اُردو صفحہ فیس بُک پیج

کالمز

دِل کا سجدہ

گھوڑوں کی ریس میں ایک گھوڑااپنی طاقت اور کوشش سے اول نمبر پر آکر ریس جیت لیتا ہے جبکہ ایک گھوڑا وہ ہوتاہے جو اول آنے والے گھوڑے کے پیچھے اور باقی گھوڑوں سے آگے ہوتا ہے ،انگریزی میں جس کو Runner upکہا جاتا ہے۔اس گھوڑے کی ذہنی حالت ، جذبہ او ر کوشش سب سے منفرد ہوتی ہے۔وہ اپنی پوری جسمانی قوت،ذہنی فوکس ، توجہ اورجنون میں ساری دنیا کو بھلا دیتا ہے۔وہ اِردگِرد سے بے پرواہ اپنا مقصد پانے میں اس قدر محو ہوتاہے کہ اس وقت دنیا کی بہترسے بہترین چیز بھی اس کو اپنے مقصد سے نہیں ہٹاسکتی ۔وہ اپنا ایک سٹیٹ آف مائنڈ بناکر ساری چیزوں سے بے نیاز ہوچکا ہوتاہے او روہ سٹیٹ آف مائنڈ(ذہنی کیفیت) یہ ہوتی ہے کہ میں نے ہر حال میں جیتنا ہے۔عربی میں اس گھوڑے کو ’’مصلی‘‘ اور اس کی ذہنی کیفیت کو ’’صلا‘‘ کہا جاتا ہے ۔

شیر جب شکار کرنے نکلتا ہے تو چند منٹوں میں شکار کا فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ سب سے وہ پہلے ریکی کرتا ہے ، پلاننگ کرتا ہے اور پھرباقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے ہنر،طاقت اور پھرتیلے پن کو جسم میں جمع کرکے پوری قوت سے حملہ کرتاہے۔جب وہ شکار کو دیکھ کر اس کی طرف دوڑتا ہے تو اس وقت وہ بھی ’’مصلی‘‘ گھوڑے کی طرح اُس کیفیت میں ہو تاہے کہ میں نے ہر حال میں شکار کو دَبوچنا ہے ۔اس دوران جیسے بھی حالات آجائیں وہ اپنے شکار کو نہیں چھوڑ سکتا۔
ان مثالوں کے سمجھنے کے بعد یہ سمجھیے کہ نماز جس کو عربی میں ’’صلوٰۃ‘‘ کہا جاتاہے ،یہ لفظ صلوٰۃ اسی ’’کیفیتِ صلا ‘‘سے نکلا ہے ۔ ’’صلا‘‘ کی عملی شکل ’’صلوٰۃ‘‘ ہے ، جس کا مطلب ہے اپنی ذہنی ، قلبی اور جسمانی فوکس اور توجہ کے ساتھ اللہ کے سامنے پیش ہونا ، اس کے قانون اور احکامات کو ماننا اور اس کے سامنے سرنڈرہونا ۔قرآن و حدیث میں بے شمار مقامات پر نماز کی تاکید آئی ہے اور یاددہانی کے لیے دِن میں پانچ بارنماز کا حکم دیا ہے۔ اسی سے استدلال کرتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ زندگی میں جو بھی سبق ضروری ہوگا وہ پانچ بار ہوگا۔ صلوٰۃ یعنی نمازکا حکم دراصل یہ ہے کہ وہ ’’ذہنی کیفیت‘‘ پیدا کی جائے جو ہم نے ماقبل میں ذکرکی،مگربدقسمتی سے ہم اس کیفیت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔ اللہ کے حکم کا منشاء یہ ہے کہ مومنین وہ ’’سٹیٹ آف مائنڈ‘‘ قائم کرکے نماز پڑھیں جو نماز کی اصل روح ہے۔اس روحانی کیفیت کے بعد مومنین اپنی راہ سے بھٹکتے نہیں اور نہ ہی وہ گمراہ ہوتے ہیں ۔

جب بھی آپ نے کسی لفظ کے معنی کو لینا ہو تو اس ڈکشنری اور علاقے سے لینا ہوگا جہاں وہ پیدا ہوا ہے۔اگر کسی اور زبان و علاقے کے لفظ کو ہم اپنی مقامی زبان میں سمجھنے کی کوشش کریں گے تو وہ درست طریقے سے سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اصل مخرج و ماخذ کو دیکھنا لازمی ہوتاہے۔نمادر اصل ’’صلا‘‘ ہے اور ’’صلا‘‘ وہ ذہنی کیفیت ہے جس کو نماز کے دوران اورنماز کے باہر بھی قائم رکھنے کا حکم ہے ۔اس کیفیت کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے خالق کو نہ بھولے۔ سٹیٹ آف مائنڈ ہونے کے ساتھ یہ حالتِ قلب بھی ہے کہ میں اپنے دل و دماغ سے یہ بات مان لوں کہ ایک ذات ایسی ہے جو حاکم اعلیٰ ہے اور میں اس کا محکوم ہوں ۔ایک ذات ایسی ہے جو عباد ت کے لائق ہے اور میں اس کی پوجا کرتا ہوں ۔ایک ذات ایسی ہے جس کے کسی بھی حکم کو میں عقل سے پرکھ نہیں سکتا۔اس کے احکامات کا نام وحی ہے جو انسانی علم و دانش اور عقل سے بالا چیز ہے ۔جس پر کوئی سوالیہ نشان نہیں ہے بلکہ ہر صورت اس پر اعتماد کرنا ہے ۔کلمہ پڑھنے کے ساتھ مومن اس بات کا بھی اقرار کرتا ہے کہ میں اپنے رب پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی پر دلی اعتما د کرتاہوں کیونکہ اعتمادِ ذاتِ رسول ﷺ ہی ایمان کی بقاء کی اولین شرط ہے۔ایک سوال ذہن میں یہ اٹھتا ہے کہ دین اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے عربی زبان اور سرزمینِ عرب کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا؟

اس کی دو وجوہات تھیں ، پہلی وجہ توان لوگوں کی زبان تھی ۔ عربی زبان اپنی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے باقی زبانوں سے ممتاز تھی ۔ایک آسمانی شریعت کے لیے اس وقت عربی سے زیادہ موزوں زبان نہیں تھی جو وحی کے احکامات کووقت کے تقاضوں کے مطابق پورا کرتے ہوئے انسانیت تک پہنچاتی ۔اس کی فصاحت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ فقط اونٹ کے لیے اس میں سو سے زائد نام ہیں ، تلوار اور گھوڑوں کے لیے بھی بے شمار نام استعمال ہوتے ہیں ،حتی کہ اگر کسی مجلس میں پچاس افراد مختلف انداز میں بیٹھے ہوں توہر فرد کے بیٹھنے کے انداز کے لیے الگ الگ نام ہے۔اسی طرح ’’مصلی‘‘کالفظ عربی میں جس کیفیت کے لیے استعمال ہوتاہے ،اتنی جامعیت کے ساتھ کسی بھی زبان میں نہیں ہے۔فصاحت کے ساتھ ساتھ عربی زبان میں بلاغت بھی تھی ،بلاغت کا ایک مطلب بلوغت بھی ہے یعنی شعوری پختگی جواس زبان میں دیگر زبانوں سے زیادہ تھی اور شریعت کے لیے ایسی ہی زبان کی ضرورت تھی جو شعوری پختگی سے مزین ہو۔

انتخاب کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ہر وہ مزاج اور خامی جس کی درستی ضروری تھی وہ یہاں کے لوگوں میں بکثرت پائی جاتی تھی ۔یہ قوم اس جہالت اور اخلاقی انحطاط کی پستیوں میں گِری ہوئی تھی۔اس معاشرے کا انتخاب اور اس میں نبی بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ جہالت کی تاریکیوں اوران تمام رسوم و رواج کو ختم کردیا جائے جو یہاں کئی نسلوں سے چل رہے تھے۔یہ اصلاح تمام انسانیت کے لیے ایک مثال ہو اور کل کوئی یہ نہ کہے کہ ہمیں تو فلاں غلطی کے بارے میں کوئی بتانے والا ہی نہیں آیا تھا۔قرآنی تعلیمات نے دنیا کی تمام برائیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ مکمل اصلاح اور راہنمائی بھی کی ۔آج کے دور میں اگر کوئی انسان منفیت اور گمراہی کی انتہاء پر ہے او روہ سوال کرتا ہے کہ دنیا کی کون سی کتاب مجھے راستہ دکھاسکتی ہے تو اس کو جواب دیا جاسکتا ہے کہ قرآن میں تمہارے لیے مکمل ہدایت موجود ہے ۔جس پر عمل پیرا ہوکر تم دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرسکتے ہو۔

اقیموا الصلوٰۃ کے حکم کے بعد مسلمان کے لیے ضروری چیز وہ یقین اور کیفیت پیدا کرنی ہے جو نماز کے لیے ضروری ہے۔یہ حکم دن میں پانچ باراسی لیے دیا گیا ہے کیونکہ انسان بھولنے والی مخلوق ہے ۔جیسے ہم روزانہ اس لیے نہاتے ہیں کہ اگر نہ نہائیں تو بدن میں میل پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ہم روز بال سنوارتے ہیں اگر کنگھی نہ کریں تو بال بکھر جاتے ہیں ،ہم دانت صاف کرتے ہیں ،اگر نہ کریں تو منہ سے بدبو آنی شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ تمام بشری تقاضے ہیں جن کوہم سب روزانہ کرتے ہیں۔انسانی ذہن کے ساتھ بھی یہ مسئلہ ہے،کہ وہ چیزوں کو جلدبھول جاتاہے ۔ کئی سارے لوگ ایسے ہیں جن کے والدین میں سے کوئی ایک وفات پاچکا ہے لیکن دنیاوی مصروفیات میں انسان اپنے والدین تک بھول جاتاہے اوراسے اپنے والدین کو بھی یاد کرنا پڑتاہے۔نارمل انسان اپنی خوشیوں اور غلطیوں کو بھول جاتاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا لفظ ’’نسیان ‘‘سے نکلا ہے جس کا معنی ہی ’’بھولنا‘‘ہے ۔

دن میں پانچ بار یاددہانی کا مقصد ہی یہی ہے کہ انسان کے دل میں یہ یقین بیٹھ جائے کہ میں محض بندہ ہوں اور وہ میرا رب ہے۔میری سوچ اوراس سوچ سے اٹھنے والی ہرایک انگڑائی کو توڑنے والی ایک چیز ہے جو ’’وحی‘‘ ہے ۔وحی سے آگے میں نہیں سوچ سکتا۔میں نے اس کی تابعداری کرنی ہے ، میں نے ہر حال میں اس کو فالو کرنا ہے ۔میں ذہنی طورپر مصلی گھوڑے کی مانند ہوں جو اِدھر اُدھر نگاہ نہیں کرسکتا۔میری نگاہِ منزل اور مقصد اگر ہے تو وہ اس کی رضا ہے اور رضا کے حصول کا بہترین ذریعہ’’ دِل کا سجدہ‘‘ ہے۔جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ’’میرا خدا اس قابل ہے کہ اسے سجدہ کیا جائے ۔‘‘
وہ ذات جو عبادت کے لائق ہے اس کو تلاش کرنے کے بعد ہی عبادت کااصل سرور ملتا ہے۔جیسے ہمیں اپنے بچوں سے پیاراور ان کی فرمائش پوری کرتے ہوئے مزہ آتا ہے۔کچھ دن قبل میری بیٹی نے مجھ سے کچھ کھانے کی فرمائش کی ۔میں نے اسی وقت حامی بھرلی اور اس کو لے کر انگلش ٹی ہاؤس چلاآیا۔وہاں میں نے اس کو اس کا پسندیدہ کیک اور کافی پلائی جس پر وہ کافی خوش ہوئی جبکہ مجھے پیسے خرچ کرکے مزہ آیااس لیے کہ میرے محبت کے رشتے نے مضبوطی اختیار کی۔اپنوں کے ساتھ محبت کرکے انسان کو سواد ملتاہے ، اسی طرح عبادت کرکے بھی سواد ملتاہے ۔شرط یہ ہے کہ پہلے رب کو تلاش کیا جائے ، اس سے محبت کی جائے اور پھر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو۔

نماز کے دوران ’’صلا‘‘ کی کیفیت قائم کرنانماز کا بنیادی حق ہے۔اور اس کا مقصد یہ ہے کہ نماز کے دوران جیسی کیفیت تھی وہ نماز کے باہر بھی قائم رہے ،اسی کو حالتِ صلوٰۃ کہتے ہیں ۔ ایک نماز سے دوسری نماز تک کے وقفے میں آپ نے وہ ’’ذہنی کیفیت‘‘ اور سٹیٹ آف مائنڈ قائم رکھنا ہے جو نماز کے اندر تھی ، اس طرح سے کہ جھوٹ نہیں بولنا ، دھوکہ نہیں دینا ، کسی کا نقصان نہیں کرنا ، کسی کی دل آزاری نہیں کرنی ، معافی اور درگزر سے کام لینا کہ یہی وہ اصل چیز ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔

جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں نمازوں کی تعداد تو پوری ہے مگر وہ’’ ذہنی کیفیت‘‘ نہیں ہے۔ہم اس بات کا اقرارتو کرتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں مگر اللہ کی نہیں مانتے ۔قرآن کریم میں جا بجا حکم ہے :’’ اور نماز قائم کرو!‘‘ یعنی وہ ذہنی کیفیت قائم کروجس میں آپ کا اللہ کی طرف رجوع ہو، آپ میں مصلی گھوڑے کی طرح فالوکرنے کا عزم ہو،اُس کی طرح آپ نے بھی اپنے رب کے احکام کی تابعداری کرنی ہے اور اپنی ساری توجہ اور قوتیں اس مقصد کے لیے لگانی ہیں اور جس طرح ’’مصلی گھوڑا‘‘ اس کیفیت میں دوسری چیزوں کی طرف دھیان نہیں دیتا،آپ نے بھی رب کی طرف بڑھتے ہوئے دنیاوی چیزوں کی طرف متوجہ نہیں ہونا،نیزیہ کیفیت آپ کی تنہائیوں میں بھی ہونی چاہیے ۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ ’’مومن وہ ہے جو تنہائیوں کامومن ہے ۔‘‘ انسان کی اصل حالت وہ ہے جب اس کو کوئی پوچھنے اورنگرانی کرنے والا نہ ہوپھر جو اس کی کیفیت ہو وہ اس کا باطن ہے۔

آج ہمیں ’’صلا‘‘ کی اس کیفیت کو پیداکرنے کی اشد ضرورت ہے ۔جسم کے ساتھ دل کاسجدہ بھی ضروری ہے۔دل جب سجدہ ریز ہوگیا تو پھر اس میں وہ کیفیت پیداہوجائے گی جو نماز کا اصل تقاضہ ہے۔پھر ہر مسلمان کا دِل خوفِ خدا اور عشقِ خدا سے مزین ہوگا۔پھرایک انسان کو دوسرے انسان سے ڈرمحسوس نہیں ہو گا ،پھر نہ چوری ہوگی نہ ڈاکہ ہوگا اورنہ ہی کسی پر ظلم و زیادتی ہوگی۔پھر صحیح معنوں میں ایک پُرامن ،مثالی معاشرہ قائم ہوگا جس میں ہر انسان خوش حال زندگی بسر کرے گا۔