بلاگ

احساسِ زیاں

موبائل کی گھنٹی بار بار بج رہی تھی ، اس نے بڑی مشکل سے آنکھیں کھولی اور صوفے کے نیچے موبائل ٹٹولنے لگا۔نیم وا آنکھوں سے اس نے بٹن پریس کیا۔’’ہیلو‘‘ یار کب سے آپ کو فون ملارہا ہوں،موبائل نہیں اٹھارہے،لگتا ہے جناب ابھی تک نیند کے مزے لے رہے ہیں، اٹھ جاؤ نواب صاحب! گیارہ بج چکے ہیں ۔’’عاطف ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا ۔’’ہاں ،بس ابھی اٹھتا ہوں ‘‘ عمیر نے کہا اورکھڑکی کی طرف دیکھا جہاں سورج کی روشنی نے پورے کمرے کو روشن کرلیا تھا ۔’’اچھا میں نے اس لیے فون کیاتھا کہ آج شام کو سہیل کے گھر برتھ ڈے پارٹی ہے،سب آرہے ہیں ،تم سات بجے سے پہلے تیار ہوجانا ، میں لینے آجاؤں گا۔‘‘ او۔کے ٹھیک ہے !‘‘عمیر نے کہہ کر فون رکھ دیا۔

فریش ہوکر وہ واش روم سے نکلاتو ملازم ڈرائنگ روم کی صفائی کررہا تھا ۔قیمتی قالین پر جابجا سگریٹ کے ٹکڑے،کولڈ ڈرنکس کے خالی بوتل اور کھانے کی چیزیں بکھری پڑی تھیں ،جو اس بات کا ثبوت تھیں کہ رات دیر تک یہاں بھی محفل جمی رہی ۔اس کے موبائل پر میسج ٹون سنائی دیا ، بال سنوارتے ہوئے اس نے دیکھاتو حاشر کی طرف سے ایک وٹس ایپ ویڈیو آئی تھی ،اس نے اوپن کی۔’’انسان دنیا کی واحد مخلوق ہے جس کو سوچنے اور احساس کی نعمت ملی ہے ۔‘‘ پھر نصیحت ۔۔وہ زیرِ لب بڑبڑایااو ر ویڈیو بندکرکے اونچی آواز میں میوزک لگادیا۔

عمیرماں با پ کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ شہر میں اس کے والد کا گاڑیوں کا ایک بہت بڑا شوروم تھا ۔اس کے والدعمو ماً سال میں تین چاربار کاروبار کے سلسلے میں جاپان ،کوریا وغیرہ کا چکر لگالیتے تھے مگر اس دفعہ ان کو گئے پانچ ماہ کا عرصہ ہوگیا تھا ۔دراصل وہ وہاں بھی اپنا کاروبار جمانا چاہتے تھے اور اسی وجہ سے ان کو مکمل وقت دینا پڑ رہا تھا۔چونکہ گھر میں پیسے کی ریل پیل تھی ا س لیے عمیر کا زیادہ تر وقت دوستوں اور سیر سپاٹے میں گزرتا تھا ۔بڑی مشکل سے گریجویشن مکمل کرلینے کے بعد اس نے آگے پڑھنے سے ہاتھ کھڑے کرلیے تھے۔باپ کی عدم موجودگی میں وہ غلط لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے لگا ۔نتیجتاً وہ سیگریٹ نوشی اور دیگر برائیوں کی طرف مائل ہونا شروع ہوگیا۔ماں نے پہلے نرمی سے سمجھایا،پھر کچھ سختی دکھانی شروع کی تو عمیر نے تنگ آکر اپنا کمرہ ہی چھوڑدیا اورگھر کے ڈرائنگ روم میں رہنے لگا۔

ہَلا گُلا اور ہر طرح اودھم مچانے کے بعد جب وہ سب تھک گئے تو واپسی کے لیے نکلنے لگے۔عاطف کی کار میں بیٹھ کر اچانک اس کو صبح حاشر والی ویڈیو یاد آئی ،اس میں کوئی شخص ’’احساس‘‘ کی بات کررہا تھا ۔انسان ،احساس۔۔مگر کس چیز کا احساس؟ ’’وہ خودسے بولنے لگا‘‘ زندگی کا احساس تو مجھے ہے اسی لیے تو ہنسی خوشی گزاررہا ہوں ۔خود بھی خوش رہتا ہوں ،دوسروں کو بھی مزے کراتا ہوں ۔مگر یہ شخص کس احساس کی بات کررہا تھا،تذبذب سے مجبور اس نے دوبارہ ویڈیو اوپن کی ۔

’’ آپ کا اصل استاد وہ ہے جو آپ کو سوچنے پر مجبور کردے ۔۔وقت انسان کا سب سے بڑا استاد ہے جو ہر گزرتے لمحے انسان کویہ پیغام دے رہا ہے کہ یہ زندگی برف کی سِل کی مانند ہے جو لمحہ بہ لمحہ پگھل رہی ہے ۔۔۔اگر صرف دنیا میں آنا ،وقت گزارنا اور کھاناپینا ہی زندگی ہے تو یہ سب کچھ تو جانور بھی کررہے ہیں ،پھر انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا کیا فائدہ؟‘‘ الفاظ تھے کہ نشتر ،جو مسلسل اس کے روح پر لگ رہے تھے ۔عمیر مکمل طورپر بولنے والے شخص کی گفتگو میں کھو گیا تھا ۔ کب عاطف نے گاڑی روکی،کب وہ نیچے اترا او ر کیسے وہ ڈرائنگ روم تک پہنچا ،اس کو پتہ ہی نہیں چلا ،وہ بس موبائل پر نظریں جمائے قاسم علی شاہ کے الفاظ سن رہا تھا جو مسلسل اس کے دِل پر دستک دے رہے تھے ۔وہ صوفے پر لیٹا،ویڈیو ختم ہوگئی ،یوٹیوب پر جاکر مزید ویڈیوز نکالیں اور ایک کے بعد ایک سننے لگا۔ ’’ قرآن میں اللہ بار بار کہتا ہے ، اور تم غور نہیں کرتے ،غور،غور۔۔غور کا مطلب یہ ہے کہ میں یہاں پر کیوں ہوں اور میں نے جاناکہاں ہے؟جہاں جانا ہے کیا اس کے لیے میری تیاری مکمل ہے؟۔۔اللہ مزید کہتا ہے:زمانے کی قسم!بے شک انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘

خیالات کی دنیا سے نکل کراس نے گھڑی پر نگاہ ڈالی ،رات کے تین بج چکے تھے ۔نہ معلوم کتنے آنسو تھے جو اشکِ ندامت بن کر اس کی آنکھوں سے نکلے اوراس کے چہرے سے ہوتے ہوئے گریبان میں جذب ہوئے ۔وہ اپنی زندگی کے ان قیمتی لمحات کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اس نے غلط اور بے مقصد کاموں میں ضائع کردیے تھے وہ حیران تھا کہ عقل و فہم ہونے کے باوجود بھی اتنی واضح بات اسے سمجھ نہ آئی۔اچانک اس کو اپنی ماں کا شفیق چہرہ یاد آیا۔کتنی بار اس نے بدتمیزی سے ان کا دِل دکھا یا تھا ۔ایک ہی گھر میں ہوتے ہوئے بھی اپنی ضد اور جھوٹی اناکی وجہ سے چھ دن سے ان کا چہرہ نہ دیکھ پایاتھا۔وہ اٹھا او ر تیزی سے ماں کے کمرے کی طرف گیا۔ان کے قدموں میں سر رکھ کروہ دِلی بے چینی دور کرنا چاہتا تھا،دروازہ کھلا تھا ،رب اپنے بندوں کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے ۔ماں نے بھی بیٹے کے لوٹنے کی آس پر دروازہ کھلا چھوڑا تھا ۔وہ بے اختیار کمرے میں داخل ہوا،ماں مصلے پر بیٹھی ،پہلے آسمان پر جلوہ افروز اپنے رَب سے راز و نیاز میں مصروف تھی ، عمیر پاس ہی بیٹھ گیااور ماں کے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں سے لگاکر ان کی گود میں اپنا سر رکھ دیا۔اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے ۔ پچھتاوے کے آنسو۔۔ تشکر کے آنسو۔۔البتہ ان میں عزم ایک ہی تھا ’’رب کی رَضااوربامقصد زندگی ‘‘ اگلی صبح اس کی زندگی کا ایک نیا سورج طلوع ہونے والا تھا ۔