بلاگ کالمز

اختلاف رائے

میرے نزدیک کسی معاشرے میں اختلاف رائے کا ہونا اس معاشرے میں زندہ انسانوں کے وجود کا ثبوت ہے۔ اختلاف رائے انسانی ذہن کے دریچوں کو کھولتا ہے اور اندازِ تفکر میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ تاہم جہاں اختلاف رائے معاشرے کےلیے سود مند ہے وہیں آج کل کے معاشروں میں اختلاف رائے بگاڑ بھی پیدا کر رہا ہے اور اس کی سیدھی اور سادہ وجہ وہ رویّے ہیں جو کسی صورت بھی کسی دوسری رائے کو سننا پسند نہیں کرتے اور اپنی بات کی صداقت کو ثابت کرنے میں انتہاء پسندی کی حد تک چلے جاتے ہیں جو معاشرے کی اخلاقی فضا کو آلودہ کرتی ہے۔

انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے عقل، شعور اور ذہن جیسی عظیم نعمتوں سے نوازا ہے۔ لہذا مختلف معاملات میں مختلف لوگوں کا مختلف زوایہ نگاہ ہونا عین فطرت ہے۔ انسان کوئی مشین نہیں جو ایک ہی کمانڈ پر کام کرے بلکہ عقل و شعور ہر انسان میں رکھ دی گئی ہے۔ انسان جس طرح اپنے جسمانی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، بالکل اسی طرح مختلف لوگ شعوری اور ذہنی اعتبار سے بھی مختلف ہیں۔ کسی کو اللہ نے کمال فطانت اور معاملہ فہمی سے نوازا ہے تو کسی کو اس درجے کی سمجھ عطا نہیں کی۔

دنیا کا ہر معاشرہ اختلاف رائے کو تسلیم کرنے کا قائل ہے، دنیا کا ہر مذہب اور ہر قانون اختلاف رائے کی اجازت دیتا ہے اور مذہب اسلام تو ایسے تمام رویوں کی، جن کی حدیں انتہاء پسندی سے ملتی ہوں، مذمت کرتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو قرآن پاک میں یوں بیان کیا ہے: ’’اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت اختلاف پاتے‘‘ (سورۃ النساء)۔ اس آیت سے ایک بات واضح طور پر ثابت ہو رہی ہے کے اللہ کی کامل ذات کے علاوہ کسی سے اختلافات کا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں بلکے یہ بالکل ممکن اور فطری بات ہے۔

اللہ کے علاوہ اگر کوئی شخصیات ایسی ہیں جنہیں اختلافات سے پاک کہا جاسکتا ہے تو وہ اللہ کے بھیجے گئے برگزیدہ انبیاء ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمادیا: ’’قسم ہے تیرے رب کی یہ ایماندار نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس کے تمام اختلافات میں تجھے ہی حاکم نہ مان لیں‘‘ (سورۃ النسا)۔ اس آیت میں ایک طرف صرف نبی ﷺ کی ذات کو اختلاف سے پاک کردیا ہے اور صرف آپ ﷺ کے احکام کو من و عن تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو دوسری جانب یہ بات بھی کسی صاحب فکر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ اس آیت میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے

کہ مسلمانوں میں اختلافات ہوں گے۔انبیاء کے بعد کی معتبر ترین ہستیاں اصحاب محمدﷺ ہیں۔ اگر صحابہ کرام کو دیکھا جائے تو مختلف مواقع ایسے ہیں جب صحابہ کرام نے آپس میں ایک دوسرے سے دینی، فقہی اور دیگر معاملات میں اختلاف رائے کیا۔ حضرت عائشہ، حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کا قصاص عثمان غنی پر اختلاف کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حضرت عائشہ اور ابن عمر کا یہ اختلاف کہ میت کے گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے یا نہیں۔ حضرت امیر معاویہ اور ابو ذرغفاری کا مال جمع کرنے کے معاملے پر اختلاف اور اس قسم کے دوسرے بہت سی اختلافات ہیں۔

خود نبی اکرم ﷺ نے بدر کے قیدیوں سے متعلق صحابہ سے رائے لی تو مختلف آراء سامنے آئیں۔ مگر مجال ہے کہ طرفین میں سے کسی ایک نے کبھی دوسرے فریق پر فتویٰ جاری کیا ہو یا ان کے ایمان کے متعلق رائے دی ہو یا ان کے محب ہونے پر اعتراض کیا ہو، ان کی شان میں کسی طرح کی کمی کی ہو۔ مگر افسوس کہ آج کے اس مسلمان معاشرے میں ہمارے اندر اتنا بھی مادہ نہیں کہ کسی دوسرے کی رائے کو سنیں اور پسند کریں۔ہمارے ہاں چھوٹے چھوٹے سیاسی مسائل پر ایک دوسرے کی وفاداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جاری ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

ذرا سے اختلافات پر خارجی ایجنٹ، بیرونی ایجنٹ اور ملک دشمنی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ محض جماعتی بنیادوں پر اختلاف کیا جاتا ہے اور پھر اپنی آخری حد کو پہنچ جاتے ہیں۔ نجی اور ذاتی معاملات کو لے کر، بلا سیاق و سباق چیزوں کو لے کر ایک دوسرے پر فتوے جاری کردیئے جاتے ہیں۔ اور دل تو خون کے آنسو تب روتا ہے جب پڑھے لکھے حضرات اور ملکی و قومی سطح کے معتبر افراد اس طرح کا رویہ اپناتے ہیں۔ایک بات تو مسلّم ہے کہ کسی قوم میں مختلف سیاسی پارٹیاں بنیں گی تو ان کا منشور بھی الگ ہوگا اور جس کی اجازت خود ہمارا آئین دیتا ہے۔

مگر کیا یہ رویہ جو ہم اپنا رہے ہیں، مناسب ہے؟ کیا جس قومی خدمت کے ہم دعویدار ہیں وہ اس رویّے سے ممکن ہے؟ اور یہ بات بھی طے ہے کہ اسلام کے ماننے والے مختلف گروہوں میں تقسیم ہوں گے۔ مگر کیا اس بنیاد پر اپنے ہم مذہب لوگوں کا قتل کرنا یا ان کی تکفیر جائز قرار دے دیں اور دوسروں کے ایمان کے فیصلے کرنا شروع کردیں؟ہمارا مذہب اسلام تو اختلاف کی صورت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے رجوع کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمارا مذہب اختلاف کی صور ت میں فریقین کے درمیان صلح کا درس دیتا ہے۔ ہمارا مذہب تو واضح کہہ رہا ہے

کہ کسی قوم کی دشمنی کے باعث بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ مگر افسوس صد افسوس کہ اغیار تو دُور، ہم اپنے ہم وطن اور ہم مذہب لوگوں کے حق میں بھی پوری خوش دلی کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے اور پھر اغیار اور دشمن کا معاملہ تو بعد میں آتا ہے۔دوسروں کی آراء اور اختلافات کو برداشت کرنا ہماری اخلاقی، آئینی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔ اختلاف رائے کو معاشرے کی ترقی میں خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے اور ہماری تنزلی کی ایک وجہ شاید ہماری یہی عدم برداشت بھی ہے۔ آئیے ہم مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہونے اور اس پرچم کے سائے تلے ایک ہونے کا عملی مظاہرہ کریں اور تمام باطل قوتوں کے ارادوں کو پاش پاش کریں (ان شاء اللہ)۔