بلاگ کالمز

ڈسپوزیبل لوگ

میرا ایک دوست قدرے وہمی انسان ہے، وہ ہر ایک بات پر بلاوجہ شک کرتا ہے۔ اس کے ذہن میں کوئی بات اٹک جائے تو نکلنا محال ہے۔ اس کی بے یقینی اور وہم کا یہ عالم ہے کہ اگر کبھی باہر چائے پینے جائیں تو یہ صاحب بجائے اس کے کہ عام کپ میں چائے پئیں، ہمیشہ پولی اسٹائیرین کے ڈسپوزیبل کپ میں چائے پیتے ہیں اور اس بات کی یہ منطق پیش کرتے ہیں کہ عام کپ نجانے کن کن لوگوں کے منہ سے ہو کر گزرا ہو؛ اور یہ ویٹر ان کپوں کو ٹھیک طرح دھوتے بھی ہوں کہ نہیں۔ لہذا یہ کپ میرے دوست کی نظر میں جھوٹے ہوتے ہیں اور ان میں چائے پینا اس کے اصولوں کے خلاف ہے۔ پھر چاہے ڈسپوزیبل کپ میں چائے پینے سے اس کا منہ جلے یا چائے میں وہ سہولت باقی نہ رہے۔

پچھلے دنوں میری نظروں سے ایک رپورٹ گزری جس میں یہ کہا گیا تھا کہ دنیا بھر میں پولی اسٹائیرین مصنوعات پر پابندی عائد کی جا رہی ہے اور کئی ممالک میں اس کا اطلاق بھی ہو چکا ہے۔ ان مصنوعات پر پابندی کی دو وجوہ ہیں: ایک یہ کہ ان کے استعمال کے بعد انہیں تلف کرنا بے حد مشکل کام ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اگر پولی اسٹائیرین کی ان مصنوعات پر پابندی نہ عائد کی گئی تو ہوسکتا ہے کہ اگلے کچھ سال تک سمندر میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک کے یہ استعمال شدہ ہوں کیونکہ انہیں تلف کرنا آسان نہیں۔دوسری وجہ ذرا گھمبیر ہے، اور وہ یہ کہ پولی اسٹائیرین مصنوعات کا استعمال انسانی صحت کےلیے مسائل پیدا کرتا ہے جن میں سرفہرست کینسر ہے۔ یعنی ان مصنوعات سے انسان کو کینسر لاحق ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں بھی اس مسئلے پر غور کیا جا رہے۔یہ رپورٹ پڑھتے ہی میری سوچ اپنے اس دوست کی طرف گئی جو عام پیالیوں پر پولی اسٹائیرین کے مضرِ صحت کپ کو ترجیح دیا کرتا ہے۔ جب اس کے علم میں ڈسپوزیبل کپ کی حقیقت آئے گی تو ان ’’صحت دشمن‘‘ کپوں کے سامنے اس کا جھوٹے کپوں والا بہانہ کتنا چھوٹا پڑ جائے گا۔ پھر شاید وہ اور بے یقین ہوجائے اور مزید وہمی ہو جائے۔ہم لوگ بھی میرے اس دوست کی طرح وہمی اور بے یقین ہوتے ہیں۔ ہم کھرے لوگوں کا یقین ہی نہیں کرتے، ان کے ساتھ چلتے ہی نہیں۔ ان کے بجائے ہم ڈسپوزیبل لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں، وہ لوگ جو ہماری خوشامد کرنا جانتے ہوں اور بلا وجہ ہماری تعریف کرتے ہوں۔ لہذا ہمیں ایسے ہی لوگ پسند آتے ہیں۔

اس کے برعکس وہ لوگ جو آئینے کی مانند ہو تے ہیں، جو سچ کہتے ہیں اور سنتے ہیں، جو خوشامد نہیں جانتے ہوتے، وہ لوگ ہماری نظر میں ’’جھوٹے‘‘ ہوتے ہیں۔ ہم انہیں کبھی کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ لیکن جیسے ہی ہم حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں، جوں ہی ہم پر ان خوشامدی لوگوں کا راز کھلتا ہے، جیسے ہی ان ڈسپوزیبل لوگوں سے ہمارا منہ جلتا ہے اور ہم منہ کے بل گرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ کینسر زدہ ہیں اور ان کے ساتھ انسان اندر سے بیمار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

انسان کے سمندر میں مچھلیوں سے زیادہ یہ ڈسپوزیبل لوگ بھر جاتے ہیں اور انسان کےلیے اندر کے سمندر کی صفائی ناممکن سی ہوجاتی ہے۔ہم اور بے یقینی کی کیفیت میں داخل ہو جاتے ہیں اب ہم نہ اِس پار کے رہتے ہیں نہ اُس پار کے۔ ان ڈسپوزیبل لوگوں کی وجہ سے ہمارے اندر کا سمندر اس قدر گندا ہو چکا ہوتا ہے کہ کوئی بھی صفائی پسند انسان ہمارے ساحل پر سیر کو نہیں آتا۔ لوگ دور سے ہمارے گندے سمندر کو دیکھ کر اپنا راستہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ اس لیے ہم اندر ہی اندر سے کھوکھلے ہونا شروع ہوجاتے ہیں، ہمارا اندر ویران ہوجاتا ہے۔یہ لوگوں کی صحبت ہی ہے جو انسان کی معاشرتی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اچھی اور بہترین صحبت انسان کو بہترین راستے کی طرف لے جاتی ہے اور بری صحبت انسان کو برا بناتی ہے۔ بری صحبت میں رہتے ہوئے انسان لاکھ چاہے،

مگر اپنے آپ کو سنوار نہیں سکتا۔ سیدھے راستے پر چاہتے ہوئے بھی اپنی زندگی کو چلا نہیں سکتا۔ بری صحبت انسان کو برائی کے ایک خول میں قید کیے رکھتی ہے۔اس کے برعکس اچھی صحبت میں ایک طلسماتی عنصر موجود ہے۔ انسان خود بخود سیدھے راستے پر چلنے لگتا ہے۔ آپ کے ساتھ چلنے والا دوست اگر مخلص اور کھرا ہے تو یہ آپ پر آنے والی ہر مصیبت میں آپ کے ساتھ ہوگا۔ یہ آپ کا یار غار ہوگا۔ آپ کو برائی سے روکے گا اور جو اپنے لیے پسند کرتا ہوگا، آپ کےلیے بھی وہی پسند کرے گا۔ اسی لیے شاید بہترین دوست زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ اور اگر آپ کو مخلص دوست میسر ہے تو آپ دنیا کے مالدار شخص ہیں۔