بلاگ صحت معلومات

دوران حمل پیدا ہونے والے 6 مسائل جو خطرہ کی علامت ہیں

حمل اکثرخواتین کے لئے قدرتی جسمانی عمل ہو سکتاہے تاہم زیادہ تر خواتین کے لئے ان کی پہلی پریگننسی کی مدت تیزی سے بدلتی ہوئی علامات کے پیش نظربے چینی اور غیریقینی صورتحال ہوتی ہے۔یہ بات جان لیں کہ نئے جذبات اورخدشات صرف حمل کاایک حصہ ہیں۔بہت سے جوڑے معمولی مسائل پربہت زیادہ تناؤ کاشکار ہوجاتے ہیں۔اوراس کشیدگی میں خاندان ،دوستوں اور یہاں تک کہ اپنے ڈاکٹرکو بھی مبتلاکر دیتے ہیں۔ اکثرمعالج اپنے مریضوں کی شکایت کرتے نظرآتے ہیں کہ وہ معمولی معاملات میں بھی ڈاکٹرسے رجوع کرتے ہیں۔وہ ڈرتے ہیں کہ انھیں نظرانداز کیاجا رہاہے اور ان کامعاملہ سنجیدہ ہے۔حمل کے دوران خواتین کوذہنی طورپر تیارکیا جاتاہے۔کسی بھی خطرے کی نشاندہی کے بارے میں انھیں بہترمعلومات فراہم کی جاتی ہیں لیکن پہلی پریگننسی میں سب کچھ مشکوک اورخطرناک محسوس ہوتاہے۔ ذیل میں پریگننسی سے متعلق خطرے کے کچھ غلط الارم درج ہیں جوضرورت سے زیادہ تشویش کاسبب بنتے ہیں:

1۔اندام نہانی سے معمولی خون آنا: اگرایسامحسوس ہوتوخواتین خوفزدہ ہوجاتی ہیں ضروری نہیں کہ معمولی بلیڈنگ کانتیجہ مس کیرج ہی ہو۔حمل کے پہلے مرحلے کے دوران معمولی بلیڈنگ یادھبہ آسکتاہے۔یہ اضافی محنت،وزن اٹھانے یاجنسی تعلقات کی وجہ سے بھی ہوسکتاہے۔معمولی دھبہ کونظراندازکیاجاسکتاہے لیکن اگربہت زیادہ بلیڈنگ ہوتو فوری طورپر ڈاکٹرسے رابطہ کرناچاہئے۔

2۔بخار: حاملہ خواتین کواکثربخارکی شکایت رہتی ہے۔وہ نہ صرف اپنے بچے کوجراثیم منتقل ہونے سے ڈرتی ہیں بلکہ خواتین کی اکثریت کسی بھی قسم کی ادویات لینے سے گریزکرتی ہیں۔جس کی وجہ سے ان کی بیماری طویل ہوجاتی ہے اوروہ لمبے عرصے تک طبیعت خراب محسوس کرتی ہیں۔سچائی تویہ ہے کہ دوران حمل ادویات کے استعمال سے بچناچاہئے۔اس میں اینٹی سوزش اورالرجی شکن دوائیں(ہسٹامائن کے اثرات کوکم کرنے والی ادویات)محفوظ طریقے سے لی جاسکتی ہے۔

3۔سردرد: یہ ایک حقیقت ہے کہ دوران حمل شدید سردردپری ایکلیمپسیا(وضع حمل کے دوران بے ہوشی )طاری ہوتی ہے جس کی وجہ ہائی بلڈ پریشر ہوسکتی ہے۔لیکن زیادہ ترکیسزمیں سردرد صرف ایک سردردہی ہوتاہے۔جوعام طورسے تھکاوٹ اورکشیدگی کی وجہ سے ہوتاہے۔اس سردردکوموثرطریقے سے منظم کیاجاسکتاہے۔

4۔کنٹرکشنز: حمل کے اختتام پرلیبرپین شروع ہوتے ہیںاس سے پہلے ہونے والے پین طبی طورپرغلط تصورکئے جاتے ہیں۔جواکثرغلطی سے رونما ہوسکتے ہیں۔وقت سے پہلے ہونے والے لیبرپین وقت پرہونے والے پین سے مختلف ہوتے ہیں۔وقت پرہونے والے دردوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیز ہوتے جاتے ہیں۔وہ باقاعدگی سے ہوتے ہیں اوروقت کے ساتھ ان میں شدت آتی جاتی ہے۔وقت سے پہلے ہونے والے دردکی ایک شناخت یہ بھی ہے کہ وہ حرکت یاپوسچرکی تبدیلی سے ٹھیک ہوجاتے ہیں جبکہ حقیقی دردبرقراررہتے ہیں۔

5۔درد : دردہمیشہ مریض کے لئے تشویشناک ہوتے ہیں خاص طورپراگریہ حمل کے اختتام پرہوں تو،کیونکہ یہ لیبرکی پیش روی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔حاملہ خواتین کومشورہ دیاجاتاہے کہ وہ قدرتی طورپرہونے والے دردپر خصوصی توجہ دیں۔اگرسامنے کی طرف تکلیف محسوس ہوتی ہے مثلاً ماہانہ درد کی طرح تواس کامطلب یہ فالز لیبرہیں۔دوسری طرف اگردردیادباؤ پیچھے کی طرف سے ہواوربڑھ کرآگے کی طرف آتاہوتویہ درد حقیقی لیبرکی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایام رمضان کو قیمتی بنائیے۔۔۔!

6۔پانی کااخراج؛ پانی کی تھیلی کاپھٹنالیبرکی ایک یقینی نشانی ہے۔لیکن یہ جانناضروری ہے کہ یہ پانی ہی ہے یاکچھ اور؟رطوبتوں کے راستے ڈسچارج یایہاں تک کہ پیشاب بھی پانی کی تھیلی کے پھٹنے کی الجھن کاسبب بن سکتاہے۔جومریض اچھی طرح سے باخبرہوتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پانی کی تھیلی پھٹنے کااحساس کیساہوتاہے۔جیسے اندام نہانی سے مستقل پانی کااخراج یااچانک تیزی سے پانی بہنا۔
بچہ کی پیدائش ماں اورباپ دونوں کے لئے ہی کشیدہ صورتحال ہوتی ہے۔اچھے ڈاکٹرجسمانی اورنفسیاتی کشیدگی کی اس حالت کوسمجھتے ہیں۔یہ مریض کودوران حمل ہونے والی جسمانی تبدیلیوں اورخطرناک علامات کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے وقت نکالتے ہیں جنھیں جلد ازجلد طبی طورپرحل کرناضروری ہوتاہے۔ اگرماں کوتمام پہلوؤں کے بارے میں تعلیم دے دی جاتی ہے تووہ اپنے آپ کوغیرضروری پیچیدگیوں سے بچالیتی ہے۔حمل کالطف اٹھانے میں اس کی مد دکریں اوراسے بھی ایک قدرتی جسمانی عمل کی طرح سمجھیں جیساکہ یہ ہے۔