اسلام بلاگ

دینی مدارس کے طلباء کہاں جا رہے ہیں؟ [فأين تذهبون]

حسیب احمد خان صاحب نے اپنی وال پر دینی مدارس میں داخلے کے محرکات (motives)، مقاصد (goals) اور نتائج (outcomes) کے حوالے سے آراء مانگیں تو کچھ باتیں وہاں بیان کر دیں کہ جنہیں یہاں بھی شیئر کر رہا ہوں۔ دینی مدارس میں آنے کی ایک بڑی وجہ چاچے مامے، اماں ابا کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا کوئی بچہ حافظ قرآن یا عالم دین بن جائے اور ایسے طالب علم مدرسہ پر بوجھ بن جاتے ہیں الا یہ کہ ان میں سے بعض میں از خود ہی شوق کی آگ بھڑک اٹھے اور وہ اللہ کی دَین ہے کہ جس کو دے دے۔ دوسری بڑی وجہ کسی تحریک کی موٹیویشن ہوتی ہے جیسا کہ تبلیغی جماعت یا جماعۃ الدعوۃ کے ساتھ لگے تو دین کی تعلیم کا شوق پیدا ہو گیا۔ اور ایسے طلباء عموما شوق سے مدرسہ جوائن کرتے ہیں اور محنتی ہوتے ہیں۔ تیسری بڑی وجہ غربت ہے کہ اسکول کی تعلیم بہت مہنگی ہے اور کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے لہذا دینی مدرسہ جوائن کر لیا۔

چوتھی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب اکثر دینی مدارس میں دنیاوی تعلیم بھی ہے تو اس وجہ سے بھی کچھ بچے مدرسہ جوائن کرتے ہیں کہ دین کے ساتھ دنیا کی تعلیم بھی حاصل کر لیں تا کہ اچھے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو جائیں تو اس میں بھی ایک پہلو سے حرج نہیں اگر تو معاشرے میں جا کر دین کا کام کریں نہ کہ ان کے رنگ میں رنگے جائیں۔ پانچویں وجہ یہ بھی کہ کچھ لوگ کسی بڑے عالم دین یا سلیبریٹی کو دیکھتے ہیں جیسا کہ مولانا طارق جمیل وغیرہ تو ان جیسا بننا چاہتے ہیں جو شاید ایک پہلو سے بری بات نہیں ہے تو مدرسہ جوائن کر لیتے ہیں۔ ان طلباء میں مقصدیت ہوتی ہے لیکن صرف اپنی ذات کی حد تک۔ اگر اس مقصدیت کا رخ امت کی طرف موڑ دیا جائے تو شاید یہ طلباء بہت کام کر سکتے ہیں۔ چھٹا محرک یہ بھی ہے کہ علماء کے گھرانے سے تعلق ہے لہذا عالم دین بننا ایک رسمی بات ہے یا مجبوری ہے کہ آگے چل کر مدرسہ سنبھالنا ہے یا علمی وراثت جاری رکھنی ہے۔ اس کے علاوہ بھی محرکات ہیں لیکن بڑے یہی ہیں۔

رہا دینی مدارس میں داخلے اور ایڈمشن کے وقت داخلہ ٹیسٹ رکھنا تو نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دینی مدارس جس اسٹرکچر پر چل رہے ہیں، یہ اس کا لازمی تقاضا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو ایڈمشن دیا جائے۔ دینی مدارس بنیادی طور صدقہ خیرات پر چلتے ہیں، اور ڈونیشن کام کے حساب سے ملتی ہے۔ اور کام کو سوسائٹی ہمیشہ مادی معیارات سے ماپتی ہے۔ اور کام کو ماپنے کا مادی معیار جو بھی مقرر کر لیا جائے، اس میں طلباء کی تعداد ایک بنیادی فیکٹر کا کردار ادا کرے گی۔ تو زیادہ ڈونیشن کے لیے لازم ہے کہ آپ زیادہ کارکردگی شو کریں۔ اور زیادہ کارکردگی آپ طلباء کی زیادہ تعداد کو داخلہ دیے بغیر شو نہیں کر سکتے۔ اتنے طلباء پڑھ رہے ہیں! بہت بڑا مدرسہ ہے! یہاں ڈونیشن دینی چاہیے، یہ پوری سائنس ہے۔

مقصدیت کے فقدان کی وجہ وہی محرکات کی بحث ہی ہے کہ جب محرکات ہی درست نہ ہوں تو مقصدیت کیسے پیدا ہو گی؟ اور آؤٹ کم کے بارے میں اب کیا کہوں؟ کچھ کہوں گا تو بکواس معلوم ہو گی۔ صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ کبھی آپ مدارس کے بچے تیار کر کے غامدی صاحب کے حوالے کر دیتے ہیں اور کبھی طالبان کے۔ اور اب "مدرسہ ڈسکورس” والوں کے حوالے کر رہے ہیں۔ اور یہی ہوتا رہے گا جب تک کہ "فکر” اور "فکری مسائل” کو ایک کور سبجیکٹ (core subject) کے طور پر دینی مدارس کے نصاب میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اور المیہ یہ ہے کہ جہاں کچھ فکر موجود ہے کہ جس سے دینی مدارس کے طلباء کی فکری بنیادیں مضبوط ہو سکتی ہیں اور وہ اعتزال یا خوارجیت کی انتہاؤں کی بجائے معتدل اسلامی فکر کے دائرے میں رہتے ہوئے دین کی کوئی خدمت سرانجام دے سکتے ہیں، اس فکر اور مفکر دونوں کو گالیاں دے کر اس کے سایے سے بھی اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے مثلا مولانا مودودی وغیرہ۔

اور اپنے پاس فکر نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور نہ ہی فکری ذوق موجود ہے تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ وہی جو نکل رہا ہے۔ محنت کر کے آٹھ سال بچے آپ تیار کریں گے اور پھل وہ کھائیں گے کہ جن سے آپ کو شدید فکری اختلافات ہیں۔ میں نے دینی مدارس کے طلباء کے لیے "اسلامی نظریہ حیات” کے نام سے ایک فکری نصاب مرتب کیا تھا، اس کو دو دن کی ویڈیو ورکشاپ میں ریکارڈ بھی کروایا تا کہ مدارس کے بچوں کی فکری بنیادیں مضبوط ہوں اور کسی فکری فتنے سے محفوظ رہیں کیونکہ ان کی ساری تربیت فقہی فتنوں سے حفاظت کے پرسپیکٹو میں کی جاتی ہے لہذا جہاں سے ان کی تربیت ہی نہیں ہوئی تو اس گوشے میں وار سے کیسے محفوظ رہ پائیں گے! اس نصاب میں بس ایک مسئلہ اختلافی ہے، وحدت الوجود کا، بلکہ اس کی بھی ایک خاص تعبیر کا رد ہے۔

باقی میں نے حنفی اور سلفی دونوں روایتوں کو جمع کر کے ایک نصاب ترتیب دینے کی کوشش کی تھی کہ اپنی روایت سے جڑتے ہوئے کیسے وہ نہ صرف معاصر فکری فتنوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ اپنے اندر ایک روایتی خود اعتمادی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن ابھی اس امت کو یہ سمجھانا بھی قبل از وقت ہے کہ اس کی کوئی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ یہ تو جب ڈونیشن دینے والے متوجہ کریں گے کہ ہم اس لیے تو ڈونیشن نہیں دے رہے کہ آپ کے بچے مدارس سے نکل کر یہ بنیں تو پھر یہ حضرات ایسا کوئی فکری نصاب بنانے کی کوشش کریں گے۔ اور اس وقت شاید کسی کے سامنے وہ کتابچہ بھی آ جائے تو انہیں اس کی اہمیت کا احساس ہو۔ اور وہ نہ سہی لیکن اس کی ترتیب پر ہی کوئی نصاب تشکیل دے لیں۔ اور، اور کسی کو نہ سہی، خود کو ہی اپنا فکری امام بنا لیں اگر تو یہ کسی کو فکری امام بنانے والی ہی بات ہے تو۔

اور میری رائے میں اس سارے پراسس میں ابھی آرام سے بیس تیس سال لگ جائیں گے۔ اور عین ممکن ہے کہ ہم اس وقت دنیا میں نہیں ہوں گے لیکن لوگ دعائیں دیں گے اور کچھ زیادہ جذباتی علامہ اور مولانا کے سابقے لاحقے بھی لگا دیں گے کہ دیکھیں حضرت نے بیس سال پہلے ایک ضرورت کا احساس کر لیا اور بڑا کام کر دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کام قبل از وقت نہیں تھا، یہ لوگ زمانے سے بیس سال پیچھے تھے۔ بس ابھی کچھ فرصت ملتی ہے تو سوچ رہا ہوں کہ اس کتاب کو سبقا سبقا ایک کورس کی صورت ویڈیو ریکارڈنگ کروا دوں کہ اسے سمجھنا آسان نہیں ہے بلکہ مشکل ہے، بہت مشکل ہے۔ اس کی وجہ صلاحیت اور ذہانت کی کمی نہیں بلکہ فکری ذوق کا نہ ہونا ہے۔ فکری ذوق کی بیداری، تشکیل اور نشوونما ضروری ہے لیکن دینی مدارس کے علمی اسلوب میں۔

اور سب سے اہم یہ کہ دینی مدارس کے کچھ باصلاحیت لوگوں کو اب ادارے بنانے کی بجائے علمی کام کرنے کو اپنا مقصد زندگی بنانا چاہیے۔ ہم نے اپنا اچھا بھلا ٹیلنٹ ادارے بنانے میں ضائع کر دیا۔ جس کو اللہ عزوجل کچھ صلاحیتوں سے نوازتے ہیں، وہ ایک نیا ادارہ بنانے چل پڑتا ہے۔ اورپھر اس کے اتنظامی اور مالی وسائل کو پورا کرنے میں اپنا علمی کیریئر تباہ کر دیتا ہے۔ تو جب سب باصلاحیت لوگ ادارے بنانے اور چلانے میں لگے ہوں گے تو فکری کام کون کرے گا؟ اس لیے مجھے یہ طے کر لینا چاہیے کہ مجھے کوئی ادارہ نہیں بنانا ہے تو تبھی میں دین کی کوئی قابل قدر علمی خدمت سرانجام دے سکتا ہوں، یہ ہر اچھے اور باصلاحیت عالم دین کی سوچ ہونی چاہیے۔