ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

ایک حادثہ

ہم ہوٹل سے جیسے ہی کافی پی کر نکلے ایک غریب لڑکی ہاتھ پھیلائے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ میں نے جیب سے کچھ پیسے نکالے اور اس کو دے دیئے۔اس کی نظریں ہمیں دعا دیتی ہوئی کسی اور کو تلاش کرنے لگیں جو اس کی کچھ مزید مدد کرسکے۔ ہم نے بائیک کو کِک ماری اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔

سورج غروب ہوچکا تھا۔سپر ہائی وے پر ٹریفک معمول سے کچھ زیادہ ہی تھا۔ملازم پیشہ لوگ گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے۔سڑک پر ٹرالر بھی نکل آئے۔بائیک سوار بھی اپنی دھن میں گم،ہواؤں کے دوش پر بائیک اڑاتے جارہے تھے۔ہمیں بھی کچھ جلدی تھی۔جلد از جلد اپنی منزل پر پہنچنا چاہتے تھے۔ ابھی ہم نے کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ یکایک ہماری بائیک کے پیچھے کسی بائیک سوار نے اپنی بائیک دے ماری۔دونوں کی بائیک بے قابو ہوکر گریں۔درمیان سڑک میں ہم دونوں دوست بھی گرے اور بائیک مارنے والا بھی گرا۔ میں نے گرتے ہی فورا پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کوئی گاڑی تو قریب نہیں آگئی۔اللہ کا شکر ہے کوئی گاڑی زیادہ قریب نہیں تھی ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اٹھ کر فورا فٹ پاتھ پر آگیا۔ دوست بھی اللہ کے فضل سے خود ہی اٹھ کر سائیڈ پر آگیا۔۔ اسی اثنا میں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے۔بائیک سواروں کا جمگٹھا لگ گیا۔دوسرا بائیک سوار اوندھے منہ سڑک پر پڑا تھا۔جس کو سیدھا کرکے دیکھا تو اسکا ماتھا،ناک اور منہ شدید زخمی تھا جس سے خون بھی بہہ رہا تھا۔سب نے مل کر اس کو اٹھایا اور فٹ پاتھ پر لے آئے۔شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے شاید وہ بے ہوش ہوچکا تھا یا اللہ جانے کس حالت میں تھا کہ اس کی سانسیں زور زور سے چل رہی۔منہ سے تھوک نکل رہا تھا۔آنکھیں بند تھیں اور جسم بے جان ہوچکا تھا۔

سب نے مل کر اس کے تلوے ملے،ہاتھوں کی مالش کی اور بھی جس سے جو ہوسکا وہ سب کچھ کیا۔ایمبولینس کو فون کیا تو وہ اٹھا نہیں رہے تھے۔اس کی جیب سے موبائل نکال کر گھر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن موبائل موجود ہی نہیں تھا۔
اتنے میں ایک رکشے والا بھائی آکر رکا اور اپنی خدمات پیش کیں۔سب نے اس زخمی کو اٹھایا اور جیسے تیسے رکشے میں ڈال دیا۔رکشے والے نے اسے قریبی علاقے میں کھڑی ایمبولینس تک پہنچادیا۔ایمبولینس والے اس نامعلوم زخمی کو لے کر ہسپتال چلے گئے۔

خدا جانے وہ کون تھا؟ کہاں سے آیا تھا؟ کہاں جا رہا تھا؟ اور اتنی مصروف شاہراہ میں اتنی بے احتیاطی کا مظاہرہ کیوں کر بیٹھا۔(شاید موبائل استعمال کر رہا ہو اور ٹکرا کر گرتے ہی موبائل کہیں دور جاگرا ہو۔جو ہمیں مل نہ سکا ہو یا شاید کوئی اور وجہ ہو جو ابھی تک مجھے سمجھ نہیں آئی) وہ شخص کوئی نو عمر،کم عمر یا ناسمجھ انسان نہیں تھا۔اس کی عمر پینتالیس، سینتالیس کے لگ بھگ ہوگی،موٹی جسامت،سیاہ و سفید ڈاڑھی،نیلے رنگ کی شلوار قمیص پہنے ہوئے تھا۔۔

قائد آباد سے گلشن حدید کے درمیان اگر کوئی ایسے شخص کو جانتا ہو جو کل رات سے لاپتہ ہے تو وہ فورا بھینس کالونی اسٹاپ پر قائم چھیپا ایمبولینس والوں سے رابطہ کرے اور ان صاحب کی خیر خبر لے۔۔۔ میں واپسی پر سوچ رہا تھا کہ بائیک کا حادثہ تو دونوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔دونوں ہی بہت برا گرے تھے۔گرے بھی مصروف ترین شاہراہ پر گاڑیوں کی روانی تیز ہونے کے وقت تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود ہم دونوں دوستوں کو صرف معمولی خراشیں آئیں اور دوسرے بائیک سوار کی حالت غیر ہوگئی۔ اس میں ہمارا ذاتی کوئی کمال نہیں ہوسکتا۔ میں کافی دیر سوچتا رہا کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟؟؟؟؟

کافی سوچنے کے بعد میرے ذھن میں وہ غریب لڑکی آگئی جس کی میں نے ہوٹل سے نکلتے ہوئے کچھ مدد کی تھی۔اور جس کی تشکّر بھری، دعائیہ نگاہیں ہمیں دعائیں دیتی رہی تھیں۔یقینا اسی کی دعاؤں کے صدقے اللہ نے ہماری حفاظت کی اور کسی بڑی مصیبت و آزمائش سے بچا لیا۔ورنہ ہم نے حادثے میں کسر کوئی نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔ ہمیں روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ دینے کا معمول بنالینا چاہئے۔اس آسان سے عمل سے ہم بہت سی پریشانیوں اور مصیبتوں سے خودبخود بچ جائیں گے۔۔۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...