ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

دو جاسوس, دو آپ بیتیاں اور دو ردعمل

تقریباً 1949ء میں مشہور امریکی ادیب، جارج اورویل نے اپنے ایک مشہور زمانہ ناول ’’1984‘‘ میں جس عالمی آمرانہ و استبدانہ حکومت کا تصور پیش کیا تھا، دور حاضر میں امریکی حکمران طبقہ اسے شدومد سے اپنا چکا ہے۔بلکہ دن بہ دن امریکی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی اور خود کو ہر حالت میں درست ثابت کرنے کی کوششیں مزید بڑھ رہی ہیں۔

امریکہ ایک براعظمی ملک ہے مگر سب سے زیادہ ڈر اس کو وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیاء ہی میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں صرف ایک ملک پاکستان سے ہے جو مستقبل بعید میں اسکو شدید مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔ماضی قریب اور ماضی بعید میں باوجود بے شمار بوبی ٹریپ بچھانے کے پاکستان امریکہ کی داڑھ کے نیچے نہیں آیا۔

حالانکہ قرین قیاس بلکہ ہمارے اکثر معزز اور سینئر اینکرپرسنز و صحافی دیگر غیر ملکی صحافیوں کی طرح مثلاََ حامد میر, روؤف کلاسرا, ابصار عالم, طلعت حسین, کامران خان اور مجیب الحمن شامی وغیرہ وغیرہ اکثر و بیشتر پر وثوق دعوے کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور گورنمنٹ امریکی کنٹرولڈ ہے۔

مطلب ہمارے حکمران اور سیاست دان امریکی آشیر باد اور منشاء سے طاقت میں آتے ہیں ان کا میرٹ اور عوامی انتخاب سے کوئی لینا دینا نہیں۔اگر ان صاحبان اور دیگر غیر ملکی صحافیوں کی اس بات کو مان لیا جائے تو پھر کیا چیز پیچھے رہ جاتی ہے جو امریکہ اور بھارت مل کر بھی اس ملک کی بینڈ نہیں بجا سکے یا نہیں بجا سکتے۔یقیناََ ہماری فوج اور ہماری قلیل سرمائے اور قلیل افرادی قوت والی آئی ایس آئی میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کسی قیمت پر غداروں کو اس ملک کا سودا کرنے نہیں دیتے اور ملک کے اندر اور باہر یکساں سینہ سپر ہیں۔

بہرحال موضوع کی طرف آتا ہوں کہ کل سے سوشل, پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے کہ کوئی دو ٹکے کے امریکی کرائے کے فوجی اور دو پاکستانیوں کے قاتل بھگوڑے ریمنڈ ڈیوس نے اپنی بکواس زندگی اور پیشہ ورانہ غلطیوں کے اعترافات سے بھری اور مرچ مصالحوں سے مزین کتاب “The Contractor” کسی پیشہ ور صحافی کی مدد سے لکھ ماری ہے اور وہ سیدھی آکر ہمارے ایک جناب معزز سینئر صحافی کے اعلی دماغ کے اوپر سخت خول جسے سر کہتے ہیں سے ٹکرائی ہے۔
جناب جب سر پر کتاب جیسی سخت اور بھاری چیز ٹکرائے تو دماغ کا الٹنا اور سمجھ کا محدود ہوجانا ایک فطری اور طبی ردعمل ہے۔

میں ریمنڈ ڈیوس کی کتاب اور انکو فالو کرنے والے دانشوران کی طرف بعد میں آتا ہوں, لیکن اس سے پہلے اپنی چند ایک گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔2013 کا سال ہے۔ایک ماہر اور قابل امریکی سی آئی اے ایجنٹ امریکی خفیہ ایجنسی اور امریکی حکومت کے دنیا, خاص طور پر وسطی ایشیامیں ظلم اور بہیمانہ اقدامات سے دلبرداشتہ ہوکر سی آئ اے کی سترہ لاکھ خفیہ دستاویزات کی نقل لیکر امریکہ کی سر زمین سے فرار ہوکر دنیا کے کئی ممالک میں چھپتا چھپاتا آخر روس میں آکر قیام پذیر ہوتا ہے۔

روس میں داخل ہونے سے پیشتر وہ دستاویزات کو تین الگ گروہوں کو اس وعدے کے ساتھ سونپتا ہے کہ وہ اس کا تجزیہ اور مشاہدہ کرکے وقتاََ فوقتاََ عالمی افق پر ظاہر کریں گے۔اس نے امریکی حکومت کے جو قومی راز انٹیلی جنس خزانے سے اڑائے، اب اس کے پاس نہیں، وہ انہیں روس نہیں لاسکا۔

یہ راز اب تین گروہوں کے پاس ہیں:اول لُک میڈیا جس کے کرتا دھرتا امریکی صحافی گلین گرین اور لارا پوئٹرس ہیں۔ دوم برطانوی اخبار گارڈین اور سوم امریکی صحافی بارٹن گیلمان۔تاہم امریکا میں ایسا کوئی قانون نہیں جس کے ذریعے امریکی حکومت ان گروہوں سے زبردستی اپنے راز واپس لے سکے۔ماہرین کمپیوٹر کا ماننا ہے کہ اس نے ان خفیہ دستاویزات کی نقل اور تلاش جس سافٹ ویئر سے کی وہ ویب کرالر کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس کے چرائے گئے رازوں کی تفصیل خاصی لمبی چوڑی ہے اور وہ ابھی تک منظر عام پر کسی نہ کسی فورم سے آتے رہتے ہیں۔

لیکن ہماری دلچسپی ان رازوں سے ہے جو پاکستان اور اسلام سے متعلق ہیں۔یہ سال 2013 ماہ جون کی بات ہے، پاکستانیوں نے عالم حیرت و پریشانی میں یہ خبر سنی کہ امریکی حکومت دنیائے نیٹ پر وسیع پیمانے پر ان کی جاسوسی کررہی ہے۔جو پاکستانی گوگل، سکائی پی، ایم ایس این براؤزر، یاہو، ایپل وغیرہ استعمال کرتا، وہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ریڈار میں آجاتا۔
تب ایجنسیاں مسلسل باخبر رہتیں کہ فلاں پاکستانی نیٹ یا موبائل پر کس سے ملاقاتیں اور باتیں کررہا ہے،کن ویب سائٹوں پر جارہا ہے اور اس کی کیا سرگرمیاں ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستانیوں ہی نہیں بھارتیوں، ایرانیوں، روسیوں درحقیقت دنیائے نیٹ پر ہر قومیت کے باشندوں پر نظر رکھے ہوئے تھیں اور کسی کو علم نہ تھا کہ ’’بگ برادر‘‘ (ایک خفیہ امریکی کمپیوٹر پروگرام) خفیہ طور پر اس کی سرگرمیاں نوٹ کررہا ہے۔اس کے علاوعہ اس نے امریکی ڈرون پروگرام کی سفاکیت اور قابلیت کے راز بھی فاش کیئے۔
اس کے ان چرائے گئے رازوں کو اولین طور پر مشہور امریکی تفتیشی صحافی جیمز بامفورڈ نے منظر عام پر ظاہر کیا اس ایجنٹ کے فرار کے نو ماہ بعد اسکے ساتھ ایک انٹرویو میں۔جب وہ سی آئی اے چھوڑ کر وہاں سے فرار ہوا تب اسکی عمر 29 سال تھی۔

لوگ اس امریکی تائب ایجنٹ کو جارج ایڈورڈ سنوڈن کے نام سے جانتے ہیں جو مئی 2013 تک ایک سی آئی اے ایجنٹ تھا جس کو ایک عام آدمی کے مقابلے حکومتی مراعات اور زندگی کی ساری آسائشیں دستیاب تھیں۔مگر انسانیت کے ناطے اور ضمیر کی آواز پر اس نے لبیک کہا اور آج امریکہ کو انتہائی مطلوب افراد میں سر فہرست ہے۔اسے امریکہ کی تاریخ کے بدترین غدار کا خطاب مل چکا ہے۔اس پر امریکی قوانین کی رو سے غداری کے مقدمات درج ہیں جن کی سزا صرف موت ہے۔وہ اس وقت روس میں ہے مگر محدود آزادی کے ساتھ۔

امریکہ کے حواس پر وہ اس قدر حاوی ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کی ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق امریکی سی آئی اے نے “سنوڈن سیل” قائم کرلیا ہے جو صرف اس ایک ایجنڈے پر کام کرے گا کہ جارج ایڈورڈ سنوڈن اور اسکی طرف سے چرائے گئے راز کس طرح واپس امریکہ لائے جاسکتے ہیں۔اب بیچارا اسنوڈن پچھلے چار برس سے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ چھپن چھپائی کھیل رہا ہے۔روس نے اسے پناہ دے رکھی ہے، مگر امریکی جاسوس شکاری کتوں کی مانند اس کی بو سونگھتے پھرتے ہیں۔

بعید نہیں کہ اسرائیلی جاسوس جس طرح 1960ء میں جرمن فوجی افسر، ایڈلف ایخمان کو ارجنٹائن سے اغوا کر لائے تھے، اسی طرح سی آئی اے بھی سنوڈن کو روس میں دبوچے اور امریکا لے آئے۔ امریکی حکومت اسے ’’غدار‘‘ قرار دے چکی اور غداری کی سزا موت ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن ایک شرمیلا، بھیڑبھاڑ سے دور رہنے والا نوجوان ہے۔اسے اپنی تشہیر بھی پسند نہیں، اسی لیے دنیا والے کم ہی جانتے ہیں کہ سنوڈن نے دنیا کی اکلوتی سپرپاور سے کیوں ٹکر لی اور اپنی جان خطرے میں ڈال دی؟یہی اہم سوالات جاننے کی خاطر مشہور امریکی انویسٹیگیٹو صحافی، جیمز بامفورڈ ماسکو پہنچا۔وہ اسکے فرار کے بعد نو ماہ سے کوششیں کررہا تھا کہ کسی طرح سنوڈن سے انٹرویو ہوسکے۔وہ لکھتا ہے :’’ جب سنوڈن امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ قومی راز چرا کر فرار ہوا اور روسیوں نے اسے پناہ دی، تو امریکا میں اکثر لوگ یہی سمجھنے لگے کہ وہ روس کا ایجنٹ تھا۔ تاہم یہ الزام محض افواہ ہے۔آج ایڈورڈ سنوڈن کسی ملک کا شہری نہیں اور صرف میڈیا میں ہی اس کا چرچا سننے کو ملتا ہے… بہت کم لوگ اس سے ملاقات کرپاتے ہیں ۔ اس سے بھی کم لوگوں کو علم ہے کہ وہ رہتا کہاں ہے۔ تاہم وہ دنیا بھر میں جمہوریت، شخصی آزادی اور امن سے محبت کرنے والے کروڑوں انسانوں کا محبوب ہیرو بن چکا ہے۔‘‘

یہ تو ہے اس ایجنٹ اس جاسوس کی کہانی جو حق سچ کی آواز اٹھا کر غدار ٹھہرا۔اس کے اپنے لوگوں نے تو اس کو مجرم بناکر اس کی سچی باتوں کو نظر انداز کیا سو کیا لیکن جن (وسطی ایشیاء بلخصوص پاکستان) کا درد محسوس کرکے وہ استبداد سے ٹکرایا اور دربدر ہوا انہوں نے بھی اسکی باتوں کو نظر انداز کردیا اور ان حرکات اور خفیہ رازوں پر جنکی روشنی میں امریکہ کی اسلام اور پاکستان دشمنی واضح ہوچکی ہےامریکہ یا اقوام متحدہ میں ہلکا سا احتجاج بھی نہیں کیا۔

دانشور طبقے اور صحافیوں نے بھی ڈالروں اور امریکی ویزوں والے حکومتی ستو پی لیئے تھے۔عام عوام کا ردعمل بھی کچھ الگ نہ تھا “سانھوں کی؟” کے علاوہ۔اور دوسری طرف ہے ایک امریکی فوج سے نکالا ہوا ذہنی مریض فوجی اور بعد کا کرائے کا فوجی اور بدنام زمانہ تنظیم بلیک واٹر کا ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس۔جو اپنے ملک میں مجرم اور بدنام شخصیت ہے۔جس نے کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا ماسوائے اسکے کہ دو ملکوں میں سفارتی بحران پیدا کیا۔پاکستان اور دیگر ملکوں میں دہشت گردی نیٹ ورک قائم کیا۔

تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی۔دہشت گردی کے واقعات میں براہ راست ملوث رہا۔تخریبی جاسوسی میں ملوث رہا۔دو معصوم نہتے شہریوں کا قاتل ہے۔اور سب سے بڑھ کر ایک ذہنی و نفسیاتی مریض ہے۔جس کا دال دلیا اب ویسے تو چل نہیں رہا ڈھنگ سے تو سوچا ایک ملغوبہ کتاب لکھ ماروں۔اس طرح سے ماند پڑتی شہرت بھی مل جائے گی واپس اور دولت کا ایک ڈھیر بھی حاصل ہوجائے گا آسودگی سے زندگی گزارنے کو۔

چونکہ وہ ایک لمبا عرصہ پاکستان میں رہ کر گیا تھا تو وہ بہت اچھے سے پاکستانیوں کی نفسیات اور سوچ سے واقف تھا کہ کیسی باتیں لکھوں گا جس سے یہ قوم دوبارہ اسکو یادکرنے پر مجبور ہوجائے اور گڑھے مردے نکال کر ان میں روح پھونکنا شروع کردے۔
اس نے جو جو واقعات سکرپٹ کے مطابق لکھے وہ بلکل زبردست ہیں مگر صاحبان سچ وہ نہیں ہوتا جو آپ کو سننے میں بھلا اور مانوس لگے۔

ہماری من حیث القوم یہی بیماری ہے کہ اگر کوئی ہمیں پتھر مارتا ہے تو ہم اسکو پلٹ کر شکریہ ادا کرتے ہیں اور خود ایک اینٹ اٹھا کر اپنے سر پر مارتے ہیں کہ اگر اس نے پتھر مارا ہے تو ضرور پتھر مارنے والی بات ہوگی ورنہ وہ کوئی پاگل انسان تو نہیں ہے نا؟بس پھر اٹھاؤ اینٹ اور پھوڑ ڈالو سر تاکہ پتھر کھانے والی بات ہی نہ رہے۔ایک طرف جارج ایڈورڈ سنوڈن ہے جس نے بے شمار راز افشاں کیئے خاص کر امریکہ کی پاکستان کے ہر شہری کی ذاتیات میں جھانکنے والا راز۔

مگر کسی پاکستانی کو کوئی فرق نہیں پڑا اور نہ ہی ابھی تک کسی کو اس کی تکلیف ہوئی ہے ماسوائے چندے معدودے۔دوسری طرف ریمنڈ ڈیوس ایک قاتل اور دہشت گرد اور عادی مجرم ہے جس نے جو بھی جھوٹ سچ لکھا ہمارے لوگوں نے آمنا صدقنا کیا اور اسکے پتھر کے جواب میں اینٹ اٹھا کر اپنے ہی سر پر مارنی شروع کردی۔کیوں؟

کیوں کہ سنوڈن نے فوج اور آئی ایس آئی پر کیچڑ نہیں اچھالی اس لیئے اس کی بات کی اہمیت کوئی نہیں جبکہ ریمنڈ ڈیوس نے تو بل ہی فوج اور آئی ایس آئی پر پھاڑا ہے تو سارے ڈالریئے مل بیٹھ کر اب اس آگ میں اور تیل ڈال رہے ہیں آگ بھڑکانے کے لیئے۔

کتاب لکھنا یا فلم بنانا حق ہے ڈیوس صاحب کا مگر ناقدین اور ناظرین کو تو اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ ہی مانیں اور رہنے دیں۔جس وقت یہ موصوف دو لوگوں کو قتل کرکے جیل میں قید تھے اس وقت پاکستان کی جمہوریت بہت اچھی پھل پھول رہی تھی اور حکمران اس نشے میں غرق تھے۔فوج اور آئی ایس آئی بھی آئین کی پیروی دل وجان سے کررہی تھی۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ نہ حکمران اور نہ حزب مخالف بلکہ سیدھی فوج اور ایجنسیاں ذمہ دار ہوگئیں اس بلنڈر کی۔

صدر جو کہ طاقت ور ترین صدر رہا ہے پاکستان کا وہ سپریم کمانڈر تھا تو اسکی مرضی اور منشاء کا ذکر ہی ندارد جبکہ ماتحت اداروں کی عزت داغ دار کردی اور بل پھاڑ دیا ایجنسی اور فوج پر۔اس بد بخت نے تو اس منتشر قوم کو بلی کے بھاگوں چھینکا مہیا کردیا لو جو کثر رہ گئی ہے فوج کے خلاف بک بک کرنے کی وہ میری کتاب پڑھ کر پوری کرلو۔

تقسیم کی سیاست کا ایجنڈا ہی یہ ہوتا ہے کہ سب لوگ کچھ کچھ جانتے ہیں مگر سب کچھ نہیں جانتے۔اس کتاب پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اس بات کے بعد کہ امریکی حکومت نے اس کے کچھ ابواب سنسر کیئے ہیں۔مطلب وہ کونسے ایسے باب تھے جن کے اظہار سے امریکی مفادات کو نقصان تھا۔اور یہ بات 100% ثابت ہوگئی کہ اس فتنے کو امریکی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے عین ان دنوں میں جب بھارت اور امریکہ کی دوستی آسمان کی بلندیوں کو چھونے کے قریب ہے۔
کیا پاکستانی کل اس کتاب پر بھی ایسے ہی یقین اور اطمنان کا اظہار کریں گے جو جنرل شجاع پاشا صاحب لکھیں اگر اس ساری بکواس کے جواب میں۔کیا ہو وہ کتاب لکھیں اور اس میں ان سارے بھونڈے الزامات کا رد کردیں؟

اور کیا ہو کہ جیل میں بیٹھا کلبھوشن مرنے سے پہلے ایک کتاب لکھنے کی خواہش بیان کردے اور وہ بھی ریمنڈ ڈیوس کلیے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی مخالف بیانات معرکہ کتاب لکھ مارے تو کیا ہمارا صحافی اور عام آدمی اسکو بھی سچ مان کر فوج کو تختہ مشق بنا لے گا؟میں ہمیشہ ایک ہی بات کرتا ہوں کہ صاحبو عقل نہیں تے موجاں ہی موجاں۔دو جاسوس اور دونوں امریکی۔دونوں کی آپ بیتیاں عوام میں۔مگر ردعمل دو الگ الگ, مطلب حمایتی کے سخت مخالف اور مخالف کے شدید حمایتی۔

یہ بات تو واضح ہوگئی کہ لوگ سنوڈن جیسے حق سچ ییان کرنے والے کو جاننا اور ماننا نہیں چاہتے بلکہ ریمنڈ ڈیوس جیسوں کی بات سننے کو بیتاب رہتے ہیں۔یہ قوم دہشت گردی کا شکار نہیں بلکہ ان کی سوچ دہشت گرد ہے۔جب تک سوچ نہیں بدلے گی یہ ایک دوسرے کو مارتے اور مرتے رہیں گے۔پہلی قوم دیکھی ہے جو دشمن کے وار کے جواب میں خود کو ہی مارنے پر تل جاتی ہے۔
اﷲ پاکستان اور اسکی افواج کی حفاظت فرمائے۔

تحریر: بلال شوکت آزاد

تبصرے
Loading...