افسانے بلاگ

اک سانولی لڑکی

میں بہن بھائیوں میں منجھلی تھی۔ اک بڑا بھائی تھا، اک چھوٹی بہن۔ ان کا رنگ گورا نہیں تو بہت صاف ضرور تھا۔ دوسری طرف میں تھی، واجبی سی شکل وصورت کے ساتھ، سانولی کہنا تو شاید غلط ہو گا، کالی تھی کالی! ابھی ہوش سنبھالا ہی تھا تو میں نے لوگوں کو اپنے والدین سے مذاق کرتے دیکھا ”یہ آپ کی بیٹی لگتی نہیں، کیا ہسپتال میں بدل گئی تھی؟ “ وہ ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ بہن بھائیوں سے لڑائی ہوتی تو انہوں نے بھی چھوٹتے ہی کہہ دینا تم تو ہماری بہن ہی نہیں، ہسپتال میں بدل گئی تھی۔ کچھ والدین نے انہیں روک دیا، کچھ وہ عمر کے ساتھ سمجھدار ہو گئے۔ انہوں نے ایسا کہنا بند کر دیا۔ محلے میں یا ا سکول میں جب بچوں کے ساتھ کھیلتی تھی، اور اگر کبھی کسی بات پر ان سے لڑائی ہو جاتی تو وہ بھی کالی ہونے کا طعنہ دیتے۔ لڑائی تو ایک طرف، بچے بچیاں تو مذاق بھی مجھے رنگ کا ہی کرتے تھے۔

بات مذاق تک ہی رہتی تب بھی ٹھیک تھا، لوگ تو سنجیدگی میں بھی یہی سوچتے اور کہتےتھے۔ مجھے وہ دن نہیں بھولتا جب اسکول کی سالانہ تقریب میں بچے ڈرامہ کر رہے تھے تو کیسے میری کلاس کی دو لڑکیوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا میں ڈرامے میں چڑیل کا کردارادا کر لوں گی۔ ان کو جواب کیا دینا تھا ان کی سنجیدگی دیکھ کر میرے دل پرتو گویا چھریاں سی ہی چل گئیں۔ آنکھوں میں آنسو لئے میڈم کو شکایت کی تو وہ بھی سمجھانے لگیں کہ مجھے دل بڑا کرنا ہے اوریہ کہ اس کردار کو ادا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ماں دوسری تمام ماؤں کی طرح بہت پیار کرتی تھی لیکن میرے لئے محض چند خاص رنگوں کےہی کپڑے لاتی تھی کہ بقول اس کے، شوخ اور تیز رنگوں میں ان کی بیٹی اور زیادہ سانولی لگتی تھی۔ میں نے ایسےرنگوں کو ساری زندگی اپنے پر بند ہی پایا۔ چھوٹی بہن البتہ ہر رنگ کے کپڑے پہنتی تھی اور ہر رنگ میں جچتی تھی۔ ماں کبھی کبھی کہتی تھی یہ میری تتلی ہے تتلی۔ میرے دل میں یہ خواہش ہی رہی، میں بھی اپنے لئے یہ لفظ سنوں، تتلی!

اس سب کچھ نے میرے مزاج پر بڑا منفی اثر ڈالا۔ دب سی گئی میری شخصیت، خود اعتمادی کا کیا ذکر۔ میں دوسرے لوگوں کا، خاص طور پر مہمانوں کا، سامنا کرنے سے ہچکچانے لگی تھی۔ لوگ میرے سامنے مذاق کرتے ہوئے سمجھتے تھے یہ بچی ہے، اس کو کیا سمجھ آتی ہو گی۔ ان سب کو پتا ہی نہیں چلا، میں کب کی بڑی ہو چکی تھی، شاید اسی دن سے جب مجھے لفظ ”کالی“ کے معنی سمجھ آنا شروع ہوئے تھے۔ میں بے دلی سے تیار ہوتی تھی، نئےکپڑے پہنتے بھی سوچتی تھی کہ میں نے کیا کسی روپ میں اچھا لگنا ہے۔ چھٹی کا روز ہو، ہم نے کہیں جانا ہو، کسی نے ہمارے گھر آنا ہو، ماں کو میری ہی فکر ہوتی تھی کہ منہ دھو لو، نہا لو۔ مجھے جلد ہی سمجھ آ گئی وہ ایسا یہ سوچ کر کہتی ہو گی کہ ایک تو رنگ کالا، اوپر سے نہائی دھوئی نہ ہو ئی تو اور بد شکل لگوں گی۔ چھوٹی بہن کو البتہ کوئی نہانے دھونے کا نہیں کہتا تھا، اپنی مرضی کرتی تھی وہ والد صاحب بھی بہت شفیق تھے، البتہ وہ میری پڑھائی پر بہت زور دیتے تھے، ”بچے پڑھا کرو، پڑھا کرو“۔ چھوٹی بہن کو اس میں بھی چھوٹ حاصل تھی، جس پر میں بہت حیران بھی ہوا کرتی تھی۔ بڑی ہوئی تو سمجھ آ ئی، وہ سوچتے ہوں گے اگر اس کی تعلیم بھی اچھی نہ ہوئی تو کون قبول کرے گا اسے؟ اپنے پیروں پر کیسے کھڑی ہو گی؟

اور پھرجوانی نے آ دستک دی۔ لڑکیوں کے تو طور طریقے ہی بدلنے لگے، سجنا سنورنا شروع کر دیا انہوں نے۔ کسی لڑکے کو دیکھتیں تو کھسر پھسر بھی شروع ہو جاتی۔ آنکھوں میں کاجل اورسپنے سج گئے، سب منتظر ہوگئیں کہ کب کوئی شہزادہ آئے گا اور انہیں بیاہ کرلے جائے گا۔ اور ادھر میں تھی، آرزو ہی رہی کوئی لڑکا میری طرف بھی آنکھ بھر کر دیکھتا۔ عالم یہ تھا کہ اگر کبھی کسی کی غلطی سے نظر پڑ بھی گئی تو فوراً ہٹ گئی، پھر لوٹ کر نہیں آئی۔ اور آپ کو سچ بتاؤں، میں جلد ہی اس قدر حقیقت پسند ہو گئی کہ اس طرف سوچنا ہی چھوڑ دیا۔ پھرنہ کسی لڑکے کو دیکھ کر کسی خواہش نے انگڑائی لی نہ کبھی سپنے آنکھوں میں سجے۔ میں جان گئی تھی یہ سب کچھ میرے لیے ہے ہی نہیں۔ اور ہاں ایک بات کا تو میں ذکر ہی بھول گئی۔ مجھے شاید اپنی کالی رنگت کا اس قدر احساس نہ ہوتا اگر ہر وقت اخباروں، رسالوں، اور ٹی وی میں رنگت گوری کرنے والی کریموں کے اشتہار نہ آتے ہوتے۔ یہ احساس مجھ میں اور میرے جیسی دوسریوں میں راسخ کر دیا جاتا ہے کہ کالا رنگ ایک ایسی بری بلا ہے جس سے جس قدر جلد ممکن ہو، اور چاہے کتنے ہی جتن کیوں ناں کرنا پڑیں، چھٹکارہ پا لینا چاہیے۔

کون کون سی اداکارہ نہیں بتانے آئی گورے رنگ کے فوائد۔ کریمیں بنانے والے، بیچنے والے، اشتہار بنانے والے، دیکھانے والے، ان میں کام کرنے والے، سب اپنی اپنی کمائی کر لیں، انہیں کیا غرض کہ کیسے کیسے گھاؤ ڈالتے ہیں روح تلک ان کے اشتہار! اور یا تو یہ کریمیں کچھ کام بھی کرتی ہوں۔ میں تو چھپ چھپ کے، وہ کیا کہتے ہیں ناں گوگل، وہ بھی کرتی رہی کہ کس طور کالا رنگ گورا ہو سکتا ہے۔ یہی پتا چلتا رہا کہ طب کا شعبہ کم از کم ابھی تک اس معراج پر نہیں پہنچا۔ میں کبھی کبھی سوچتی تھی اتنے بڑے بڑےدانشور لکھتے ہیں، ٹی وی پربولتے ہیں، جا بجا لیکچر دیتے ہیں، اور پھر یہ بڑے بڑے قانون دان، سیاستدان، این جی اوز کی بیگمات، کیا کسی کو نہیں سوجھتا کہ ایسے اشتہارات پر پابندی ہونی چاہیے کہ جن کے نتیجہ میں محض ایک خاص رنگ ہی قابلِ قبول قرار پائے، اور ہزاروں لاکھوں لڑکیاں احساس کمتری کا شکار ہو جائیں! اور ایسا بھی تو کوئی ادارہ ہوتا ہو گا ناں جو میڈیا کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہو گا۔ وہ کیوں نہیں روکتا ان جھوٹے دعٰووں پر مبنی، دل دُکھانے والے اشتہارات کو؟

انہی دنوں کچھ دیسی کریموں کا بڑا چرچہ ہو گیا۔ ماں میرے لئے بھی کہیں سے لے آتی اور بڑی یاد سے مجھے لگواتی۔ یہ سلسلہ کئی مہینے چلتا رہا۔ کوئی کون سا پوچھنے والا تھا، ان کریموں میں نہ جانے کیا کیا کیمیکل شامل تھے، رنگ گورا کیا کرنا تھا، وہ کریمیں تو گویا رنگ کو کاٹتی تھیں، اسے اڑا دیتی تھیں، پھیکا کر ڈالتی تھیں۔ مجھےبھی خارش کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ یہ بڑھ جاتا، میں نے ماں کو بتائے بغیر ہی ان کا استعمال ترک کر دیا۔ ساری زندگی تنہائی میری سب سے اچھی ساتھی رہی۔ اس کے ساتھ مل کر کتنے ہی آنسو ہیں جو زندگی میں نہیں بہائے میں نے! کسی سیانے سے یا کسی ماہرِ نفسیات سے پوچھ کر دیکھیں، آپ کو بتائے گا، منفی سوچ ترک کر دیں، کہیں مصروف ہو جائیں، کوئی ملازمت کر لیں، زمانے کو اپنا آپ ثابت کر کے دکھائیں۔ ان صاحبان کو کوئی بتائے، یہ بھی کر کے دیکھ چکی، ہم جیسیوں کو ملازمت دیتا کون ہے۔ میں عمدہ تعلیمی کیرئیر کی حامل تھی، بہت جگہ انٹرویو دینے گئی، میرٹ پر بھرتی ہو سکتی تھی لیکن مجھے تو جیسے دیکھتے ہی انٹر ویو والے بیزار ہو جاتے تھے، دو چار سوالوں میں ہی فارغ کرنے کا چارہ شروع کر دیتے تھے۔ اک سیدھا سادھا سا اصول گویا کار فرما تھا، جو جس قدر خوش شکل تھی، نوکری ملنے کے امکانات اسی قدر زیادہ تھے۔ نوکری کا دروازہ یوں میرے پر بند ہی رہا۔

مزید پڑھیں: فلارئیاسس ۔ کہانی ایک جنگ کی

اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ رشتہ ڈھونڈنے کے دن آ گئے اور یہ ڈھونڈ کچھ لمبی، کچھ مشکل ہی ہو گئی۔ اول تو کوئی آتا ہی نہیں تھا، اگر کوئی بھول کے آ بھی جاتا تھا تو لوٹ کے نہ آتا تھا۔ دن مہینوں میں بدلنے لگے اور مہینے سالوں کا روپ دھارنے لگے۔ میری شخصیت پر چھائی پرمژدگی مزید گہری ہونے لگی۔ سارے گھر نے گویا سنجیدگی کی چادر ہی اوڑھ لی۔ میری وجہ سے چھوٹی بہن کے لئے بھی رشتے نہ دیکھے جاتے تھے کہ اگر اس کی شادی ہو گئی تو میرے حوالے سے رہی سہی امید بھی جاتی رہے گی۔ اک مجھے اپنی پریشانی کم تھی کہ اس چھوٹی بہن کی فکر نے بھی آ گھیرا۔

اور پھر ایک دن میری بھی ہاں ہو گئی۔ شاید صحیح کہتے ہیں جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ نوید سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ والد صاحب کا کہیں بچپن میں انتقال ہو گیا تو چھوٹی عمر میں ہی بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ آن پڑا۔ ایک ایک کر کے سب کو پڑھاتے اور پھر ان کے بیاہ کرتے اپنی تو تقریباً عمر ہی نکل گئی۔ کسی بینک میں کیشئیر تھے۔ چالیس کے پیٹے میں ہوں گے، کم بالوں اور چشمے کے ساتھ تو پروفیسر ہی لگتے تھے۔ بہرحال میرا خیال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ اور یوں زندگی ایک نئی ڈگر پر چل نکلی۔ شادی کو اب تقریباً ایک سال ہونے کو ہے۔ اپنی تو روتے دھوتے، جیسے تیسے گزر ہی گئی ہے، یہ جو آج میں آپ سے مخا طب ہوں، اور جو ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے ہیں، آنکھوں سے آنسو رواں ہیں ہونٹوں سےلفظ، میں ہسپتال کے ایک بستر پر موجود ہوں۔ کل اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی سے نوازا ہے۔ میرے پہلو میں لیٹی ہوئی ہے اور ماں پر گئی ہے!