بلاگ کالمز معلومات

یہ زمین آنے والی نسلوں کے لیے ادھار ہے

انسان اپنی تخلیق کے وقت سے ہی اپنے اردگرد کے ماحول کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ قدیم انسان نے کرہ ارض پر موجود گھنے جنگلات کو بڑے پیمانے پر جلایا تو جدید انسان نے اپنی فیکٹریوں، کارخانوں اور کوئلے کے دھویں کے ساتھ اس ماحول کی بربادی کا سامان تیار کیا۔ جہاں انسان اس ماحول کی شکست و ریخت کا موجب ہے تو وہیں دوسری طرف انسان ہی اس کی حفاظت کے لئے تگ و دو کر رہا ہے۔1969ء میں امریکی ساحل پر بحری جہاز سے تیل رسنے کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں آبی حیات کی موت ہوئی تو اس وقت انسان کو اس کا سدباب کرنے کا خیال آیا، چنانچہ اس مقصد کے لئے 22 اپریل کا دن منتخب کیا گیا، اور پہلا ’’یوم ارض‘‘ 22 اپریل 1970ء کو منایا گیا۔ یہ دن منانے کا مقصد لوگوں کو شعور اور آگاہی فراہم کرنا تھا۔ یہ دن ہر سال باقاعدگی سے منایا جاتا ہے، طلبہ و طالبات، سول سوسائٹی، این جی اوز، سرکاری اور غیر سرکاری ماحولیاتی ادارے یوم ارض مناتے ہیں۔ ہر سال یوم ارض کا کوئی نہ کوئی موضوع ہوتا ہے

اور اِس بار کا موضوع ہے ’زمین کے لیے درختوں کی اہمیت‘، بس اس موضوع کو پڑھنے کے بعد ہمیں سمجھ جانا چاہیے کہ زمین کی حیات اور لمبی زندگی کے لیے درخت کس قدر اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق روزانہ 14 سے 18 ہزار افراد مختلف بیماریوں کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ہیں، جن میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 13 ہزار سے زائد ہے۔ دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ صنعتی انقلاب سے انسان نے ارتقاء کا سفر تو تیزی سے طے کرلیا لیکن ان زہریلے فاسد مادوں کا کیا کیا جائے جنہوں نے گلوبل وارمنگ کو جنم دیا اور سیسہ، کاربن، سلفر، نائٹروجن، کلورین اور میتھین جیسے عناصر نے فضائی، غذائی اور آبی آلودگی جیسے عوامل کو جنم دیا۔ اوزون کے شگاف سے الٹرا وائلٹ شعاعوں (U.V.Rays) کا انجذاب براہ راست زمین پر ہونے لگا جس نے فصلوں کو تباہی کی طرف موڑ دیا۔ کینسر جیسا موذی مرض پوری دنیا میں عام ہوگیا۔

ملیریا، ٹائیفائڈ، ڈینگی بخار اور دوسرے دماغی امراض اپنی پوری ہولناکیوں کے ساتھ نوع انسان پر حملہ آور ہیں۔زمین کی حدت میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گلیشئیر پگھل رہے ہیں، زمینیں بنجر ہورہی ہیں۔ دنیا کے سات ارب سے زیادہ افراد جو اس کرہ ارض پر ہیں وہ قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے تو پریشان ہیں لیکن آج کرہ ارض کا ایک اہم مسئلہ طبقاتی جنگ بھی ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری، مہنگائی میں اضافہ، عالمی سطح پر صحت کے مسائل، نفسا نفسی اور بے یقینی کا رواج عام ہوگیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک خاص کر امریکا اور دوسرے یورپی ممالک کی بے رحمانہ پالیسیوں نے ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو شدید ضرب لگائی ہے۔ ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال، انسانی جانوں کے زیاں نے زمین کے چہرے کو مسخ کردیا ہے اور ہتھیاروں کے اندھا دھند استعمال نے جہاں ماحولیات پر بدترین اثر ڈالا ہے وہیں زمین روزانہ ہزاروں لوگوں کو اپنی پناہ میں سمو رہی ہے۔

انسان کی ترقی ہی درحقیقت زمین کی تباہی کی جانب پیش قدمی ہے، ترقی یافتہ ممالک میں قائم صنعتیں، جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ انسان کے لئے ایک المیہ ہے۔ گزشتہ سال پوری دنیا سے سربراہان مملکت نے جمع ہوکر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لئے کوششوں کا آغازکرنے کا عہد تو کیا تھا، لیکن ابھی تک کچھ خاطر خواہ نتائج نہیں مل سکے ہیں۔ عالمی حدت میں اضافے کا سبب چین، امریکہ، روس، برطانیہ اور دیگر ممالک ہیں جبکہ پاکستان کا کردار انتہائی کم ہے مگر پھر بھی پاکستان کا شمار ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک میں ہورہا ہے۔ہماری زراعت، ٹیکسٹائل، فشریز، فوڈ انڈسٹریز سمیت متعدد صنعتی شعبے منفی ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ قلت آب کی وجہ سے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے مقرر کردہ پیمانوں کے مطابق ملک کے صرف 18 فیصد عوام کو صاف پانی کی سہولت میسر ہے۔

پاکستان کی 1100 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی سطح سمندر میں اضافے کے خطرات سے دوچار ہے۔ توانائی کے بحران نے ملک میں بے روزگاروں کے جم غفیر کو جنم دے دیا ہے۔ ماحولیاتی و موسمیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے صحت کے مختلف مسائل پر قابو پانے کے ضمن میں قومی خزانے کو کئی ارب روپے کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ملک میں جنگلات کا زیر کاشت رقبہ تشویشناک حد تک کم ہوتا جا رہا ہے، جبکہ بچے کھچے جنگلات کو کاٹنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ملک کو حالیہ چند برسوں میں کئی قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ورلڈ بینک نے 2006ء میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان کو ماحولیاتی انحطاط کے باعث 365 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ اس عالمی ادارے کے تخمینوں کے مطابق 2011ء میں یہ نقصان 485 ملین ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے ملک کے عوام کی غالب اکثریت ماحولیاتی مسائل سے بے خبر ہے۔

اس حوالے سے تشویشناک امر یہ ہے کہ ہماری حکمراں اشرافیہ اس سے باخبر ہونے کے باوجود اسے نظر انداز کئے ہوئے ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بڑے پیمانے پر شجر کاری مہم کا اعلان کیا تھا مگر یہ اعلان بھی محض میڈیا کوریج اور فائلوں کی حد تک رہا، لاکھوں درخت لگانے کے دعوے کرنے والے سینکڑوں درخت لگانے کا ہدف بھی پورا نہ کرسکے، جبکہ پنجاب میں سڑکیں، پل اور فلائی اوور ہی حکومتی ترجیح میں شامل ہیں، حالانکہ انفراسٹرکچر کی بہتری اور انڈسٹریلائزیشن کی طرف توجہ دینے سے فضائی، صوتی، آبی اور ماحولیاتی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔رہی سندھ اور بلوچستان کی بات تو یہاں کی حکومتیں ترجیحات کے بارے میں وہ خود بھی لاعلم ہیں تو عوام کیا جانے گی۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی زراعت کا دار و مدار نہری یا بارش کے پانی پر ہے، فضائی آلودگی کی وجہ سے بارشیں معمول سے ہٹ کر ہو رہی ہیں جس کے سبب نہریں خشک ہو رہی ہیں۔

پھر جنگلات کی طرف توجہ نہ دی گئی تو زراعت کا مستقبل بھی خطرے میں پڑسکتا ہے۔ اس سال عالمی سطح پر پانچ سالہ منصوبہ پیش کیا گیا ہے جس کے تحت اگلے پانچ سالوں میں زمین پر 7.8 بلین درخت لگائے جائیں گے۔ اگر پاکستانی حکومت اس جانب توجہ دے تو پاکستان کو عالمی حدت سے بچایا جاسکتا ہے، لیکن میری رائے کے مطابق صرف حکومتی کورٹ میں گیند پھینکنے کی بجائے ہمیں اپنا کردار بھی ادا کرنا ہوگا۔کیوں نہ ہم بھی اپنے اس گھر کو جنت بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، اگر ایک پاکستانی ایک درخت لگائے تو ملک میں بیس کروڑ کے قریب درخت لگائے جاسکتے ہیں۔ گھروں میں کچن گارڈنگ کو فروغ دے کر بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، نوجوان طلبہ و طالبات معاشرے میں زمین

کی حفاظت کے حوالے سے آگہی مہمات چلا سکتے ہیں، ان سب کا مقصد اپنے پاکستان اپنی جنت کی حفاظت ہونا چاہیئے۔ حکومتی سطح پر توجہ نہیں دی جاتی تو مایوسی کے بجائے اپنے حصے کا درخت لگائیے، کیوںکہ ایک درخت تقریباََ اسی بچوں کو آکسیجن فراہم کرتا ہے، ستو پھر آئیے اس یوم ارض پر عہد کریں کہ ہم اس قوم کے بچوں کو آکسیجن فراہم کریں گے اور انہیں زہریلی گیسوں سے بچائیں گے۔ کیونکہ ایک بات یاد رکھیے،یہ زمین ہم نے اپنے آباو اجداد سے نہیں پائی بلکہ آنے والی نسلوں سے ادھار لی ہے