اسلام بلاگ

ففروا الي الله (دوڑو اللہ کی طرف)

انسان کے دل میں کسی مخصوص شخص کیلئے بے پناہ محبت کا پیدا ہوجانا یہ ایک فطری عمل ہے۔ زندگی‌ میں کسی شخص سے محبت ہوجائے تو انسان کی ساری خوشیاں اور‌غم ایک دوسرے سے وابستہ ہوجاتی ہے۔ وہ جب خوش ہوتا ہے، تو سب سے پہلے اس کی خبر اپنے معشوق کو دیتا ہے اور معشوق اس خوشی کو دوبالا کردیتا ہے۔ اسی طرح جب عاشق کوئی تکلیف و رنج وغم میں ہوتا ہے تو اسکا اظہار اپنے معشوق سے کرتا ہے۔ کیونکہ وہی اسکے درد کو محسوس کرسکتا ہے، اسے حوصلہ اور ہمت دیتا ہے۔ اس غم کو اپنا غم بنا لیتا ہے۔ اسی طرح جب معشوق ایسی کسی صورت میں مبتلا ہوتا ہے تو عاشق کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔

زندگی میں ایک شخص ایسا ضرور ہونا چاہیے جس سے دل کی باتیں شئیر کی جاسکتی ہو،۔ جو ہماری پسند نا پسند سے واقف ہو جو ہماری خاموشی کو پڑھنے کا ہنر جانتا ہو، جو بغیر بولے بھی سب کچھ سن لیتا ہو، ورنہ خواہشات دل کی تمنائیں، ہمارے احساسات جزبات سب دل میں دفن ہوکر دل ہی میں قبر بنا لیتے ہے۔ اکثر ساتھ ہوکر بھی ہمارے نہیں ہوتے وہ ہماری سوچ کو نہیں پڑھ پاتے ہیں۔ نا حال دل کو سمجھ سکتے ہیں۔ جو اپنے ہوتے ہے وہ سب کچھ جان لیتے ہیں لیکن جب وہ ہم سے بچھڑ جاتے ہے تو انسان زندہ لاش کی طرح ہوجاتا ہے۔ تو حالات بھی مخالف ہونے لگتے ہیں۔ انسان ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔ خوشی اور غم سب یکساں ہوجاتے ہے۔ زندگی ایک سوال بن جاتی ہے، انکے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ انکے ساتھ بیتے وقت کا ہر لمحہ تخیل میں آکر غمزدہ کردیتا ہے۔ جب کوئی مشکل درپیش ہو دل کرتا ہے اپنے محبوب سے اس بات کا ذکر کریں تاکہ درد بانٹ سکے اور جب زندگی ہر طرح سے دربدر کرتی ہے تو بار بار انکی کمی کا احساس شدید سے شدید تر ہوجاتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کوئی اسے گلے لگا لے۔ کوئی تو ہو جس کے کندھے پر سر رکھ کر ضبط کیے گئے غم کے آنسوں کو بہا کر رولیا جائے تاکہ دل کا غم ہلکا ہوسکے۔

لیکن جب کوئی اپنا نظر نہیں آتا تب انسان شب کی تنہائی میں بے ساختہ رو دیتا ہے۔ جسکی خبر صرف اسکے رب کو رہتی ہے۔ کیونکہ وہی تو ہے جو انسان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا ہے۔ ہمیشہ بندے کے انتظار میں رہتا ہے کہ یہ مجھے پکارے اور میں اسے آگے بڑھ کر اسکا استقبال کروں، اور پھر بندے کے لوٹنے پر وہ اسے اپنی غلطیوں پر شرمندہ بھی‌ نہیں کرتا ہے۔ نا طعنے دیتا ہے۔ نا دھتکارتا ہے۔ وہ بڑا رحیم ہے عظمت والا ہے۔ اس بندے کے لوٹنے کے انتظار میں رہتا ہے۔

انسان جس طرح اپنے معشوق کے عشق میں اس قدر مبتلا ہوجاتا ہے کہ اسے چھپا کر حفاظت سے رکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ وہ اس سے شدید محبت کرتا ہے۔ وہ چاہتا کہ اس کے سیوا اسکے معشوق کا نام بھی کوئی نا لیں، کوئی اسکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھ سکے، کوئی اسے سوچ میں بھی نا لائے، وہ صرف اور صرف اسی کا ہوکر رہ، اور وہ اپنے معشوق کو کسی اور سے مخاطب ہوتا دیکھتا ہے۔ تو اس کی غیرت جاگ جاتی ہے۔ اسکے لہو جلتا ہے۔ اسکی رگیں اُبھر جاتی ہے۔ غصے سے چہرہ زرد ہوجاتا ہے۔ یہ ناقابل برداشت عمل ہوتا ہے۔ اس کیلئے یہ اذیت کی آخری حد ہوتی ہے۔ کے اپنے معشوق کو کسی اور سے مخاطب دیکھے۔ اسی لیے اللہ تعالٰی بھی اپنے بندے کو جب وہ دنیا کی محبت میں یا اپنے تخلیق کردہ انسان کے عشق میں حد سے زیادہ گرفتار ہوتا دیکھتا ہے، تو وہ اپنے بندے کو اپنے معشوق کے ہاتھوں ہی توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ پہلے اسے عشق میں مبتلا کرتا ہے جب عشق شدت اختیار کر جاتا ہے۔ تب معشوق کو اس سے الگ تھلگ کردیتا ہے جب انسان اس درد کو برداشت کرنے کی قوت نہیں رکھتا ہے۔ جسے ہم بے وفائے کا نام دیتے ہیں۔ جب ایک انسان اپنے معشوق کو اپنے علاوہ کسی اور سے وابستہ دیکھنا پسند نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کیسے اپنے بندے کو خود سے دور ہوتا دیکھنا پسند کرینگا۔جس نے اسے خود اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا۔ وہ تو ۷۰ ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے۔ پھر کیسے یہ برداشت کرسکتا ہے کہ اپنے بندے کو دنیا کی محبت میں گمراہ ہوتا دیکھے کہ دنیا کی محبت میں کہی میرا بندہ آخرت کی لا محدود زندگی کو فراموش نہ کر بیٹھے،

کہی وہ دنیا کی چند روزہ خوشیوں اور نفسانی خواہشات کے پورا کرنے میں اس قدر مبتلا ہوجائے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب کو ہی بھول جائے۔ وہ اپنے معشوق کی محبت میں جسکی زلفوں کا وہ اسیر ہوجاتا ہے، جسکے حسن کا وہ دیوانا ہوجاتا ہے۔ جسکی باتوں میں اس قدر گم ہوجاتا ہے کہ اسے اللہ اکبر کی صدا بھی سنائی نہیں دیتی ہے۔ وہ معشوق کے ساتھ اتنا محو کلام اور محو خیال ہوجاتا ہے کہ اسے کبھی اپنے رب کی محبت یاد نہیں آتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس طرح سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ دنیا والوں کے ہاتھوں رسوا کردیتا ہے۔ توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے سے محبت ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ یہ دنیا کی محبت میں آخرت کی لا محدود زندگی کو فراموش کردے۔ اس لیے وہ اپنی طرف لوٹنے کے راستے ہموار کرتا ہے۔ جو ہمیں تکلیف دہ دیکھائی دیتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ معشوق کے بچھڑنے پر زندگی ختم ہوگئی سب کچھ ختم ہوگیا۔ وہ خود کو بے بس لاچار تنہا سمجھنے لگتا ہے اور ٹوٹتے وجود کے ساتھ سیدھے رب العالمین کے سامنے سربسجود ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس کے پاس اس در کے سیوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالی آگے بڑھ کر اس کو اپنا لیتا ہے۔ جب سارے دروازے بند ہوجاتے ہے تو یہی ایک در بچتا ہے جہاں سے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا ہے۔