ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

بہاولپور کے دو خوبصورت انسانوں کی خودکشی کی کہانی

بہاولپور یونیورسٹی کے دو خوبصورت نوجوان شائن اسٹار ہوٹل میں گئے، کمرہ بک کیا، طالبعلم نے سب سے پہلے اپنی محبوبہ کو گولی ماری، اس کے بعد خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کردیا۔ دونوں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طالبعلم تھے، لڑکی کا نام انوشہ مشتاق تھا، لڑکے کا نام اویس شیخ تھا۔ دونوں خوبصورت پھول شادی کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے گھر والے اور یہ ابنارمل سماج اس شادی پر رضامند نہ تھا، اسی وجہ سے دونوں نے خودکشی کرلی، ہوٹل کے کمرے سے پسٹل کی گولیوں کے خالی خول اور دو خوبصورت نوجوانوں کی لاشیں ملی۔ اویس شیخ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک زہین، ٹیلنٹڈ، اسمارٹ اور خوبصورت نوجوان تھا، صوفی ازم جیسے نظریئے سے وابستہ تھا، صوفی ازم وہ نظریہ ہے جو عشق و محبت کا درس دیتا ہے۔ وہ ایک لڑکی انوشہ مشتاق سے عشق کر بیٹھا، لڑکی کو بھی لڑکے سے بے انتہا محبت تھی، اب ایسا معاشرہ جہاں عشق و محبت کو گناہ سمجھا جاتا ہے، جہاں عشق کو سب سے بڑا جرم سمجھا جاتا ہے، ایسے سماج میں یہ دونوں عشق کی مستی میں بدمست تھے، اس لئے محبت کا ایسا دردناک اور خوفناک انجام تو ہونا ہی تھا۔ جہاں سیکس اور محبت کے حوالے سے کونسلنگ نہیں ہوتی، ایسے ظالم سماج میں اس طرح کے خوبصورت پھول خودکشی تو کریں گے۔ اگر دونوں بچوں کے خاندان شادی پر آمادہ ہوجاتے تو یہ خودکشی نہ کرتے، لیکن خاندان اور سماج کو تو اپنی انا اور غیرت کی فکر ہوتی ہے، معصوم محبت کرنے والوں کی کسی کو کیا پرواہ؟ جب ایسی صورتحال ہو تو محبت کرنے والے ایک دوسرے کو قتل ہی کرتے ہیں۔ کچھ ماہ قبل لڑکی والوں نے لڑکے پر یہ مقدمہ بھی کیا تھا کہ اس نے ان کی لڑکی کو اغواٗ کیا تھا، لیکن لڑکی نے بھری عدالت میں بیان دیا تھا کہ کسی نے اس کا اغواٗ نہیں کیا، لڑکی اور لڑکے والوں کو اس کے بعد سمجھ جانا چاہیئے تھا اور شادی کر دینی چاہیئے تھی، لیکن جاگیردارانہ زہنیت کا کیا ہوتا؟ سماج، والدین، تعلیم نظام کی وجہ سے دو جوان جانیں چلی گئیں، لیکن پاکستانی میڈیا میں اس خبر کو اہمیت ہی نہیں دی گئی، میرے دوست سلمان علی نے یہ سارا واقعہ فون کرکے مجھے بتایا ہے، سلمان کا کہنا ہے کہ یہ بہت ہی افسوسناک، دلخراش اور خوفناک واقعہ ہے، میڈیا میں اس پر پروگرام ہونے چاہیئے تھے، تاکہ نوجوان بچوں اور بچیوں کی کونسلنگ ہو سکے، لیکن یہاں تو کسی چینل نے اس خبر پر ایک نیوز پیکج تک نہیں چلا یا۔ ان کے لئے ایسی خبروں کی کیا اہمیت۔ وہ بچہ جو محبت اور عشق کا پیغام پھیلا رہا تھا، جو شاعر بھی تھا، سنگر بھی تھا، جسے بابا بلھے شاہ اور مولانا رومی کے خیالات سے محبت تھی، کیوں اس نے اپنی اور اپنی محبوبہ کی جان لے لی؟ اس طرح کے ایشوز کے حوالے سے یونیورسٹی سے لیکر میڈیا تک بحت و مباحثہ ہونا چاہیئے؟ لیکن کیا ایسا ہوا؟ کائنات کے دو خوبصورت پھول قتل ہو گئے، لیکن کسی کو پرواہ ہی نہیں، میڈیا، سماج، تعلیمی درسگاہیں سب خاموش؟ سلمان علی بہاولپور میں بیٹھ کر خون کے آنسو رو رہا، اس کا دل دکھا ہوا ہے، جب سے اس نے مجھے یہ واقعہ سنایا ہوا، میرے آنسو ہیں کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ سلمان کے مطابق اس نے اویس شیخ اور انوشہ کے فیس بک اکاونٹس پر تحقیق کی ہے، ان فیس بک اکاونٹس پر ایسے پیغامات، شعر و شاعری اور صافیانہ کلام نظر آیا جس سے یہ واضح نظر آرہا تھا کہ دونوں بچے مایوس ہیں، زندگی سے تنگ ہیں، ان میں خودکشی کی علامات اور رحجان واضح نظر آرہے تھے ہے، سلمان کے مطابق کاش والدین، سماج اور ان کے ٹیچرز ان کے اس طرح کے رحجانات کو پہلے سے ہی پرکھ لیتے اور وقت پر ان کی کونسلنگ کردی جاتی تو ایسا نہ ہوتا۔ سلمان بھائی یہاں معلوم نہیں کس دنیا میں رہتے ہیں، جو انکار کرچکے، جو دونوں پر مقدمہ بازی کر چکے، جن میں غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہو، جہاں انتہا پسندی اور تشدد پسندانہ رویوں کا راج ہو، وہاں کیسے ان معصوم پھولوں کے جذبات کو فیس بک پر سمجھا جا سکتا تھا۔ بس میرے پاس کہنے کو اور کچھ نہیں۔

 

خودکشی سے چند دن پہلے اویس شیخ کی فیس بک پر کی گئی ایک پوسٹ

 

زیادہ پی لی تھی جو کل شام کا منظر ناچا

یا پھر ایسا ہے کہ اندر کا قلندر ناچا

اب تلک چھنن چھنن چھن کی صدا آتی ہے

کون “بُلھا” تھا جو اس رُوح میں آ کر ناچا

۔

اُس نے یکبار جو محفل میں اُٹھائی پلکیں

دستِ ساقی، کبھی بوتل، کبھی ساغر ناچا

دھڑکنیں وجد کُناں ہو کے ہوئیں چُپ ایسے

جب مِرے دل پہ مِرے یار کا خنجر ناچا

۔

دیکھ کر ضبط مِرا دَشت نے پاؤں پکڑے

پِھر مِری پیاس پہ کہتے ہیں سمندر ناچا

یار نے دیکھ لیا ثاقبؔ دلِ خستہ کو

پھر یہ پاگل سرِ محفل سرِ محشر ناچا

 

تحریر اجمل شبیر

تبصرے
Loading...