اسلام بلاگ

دینی مدارس کا خفیہ کردار

یہ واقعہ پڑھنے والوں کے لیے شاید نیا ہو، مدارس کے اس پہلو سے بہت سے لوگ شاید واقف نہ ہوں۔ سنے سنائے منفی پہلوؤں سے تو سب واقف بھی ہیں اور حصہ بقدر جثہ بھی ڈالتے ہیں. خیر قصہ کچھ یوں ہے کہ ہم عموماً اسباق سے فراغت کے بعد مدرسہ کے لان میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے احوال معلوم کرتے ہیں، کچھ ہلکی پھلکی گفتگو اور حالات حاضرہ پر باتیں ہوتی ہیں۔

اس دن ایک نئے ماڈل کی کار مدرسے کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوئی اور ایک کلین شیو نوجوان، پینٹ شرٹ میں ملبوس، ہاتھوں میں بینڈ، گلے میں چین پہنے اس کار سے اتر کر تیز تیز قدموں سے ہماری طرف بڑھا، جیسے وہ خطرہ میں ہو، اس کے پیچھے کوئی لگا ہوا ہو، سوچا کہ شاید یہ ہم سے مدد طلب کرے گا یا اس کی گاڑی میں کوئی مسئلہ ہوگا. عموماً لوگ فتویٰ وغیرہ کے لیے بھی آتے ہیں، کچھ مدرسے کی اعانت بھی کرتے ہیں. ابتدائی سلام دعا کے بعد کافی پریشان لہجے میں اس نے بتایا کہ مولوی صاحب! یہاں قریبی ہاسپٹل میں میری وائف کی ڈیلیوری ہے اور اسے خون کی اشد ضرورت ہے، بلڈ بینک میں خون نہیں ملا تو مجھے ہاسپٹل والوں نے کہا کہ یہاں قریب میں ایک دینی مدرسہ ہے، وہاں چلے جاؤ، کام ہو جائےگا، تو اب میں آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں. پلیز مولانا صاحب! میرا یہ کام کر دیجیے، میری وائف کی جان بچا لیجیے. یہ کہتے ہوئے اس نوجوان کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے.

ہم نے اسے تسلی دی اور مہتمم صاحب کے پاس لے گئے اور مدعا عرض کیا. ہماری بات سن کر مہتمم صاحب نے پہلو بدلا، بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اورشہادت کی انگلی سے ماتھے کو دبایا، اور لمبی سانس کھینچ کر دو طالب علموں کو بلایا اور اس نوجوان کے ساتھ جانے کو کہا. ”بس دو“ اس نوجوان نے معصومیت سے کہا، ”کیوں دو سے کام نہیں ہوگا کیا“، مہتمم صاحب نے استفسار کیا، ”مولانا صاحب! ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ خون کی نو بوتلیں چاہییں“، نوجوان نے بتایا. مہتمم صاحب نے اس نوجوان کی بات سن کر کوئی درجن بھر لڑکے ان کے ساتھ بھیج دیے، اس کی اہلیہ کی ڈیلیوری خیر و عافیت سے ہوگئی اور بیٹے کی ولادت ہوئی.

یہ ہے مدارس دینیہ کا وہ کردار جو مخفی رہتا ہے اور ایسے بہت سے رفاہی کام، بارشوں میں پھنسی گاڑیوں کو پانی سے نکالنا، رمضان المبارک میں بھاگ بھاگ کر سڑکوں پر موجود لوگوں کو کجھور سے افطار کروانا، کسی حادثے میں امداد فراہم کرنا، سیلاب اور زلزلے میں مدارس کا کردار مثالی رہا ہے۔ یکطرفہ میڈیا کی وجہ سے عام لوگوں کی نظروں سے انسان دوستی کے یہ کارنامے دور ہیں کیونکہ مدارس کے پاس شہزاد رائے نہیں، کوئی ناچنے گانے والی عورتیں نہیں، اگر یہی کارنامہ کسی عصری دانش گاہ کے طالب علموں کا دیوار پر صرف سفیدی کرنے یا ساحل سے کچرا جمع کرنے کا ہوتا تو میڈیا والے عوام کے سامنے ان لوگوں کو ہیرو بنا کر پیش کرتے اور کہتے کہ دیکھو یونیورسٹی میں پڑھنے والے بچوں نے کتنا عظیم کام کیا ہے، لیکن مدارس کے طلبہ کی یہ انسانیت کی خدمت میڈیا اپنے تعصب کی بنا پر عوام کے سامنے نہیں لاتا، صرف اس لیے کہ انسانیت کے ان خادموں کے سر پر ٹوپی ہوتی ہے، ان کے چہروں پر ڈاڑھی سجی ہوتی ہے، وہ قمیض شلوار پہنے ہوئے ہیں، وہ میڈیا کی اسکرین اور صفحوں پر گلیمر ظاہر نہیں کرتے، برانڈڈ کپڑے نہیں پہنتے۔

مزید پڑھیں: گنج پن کا مکمل علاج

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اعمال میں سب سے زیادہ محبوب کسی مسلمان کو خوش کرنا ہے یا اس پر سے غم کا ہٹا دینا ہے۔ ایک اور حدیث میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغفرت کے واجب کرنے والی چیزوں میں کسی مسلمان کو خوشی پہنچانا اور اس کی مصیبت کو ہٹانا ہے. انسانی حقوق کی ادائیگی کی رغبت دلاتے ہوئے اللہ کے نبی نے فرمایا جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی دنیاوی حاجت پوری کرتا ہے، اللہ تعالی اس کی 72 حاجتیں پوری کرتے ہیں جن میں سب سے ہلکی چیز گناہوں کی مغفرت ہے (اور حاجتیں مغفرت سے بھی بڑھ کر ہیں)، دینی مدارس اور ان میں پڑھنے والے طلبہ ایسی شاندار روایات کے امین ہیں. ان مدارس میں اس وحی کی تعلیم دی جاتی ہے جو انسانیت کی فلاح و نجات کا آخری اور جامع دستور ہے.

ساون کی بارشوں کے خروش کے بجائے یہ دسمبر کی رم جھم جیسے ہیں جو پھوار کی طرح برستی اور دلوں کو نہال کر جاتی ہے. یہ نوکیلے کانٹوں کے جنگل میں خوشنما پھولوں کا گلستان ہیں. خدارا ان امن پسند لوگوں کا تعلق دہشت گردوں سے مت جوڑیں. دنیا میں متلاشیان حق اور جویان خیر ہمیشہ کی طرح آج بھی جب ان مدارس میں پہنچیں گے تو وہ حق اور خیر ان کو صرف ہماری کتابوں اور باتوں میں نہیں بلکہ ان کے چہروں اور رویوں میں بھی وافر ملے گی.