بلاگ

دو آپ بیتیاں۔ دو مختلف رویے

ہمارے ملک میں کاروباری طبقہ اکثر پریشان اور حالات کا شکوہ کرتا ہی نظر آتا ہے لیکن یہ جائزہ کم ہی لوگ لیتے ہیں کہ وہ جو کام کر رہے ہیں کیا اس میں ایمانداری اور دیانتداری سے کام لیتے ہیں یا بس پیسے کو خدا بنا کر اسی کی پوجا کر رہے ہیں اور اس کے لئے تمام تر دینی و دنیاوی اخلاقیات کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔۔۔سچائی، حسن اخلاق اور دیانتداری ایسے ٹولز ہیں جن کو اپنانے والا اللہ کی نصرت اور برکت کا مستحق ہو جاتا ہے۔اپنے معاشرے کےدو مختلف رویے آپ بیتیوں کی صورت میں آپکے سامنے تقابل کےلئے پیش کر رہا ہوں۔

ہم نے ایک ماہ پہلے ریل بازار فیصل آباد کے قریب فوم ہاوس سے ایک 6 انچ موٹائی کا گدا 19 ہزار میں خریدا اور استعمال کرنا شروع کر دیا۔ شروع سے ہی ہم 4 انچ والا گدا استعمال کرتے آئے ہیں جبکہ 6 انچ کا یہ پہلا تجربہ تھا جو ہمیں راس نہیں آیا اور بجائے نیند بہتر ہونے کے سوتے میں تھکاوٹ زیادہ ہونے لگی۔ دو روز پہلے ہم نے دوکان پر رابطہ کیا کہ ہم یہ گدا تبدیل کرکے 5 انچ والا لینا چاہتے ہیں ذہن میں یہ تھا کہ کیونکہ ہم اسے ایک ماہ استعمال کر چکے ہیں تو جو کٹوتی وہ لگائیں گے وہ ہم دے کر تبدیل کروا لیں گے۔ یہ بات بھی ذہن میں تھی کہ شاید وہ صاف انکار ہی کر دیں کہ اب تبدیل نہیں ہو سکتا۔ لیکن انکی طرف سے بہت مثبت ریسپانس آیا اور انہوں نے کہا کہ ایک دو روز میں ہم 5 انچ والا گدا بھیج کر یہ واپس منگوا لیں گے اور آپکو صرف رکشہ کا کرایہ ہی دینا پڑے گا۔

جب وہ گدا لے کر ہمارے گھر پہنچے تو تبدیل کرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ آپ کا واپسی والا گدا جو 19 ہزار میں آپ نے لیا تھا اس کا ریٹ اب 20 ہزار ہو گیا ہے اس لئے ہم یہ 20 ہزار میں واپس لے رہے ہیں اور 5 انچ والا 14 ہزار کا ہے لہذا آپ یہ 6 ہزار روپے بھی واپس لے لیں۔ میرے لئے بہت حیرانی کی بات تھی کہ مجھے تو مارکیٹ کے نئے ریٹ کا علم بھی نہیں اور میں ذہنی طور پر کٹوتی کے لئے تیار تھا اور یہ مجھے الٹا نئے ریٹ کے مطابق زیادہ پیسے واپس دے رہے ہیں لیکن ان کے چہرے اور رویے سے نظر آنے والا اطمینان ظاہر کر رہا تھا کہ وہ پیسے کی بجائے خدا خوفی کو اہمیت دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سکون سے کاروبار کر رہے ہیں۔

اب اس کے برعکس دوسرا رخ یہ بھی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے بھوانہ بازار کے ایک الیکٹرک سٹور سے ایک چینج اوور سوئچ شاید چار یا پانچ سو میں خریدا جب گھر آ کر صرف ڈبہ کھول کر الیکٹریشن کو دکھایا تو اس نے بتایا کہ یہ بڑے سائز کا ہے یہ فٹ نہیں ہو سکے گا اسےتبدیل کر کے چھوٹے سائز کا لے آئیں۔ میں نے اسے کہا کہ تم کہیں سے لا کر لگا دو اسکو میں بعد میں بازار کا چکر لگنے پر واپس کر دوں گا۔ چند دنوں بعد بازار جانا ہوا تو اس دوکان پر وہ سوئچ واپس دینے گیا اور دوکاندار سے کہا کہ ہم نے صرف کھول کر دیکھا ہے فٹنگ نہیں کی تو آپ اسے رکھ کر کوئی اور چیز دے دیں تو وہ صاحب کہنے لگے کہ ہم یہ واپس نہیں لیں گے۔

میں نے اسے کہا کہ بھائی آپ تسلی کر لیں یہ ویسا ہی ہے جیسا آپ سے لے کر گیا تھا مگر وہ نہیں مانا۔ میں نے اسکے کاونٹر پر رکھ دیا کہ پھر اسے ویسے ہی رکھ لو کہ میرے تو کسی کام کا نہیں اور دوکان سے واپس نکل آیا۔ جیسے ہی میں دوکان سے نکلا تو اس بندے نے وہ سوئچ اٹھایا اور زور سے میرے پیچھے ہی سڑک پر پھینک دیا۔ بہت تعجب اور افسوس ہوا اس بندے کے اس رویے پر کہ چار پانچ سو کی کیا اوقات ہے لیکن اس نے کسٹمر کی پرواہ نہیں کی نہ ہی اچھے اخلاق سے پیش آیا نہ سوئچ واپس لیا بلکہ الٹا تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک پر دے مارا پھر ہم روتے ہیں کہ کاروبار نہیں چلتا بہت پریشانی ہے بہت مندی ہے لیکن اپنے رویے اور کردار کا خود جائزہ نہیں لیتے کہ ہم صرف نام کے مسلمان ہیں لیکن کردار میں اسلام سے کوسوں دور ہیں

تحریر بشارت حمید

 

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment