افسانے

"دنیا کے آخری انسان“ از عنبر عابر

دنیا تباہ ہوچکی تھی۔اور جنگ ختم ہوگئی تھی۔کیونکہ جنگ جاری رکھنے کیلئے اب کوئی انسان باقی نہیں رہا تھا۔رہی سہی کسر سونامی طوفانوں،زلزلوں اور بیماریوں نے پوری کردی تھیں۔نظامِ حیات سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ زندگی کی تباہی کی صورت میں نکلا تھا۔ایٹمی تابکاری نے نسلِ انسانی کو فنا کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ پوری دنیا میں شاید واحد وہ زندہ بچا تھا۔پتا نہیں وہ کیسے بچ گیا تھا۔اسے اپنی زندگی کا احساس نہیں تھا۔وہ خود کو مردہ سمجھ رہا تھا۔دماغ چیخ چیخ کر کہتا تھا۔ اتنی بڑی تباہی میں تم زندہ نہیں بچ سکتے۔ تم مردہ ہو!

شہر کے شہر کھنڈر بن چکے تھے۔فلک بوس عمارتیں زمین بوس ہوگئی تھیں۔زمین پر صرف تباہ شدہ سڑکیں، برباد پل، جلتی سلگتی عمارتیں،گاڑیوں کے پرزے اور مردہ جسم ہی رہ گئے تھے۔ان سب کے درمیان اسے جینا تھا۔منجمد دنیا میں شاید صرف وہی حرکت کا نشان بچا تھا۔ اس کا آپ، اپنے اختیار میں نہیں تھا۔وہ کتنے ہی دن تک دوڑتا رہا،دوڑتا رہا،دوڑتا رہا۔منظر جوں کا توں رہا۔آگ،دھویں اور لاشوں میں رتی برابر کمی نہیں آئی۔اسے کھانے پینے کا ہوش نہیں تھا۔بھوک لگتی تو جبلت کے تحت کچھ بھی کھا لیتا۔وہ بلا تفریق انسانوں اور جانوروں کے چیتھڑے کھا چکا تھا۔ وہ چلتا رہتا حتی کہ جسم میں مزید چلنے کی طاقت نہ رہتی اور گر پڑتا۔تب وہ گھسٹنے لگتا یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہوجاتا۔اسے یہ بھی پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔بس وہ جارہا تھا۔

اس خبط الحواسی میں دو ماہ بیت گئے تھے۔اور اب وہ رفتہ رفتہ اپنے حواس میں آرہا تھا۔پر اس کی یہ ہوشمندی عذاب کا درجہ اختیار کر گئی تھی۔دو ماہ پہلے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں اور ماؤف دماغ کے ساتھ اس تباہی کو دیکھتا تھا۔اس کی توجیہ کرنے کی اپنی سی کوشش کرتا پھر سرجھٹک کر بھاگنے لگتا۔پر اب اسے شعور کی آگہی کے ساتھ اس عذاب کو جھیلنا تھا۔اس تباہی کو برتنا تھا۔یہ سوچ کر اس کا دل پھٹا جارہا تھا کہ وہ اس دنیا میں تنہا رہ گیا ہے۔ اسے پچھلے واقعات یاد آرہے تھے۔اس کے آقاؤں نے کتنے جوش وخروش کے ساتھ جنگ شروع کی تھی۔انہیں اپنے ہتھیاروں پر ناز تھا۔پر آج ان میں سے شاید کوئی بھی نہیں رہا تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ کاش ان میں سے کوئی تو موجود ہوتا جو اس تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا۔

اس کا نام ایڈورڈ تھا۔اور وہ ایک ہوا باز تھا۔اس نے کتنی مہارت سے دشمنوں کے بڑے بڑے شہروں کو چشمِ زدن میں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا تھا۔اسے یاد تھا کہ آخری بار، جبکہ وہ ایک شہر پر مہلک بموں کی بارش کر رہا تھا۔اس کے جہاز کو انٹی ائیر کرافٹ گن سے نشانہ بنایا گیا۔اس کا جہاز قلابازیاں کھاتا ہوا زمین کی طرف آرہا تھا۔تب اس نے پیراشوٹ کے ذریعے کود کر اپنی جان بچائی تھی۔

وہ جس علاقے میں گرا تھا وہ شہر کا پہاڑی حصہ تھا۔یہ دشمنوں کا علاقہ تھا۔اس لئے وہ پہاڑی کے ایک غار میں جو کہ انتہائ گہرائی میں واقع تھی چھپ گیا تھا۔شاید یہی وجہ تھی کہ وہ مہلک تابکاری سے محفوظ رہا تھا۔تقریبا دو دن اور دو راتوں تک وہ بموں اور میزائیلوں کی مہیب گونج سنتا رہا۔زمین گویا بھونچالوں کی زد پر آئی ہوئی تھی۔ روپوشی کے دو دن وہ مخصوص غذائی کیپسول کھاتا رہا تھا۔اس دن اسے احساس ہوا تھا۔کہ جس علاقے پر بم گرتے ہیں تو وہاں کے باسی کس طرح پل پل مرتے ہیں۔ہر دھماکے کے ساتھ اس کا دل اچھل کر حلق میں آجاتا۔تیسرے دن وہ پہاڑی علاقہ بھی تباہی کی زد میں آگیا۔پہاڑیاں روئی کی طرح اڑنے لگی تھیں۔ایک بڑا سا پتھر اس کے سر میں جا لگا تھا۔وہ بے ہوش ہوگیا تھا۔جب اسے ہوش آیا تو کوئی انسان نہیں بچا تھا۔انسانی تہذیب اپنے کمال کو پہنچ کر معدوم ہوچکی تھی۔تب اس نے بے اختیار بھاگنا شروع کیا۔

آج دو ماہ بعد وہ سوچ رہا تھا کہ آخر وہ زندہ کیسے بچ گیا تھا؟ اور صرف وہ ہی کیوں بچ گیا تھا؟۔ان سوالوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔وہ اس وقت جس جگہ موجود تھا یہ کوئی دیہاتی علاقہ تھا۔شاید اس کے بچنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ بھاگتے بھاگتے کسی گاؤں میں آ نکلا تھا۔ جہاں نسبتاً تابکاری کے اثرات کم تھے۔ وہ جہاں بھی جاتا لاشوں کے ڈھیر پڑے ہوتے۔ان لاشوں کو کھانے کیلئے کوئی گدھ کوئی مردار خور نظر نہیں آرہا تھا۔

اسے کھانے کی طلب ہورہی تھی۔اس کے گرد وپیش ہزاروں انسان مردہ پڑے تھے۔گلیوں میں،کوچوں میں،دکانوں میں اور آس پاس مکانوں میں۔پچھلے دنوں وہ ان میں سے کئیوں کا گوشت کھا چکا تھا۔پر ہوش و حواس بحال ہونے کے بعد، اب اسے مردہ گوشت سے کراہیت محسوس ہورہی تھی۔وہ کھانا ڈھونڈھنے کیلئے ایک جانب چل پڑا۔یہ شاید کوئی بازار تھا۔سب کچھ ملیامیٹ ہوچکا تھا۔وہ ملبہ ہٹا ہٹا کر کھانے کی کوئی چیز دیکھنے لگا۔مگر بے سود۔شاید جنگ کے دنوں میں لوگ باگ سب کچھ لوٹ کر لے جا چکے تھے۔اگر کچھ باقی رہ گیا تھا تو وہ بارود کے ذرات تھے۔بموں اور میزائلوں کے ناکارہ خول تھے۔خالی کارتوس تھے۔

وہ تھک ہار کر ایک طرف بیٹھ گیا اور بازار کا نظارہ کرنے لگا۔نظارے کی کوئی چیز نہیں تھی۔پر وہ آنکھیں بند نہیں کرسکتا تھا۔ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔اس قدر خاموشی، کہ دل پھٹ جائے۔اس دن اسے آواز کی اہمیت کا احساس ہوا تھا۔خاموشی کس قدر جان لیوا ہوتی ہے،وہ اچھی طرح جان گیا تھا۔چند لحظے بعد اس نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔اس کا رنگ بدل چکا تھا۔مسلسل جنگوں نے فضا کو آلودہ کردیا تھا۔اسے گرمی محسوس ہورہی تھی۔شاید زمین کا درجہ حرارت بڑھ گیا تھا۔تھوڑی دیر بعد اس نے ایک طرف تھوکا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ تھوک کا رنگ گہرا خاکی تھا۔اسے اپنے جسم میں بے پناہ اینٹھن محسوس ہورہی تھی۔یہ پچھلے دنوں کی بھاگ دوڑ کا نتیجہ تھا یا شاید باردوی فضا کا ردعمل تھا۔ وہ زمین پر لیٹ گیا۔یہ کوئی مین شاہراہ تھی۔ چند ماہ پہلے اگر وہ اس طرح مین شاہراہ پر لیٹتا تو لوگ اسے پاگل سمجھ کر ٹھڈے مارنے شروع ہوجاتے۔ اس پر طنزیہ فقرے کستے۔پر آج وہ اکیلا تھا۔اسے کوئی روکنے والا نہیں تھا۔

اسے ایک عجیب خیال آیا۔وہ سوچنے لگا کہ اس اکیلی دنیا کا وہ تنہا مالک ہے۔ وہ جہاں چاہے جاسکتا ہے۔جہاں چاہے مکان بنوا سکتا ہے۔کوئی اسے روکنے والا نہیں کوئی اسے ٹوکنے والا نہیں۔قانون کی پابندیاں نہیں۔پولیس کا ڈر نہیں۔اس وقتی خوشی سے اس کا سینہ فخر سے چوڑا ہونے لگا۔ اچانک وہ بری طرح چونک پڑا۔اسے کوئی آواز سنائی دی تھی۔آواز مدھم سی تھی جیسے کوئی انسان کراہ رہا ہو۔وہ اچھل کر کھڑا ہوگیا۔کیا اس کی بادشاہت میں کوئی دوسرا شریک ہونے والا تھا؟وہ تیزی سے اس عمارت کے ملبے کی طرف بڑھا جہاں سے اس کی دانست میں آواز برآمد ہوئی تھی!

ایڈورڈ تیزی سے اس ملبے کی طرف بڑھا جہاں سے اس کی دانست میں آوز ابھری تھی۔وہ جلدی جلدی ملبہ ہٹانے لگا۔بھاری بھرکم پتھر، سیمنٹ کے موٹے موٹے ٹکڑے اور بڑے بڑے بلاکس بمشکل اپنی جگہ سے ہلانے لگا۔ڈیڑھ گھنٹے کی مشقت کے بعد وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا۔اسے زوروں کی بھوک لگ رہی تھی۔وہ آہستگی سے اٹھا اور غیر شعوری طور پر سامنے پڑی ایک لاش کی طرف بڑھنے لگا۔یہ کسی عورت کی لاش تھی۔اس کے قریب ایک مخصوص قسم کا ماسک پڑا ہوا تھا۔ایڈورڈ سوچنے لگا۔شاید اس نے جو بمباری کی تھی اس میں ہلاک ہوگئی ہو۔یا شاید طبعی موت مرگئی ہو۔جنگ کے دنوں میں کسی کا طبعی موت مرنا بعید ازقیاس تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ ایک تو اس نے اس سے زندگی چھین لی اب کے اس کا جسم بطورِ غذا استعمال کر رہا ہے۔وہ خوامخواہ احساسِ جرم کا شکار ہورہا تھا۔اسے یوں لگ رہا تھا جیسے ساری انسانیت کے جرائم اس کے ذمے ہوگئے ہیں۔یہ بات ایک طرح سے ٹھیک ہی تھی۔کیونکہ اب زمین پر صرف وہ ہی انسانوں کا نمائندہ رہ گیا تھا۔جلد ہی بھوک نے اسے ان خیالات کو پرے جھٹکنے پر مجبور کردیا۔پہلے اس نے سوچا کہ آس پاس مکانوں میں کھانے کی چیز تلاش کی جائے۔لیکن ان کا بھاری بھرکم ملبہ دیکھ کر اس نے اپنے ارادے کو ترک کردیا۔ وہ آس پاس کوئی تیز دھار آلہ دیکھنے لگا جس سے اس عورت کا گوشت کاٹ سکے۔اس نے ملبے میں سے ایک تیز دھار سلاخ چنی اور دوبارہ لاش کی طرف آیا۔یہ ایک حسین لڑکی کی نعش تھی۔وہ حسن کا رسیا تھا۔اگر وہ زندہ حالت میں ہوتی تو شاید اس کا حصول اس کیلئے کچھ مشکل نہ ہوتا۔اس میں عورتوں کیلئے عجیب سی کشش تھی۔وہ سوچ رہا تھا کہ کیا آج اس وقت اگر وہ زندہ ہوتی تو وہ اس کے جسم کے ساتھ کھیل پاتا؟ اس کا جواب نفی میں تھا۔اس نے اتنی ہولناک تباہی دیکھی تھی کہ اس کے سارے خواہشات مرگئے تھے۔

اس نے سلاخ کی تیزدھار سے لڑکی کا ایک بازو الگ کیا۔اور ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا۔بازو سے خون رس رہا تھا۔یہ بات معنی خیز تھی۔ کیا وہ حال ہی میں موت کا شکار ہوئی تھی؟ یہ معمہ فی الوقت لاینحل تھا۔اس کی دو انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھی۔وہ پریشان ہونے لگا۔انگلیاں جس انداز میں مڑی ہوئی تھیں اس سے لگ رہا تھا کہ وہ لڑکی کسی کے ساتھ زور آزمائی میں اپنی انگلیاں تڑوا بیٹھی ہے۔کیا وہ اس کے آنے سے پہلے کسی کے ساتھ مڈبھیڑ کر چکی تھی؟۔اس کی ایک انگلی میں بیش قیمت انگوٹھی چمک رہی تھی۔اس کا دل دھڑکنے لگا۔ایسی انگوٹھی اس کی محبوبہ پہنتی تھی۔کیا یہ اس کی محبوبہ کا ہاتھ تھا۔ہرگز نہیں۔ اس کی شکل اس لڑکی سے بہت مختلف تھی۔اسے اپنی محبوبہ کلارا یاد آنے لگی۔وہ اس کے ساتھ ہی سکواڈ میں شامل تھی۔کلارا ایک بہادر پائیلٹ تھی۔وہ دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے۔اسے جیکب یاد آنے لگا۔وہ ہیلی کاپٹر کا پائلٹ تھا۔وہ ایک خونخوار شخص تھا۔ساتھی لڑکیاں اس سے نفرت کرتی تھیں۔اس میں عورتوں کیلئے کوئی کشش نہیں تھی..جیکب اس کی محبوبہ کلارا پر ڈورے ڈالتا تھا۔کلارا کی وجہ سے وہ ایڈورڈ کا بدترین دشمن بنا ہوا تھا۔ کلارا نے کئی بار ایڈورڈ سے کہا تھا کہ وہ جیکب کی شکایت فوجی عدالت میں کرے گی۔پر ایڈورڈ ہمیشہ اسے منع کردیتا۔وہ کسی کے کیرئر کو داؤ پر نہیں لگانا چاہتا تھا۔
وہ بازو کا گوشت نوچ نوچ کر کھانے لگا۔ایک بار اسے زور کی ابکائی آئی تو سب کچھ باہر انڈیل دیا۔اسے زندہ رہنے تھا۔وہ مرنا نہیں چاہتا تھا۔اس نے اتنی لاشیں دیکھی تھی کہ موت سے متنفر ہوگیا تھا۔یہی موت وہ پہلے خود بانٹتا رہا تھا۔پر آج اس کی خواہش تھی کہ کاش اس کے پاس زندہ کرنے کا اختیار ہوتا تو وہ ان سب کو زندہ کردیتا۔

پھر وہ سوچنے لگا اگر وہ ان سب کو زندہ کردیتا تو کیا ہوتا؟ وہی ہوتا جو پہلے سے ہوتا آرہا تھا۔وہی جھگڑے وہی سازشیں وہی نفرتیں اور دشمنیاں۔اس نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔وہ اپنا رنگ بدل چکا تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ آسمان والے نے اس کی یہ حالت کیوں کی ہے؟ کیا وہ اس کی حالت سے لطف اٹھانا چاہتا ہے؟اس نے بقیہ بازو کو دور پرے پھینک دیا۔اچانک اسے ایک عجیب خیال آیا۔وہ سوچ رہا تھا کہ آسمان والا بھی تنہا ہے اور میں بھی تنہا ہوں۔کیا میں خدا ہوں؟ کیا مجھے موت شکست نہیں دے سکتی۔کیا میں خود کو گولی مار کر چیک کرنے کا رسک لے سکتا ہوں۔اس کا دل لرزنے لگا۔اس کا جواب نفی میں تھا۔خدا کو بھوک نہیں لگتی۔خدا ڈرتا نہیں۔اور وہ ڈر رہا تھا۔موت سے خوفزدہ تھا۔اسے یقین تھا کہ اگر وہ خود کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔تو چند لمحوں بعد وہ بھی باقی مردوں جیسا ہوجائیگا۔اس کے مرنے کے بعد نسلِ انسانی بالکلیہ فنا ہوجائیگی۔نہیں وہ خود کو ہرگز نہیں مارے گا۔پھر وہ سوچنے لگا۔آخر وہ موت اور گولی کے بارے کیوں سوچ رہا ہے؟۔انہی چیزوں نے تو دنیا کو ختم کردیا تھا۔اب تو ایسی سوچ بھی ترک کردینی چاہیے۔اس کے دل سے ایک ٹھنڈی آہ نکلی۔بہت تاخیر سے انسان کو یہ سوچ آئی تھی۔

سامنے زمین میں ایک گڑھا سا بنا تھا۔شاید وہاں کوئی بم لگا تھا۔نجانے کیا سوچ کر وہ اس میں اتر گیا۔اندر اسے کافی سکون محسوس ہوا۔وہاں اسے اپنے چاروں طرف مٹی نظر آتی۔اوپر آسمان نظر آتا۔لاش کوئی نہ دکھتی۔ تباہی کوئی نظر نہیں آتی۔وہ سوچنے لگا زمین و آسمان میں کوئی خرابی نہیں، کوئی فتور نہیں۔انہیں دیکھنے سے تو طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔تباہی تو اس کے بیچ میں ہے جو اس کے بیچ میں رہنے والوں نے پھیلائی ہیں۔جس میں وہ خود بھی شامل تھا۔

اسے اپنا گھر یاد آنےگا۔دو کمروں،کچن اور باتھ روم پر مشتمل اس کا چھوٹا سا گھر۔وہ اور کلارا ہمیشہ ایک ساتھ چھٹی پر جاتے اور اس گھر کو رونق بخشتے۔وہ دونوں چٹ پٹے فقروں کے ساتھ گھر کا کام کرتے۔کمروں کی صفائی کرتے۔مل کر کھانا پکاتے۔اس کے دل سے ایک سرد آہ نکلی۔کتنے سہانے دن تھے وہ۔اس نے آس پاس مٹی کے دیواروں کو دیکھا۔یہ مٹی تھی اس میں اخلاص تھا۔اس کی بربادی میں اپنا حصہ لینے کے باوجود وہ اسے تحفظ دے رہی تھی۔اس کا گھر اتنا وفادار کہاں تھا؟ وہ تو کب کا ڈھے چکا ہوگا۔اس نے سنا تھا کہ اس کے شہر کو شدید زلزلے نے پل بھر میں ملیامیٹ کردیا تھا۔کتنے ہی ریاستوں کو سونامی نامی طوفانوں نے نگل لیا تھا۔اس کے آقا تب بھی نہیں سمجھے تھے۔ان کے اپنے گھر آندھیوں کی زد میں تھے لیکن وہ دوسروں کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔اور پھر یوں ہوا کہ وہ بھی مٹ گئے اور دشمن بھی نہ رہا۔کوئی بھی باقی نہیں بچا۔اگر کوئی بچا تھا تو صرف وہ تھا جو ایک گڑھے میں سکڑا سمٹا بیٹھا تھا۔

مٹی سے بارود کی بو آرہی تھی۔وہ اپنی خوشبو کھو چکی تھی پر وفا نہیں بھولی تھی۔اب یہ گڑھا اس کا مکان تھا۔تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ عمارتوں کے ملبے کے پاس گیا۔چند بڑی سلاخیں اٹھائی۔ایک تختہ اٹھایا۔اور گڑھے کو مناسب انداز دینے لگا۔اس کے بعد اس نے گڑھے کو تختے سے ڈھک دیا۔وہ اپنے اس مکان کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا۔وہ سوچنے لگا۔کہ اس نے اپنے کتنے ہی شہید ہونے والے دوستوں کو اس قسم کے گڑھوں میں ڈالا تھا۔انہیں دفن کیا تھا۔وہاں تختیاں گاڑھی تھیں.جن پر ان کا نام،عہدہ وغیرہ درج ہوتا تھا۔اگر وہ مرگیا تو کون اس کی قبر پر اس کا نام، اس کا عہدہ درج کرے گا۔اس نے ایک سلاخ لی اور تختے پر اپنا نام کندہ کرنے لگا۔وہ سوچ رہا تھا کہ اس کے دوست تو مرنے کے بعد ایسے گڑھوں میں دفن ہوئے تھے پر اسے جیتے جی اس میں رہنا تھا۔کیونکہ وہ جینا چاہتا تھا۔وہ مرنا نہیں چاہتا تھا۔

اپنا نام کندہ کرنے کے بعد وہ دوبارہ اس لڑکی کی لاش کی طرف جانے لگا۔جس کا ایک بازو وہ نوچ کر کھا چکا تھا۔اس کا خون جم چکا تھا۔شاید ایک آدھ دن میں اس کا جسم گل سڑ جاتا۔اسے یہ معمہ کچھ عجیب لگ رہا تھا۔اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اس کے آنے سے چند گھنٹے قبل ہی مری ہے۔اس کی دو انگلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔شاید اس نے کسی کے ساتھ زور آزمائی بھی کی تھی۔

وہ ایک طرف بیٹھ گیا۔یہ شاید دوپہر کا وقت تھا۔وہ گھٹن محسوس کر رہا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ کوئی تو ہو جس سے وہ باتیں کرے۔اپنا غم غلط کرے۔جب سے وہ ہوش میں آیا تھا ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔خود کے ساتھ بھی نہیں بڑبڑایا تھا۔دراصل اس تباہی نے اسے گنگ کردیا تھا۔وہ صرف اپنی سوچوں کے ساتھ بولتا تھا۔آج اسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ بولا نہیں تو مر جائیگا۔وہ سوچ رہا تھا کہ بولنا کتنی بڑی نعمت ہے۔الفاظ کی قدر وقیمت کا اندازہ آج اسے ہوا تھا۔وہ اپنے ساتھ بولنے کی کوشش کرنے لگا۔لیکن یہ دیکھ کر وہ دہل گیا تھا۔کہ وہ زبان ہلانے سے قاصر تھا۔وہ کوئی لفظ نہیں نکال پا رہا تھا۔وہ ہمیشہ کیلئے اپنے الفاظ کھو چکا تھا!

ایڈورڈ ہمیشہ کیلئے اپنے لفظوں سے محروم ہوگیا تھا۔اس کے جملے اس کے دماغ ہی میں گونجنے لگتے۔آواز کوئی نہ نکلتی۔شاید اس کے سر پر پتھر سے جو چوٹ پڑی تھی یہ اس کا اثر تھا یا شاید ایک عرصہ تک نہ بولنے کی وجہ سے اس کا یہ حشر ہوا تھا۔

اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑنے لگے۔وہ زمین پر ڈھے گیا۔وہ خود کو قیدی محسوس کر رہا تھا۔دماغ کا قیدی۔جو اپنے دماغ میں بند تھا۔جو دماغ میں موجود الفاظ باہر نکالنا بھول گیا تھا۔اس کا دل اوبنے لگا تھا۔وہ اپنی گھٹن دور کرنے کیلئے خوب چیخنا چاہتا تھا، خوب چلانا چاہتا تھا۔وہ اپنی آواز سننا چاہتا تھا۔پر بے سود۔اس کا انگ انگ سراپا چیخ بن گیا تھا لیکن زبان ان چیخوں کو لفظوں کی صورت دینے سے قاصر تھی۔اس کی چیخیں اس کے اپنے دماغ میں گونجنے لگتی تھیں۔ان چیخوں سے اس کا دماغ گویا پھٹنے لگا۔وہ تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔اور دیوانہ وار ایک طرف بھاگنے لگا۔بھاگتے ہوئے وہ بے طرح ہاتھ پاؤں چلاتا۔وہ شاید اپنی آواز نکالنے کی کوشش کررہا تھا۔ایک جگہ وہ ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔وہ بری طرح ہانپ رہا تھا۔لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا۔اسے اپنی سانسوں کی آواز سنائی دینے لگی۔وہ یکدم سانس روک کر ان کی آوازیں سننے لگا۔لیکن سانس روکنے سے آواز کہاں سے آتی؟۔وہ دوبارہ ہانپنے لگا۔آواز دوبارہ سنائی دینے لگی۔خوشی سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔کم ازکم اتنی آواز تو اس نے سنی تھی۔کم ازکم وہ مکمل تنہا تو نہیں تھا۔وہ ایک جگہ پڑا رہ گیا۔

وہ سوچ رہا تھا کیا وہ اپنی آواز ہمیشہ کیلئے کھو چکا ہے۔اسے یاد تھا۔سب دوستوں میں وہ کس قدر باتونی مشہور تھا۔کتنی ہی خوبصورت لڑکیوں کو اس نے اپنے لفظوں سے رام کیا تھا۔کیا وہ کبھی بھی اپنی آواز دوبارہ نہ پاسکے گا؟ کیا اس کا ساتھ یہی تک تھا۔اسے اپنی آواز کا آہنگ یاد تھا۔وہ دماغ میں اپنے کہے فقرے اپنی آواز میں دہرانے لگا۔اس کا درد آنسو بن کر آنکھوں سے بہنے لگا تھا۔وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔اور لٹے ہوئے جواری کی طرح اپنے مکان کی طرف جانے لگا۔

کچھ سوچ کر وہ اس لڑکی کی لاش کی طرف آیا۔جس کا ایک بازو وہ نوچ کر کھا چکا تھا۔لڑکی کے نقوش غضب کے تھے۔پر اب یہ تیکھے نقوش بے فائدہ تھے۔انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے کوئی موجود نہیں تھا۔اگر کوئی تھا تو وہ صرف یہ سوچ رہا تھا کہ کس طرح لاش کو محفوظ کیا جائے تاکہ اس کا گوشت کھانے کے کام آسکے۔اس نے ایک بار غور سے لڑکی کو دیکھا تو یوں لگا جیسے وہ گردن پر بوجھ پڑنے سے مرگئی ہو۔کیا کسی نے اس کا گلا دبا کر اسے مار ڈالا تھا؟ ۔وہ ایک بار پھر مخمصے میں پڑ گیا۔آخر وہ لڑکی کیسے مری؟۔اسے یقین تھا کہ یہ راز ہمیشہ راز رہے گا۔کیونکہ کوئی بھی اس راز کو فاش کرنے والا نہیں رہا تھا۔

شام کا جھٹپھٹا پھیلنے لگا۔یہ وہ وقت تھا جب اس کے کیمپ میں جابجا لائٹس روشن ہوچکیں ہوتی۔گاہے گاہے کسی طیارے کی گرج دار آواز سنائی دیتی۔طیارہ اڑان بھر رہا ہوتا یا لینڈ کرتا۔اس ٹائم وہ اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ لان پر چہل قدمی کرتا۔ان کے ساتھ گپیں ہانکتا۔اسے سنوڈن یاد آیا۔جو ایک زندہ دل شخص تھا۔جب کبھی وہ اداسی محسوس کرتا اس کے ساتھ بیٹھ جاتا۔اسے کالی کلوٹی جیسی یاد آئی جو ایک مخلص لڑکی تھی۔اسے جارج یاد آیا جو جیسی کی طرح کالا تھا۔جارج اور جیسی ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ ان کے چٹ پٹے جملوں سے سب لطف اٹھاتے تھے۔اچانک اسے ایک آئیڈیا سوجھا۔

وہ جلدی سے اس مری ہوئی لڑکی کی لاش کے پاس آیا۔اور اسے اٹھا کر ایک طرف ملبے کے قریب لے گیا۔وہاں اس نے اسے سیمنٹ کے چند بلاکس کے ساتھ ٹیک لگا کر بٹھا دیا۔تھوڑی دیر بعد اس نے دو اور لاشیں اٹھائی اور انہیں بھی ٹیک لگا کر بٹھا دیا۔ان لاشوں سے بری طرح بدبو آرہی تھی۔پر اب وہ اس ماس کا عادی ہوگیا تھا۔اس نے لڑکی کو جیسی کا نام دیا۔ایک مرد کو سنوڈن ، جب کہ دوسرے کو جارج باور کرایا اور خود بھی ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ایڈورڈ نے اپنے دماغ میں جیسی سے اس کا بازو نوچ کر کھانے پر معافی مانگی۔اس نے صاف گوئی سے اپنی مجبوری کا اظہار کیا۔جیسی نے فراخ دلی سے اسے معاف کردیا۔اس کے بعد اس نے اپنے دماغ میں محفل منعقد کرلی۔اس کے باقی دوست بیئر کے رسیا تھے پر اس کی کمزوری کافی تھی۔کافی کی سوچ کے ساتھ ہی اسے کافی کی طلب ہونے لگی۔اس نے تصور میں خود کو کافی پیتے دیکھا تو بدن میں گویا خوشی کی لہر دوڑ گئی۔وہ تصور میں موجود کرداروں کے منہ سے جملے کہلوانے لگا۔پہلے سنوڈن کوئی بات کرتا۔تو وہ مسکرا کر ایک لاش کی طرف دیکھتا اور خاموش زبان میں کوئی چوٹ کرتا۔اس نے جارج اور جیسی کے مزاحیہ جملے اپنے ذہن میں دہرائے۔جارج کے برجستہ فقروں سے وہ لوٹ پوٹ ہوگیا تھا۔پتا نہیں اس شغل میں اس نے کتنا وقت گزار دیا تھا۔وہ عجیب سی خوشی محسوس کررہا تھا۔اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں آنسو۔اس نے ان سب کو بتادیا تھا کہ وہ دنیا میں اکیلا رہ گیا ہے۔وہ سب افسوس کررہے تھے۔اس کا دل ایک بار پھر اداس ہوگیا تھا۔

اچانک وہ بری طرح اچھل پڑا۔اس نے ایک بار پھر اسی ملبے سے کوئی آواز سنی تھی۔اب کے آواز صاف تھی۔وہ تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔اور وہاں جاکر بچا کچھا ملبہ ہٹانے لگا۔تاریکی پھیل چکی تھی۔اور دنیا بلب کی روشنی دیکھنے کے بعد ایک بار پھر تاریک دور میں داخل ہوگئی تھی۔دوبارہ کسی ایڈیسن کے پیدا ہونے کی امید نہیں رہی تھی۔ایک گھنٹے کی مشقت کے بعد اس کے ہاتھ کسی انسانی جسم سے ٹکرائے۔اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔اس نے اس جسم کو ملبے سے نکالا اور دوڑتا ہوا اپنے مکان کی طرف لے گیا۔یہ اس کی لاشعور کی تحریک تھی۔اسے زخمیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا سکھایا گیا تھا۔ورنہ اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ اس کا وہ گڑھا کوئی ہسپتال نہیں۔اس نے لاش کو دھیرے سے گڑھے میں رکھ دیا۔اور خود اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔وہ کوئی مرد تھا۔جو مخصوص ماسک پہنے ہوئے تھا۔اس نے ادھ مرے مرد کا ماسک اتارا۔اور ایک طرف رکھ دیا۔اس نے ہاتھ لگا کر محسوس کیا تھا اس شخص کا چہرہ پچک سا گیا تھا۔اچانک وہ شخص کراہنے لگا۔وہ اس پر ہاتھ پھیر کر تسلی دینے لگا۔گاہے گاہے وہ تسلی کے الفاظ کہتا تو وہ اس کے دماغ میں گونجنے لگتے۔وہ اس کے سر کے بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔اس کے سر میں جگہ جگہ گومڑ بنے تھے۔اسے اس شخص پر بے طرح پیار آرہا تھا۔وہ خوشی سے چلانا چاہتا تھا۔وہ پہلی بار ایک انسان کی سلامتی کیلئے خدا سے دعا مانگنے لگا۔اس دن اسے احساس ہوا تھا کہ پادری حضرات دل میں دعا مانگنے کو کیوں ترجیح دیتے تھے۔شاید اس طرح خدا سے رابطہ زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ خدا کے بہت قریب آگیا ہے۔خدا اس کی دعا بخوبی سن رہا ہے۔اچانک اس شخص کی آواز ابھری”پانی۔پانی“ آواز سن کر ایڈورڈ کو گویا بچھو نے ڈنک ماردیا۔.وہ اس آواز کو لاکھوں میں پہچان سکتا تھا۔یہ جیکب تھا۔ اس کا رقیب اور بدترین دشمن!

ایڈورڈ کا دل کنپٹیوں میں دھڑکنے لگا۔ وہ قدرت کی اس ستم ظریفی پر دنگ رہ گیا تھا۔اس کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ تیرنے لگی۔اکیلی دنیا میں اگر اسے کسی کا ساتھ نصیب ہوا تھا تو وہ بھی اس کے دشمن کا تھا۔رات کی تاریکی پھیل چکی تھی۔اسے روشنی کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔روشن دنیا تاریک ہوچکی تھی۔آج وہ پتھر کے زمانے کی حالت میں تھا۔اگر وہ واقعتاً پتھر کے زمانے کا ہوتا تو اتنی بے بسی محسوس نہ کرتا۔ وہ تو ایک بار روشن تہذیب کا ذائقہ چکھ چکا تھا۔اب یہ ذائقہ اسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔واقعی انسانی تہذیب خوب روشن ہوئی تھی۔ پر انسان نے خود ہی اسے بجھانے کے اسباب پیدا کئے تھے۔ایڈوڑد بے بسی سے ہاتھ ملنے لگا۔اچانک وہ چونک پڑا۔اس کی انگلیاں دائیں ہاتھ میں بندھی گھڑی سے مس ہوئی تھیں۔نجانے وہ کیسے اس گھڑی سے غافل رہا تھا۔شاید وہ جن کیفیات سے گزر رہا تھا، ان میں اسے اپنے آپ کا ہوش نہیں رہا تھا۔اس نے گھڑی کی ٹارچ جلائی اور اس کی روشنی اس زخمی شخص پر پھینکنے لگا۔وہ واقعی جیکب تھا۔آخر وہ کیونکر اس جگہ پہنچ گیا تھا؟۔اور اب تک کہاں چھپا رہا تھا؟۔ہوش میں آنے کے بعد اس کا ردعمل کیا ہوگا؟۔ایسے کتنے ہی سوالات ایڈورڈ کے دماغ می کھنکھجورے بن کر رینگنے لگے۔جیکب چند لحظے بڑبڑانے کے بعد دوبارہ بے ہوش ہوگیا تھا۔ایڈورڈ نے ٹارچ کی روشنی قریب پڑے ماسک پر ڈالی۔یہ مخصوص قسم کا ماسک تھا جو زہریلی ہوا کو فلٹر کرتا تھا۔ماسک ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔شاید ملبے تلے آکر اس کا یہ حشر ہوا تھا۔ایڈورڈ ایک طرف بیٹھ گیا۔اس نے ٹارچ کی روشنی بجھا دی۔تھوڑی دیر بعد اس نے گڑھے کا تختہ اوپر سے مکمل سرکا دیا۔اسے گرمی محسوس ہورہی تھی۔وہ سوچنے لگا۔جیکب کیلئے پانی کا بندوبست کہاں سے کرے؟۔ایک تلخ خیال سے اس کا دل ڈوبنے لگا۔وہ سوچ رہا تھا کہ اگر جیکب مرگیا تو وہ ایک بار پھر اکیلا رہ جائیگا۔وہ ہرگز اسے موت کے منہ میں جانے نہیں دے سکتا تھا۔اس کا بدترین دشمن اس کی زندگی کی آس بن گیا تھا۔تنہائی کا رفیق بن گیا تھا۔اور اب اس دشمن سے اسے پیار کرنا تھا۔وہ اتنی نفرتیں بانٹ چکا تھا کہ مزید بانٹنے کی سکت اس میں نہیں رہی تھی۔یا شاید وہ نفرت سے اس لئے بیزار ہوگیا تھا کہ نفرت کرنے کیلئے کوئی انسان نہیں رہا تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ ہم انسانوں نے پہلے انسانیت کو نفرت کی بھینٹ چڑھایا پھر نفرت پر اس قدر وارفتہ ہوئے، کہ خود بھی اس کی بھینٹ چڑھ گئے۔

وہ جیکب سے باتیں کرنا چاہتا تھا۔اس کا حال احوال پوچھنا چاہتا تھا۔یہ یاد کرکے وہ گھٹن سی محسوس کرنے لگا کہ وہ اب بول نہیں سکتا۔یہی جیکب تھا جس پر وہ طنزیہ جملے کستا تھا۔جیکب کے پاس اس کی باتوں کا کوئی توڑ نہیں ہوتا تھا۔ہوش میں آکر کیا وہ سب بدلے چکانے کی کوشش نہیں کرے گا؟۔بالکل نہیں کرے گا۔اس کا جواب نفی میں تھا۔جیکب کو بھی حالات کی سنگینی کا احساس ہوگا۔اسے بھی انسان کی قدر معلوم ہوچکی ہوگی۔لیکن ہوسکتا ہے وہ اپنی فطری حیوانیت کا مظاہرہ کرے۔بالکل ہوسکتا ہے۔اس کے دماغ نے جواب دیا۔وہ اسی طرح تند مزاج اور ضدی تھا۔

ایڈورڈ اوپر آسمان کو تکنے لگا۔ستارے جھل مل کر رہے تھے۔ان کی تعداد کم تھی یا شاید یہ آلودہ فضا کا اثر تھا کہ وہ کم نظر آرہے تھے۔وہ سوچنے لگا.یہ تو اچھا ہوا کہ ہم انسان آسمان تک نہیں پہنچ سکیں ورنہ آج شاید یہ ستارے بھی تباہی کی زد میں ہوتے۔خدائے لم یزل نے ہمیں زمین دی تھی۔خوش کن نظارے عطا کئے تھے۔لہلاتے گل بوٹے دئے تھے۔پر ہم نے کیا کیا اس تحفے کے ساتھ؟ اس تحفے کو پاؤں تلے روند ڈالا۔جیکب کو افسوس ہورہا تھا۔افسوس کا حجم اس قدر بڑا تھا کہ اس کا سینہ پھٹا جارہا تھا۔صرف وہ ہی اس درد کو محسوس کرنے کیلئے رہ گیا تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ شاید باقی انسانوں کے مقدر کا افسوس بھی اس کے ذمے آگیا ہے۔وہ اپنے دماغ میں خاموش لفظوں کے ساتھ پوری انسانیت کی جانب سے افسوس کرنے لگا۔لیکن اگر وہ پوری زندگی افسوس کرتا تب بھی بنی نوع انسان کی غلطیوں کا مداوا نہ ہو پاتا۔

تھوڑی دیر بعد وہ لیٹ گیا۔اچانک کسی چیز نے اسے ہاتھ پر کاٹا۔وہ جلدی سے ہاتھ مسلنے لگا۔اس نے اپنی کلائی سے گھڑی کھول دی۔اور ایک ہاتھ میں پکڑ کر دوسرے ہاتھ پر اس کی روشنی ڈالنے لگا جہاں کسی چیز نے اسے کاٹا تھا۔یہ کوئ چیونٹی تھی۔اس نے وہ چیونٹی اپنی انگلی پر رکھی۔کیا وہ چیونٹی بھی اس کی طرح تنہا تھی؟۔کیا وہ بھی اکیلے پن کی اذیت کا سامنا کر رہی تھی؟۔وہ اس چیونٹی کو خود پر قیاس کر رہا تھا۔وہ یہ بھول گیا تھا کہ کیڑے مکوڑے ایسے جذبات سے بے نیاز ہوتے ہیں۔وہ صدقِ دل سے اسے مارنے کی سوچنے لگا۔وہ اپنے تئیں اسے اس اذیت سے چھٹکارا دینا چاہتا تھا۔اس نے چیونٹی کو اپنے ایک ناخن پر رکھا۔وہ ساکت تھی۔پتا نہیں کیا سوچ رہی تھی۔وہ اپنی موت سے غافل تھی۔اس نے دوسرے ہاتھ کا ناخن اس کے قریب کیا۔اور اسے مسلنے کی تیاری کرنے لگا۔اچانک جیکب دوبارہ کراہنے لگا۔چیونٹی بچ گئی تھی۔وہ اس کے جسم پر رینگنے لگی تھی۔ایڈورڈ، جیکب کو تسلی دینے کیلیے اس پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

تھوڑی دیر بعد وہ خود بھی ایک طرف لیٹ گیا۔نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔جب سے اس کے حواس بحال ہوئے تھے اسے نیند نہیں آئی تھی۔پچھلے دو ماہ کی بھاگ دوڑ میں وہ ہمیشہ بے ہوش جاتا تھا۔اسے یاد نہیں تھا کہ اس نے کبھی پرسکون نیند کی ہو۔یہ مسلہ پریشان کن تھا۔کیا اس کی آواز کی طرح اسکی نیند بھی چھن چکی تھی؟۔وہ کروٹیں بدلنے لگا۔قریب ہی جیکب پڑا تھا۔وہ وقتاً فوقتاً کراہنے لگتا۔وہ پرانی یادیں کریدنے لگا۔ان یادوں نے اسے مزید سلگا دیا تھا۔وہ سونا چاہتا تھا پر اسے نیند نہیں آرہی تھی۔وہ خوب نشہ کرنے کی خواہش محسوس کر رہا تھا۔اس سے پہلے وہ ہمیشہ نشے سے دور رہا تھا۔وہ ایک سپورٹس مین تھا۔باسکٹ بال خوب کھیلتا تھا۔اکثر مقابلوں میں اول آتا تھا۔اس لئے کبھی نشے کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔
نجانے ان سوچوں میں کتنی دیر گزر گئی۔اس کا جسم بری طرح دکھ رہا تھا۔دماغ نیند کی طلب سے پھٹا جارہا تھا۔صبح کا اجالا پھیلنے لگا تھا۔اچانک جیکب بری طرح کراہنےگا۔پانی پانی۔ایڈوڑد اٹھ کر بیٹھ گیا۔جیکب تھوڑی دیر تک کسمساتا رہا۔پھر یکدم اس نے آنکھیں کھول دی۔ایڈورڈ نے جلدی سے قریب پڑا ماسک پہن لیا۔آنکھیں کھولنے کے بعد جیکب فوری اٹھنے کی کوشش کرنے لگا تو کراہ کر دوبارہ لیٹ گیا۔ایڈورڈ اس کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا۔جیکب کی آواز ابھری” تم کون ہو؟۔میں کہاں ہوں؟۔یہ کیسی جگہ ہے؟۔وہ زمین دوز لیبارٹری تو ایسی نہیں تھی“ پتا نہیں وہ کیا اول فول بک رہا تھا۔نجانے کس لیبارٹری کی بات کر رہا تھا۔ایڈورڈ صرف زبان ہلا کر رہ گیا۔اس نے بمشکل آواز نکالنے کی کوشش کی تو صرف غوں غاں کرکے رہ گیا۔

جیکب بولا”تم نے ماسک کیوں پہن رکھا ہے؟“ ایڈورڈ نے جیکب کی طرف دیکھا۔اس کی شیو بنی ہوئی تھی۔اس عرصہ تک وہ کہاں رہا تھا؟ کیا وہ ایسی جگہ رہا تھا جہاں اسے شیو کی سہولت حاصل تھی؟ کئی سوال ایڈورڈ کے ذہن پر یلغار کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ایڈورڈ نے اسے اٹھایا اور باہر کھلی فضا میں لا کر زمین پر لٹا دیا۔جیکب اسے حیران نگاہوں سے تک رہا تھا۔وہ بولا”مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں تمہیں کہیں دیکھ چکا ہوں“ ایڈوڑد نے ایک چھوٹی سی سلاخ اٹھائی۔اور زمین پر لکھا”تم کہاں تھے اب تک۔اور اس تباہی می کیسے بچ گئے؟“ جیکب کمزور لہجے میں بولا”تم بول کیوں نہیں رہے؟ میری داستان طویل ہے۔مجھے پانی پلاؤ“

ایڈورڈ نے زمین پر ہاتھ پھیر کر پہلے والے الفاظ مٹا دئے اور دوبارہ لکھا۔”مجھے افسوس ہے میں بول نہیں سکتا۔کیا تمہیں پتا ہے پانی کہاں سے مل سکے گا؟“ جیکب اثبات میں سر ہلانے لگا۔تھوڑی دیر بعد وہ بولا”میرا سر دکھ رہا ہے پلیز ذرا دبا دیجئے“ایڈورڈ اٹھ کر اس کے قریب بیٹھ گیا اور جھک کر اس کا سر دبانے لگا۔وہ اپنے ماضی کے رقیب کا سر دبا رہا تھا۔اسے شاید اپنے رقیب سے محبت ہوگئی تھی۔یہ واقعی انہونیوں کے دن تھے۔اچانک جیکب نے جھپٹا مارا اور اس کا ماسک اتار دیا۔ایڈورڈ سٹپٹا کر رہ گیا وہ اس وار کیلئے تیار نہیں تھا۔جیکب تھوڑی دیر اسے دیکھتا رہا پھر چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجا کر بولا”میں بھی سوچوں مجھے تمہاری چال کیوں جانی پہچانی لگ رہی تھی۔ایڈورڈ! یہ تم نے اپنا کیا حشر بنا دیا ہے؟۔شیو بھی نہیں بنائی اور بال کاندھے تک جھول رہے ہیں“۔ایڈورڈ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ابھی تک وہ اپنے حلیے سے بےخبر تھا۔وہ اپنی گنجان داڑھی پر ہاتھ پھیرنے لگا۔اپنے لمے بالوں کی لٹیں اپنے رخ کرکے دیکھنے لگا۔جیکب بولا”ایڈورڈ تم بول کیوں نہیں رہے؟۔اب تو میں تمہیں پہچان چکا ہوں“

ایڈورڈ آہستہ آہستہ زمین پر لکھنے لگا”میرا یقین کرو دوست! میں نہیں بول سکتا“ جیکب پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔پھر سرد لہجے میں بولا”معاف کیجئے میں پچھلی باتیں نہیں بھول سکتا۔آئندہ مجھے دوست کہہ کر مت پکارنا“یہ کہہ کر وہ کراہنے لگا ایڈورڈ نے لکھا”میں تمہیں دوست کہہ کر ہی پکاروں گا۔اس دنیا میں بس ہم دونوں ہی رہ گئے ہیں اور میں مزید کسی انسان سے دشمنی نہیں کر سکتا“ جیکب طنز سے بولا”کیا تمہیں الہام ہوا ہے کہ تم ہی واحد زندہ بچے ہو؟ ایڈورڈ نے لکھا”ہاں مجھے الہام ہوا ہے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اس تباہی کے باوجود خدا مجھے غلط الہام کریگا؟“ جیکب بولا”میں ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا۔مجھے پانی پلاؤ۔حلق میں کانٹے سے چبھ رہے ہیں“ ایڈورڈ نے لکھا”پانی کہاں سے مل سکے گا؟“جیکب بولا”آؤ! میں تمہیں وہاں لے چلتا ہوں“

یہ کہہ کر وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ایڈورڈ نے اسے سہار دیا اور اسے اپنی ٹانگوں پر کھڑا کر دیا۔نجانے کیا سوچ کر جیکب کا چہرہ زرد پڑ گیا۔وہ سرسراتے لہجے میں بولا”میری ٹانگیں بے جان ہوگئی ہیں۔مجھے چھوڑنا مت۔ گر جاؤنگا“ اس کا رقیب اور دنیا کا دوسرا انسان، جیکب، ٹانگوں سے معذور ہوگیا تھا!

ایڈورڈ نے جیکب کو تھام رکھا تھا۔اس کا واحد ساتھی ٹانگوں سے معذور تھا۔ایڈورڈ نے اسے زمین پر لٹایا۔اور تیز تیز قدموں سے چلتا ایک مکان کے ملبے کی طرف جانے لگا۔تھوڑی دیر بعد وہ نمودار ہوا۔ وہ اپنے سر پر لکڑی سے بنے دروازے کا ایک کواڑ اٹھائے ہوئے تھا۔ایک جگہ بیٹھ کر وہ اس کواڑ کو بیساکھیوں کی شکل دینے لگا۔یہ بڑا مشکل مرحلہ تھا۔اس کے پاس مطلوبہ سامان نہیں تھا۔ایڈورڈ نے سب سے پہلے کواڑ کے بیچ میں عمودی سمت سے پتھر کے ذریعے ایک لکیر کھینچی۔پھر سلاخ لے کر اس لکیر پر رکھتا اور ایک وزنی پتھر سے سلاخ کو کواڑ میں گھسیڑ دیتا۔تھوڑی دیر بعد اس نے کواڑ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔اس کے بعد کواڑ کے اوپری حصے میں افقی سمت سے چھ انچ لمبا سوراخ بنایا تاکہ جیکب وہاں اپنے ہاتھ ٹکا سکے۔اس نے ایک تیز دھار پتھر سے کواڑ کے فاضل حصے جدا کئے۔تاکہ جیکب کو چلنے میں مشقت نہ ہو۔ڈیڑھ دو گھنٹے کی مشقت کے بعد وہ کواڑوں کو بیساکھیوں کی شکل دے چکا تھا۔یہ کافی مضحکہ خیز بیساکھیاں تھیں پر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ایڈورڈ بری طرح تھک گیا تھا۔نیند سے اس کا سر چکرا رہا تھا۔وہ جیکب کے قریب آیا۔جیکب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔وہ ایک تند مزاج شخص تھا۔حالات سے گھبرانے والا ہرگز نہیں تھا۔شاید ٹانگوں کی جدائی نے اسے توڑ دیا تھا۔ایڈورڈ نے زمین پر لکھا”مجھے افسوس ہے کہ آپ کی ٹانگیں ضائع ہوگئی ہیں۔میں نے تمہارے لئے بیساکھیاں بنادی ہیں۔چلو اب پانی لانے کیلئے چلتے ہیں“۔

اس نے جیکب کو سہارا دے کر کھڑا کر دیا۔جیکب نے بیساکھیوں میں ہاتھ ڈالے اور انہیں آہستگی سے زمین پر ٹکا دیا۔بیساکھیوں کے ذریعے اپنا پہلا قدم اٹھانے سے پہلے اس نے اپنی ٹانگوں کو الوداعی نظروں سے دیکھا جو اس کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھیں۔اس کے دل سے ہوک سی اٹھی۔وہ بیساکھیوں کے سہارے چلنے لگا۔تھوڑی دیر بعد وہ بولا”شاید ملبے کے گرنے سے میری ٹانگیں ضائع ہوگئی ہیں۔کیا تم جانتے ہو ایڈورڈ! کہ میں اپنی ٹانگیں ہمیشہ کیلئے کھو چکا ہوں یا انہیں دوبارہ پاسکتا ہوں؟“ اس کا گلا رندھ گیا تھا۔ایڈورڈ جھک کر زمین پر لکھنے لگا۔اس کے ہاتھ میں چھوٹی سی سلاخ تھی۔جسے اب وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔شاید اس کی ضرورت عمر بھر اسے رہتی۔”جیکب! فکر نہ کرو تم ٹھیک ہوجاؤگے دوست۔دیکھو میں اپنی آواز کھو چکا ہوں۔پھر بھی جی رہا ہوں۔اگر ہم حوصلہ ہار گئے تو انسانی تہذیب ہمیشہ کیلئے مٹ جائیگی۔ہم نے اس تہذیب کو زندہ رکھنا ہے“
جیکب بولا”انسانی تہذیب جاننے کیلئے جب کوئی باقی نہیں بچا تو اسے زندہ رکھنے کا فائدہ؟“

ایڈورڈ سوچ میں پڑ گیا۔اس کی یہ بات دل کو لگی تھی۔اس نے زمین پر لکھا”کیا ضروری ہے کہ ہم کسی کے خاطر اس تہذیب کو زندہ رکھیں؟ ہم اپنی خوشی کی خاطر، اپنی بقیہ زندگی گزارنے کی خاطر بھی تو اس تہذیب کو زندہ رکھ سکتے ہیں“
وہ اٹھ کھڑا ہوا اور جیکب کے شانہ بشانہ چلنے لگا۔جیکب بولا” اب زندگی جینے کی کوئی وجہ بھی تو نہیں رہی۔سب کچھ ختم ہوگیا“
ایڈورڈ تھک چکا تھا اس لئے دوبارہ بیٹھ کر لکھنے کی ہمت نہ کرسکا۔اس کا جواب اس کے اپنے دماغ میں گونجنے لگا”زندگی بغیر کسی وجہ کے بھی تو گزاری جاسکتی ہے“۔اچانک ایک جگہ جیکب ٹھٹک کر رک گیا۔وہ اسی لڑکی کی لاش کے قریب کھڑا تھا جس کا ایک بازو کل ایڈورڈ کھا چکا تھا۔اور جسے اس نے جیسی سمجھ کر باقی لاشوں کے ساتھ ٹیک لگا کر بٹھایا تھا۔اس سے معافی مانگی تھی۔اس کے ساتھ باتیں کی تھی۔جیکب رک کر ایڈورڈ کو دیکھنے لگا۔ایڈورڈ اس سے نظریں چرانے لگا۔جیکب بولا” تمہاری چوری بتا رہی ہے اس کا یہ حشر تم نے کیا ہے“

ایڈورڈ چند لحظے اسے دیکھتا رہا پھر افسردہ انداز میں اثبات میں سر ہلانے لگا۔وہ ہاتھوں کے اشارے سے اسے بتانے لگا۔اس کے الفاظ اس کے دماغ میں گونجنے لگے”مجھے سخت بھوک لگی تھی“ اچانک جیکب قہقہ مار کر ہنسنے لگا۔اس کے قہقہوں میں عجیب سے خونخواری تھی۔ایڈورڈ نے اشارے سے پوچھا۔”تم کیوں ہنس رہے ہو؟“

جیکب بولا”مجھے خوشی ہے میرا دشمن لفظوں سے محروم ہوگیا ہے۔تمہارے الفاظ ہی تو تھے جس نے کلارا کو اپنا اسیر بنا لیا تھا۔اسے تمہارے ساتھ دیکھ کر میں روز اذیت سے گزرتا تھا۔روز تمہارے کمرے کے چکر کاٹتا تھا۔کاش ان دنوں اگر تم اپنی بولتی سے محروم ہوجاتے تو میں کیمپ کے سب لوگوں کو پارٹی دیتا“

ایڈورڈ بے بسی سے اسے دیکھنے لگا۔وہ رتی برابر نہیں بدلا تھا۔لیکن وہ اس کا مذاق اڑانے کے باوجود اس سے نفرت محسوس نہیں کررہا تھا۔وہ اس کی ٹانگوں کیلئے ایک ماں کی طرح فکرمند تھا۔کبھی کبھار ایڈورڈ خود کو پاگل سمجھتا۔اپنے دشمن سے کون محبت کرتا ہے؟۔تھوڑی دیر بعد جیکب نے حقارت سے اس لڑکی کو ٹھوکر ماری۔اور بولا "اچھا ہوا مرگئی۔اس کا یہی انجام ہونا تھا۔کاش تم اسے پورا کھا جاتے۔ویسے تم اس کا گوشت بھون بھی سکتے تھے۔کیا تم بھول گئے تھے کہ سب سے پہلے انسان نے کس طرح آگ دریافت کی تھی؟“

جیکب کی یہ بات معنی خیز تھی۔واقعی وہ گوشت کو بھون کر بھی کھا سکتا تھا۔کیا دو ماہ انسانی گوشت بغیر بھون کر کھانے سے وہ کچے گوشت کا عادی ہوگیا تھا۔وہ پریشان ہونے لگا.اس نے اشاروں سے پوچھا۔تم اس لڑکی کو کیسے جانتے ہو؟“ جیکب بیزاری سے بولا”زمین پر لکھو۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تم کیا کہہ رہے ہو“ ایڈورڈ زمین پر بیٹھ کر لکھنے لگا۔تم اس لڑکی کو کیسے جانتے ہو؟۔اور اب تک تم کہاں تھے؟۔کلارا کا آخری انجام کیا ہوا؟“کلارا کے ساتھ آخری انجام کے الفاظ لکھتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔

زمین پر لکھے الفاظ پڑھ کر جیکب ایک طرف چلنے لگا۔ایڈورڈ اس کے شانہ بشانہ چل رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد جیکب بولا”ہم اپنے بحری بیڑے میں موجود تھے۔حالات سنگین تھے۔دنیا تباہی کی زد میں تھی۔ایک دن اطلاع ملی۔سونامی طوفان چند کلومیٹر دور رہ گیا ہے۔یہ سن کر بیڑے پر ہلچل مچ گئی تھی۔تمام بڑے بڑے لیکن خودغرض افسران ہیلی کاپٹر اور جہازوں میں بیٹھ کر نکل رہے تھے۔مجھے نفرت ہے ان سب سے۔ساری عمر ان کیلیے جان کھپاتے ہیں اور جب مرنے کی باری آتی ہے ہمیں آگے کردیتے ہیں۔میں جلدی سے اپنے ہیلی کاپٹر میں آیا اور اڑان بھرنے لگا۔شاید کلارا کا جہاز کوئی دوسرا اڑا لے گیا تھا یا شاید وہ یہ سوچ کر ہیلی کاپٹر میں آئی کہ ہیلی کاپٹر بآسانی محفوظ جگہ اتر سکتا ہے“

جیکب سانس لینے کیلئے رکا۔ایڈورڈ دم بخود اس کے الفاظ سن رہا تھا۔گاہے گاہے وہ اس کے منہ کی طرف دیکھنے لگتا جس سے الفاظ پھسل پھسل کر باہر آرہے تھے۔ایک بار اس نے دیکھا کہ جیکب اس کی ٹانگوں کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔دونوں دل ہی دل میں ایک دوسرے پر رشک کررہے تھے۔جیکب گویا ہوا”میں کوئی ایسا علاقہ دیکھنا چاہتا تھا جو سطح سمندر سے کافی بلند ہو جہاں سونامی کا خطرہ نہ ہو۔بدقسمتی سے سمندر پر پرواز کرتے ہوئے فیول جواب دے گیا۔میں نے پیراشوٹ اٹھا لیا تھا جو صرف ایک ہی تھا۔کودنے سے پہلے میں نے کلارا کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا تھا۔وہ زرد پڑ گئی تھی۔یقین جانو مجھے اس پر بہت ترس آیا تھا۔ میں نیچے کود گیا۔یہ تو اچھا ہوا کہ میرے ساتھ رخ بدلنے والا پیراشوٹ تھا ورنہ جس جگہ میں کودا تھا وہاں سے تیر کر بچ نکلنا ناممکن تھا“ چند لحظے توقف کے بعد وہ دوبارہ بولنے لگا
"میں نے اپنی آنکھوں سے ہیلی کاپٹر کو سمندر میں گرتے دیکھا۔ پیراشوٹ کا رخ میں نے ساحل کی طرف موڑ دیا تھا۔لیکن ساحل بہت دور تھا۔پھر بھی اتنا فاصلہ تھا۔کہ میں بآسانی تیر کر نکل سکتا تھا۔لیکن مصیبت یہ ہوئی کہ ایٹمی آبدوزوں کی لڑائی کی وجہ سے سمندر کا پانی تابکاری کے زیرِ اثر تھا۔میرے پیٹ میں زہریلا پانی داخل ہوگیا تھا۔میں بمشکل ساحل تک پہنچا۔تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا کہ شہر مکمل کھنڈر بن چکا تھا۔مجھے علاج کی اشد ضرورت تھی۔میں ساحل پر بیٹھا نہیں رہ سکتا تھا۔میں دیوانہ وار شہر کی طرف دوڑنے لگا۔شہر سائیں سائیں کررہا تھا۔اچانک ہزاروں مُردوں کے بیچ میری نظر مخصوص لباس اور ماسک پہنے ایک خاتون پر پڑی۔وہ کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔شاید اپنے دوست یا شاید اپنے رشتہ دار۔میں اس کے قدموں میں پڑ کر بے ہوش ہوگیا“

دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ایڈورڈ کا نیند سے برا حال تھا۔وہ دونوں پسینہ پسینہ ہورہے تھے۔ایڈورڈ نے گھڑی کی طرف دیکھا۔گھڑی کی سوئیاں رکی ہوئی تھیں۔وہ وقت کا درست تعین کرنے سے قاصر تھیں۔کلارا کے بارے سوچ سوچ کر ایڈورڈ کا دل ڈوبنے لگا۔اس کی آنکھیں مزید بوجھل ہوگئی تھیں۔جیکب کی حالت اچھی تھی۔وہ گویا بیساکھیوں کے سہارے دوڑ رہا تھا۔ایڈورڈ کو اس کا ساتھ دینا مشکل ثابت ہورہا تھا۔جیکب بولا”وہ ایک زمین دوز لیبارٹری تھی۔میں کبھی ہوش میں آتا تو ایک خاتون کو خود پر جھکے پاتا۔اکثر بے ہوش رہتا۔جسم بری طرح دکھ رہا تھا۔تقریبا دو ماہ تک اس خاتون نے میرا علاج کیا تھا۔میں پوری طرح ٹھیک ہوگیا تھا۔حواس ٹھکانے آگئے تھے۔بعد میں پتا چلا وہ عورت سائنٹسٹ تھی۔پتا نہیں اپنی لیبارٹری میں کیا تجربات کرتی رہتی۔وہ اپنی عمر سے کم نظر آتی۔جسے وہ کسی دوائی کا معجزہ بتا رہی تھی جو اس نے خود ایجاد کی تھی۔وہ لیبارٹری اس نے اپنے پیسوں سے بنائی تھی۔کوئی بہت بڑا کاروبار تھا اس کا۔لیبارٹری زمین کی انتہائی گہرائی میں تھی۔وہاں چند لوگ اور بھی تھے جن کا میرے ساتھ علاج ہورہا تھا۔وہ شاید اس کے رشتے دار تھے۔لیکن بقول اس کے ان میں سے کوئی نہیں بچ سکا۔وہ تابکاری کے ساتھ ساتھ دوسرے زہریلے گیسوں کا بھی شکار ہوگئے تھے۔جبکہ میں ایسے وقت میں اس شہر آیا جب جنگ ختم ہوچکی تھی۔اس لئے دوسری زہریلی گیسوں سے محفوظ رہا“

وہ دونوں اپنے گڑھے سے دور آگئے تھے۔یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا۔اور شاید اسی کے ساتھ متصل سمندر تھا۔لیکن اب کے سمندر، فضا پر اپنا تاثر ڈالنے میں ناکام نظر آرہا تھا۔یہ شاید وہی شہر تھا جس کے پہاڑی علاقے میں ایڈورڈ گرا تھا۔کیونکہ ایک طرف پہاڑ نظر آرہے تھے اور یہ جگہ جانی پہچانی سی لگ رہی تھی۔ایڈورڈ سوچ رہا تھا کہ دو ماہ مسلسل بھاگ دوڑ میں وہ صرف چند کلومیٹر کا فاصلہ ہی طے کر پایا تھا۔شاید وہ شہر کے مضافات میں گول چکر کاٹتا رہا تھا۔یہی وجہ تھی کہ اسے پچھلے دو ماہ میں ہمیشہ ایسے مردوں کا گوشت نصیب ہوا تھا جو حال ہی میں مر گئے تھے۔شاید مضافات اور دیہی علاقے میں تابکاری کا اثر دیر سے ہوا تھا۔

جیکب تباہ شدہ عمارتوں میں سے گزرتا ہوا ایک کھلی جگہ میں آیا۔یہاں ایک چھوٹا سا مکان بنا ہوا تھا جو اب ملبے میں تبدیل ہوچکا تھا۔مکان کے صحن میں ایک جگہ زمین پر ایک بڑا سا تختہ بچھا ہوا تھا۔جیکب نے ایڈورڈ کو اسے سرکانے کا کہا۔ایڈورڈ کی نیند سے بری حالت تھی۔اس نے تختہ سرکایا۔نیچے سیڑھیاں نطر آرہی تھیں۔وہ دونوں سیڑھیاں اترتے چلے گئے۔جیکب بولا۔”یہ لیبارٹری انتہائی گہرائی میں واقع ہے۔دو ماہ میں نے اسی سائنسدان لڑکی کے ساتھ گزارے ہیں۔نیچے اکسیجن کا وافر بندوبست ہے۔اتنا کھانا ہے جو ایک ماہ کیلئے کافی ہے“

ایڈورڈ پوچھنا چاہتا تھا کہ اب وہ سائنسدان لڑکی کہاں ہے۔لیکن غو غاں کرکے رہ گیا۔پختہ فرش پر لکھنا آسان نہ تھا۔وہ دونوں کئی دروازوں سے گزرے۔آخر ایک بڑے ہال میں پہنچ گئے۔وہاں جابجا سائنسی تجربات کیلئے آلات پڑے ہوئے تھے۔مختلف شیشیوں میں مختلف رنگوں کا محلول بھرا ہوا تھا۔ایک طرف دو کمرے بنے ہوئے تھے۔ایڈورڈ ایک کمرے کی طرف بڑھ گیا۔کمرے میں کئی فریزر رکھے ہوئے تھے۔جس میں فاسٹ فوڈ کے علاوہ کئی پیکٹوں میں گوشت بھی محفوظ تھا۔ایک فریزر میں بیئر کی بوتلیں تھیں۔جیکب نے ایک بوتل اٹھائی اور دوبارہ ہال میں آیا۔ہال میں کئی بستر لگے ہوئے تھے۔وہ دونوں ایک بستر پر بیٹھ گئے۔جیکب نے بیساکھیاں فرش پر رکھیں اور بوتل کھول کر اس کی چسکیاں لینے لگا۔سامنے میز پر دو چار نوٹ پیڈز اور قلم رکھے ہوئے تھے۔ایڈورڈ جلدی سے ایک نوٹ پیڈ اٹھا لایا اور اس پر لکھا”اب وہ سائنسدان لڑکی کہاں ہے؟“

جیکب کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ دوڑ گئی۔وہ بولا”جہنم میں ہوگی۔وہ ایک سنکی اور آدم بیزار عورت تھی۔اس کی عمر کسی طرح چالیس سے کم نہ تھی مگر صورت سے بیس سال کی لگتی تھی۔تم کہتے تھے میرے لئے عورتوں میں کوئی کشش نہیں۔لیکن تمہیں پتا ہے وہ مجھ سے محبت کرنے لگی تھی۔اس نے تندہی سے میرا علاج کیا۔ایسا علاج فوجی ہسپتال کے نرسوں نے کسی کا نہیں کیا ہوگا“

ایڈورڈ نے لکھا”یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ باقی انسانوں کے فنا ہونے کی وجہ سے وہ بامرِ مجبوری تم سے محبت کرنے لگی ہو“ جیکب سوچ میں پڑگیا۔واقعی ایسا بھی ہوسکتا تھا.وہ بولا”ہوسکتا ہے تمہاری بات ٹھیک ہو۔جس طرح تم اپنے دشمن سے محبت کرنے لگے ہو اس طرح وہ بھی مجھ سے محبت کرنے لگی ہو۔“ہاف شرٹ میں جیکب کے بازو کی مچھلیاں تھرک رہی تھیں۔جو کہ ملبے تلے آنے کی وجہ سے کئی جگہوں سے چھل گئی تھی۔اور ایڈورڈ نہ چاہتے ہوئے بھی ان مچھلیوں کی طرف دیکھنے پر مجبور تھا۔وہ اس کے بازو کی مچھلیاں کیوں اتنے غور سے دیکھ رہا تھا؟ اس سوال کا جواب اسی تھوڑی دیر بعد مل گیا۔ ایڈورڈ کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھی۔اسے بھوک بھی لگ رہی تھی۔وہ کمرے کی طرف آیا۔فریزر سے پانی کی ایک بوتل نکالی۔اور اسے پینے لگا۔پانی کا ذائقہ اسے عجیب محسوس ہو رہا تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اس ذائقے سے ناآشنا ہے۔ایک بار اسے ابکائی بھی آئی۔اسے یہ معمہ حیرت انگیز لگ رہا تھا۔اس نے بوتل واپس فریج میں رکھی اور ایک پیزا نکال کر واپس ہال میں آیا۔اس نے جیکب کی طرف دیکھا۔بیئر پینے سے اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔وہ بار بار اپنی ٹانگوں پر بے بسی سے ہاتھ پھیرنے لگتا تھا۔ایڈورڈ ایک بار پھر اس کے بازوؤں کی مچھلیوں کی طرف دیکھنے لگا۔پھر وہ اپنا سر جھٹک کر پیزا کی طرف متوجہ ہوا۔پیزا دیکھ کر اس کا جی متلانے لگا۔اسے زور کی ابکائی آئی۔ اور پختہ فرش پر قے کرنا شروع ہوگیا۔اس کی قے میں خون کا عنصر شامل تھا۔جیکب ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا”کیا کر رہے ہو؟۔ادھر ڈسٹ بن میں کرو“جیکب نے اس کے قے سے رخ پھیر لیا تھا۔ایڈورڈ نے پیزا ایک طرف پھینکا اور بے اختیار جیکب کی طرح بڑھنے لگا۔وہ سب سمجھ رہا تھا پر اپنے اختیار میں نہیں تھا۔وہ جیکب کے قریب گیا اور اس کے بازو پر ہاتھ پھیرنے لگا۔جیکب نے اس کی طرف رخ کیا تو حیران رہ گیا۔اس کی حالت بدلی ہوئی تھی۔گنجان داڑھی اور لمبے بالوں میں وہ کوئی درندہ لگ رہا تھا۔جو شاید اس کا گوشت نوچنے کی تیاری کررہا تھا۔اس کے چہرے پر گویا شعلے بھڑک رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد ایڈورڈ لمبی لمبی سانسیں لیتا ہوا میز کی طرف آیا اور نوٹ پیڈ اٹھا کر اس پر کچھ لکھنے لگا۔لکھنے کے بعد اس نے وہ پیڈ جیکب کے سامنے کیا۔تحریر پڑھ کر جیکب کے ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑنے لگی۔اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔وہ ٹانگوں سے معذور تھا اور مزاحمت کے قابل نہیں تھا۔نوٹ پیڈ پر ایڈورڈ کی لکھائی صاف نظر آرہی تھی "مجھے انسانی گوشت کی طلب ہورہی ہے۔پلیز مجھے اپنے بازو کا ایک حصہ کاٹ کردو ورنہ میں زبردستی کرنے پر مجبور ہوں گا دوست!“۔ایڈورڈ غیر فطری بھوک کا شکار ہو گیا تھا!!

جیکب پریشان نگاہوں سے ایڈورڈ کو دیکھنے لگا۔اچانک ایڈورڈ نے دونوں بازو اس کے گرد حمائل کر اس کے شانے پر دانت گاڑ دئے۔جیکب ہاتھ پیر مارنے لگا اور ایڈورڈ کو خود پر سے ہٹانے لگا۔تکلیف کی شدت سے اس کی آنکھیں پھٹی پڑ رہی تھیں۔اس کی فلک شگاف آوازوں سے زمین دوز لیبارٹری گونجنے لگی۔تھوڑی دیر بعد ایڈورڈ نے اسے چھوڑ دیا۔اس کا منہ خونم خون رہا تھا۔جیکب تکلیف کی شدت سے بے ہوش ہوگیا اور ایڈورڈ اپنی اس حرکت پر نادم سا زمین پر ڈھے گیا۔وہ ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

جیکب کو جب ہوش آیا تو اس کے شانے پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔زخم سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ایڈورڈ نے نوٹ پیڈ اس کے سامنے کیا۔جیکب نے بوجھل آنکھوں سے نوٹ پیڈ کی طرف دیکھا۔اس پر لکھا تھا”دوست! میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔میں ہرگز ایسا نہیں چاہتا تھا“جیکب ہونٹ بھینچے اس کی طرف دیکھنے لگا۔اسے کچھ کہنا بے سود تھا۔تھوڑی دیر بعد ایڈورڈ نے لکھا”آو ساحلِ سمندر کی طرف چلیں۔شاید کلارا کا کوئی سراغ مل جائے“ایڈورڈ کے دل میں موہوم سی امید اب بھی موجود تھی۔جیکب خود بھی یہاں سے نکلنا چاہتا تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ شاید باہر کوئی ایسی شے مل جائے جس کے ذریعے وہ ایڈورڈ سے جان چھڑا سکے.وہ دونوں باہر آئے اور ساحل کی طرف جانے لگے۔جیکب بمشکل بیساکھیوں کے سہارے چل رہا تھا۔جبکہ ایڈورڈ کا نیند سے برا حال تھا۔تھوڑی دیر بعد جیکب مدھم آواز میں بولا”ایڈورڈ تم جانتے ہو؟ کہ میں ہر ہفتے دو بار سیکس کا عادی رہا ہوں۔اور آج کتنے مہینے ہوگئے ہیں کہ میں نے سیکس نہیں کیا۔ایڈورڈ لگتا ہے میں مرنے والا ہوں۔میری آخری خواہش سیکس کرنے کی ہے“ایڈورڈ خاموش نگاہوں سے اسے گھورنے لگا۔اب یہ نئی مصیبت پیدا ہو گئی تھی۔چند لحظے توقف کے بعد جیکب دوبارہ بولا”تم نے جس لڑکی کا بازو نوچ کر کھایا تھا وہ اسی لیبارٹری کی مالک سائنٹسٹ تھی۔باہر کھلی فضا میں آکر مجھے جنسی بھوک لگی۔حالانکہ وہ مجھ سے محبت کرتی تھی۔لیکن وہ سنکی عورت آمادہ نہیں ہوئی۔اور زور آزمائی میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔میں اس سے ہٹ کر ایک ایک ٹوٹی پھوٹی عمارت کے سائے میں بیٹھ گیا تو وہ عمارت مجھ پر گر پڑی۔شاید میرا ہی انتظار کر رہی تھی“ایڈورڈ کے جسم میں غصے کی ایک لہر دوڑی لیکن اس نے خود پر قابو رکھا۔اس نے زمین پر لکھا”جیکب! تم احسان فراموش ہو“

تھوڑی دیر بعد وہ سمندر کنارے پہنچ گئے۔وہاں ایک لاش پڑی تھی۔چیتھڑوں سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ کسی عورت کی لاش ہے۔کیا وہ کلارا تھی؟ اس سوال کا جواب فی الحال لاینحل تھا۔ اچانک وہ بری طرح چونک پڑے۔سمندر میں ہلچل پیدا ہورہی تھی۔جیکب گبھرا کر بولا”سونامی“۔وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سمندر کے اس مدو جزر کو دیکھ رہے تھے۔یہ شاید کوئی بہت بڑی وہیل مچھلی تھی۔وہیل مچھلی آہستہ آہستہ سمندر کی گہرائیوں سے برآمد ہونے لگی۔ناگاہ وہیل مچھلی کی پشت کسی دروازے کی طرح کھلنے لگی۔ان دونوں کے چودہ طبق روشن ہوگئے تھے۔یہ ایک آبدوز تھی۔

آبدوز کا اوپر حصہ جونہی کھلا۔سفید لباسوں میں ملبوس چند سپاہی ادھ موئے انداز میں اس سے نکل کر سمندر میں گرنے لگے۔ان کی حالت ابتر تھی۔چند ایک بری طرح الٹیاں کر رہے تھے۔ایک بار کھلے دروازے سے کوئی خاتون نظر آئی۔اس کا سر کھلے حصے سے باہر تھا اور نچھلا دھڑ آبدوز کے اندر۔جیکب کے منہ سے سرسراتی آواز نکلی۔”کلارا“

ایڈورڈ دیوانہ وار دوڑتا ہوا سمندر میں کود گیا اور تیر کر آبدوز کی طرف جانے لگا۔آبدوز زیادہ دور نہیں تھی۔تھوڑی دیر بعد وہ ادھ مری کلارا کو گھسیٹتا ہوا ساحل کی طرف آنے لگا۔کلارا کی حالت خراب تھی۔یوں لگ رہا تھا جیسے کئی ماہ آبدوز میں کلارا کا جسم نوچا جاتا رہا ہو۔ وہ دونوں اس کے گرد بیٹھ گئے۔

دور پہاڑیوں سے ایسی آوازیں آرہی تھیں جیسے ہزاروں وحشی مل کر گیت گا رہے ہوں۔وہ دونوں ہڑبڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور پہاڑیوں کی طرف دیکھنے لگے۔دھیرے دھیرے پہاڑ کی چوٹیوں پر سے عجیب الخلقت انسان نظر آنے لگے۔ان کی تعداد بلاشبہ لاکھوں میں تھی۔ایڈورڈ نے کانپتے ہاتھوں سے لکھا”یہ کون ہیں“ جیکب کے منہ سے آواز نکلی”منگول“۔تھوڑی دیر بعد وہ لڑکھڑاتے لہجے میں بولا”مقدس کتابوں میں یاجوج ماجوج کا ذکر تم نے پڑھا ہوگا۔شاید یہ وہ ہوں“ یاجوج ماجوج ہر شے کو مارتے کاٹتے آرہے تھے۔
اچانک جیکب پر ہذیانی کیفیت طاری ہوگئی وہ چیخ کر بولا”ایڈورڈ دور ہٹو کلارا سے۔میری آخری خواہش یہی ہے کہ مرنے سے پہلے کلارا سے ملوں“ایڈورڈ غصے اسے گھورنے لگا۔وہ سوچ رہا تھا کیا آخری انسانوں کی بیچ انسانی تہذیب کی ان آخری لمحات میں زن کی خاطر لڑائی بپا ہونے کو ہے؟ زر اور زمین کی وجوہات ختم ہوچکی تھیں۔لیکن ایک وجہ ابھی رہتی تھی۔جو انسانی تہذیب کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتی تھی۔جیکب کا انداز اسی طرف اشارہ کر رہا تھا۔شور بڑھ رہا تھا۔وہ دھیرے دھیرے کلارا کی طرف بڑھنے لگا۔ایڈورڈ سوچ رہا تھا کیا وہ آخری انسان کو اپنی خواہش پوری کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔اس کا سر اثبات میں ہلنے لگا۔جیکب نے ایڈورڈ کو مطمئن انداز میں بیٹھا دیکھا تو اس کا حوصلہ بڑھ گیا۔اس نے پوچھا”ایڈورڈ تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟“

ایڈورڈ نے بند پپوٹوں کے ساتھ لکھا”میں خوب نیند کرنا چاہتا ہوں اور اٹھنے کے بعد خوب باتیں کرنا چاہتا ہوں“۔کلارا کسمسانے لگی تھی۔تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دی۔وہ بڑبڑا رہی تھی۔اس کی آواز نقاہت بھری تھی”تم …کون.. ہو؟…آبدوز میں.. اکسیجن.. ختم ہوگئی تھی۔انہوں نے… آلودہ سمندر ..سے…اکسیجن کشید..کرنے والا سسٹم …آن کیا تھا…مجھے بچاؤ“
جیکب اس کے قریب بیٹھ کر اس کا لباس تار تار کرنے لگا۔کلارا پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔”تم…کون ہو..دور ہٹو…..میں تکلیف میں ہوں“

ایڈورڈ کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔وہ تسلی کا ایک لفظ بولنے سے قاصر تھا۔ایڈورڈ آخری انسان کی خواہش میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتا تھا۔نیند سے اس کی آنکھیں بوجھل ہورہی تھیں۔وہ زمین پر ڈھے گیا۔اس کا منہ خاک آلود ہورہا تھا۔وہ کلارا کی چیخیں سن رہا تھا۔اس نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا۔جیکب کی آواز سنائی دے رہی تھی۔اس کی آواز میں دہشت جھلک رہی تھی”کلارا! میں آدم ہوں اور تم حوا۔وہ دونوں بھی اکیلے تھے ہم بھی اکیلے ہیں۔فرق بس اتنا ہے کہ وہ دنیا کی ابتداء میں تھے اور ہم انتہاء میں“

یاجوج ماجوج قریب آگئے تھے۔ایڈورڈ نے جیب سے چھوٹی سلاخ نکالی اور زمین پر کچھ لکھنے لگا۔یاجوج ماجوج کے قدموں سے زمین لرزنے لگی تھی۔وہ بے ہنگم چیخیں مار رہے تھے۔انہوں نے پل بھر میں ان تینوں کی تکا بوٹی کردی۔اچانک ان میں سے ایک کی نظریں زمین پر لکھے حروف پر پڑی۔وہ چیخ چیخ کر باقیوں کو بتانے لگا۔ایک بوڑھا آدمی جس کے چہرے سے تجربہ چھلکتا تھا آگے آیا اور زمین پر لکھے حروف پڑھنے لگا۔تحریر پڑھ کر اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔باقی وحشی چیخ چیخ کر اس سے حروف کا مطلب پوچھنے لگے۔لیکن اس نے انہیں من گھڑت معنی بتا کر مطمئن کردیا۔اصل حقیقت وہ سمجھتا تھا۔زمین پر لکھے لفظ اس کے دماغ میں گونج رہے تھے”اے نئی تہذیب والوں! اپنی ابتداء جنگ اور خون سے نہ کرنا ورنہ تمہاری تہذیب بھی مٹ جائیگی جیسی ہماری تہذیب فنا ہوگئی“۔اور وہ خون سے ابتداء کرچکے تھے!!!