بلاگ

محکمہ تعلیم ۔اصلاحات کے نام پر بگاڑ

محکمہ تعلیم صوبہ پنجاب کا ایسا محکمہ بن چکا ہے جس میں ہر گزرتا دن ایک نئی تبدیلی لے کر آ رہا ہے. لیکن اس کے باوجود سرکاری سکول پسماندگی میں اپنا مقابلہ نہیں رکھتے. اربابِ اختیار کی سرکاری اداروں کو نجی اداروں سے آگے لے جانے کی تمام تر کوششیں اس بری طرح ناکام ہیں کہ آگے نکلنا تو درکنار برابری بھی نا ممکن نظر آتی ہے. وجوہات صرف وہی… کہ جو چیزیں درستگی کی متقاضی ہیں، انکا درست ادراک ہی نہیں. سرکاری سکول جن ستونوں پہ کھڑا ہے ان میں استاد، طالبعلم، عمارت، اور سب سے اہم، بہترین انتظامی صلاحیتوں کا حامل ایمان دار سربراہ شامل ہیں. ان ستونوں میں سے ایک بھی کمزور ہو اور آخرالذکر تو زرا سا بھی کمزور ہو تو ادارے کا ستیاناس ہونا یقینی ہے.

اب زرا ان ستونوں کی مضبوطی کا اندازہ کیجئے. اساتذہ…. جدید دور کے ، ایک سے بڑھ کر ایک جدید تعلیم یافتہ، نوجوان بطور استاذ ہر سال بھرتی کیے جا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے خرچ کر کے بعد از بھرتی ان اساتذہ کی تربیت کا خاطر خواہ انتظام کیا جاتا ہے. جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آتے ہیں. لیکن ایک تربیت یافتہ استاذ جب میدان میں اترتا ہے تو اسے تعلیم دینے کے علاوہ ہر طرح کا کام سونپ دیا جاتا ہے اور انکار پر زیادہ تعلیم کے طعنے یا ویلے رہنے کی عادی لوگوں کی استہزایہ مسکراہٹ ملتی ہے… جو کہتی ہے ” نوا آیا ایں سوہنیا….؟”

پڑھائی گئی تیل لینے… سب سے پہلے پالیسی میکرز نے مریخ پہ بیٹھ کر ایک پالیسی بنائی ہے جس کے تحت ہر سال 20 سے 30 نئے بچے ہر جماعت میں اور نرسری میں کم از کم 50 بچے داخل کرنا بہت ضروری ہے…. علاقے کی آبادی بے شک سو گھرانوں پہ مشتمل ہو لیکن ہر حال میں 3 سے 16 سال تک کے 100 بچے ہر سرکاری سکول کو ہر سال چاہیئں. اگر ٹارگٹ پورا نہ کیا جائے تو تہذیب و تعلیم کے دامن کو تار تار کرتے ہوئے یہاں تک فرما دیا جاتا ہے کہ شادیاں کریں اور بچے پیدا کر کے ٹارگٹ پورا کریں. حالانکہ چار شادیاں کر کے بھی ہر سال ٹارگٹ پورا نہیں ہوسکتا کیوں کہ ڈی ای او اور ای ڈی اوز جہنم کی طرح "ھل من مزید” (کیا مزید بھی ہے؟) کا راگ الاپ رہے ہوتے ہیں.

اگر پھر بھی ٹارگٹ پورا نہیں ہوتا تو اساتذہ کو سکول بدر کر دیا جاتا ہے اور ایک ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر بچے مانگنے کا حکم دیا جاتا ہے… یہ وہ مقام ہے جہاں استاد بھک منگوں سے زیادہ ذلت محسوس کرتا ہے… لیکن ہر مہینے ملنے والی تنخواہ اور ملک میں پھیلی بے روزگاری اسے بچے مانگنے پہ مجبور کیے رکھتی ہے. اب اگر کسی کو اس پہ ترس آ جاتا ہے اور لوگ ان سہولیات کے بارے میں پوچھتے ہیں جو بچوں کے لیے موجود ہیں تا کہ مطمئن ہو کر بچہ داخل کروا دیں تو قارئین! یہاں سے ایک ایسی تکلیف دہ کہانی کا آغاز ہوتا ہے جو اس گھن لگے سرکاری نظام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی اصل ذمہ دار ہے. جی ہاں یہ کہانی ایک ایماندار سربراہِ ادارہ نے ادارے کی فلاح و بہبود کے لئے ملنے والی امداد کے نوٹوں سے لکھی ہے اور اس کا دیباچہ اتنے ہی ایمان دار کلرکوں نے لکھ کر سٹیمپ کیا ہے. ہر سال جہاں محکمہ ہر ادارے کو لاکھوں روپے فنڈ کی مد میں دیتا ہے، وہاں اتنی ہی تیزی سے وہ رقم یوں غائب کر کے اور جعلی رسیدیں لگا کر اگلے ہی دن نمٹا دی جاتی ہے کہ اگر نواز شریف کے ہاتھ میں اتنی صفائی ہوتی تو آج انکو پوچھنا نہ پڑتا کہ "مجھے کیوں نکالا”؟

نہ جانے ایک ایک ذرہ کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے والا محکمہ اس وقت اندھا کیوں ہو جاتا ہے جب دس سال تک ایک ہی چیز کی قیمت ہر سال کی گرانٹ میں ایڈجسٹ کی جاتی ہے… محکمے کے کلرک دو روٹیوں اور چار بوٹیوں کے بعد دس ہزار میں ملنے والی چیز کی قیمت پچاس ہزار لکھی دیکھ کر بھی اوکے کر دیتے ہیں…. محکمے کے مگرمچھ اپنا حصہ لے کر لاکھوں بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کا اجازت نامہ جاری کر دیتے ہیں. اگر یہی لاکھوں روپے بے شک پانچ سال بعد کسی نجی ادارے کو دان کیے جائیں تو ادارے کی شکل ہی بچوں کے داخلے کے لیے کافی ہو سکتی ہے. میعار کی بات بعد میں. لیکن سالانہ ڈھیروں ڈھیر گرانٹ کے بعد بھی 80 فیصد سرکاری سکولوں میں کمرہ جماعت کم ہیں، سردیاں ہوں یا گرمیاں بچے غربت کی سزا بھگتنے پہ مجبور کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں. سالانہ اتنے پیسے آنے کے باوجود کہ فی بچہ ایک ڈیسک بن سکتا ہے… اکثر سکولوں میں فرنیچر کی شدید قلت ہے. باتھ روم یا تو نہیں ہیں، اگر ہیں تو ناقص اور صفائی کا انتظام اس سے بھی ناقص… پینے کا صاف پانی… سوچیے بھی مت۔

اب اس ساری رام کہانی کے بعد استاد صرف اپنی ڈگری دکھا کر اور اپنی قابلیت بتا کر بچے کو سکول لانے سے رہا… کیونکہ سردی یا گرمی سے نڈھال، ٹاٹ پہ بیٹھا ہوا بچہ استاد کے راگ سے زیادہ اپنے سے کچھ ہی فاصلے پہ بیٹھے کوے کی کائیں کائیں زیادہ غور سے سنتا ہے. اور والدین کے پاس زرا سی بھی استطاعت ہو تو وہ اپنے بچے کو ایسے ماحول میں نہیں بھیجنا چاہتے.
اب فرض کریں کہ استاد نے کسی بھی طرح کھینچ کھانچ کر ٹارگٹ پورا کر لیا… اب اگلا مرحلہ ہے بچے کی حاضری پوری کرنا. محکمے کی خواہش ہے کہ ایک جماعت میں سو، پچاس بچے تو ضرور موجود ہو، لیکن ان میں سے کوئی بچہ بھی نا تو کبھی بیمار پڑے، نا اسکے گھر کوئی تقریب ہو اور ضروری کام کی درخواست لکھنی تو آتی ہو لیکن بچے کو کبھی گھر میں ضروری کام نہ پڑے. لیکن چونکہ بچوں کو ایسی کوئی مجبوری نہیں ہوتی لہذا وہ کبھی کبھی چھٹی کر کے اساتذہ کی بے بسی کا مزہ لینا اپنا حق سمجھتے ہیں کیونکہ استاد بہرحال "مار نہیں پیار” کا پابند ہے. ایسی چھٹی کی صورت میں استاد ماتم کناں ہے اور بے بسی ہے کہ انتہا کو پہنچا چاہتی ہے. لیکن کیا کیجئے؟

اب آتی ہے سب سے خوفناک صورت حال…. جی ہاں. اگر طالبعلم کسی بھی مجبوری یا کسی بھی وجہ سے سکول چھوڑ جاتا ہے… کسی محبوب کے چھوڑ جانے کا اتنا غم نہیں جتنا اس بچے کا ہے. ہیڈ کی گھورتی نگاہیں، سخت الفاظ، اور انکوائری کی دھمکیاں…… حتی کہ خدانخواستہ بچے کی وفات بھی ہو جائے تو بھی اسکا نام خارج کروانا ایسا مرحلہ بن جاتا ہے کہ دانتوں پسینہ آ جائے.ایک سرکاری سکول میں بچے کو فیل نہیں کیا جا سکتا. بچے کو معمولی سزا نہیں دی جا سکتی. بچے کو پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا. لیکن اس سب کے باوجود رزلٹ بہترین آنا چاہیے. کیا جماعت میں غیر معمولی تعداد کی مجبوری، پھر ہر بچے کی روزانہ حاضری اور پھر زرا سی سختی کے بغیر سو فیصد نتیجے کی توقع اساتذہ کو جعل سازی پر مجبور نہیں کرتی؟

اب ایسی صورتحال میں اگر اساتذہ کو پڑھانے کا وقت مل بھی جاتا ہے تو ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو آرام کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور پیریڈ کی بیل سنتے ہی چونک کر یہ کہتے ہوئے پھر سے سو جاتے ہیں کہ یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا.. ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سر خرو کر کے۔۔۔۔۔یاد رہے کہ مقتل سے مراد آرام گاہ ہی رہی ہو گی۔اساتذہ کی مجبوریاں ایک طرف… لیکن اربابِ اختیار کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ بے ایمانی اور کام چوری جو ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے… اس سے چھٹکارا پانا کس طرح ممکن ہے؟ کیونکہ جب تک مزاج میں تساہل، غبن، بے ایمانی، کام چوری رچی رہے گی… چیک اینڈ بیلنس کے تمام نظام فیل ہو جائیں گے. ضرورت اس امر کی ہے کہ تعداد طلبا بڑھانے سے پہلے تمام سکولوں اور ان کے علاقوں کا ایک سروے مکمل کیا جائے کہ آیا اس ادارے میں موجود سہولیات اور علاقے کی آبادی دیے گئے ٹارگٹ سے مطابقت بھی رکھتی ہیں یا نہیں. اور سروے کے لیے متعلقہ شعبے سے غیر جانبدار لوگ بھرتی کئے جائیں۔

ہر سال لاکھوں روپے گرانٹ دینے کے بعد پیسے کو سرکار کی اور اسکے بعد طلبہ کی امانت سمجھا جائے نا کہ مالِ مفت. اور ایسے سربراہان جنکو مالِ مفت کھانے کی لت پڑ چکی ہے، انکے سکولوں کی حالت ہی انکی اس علت کی گواہ ہے ، ان تمام سربراہان کو یہ کہنے پہ مجبور کیا جائے کہ "مجھے کیوں نکالا؟” تا کہ عبرت رہے اور دوسروں کے کام آئے. اس کام کے لیے بھی محکماتی علّتوں کے شکار کلرکوں کی بجائے غیر جانبدار لوگ مخصوص اجرت پر رکھے جا سکتے ہیں.ظاہری سختیاں اس بگاڑ کو درست کرنے میں ناکام رہیں گی جو بگاڑ جڑوں میں ہے. کیونکہ ہر سختی سے نپٹنے کے لیے کوئی نہ کوئی حل تو نکال لیا جاتا ہے لیکن اس کے مقصد کو بے مقصد ہی جانا جاتا ہے۔

جب تک سرکاری ادارہ اپنی ظاہری صورت حال میں نجی اداروں کو مات نہیں کرتا اور بہترین سہولیات فراہم نہیں کرتا تب تک نجی تعلیمی اداروں کو مات کرنا دیوانے کا خواب ہے. اور یہ کوئی ناممکن بات نہیں اگر دیا گیا پیسہ ایمان داری سے ادارے پہ خرچ کیا جائے تو والدین اود طلبا خودبخود کشش محسوس کریں گے اور ٹارگٹ کے نام پہ جس عذاب میں اساتذہ کو مبتلا کیا جاتا ہے، وہ ختم ہو جائے گا. جب با شعور لوگوں کے بچے سکول میں داخل ہوں گے تو اگر کوئی استاد اپنے فرائض سے غافل بھی ہے تو وہ بھی اپنا قبلہ درست کرنے پہ مجبور ہو جائے گا.

ضروری نہیں کہ تمام اداروں کی یکساں صورتحال ہو. بلکہ شہروں میں ایسے ایسے سرکاری سکول بھی ہیں جن پہ رشک آتا ہے. ایسے سربراہان کی بھی کمی نہیں جن کے کردار کی بلندی کسی تعارف کی محتاج نہیں. لیکن تحریر اکثریت کو مد نظر رکھ کے لکھی گئی ہے. خاص طور پر دیہات کے 90 فیصد سکول ہر سال سربراہان کی بھوک، اور لالچ کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں.
ہر سکول میں اُلو بیٹھا ہے، انجامِ تعلیم کیا ہو گا؟ اعتراض ٹاٹ پہ نہیں…. اس بات پر ہے کہ جب پیسہ آتا ہے اور اچھی چیز مہیا کی جا سکتی ہے تو محرومی کیوں؟ اور اگر محروم ہی رکھنا ہے تو یہ مطالبہ ہی کیوں کہ سرکاری ادارہ قابل ترین استاد کے بعد بھی نجی ادارے سے پیچھے کیوں؟

تحریر:- مصباح یوسف

 

لکھاری کے بارے میں

مصباح یوسف

مصباح یوسف ٹیچر اور شعلہ بیاں مقرر ہیں ۔ دہم جماعت سے ہی مقامی اخبار میں کالم لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن بیچ میں بوجہ تعلیمی مصروفیت یہ سلسلہ منقطع رہا. اب شوقیہ لکھتی ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment