنا کی شھادت نے ہر بچے بچے کو برھان وانی بنا دیا اور اک ایسی روح پھونکی کہ پھر تحریک آزادی نے وہ زور پکڑا کہ جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ہاں پھر جب برھان وانی کے لہو نے حنا کی طرح اپنا رنگ بکھیرا تو ھر طرف وہی رنگ چھا گیا۔ ہاں اللہ اپنے مقرب بندوں کو اسی طرح اوج کمال عطا کرتا ہے کہ پھر رہتی دنیا تک اسے یاد کیا جاتا ہے اور برھان وانی اک ایسا ہی ستارہ تھا کہ جو تحریک کے افق پر تاقیامت چمکتا رھے گا۔ ان شاء اللہ
     شھداء کی اس لہو رنگ فہرست میں، اس دمکتی کہکشاں میں اک تازہ اضافہ منان وانی شھید کا ہے، ہاں پی ایچ ڈی سکالر منان وانی کہ جسے ماؤں کے تار تار آنچلوں،  بہنوں کی لٹتی عزتوں اور بھائیوں کے بہتے لہو نے تعلیم کو خیر باد کہہ کر مسلح جدوجہد پر مجبور کیا۔۔۔
    ہاں اسے بھی اس ڈگری کے بعد اک سنہرا مستقبل دکھائی دیتا ہوگا۔۔۔ اسکے بھی کئی خواب ہوں گے جنکی ابھی تکمیل باقی ہوگی۔۔۔ اسکے بھی کئی سپنے ہوں گے جنہیں ابھی عملی جامہ پہنانا باقی ہوگا۔۔۔
     لیکن نہیں اس نے اپنا سنہری مستقبل اپنی آزادی کیلیے تیاگ دیا۔۔۔ اس نے اپنے خوابوں کا دھارا بدل کے انکو کشمیر کی آزادی کے خوابوں میں بدل دیا اور انکی تکمیل میں لگ گیا۔۔۔ اس نے اپنے سپنوں میں صرف اور صرف شھادت کی آرزو سجا لی اور اس آرزو کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مسلح ہو کر میدان کارزار میں کود پڑا۔۔۔
       اور پھر یقیناََ وادئ کشمیر وہ عظیم سپوت اپنی منزل کو پا گیا اور جانب منزل اک سنگ میل عبور کر گیا اور ہمارے لیے منزل کی راہوں کو آسان تر کر گیا۔۔۔ سلام منان شھید تیری عظمت کو کہ تو نے ان لوگوں کو بھی اک آئینہ دکھا دیا کہ جو کہتے تھے کہ یہ تحریک چند سر پھرے لوگوں کی تحریک ہے ہاں تو بتا گیا انھیں کہ اگر میری ڈگری کی اہمیت ہے تو وہ آزادی کشمیر کے ساتھ ہے۔۔۔ اگر میری زندگی کی کوئی اہمیت ہے تو وہ ماؤں کی عزت کی حفاظت کے ساتھ ہے۔۔۔
     منان شھید تیرا لہو رنگ لائے گا ان شاء اللہ اور تیری قربانی رائیگاں نہیں جائے گی تیرے پیرو کار اس منزل کو پائیں گے جو کہ آزادی کشمیر ہے۔ ان شاء اللہ۔ منان شھید تو مرا نہیں بلکہ ہمیشہ کیلئے امر ہوگیا ہے۔۔۔
      تیرا لہو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اب منزل دور نہیں اور کوئی بھی طاقت کشمیر کو آزادی سے نہیں روک سکتی اور نہ ہی کسی ظالم، جابر کا ظلم اس تحریک کو دبا سکتا ہے۔۔۔ تیرے لہو نے اس تیرگی میں ہمیں نویدِ سحر سنا دی ہے اور ہمیں یہ پیغام دے دیا ہے کہ
"اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں”
از قلم: انیس الرحمٰن انیق