ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

“داستان تک نہ رہی داستانوں میں !!

کبھی کسی بادشاہ کے مقبرے یا قبرستان پر جا کر دیکھیں اور پھر تصور کریں کہ یہ بادشاہ یا یہ لوگ کیسے اپنی زندگی عیش و عشرت سے گزارہ کرتے تھے۔ جن کے ہاں کبھی موت کا تذکرہ تک نہ ہوتا تھا۔ خوشامدوں کی خوشامد میں مگن یہ لوگ زندگی کی رنگینیوں میں ہر دم مگن رہا کرتے۔ پھر یکایک موت کی آندھی چلی اور یہ لوگ روشنیوں سے اندھیری قبر میں اتر گئے۔ اب ان کا کوئی نام و نشان تک موجود نہیں۔ ان کا اچھا برا تذکرہ بس آپ کو تاریخ کے اوراق کے علاوہ کہیں نہیں ملے گا۔ ان کی بنائی ہوئی سلطنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ جس پر اب غیروں کا قبضہ ہے۔ ایسے ہی قارئین کرام! ہمارا حال بھی ہونے والا ہے۔ ہمارے بنائے گئے مضبوط مکانوں پر ہمارے وارث قابض ہوجائیں گے اور ہم کو چھوٹی سی قبر میں رکھ کر اوپر سے ڈھیروں مٹی ڈال کر رخصت ہو جائیں گے۔ پھر ہم ہوں گے اور ہمارے اعمال !

آپ ذرا تاریخ پر نظر دوڑائیں تو آپ کو ہزاروں بادشاہ ملیں گے جنہوں نے دنیا میں جبر و ظلم کے پہاڑ توڑ کر اپنی سلطنتیں قائم کیں لیکن آج ان کا نام و نشان تک موجود نہیں اور نہ ہی آج ان کو کوئی اچھے الفاظ میں یاد کرتا ہے !

آپ سکندر اعظم سے شروعات کر لیجئے الیگزینڈر 20 سال کی عمر میں مقدوینہ کا بادشاہ بنا ‘ دنیا فتح کرنا شروع کی اور ا س نے 33 سال کی عمر تک گیارہ ممالک اور 56 لاکھ کلو میٹر علاقہ فتح کر لیا‘ اس کی سلطنت یونان سے شروع ہوتی تھی اورہندوستان میں ختم ہوتی تھی‘ سکندر یونانی عراق کے شہر بابل میں 10 جون 323 قبل مسیح میں مر گیا اور اس کے انتقال کے صرف پانچ سا ل بعد دنیا میں اس کی وسیع وعریض سلطنت کا نام و نشان تک ختم ہو گیا !

آپ چنگیز خان اور ہلاکو خان کو بھی لے لیجئے‘ چنگیز خان نے دو نئی جنگی اسلوب ایجاد کیں‘ سپیڈ اور تیر‘ منگول ایک مہینے کا سفر ہفتے میں طے کرتے تھے‘ یہ لوگ گھوڑے کی پیٹھ پر نیند پوری کر لیتے تھے‘ دوسرا منگول دنیا کی پہلی فوج تھی جو دوڑتے گھوڑے کی پیٹھ سے تیر چلا لیتی تھی‘ چنگیز خان نے ان دونوں مہارتوں سے آدھی دنیا فتح کر لی‘اس کی سلطنت چین سے جارجیا تک پھیلی ہوئی تھی‘ یہ شہر جلانے اور کھوپڑیوں کے مینار بنانے کا شوقین تھا‘ یہ کھوپڑیاں اور یہ مینار آج بھی تاریخ میں موجود ہیں‘ ہلاکو خان اس کا پوتا تھا‘ اس نے اپنے دادا کا نام زندہ رکھا لیکن اس کے بعد کیا ہوا‘ ٹوفون تیمر چنگیز سلطنت کا آخری بادشاہ ثابت ہوا اور یوں یہ سلطنت بھی تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئی !

آپ امیر تیمور کی مثال بھی لے لیجئے‘ کیش کے اس ازبک جرنیل نے کمال کر دیا‘ یہ آندھی کی طرح اٹھا‘ بگولے کی طرح دوڑا اور35سال میں دنیا کے 58 ملک فتح کر لئے‘ اس کی سلطنت بھی ثمرقندسے دمشق‘ سکندریا سے سائبیریا اور ایران سے ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی‘ یہ جس علاقے کو فتح کرتا تو مساجد کو چھوڑ کر ہر چیز کو آگ لگا دیتا۔ یہ بادشاہوں کا بادشاہ کہلاتا تھا‘ یہ17 فروری1405ءمیں فوت ہو گیا‘ امیر تیمور کے بعد اس کی صرف دو نسلیں اس عظیم سلطنت کا بوجھ اٹھا سکیں‘ تیسری نسل کی آمد کے ساتھ ہی امیر تیمور کی پوری سلطنت تتر بتر ہو گئی یہاں تک کہ مزید دو نسلوں کے بعد ظہیر الدین بابر اندیجان سے بھاگ کر ہندوستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا !

آپ اورنگزیب عالمگیر کی مثال بھی لے لیجئے یہ ہندوستان کی تاریخ کا تیسرا بڑا بادشاہ تھا جس کی سلطنت شمالی ہند سے جنوبی ہند تک پھیلی ہوئی تھی‘ یہ 21 فروری1707ءمیں فوت ہوا اور اس کے انتقال کے چند سال بعدہی اس کا ہندوستان چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور یوں یہ سلطنتِ مغلیہ بھی تاریخ میں دفن ہو گئی !

نادر شاہ درانی تاریخ کا پہلا حکمران تھا جس کے پاس چھ لاکھ ریگولر آرمی تھی‘ یہ باقاعدہ تنخواہ دار فوج تھی‘ اس کی سلطنت بھی ایران سے افغانستان اورانڈیاتک پھیلی ہوئی تھی‘ 2جون1747ءمیں نادر شاہ کو خبوشان شہر میں قتل کر دیا گیا‘ اس کے قتل کے صرف دو گھنٹے بعد اس کی پوری فوج بھی تتر بتر ہو گئی اور اس کا جنازہ تک اٹھانے کےلئے کوئی نہ بچا !

آپ آخری مثال ہٹلر کو لے لیجئے‘ یہ جنوری1933ءسے اپریل 1945ءتک اقتدار میں رہا‘ اس نے ان 12برسوں میں دنیا کے 20 ملک فتح کر لئے‘ ہٹلر نے اس وقت کی دو سپر پاورز کو ناکوں چنے چبوا دیئے لیکن یہ ہٹلر 30 اپریل 1945ءکو خودکشی پر مجبور ہوگیا‘ پیچھے رہ گئی سلطنت تو وہ اس کی موت سے پہلے ہی ڈھیر ہوچکی تھی !
یہ تاریخ کی چند مثالیں ہیں۔ یہ حکمران تھے جن کا تذکرہ ہم آج صرف تاریخ میں پڑھتے ہیں۔ جب یہ لوگ نہیں رہے جو کہ طاقت دولت میں ہم سے کئی ہزار گنا بہتر تھے۔ نہ ان کی دولت ان کے کام آئی نہ ہی ان کی طاقت ور فوج ان کے کوئی کام آئی۔ ان لوگوں سے ہمیں سبق سیکھنا چاہئے۔ ہمیں نہ ہماری دولت بچا سکتی ہے نہ ہی ہماری عزت و طاقت۔ ہاں اگر کچھ بچا سکتا ہے تو وہ ہے ہمارا اچھا عمل !

محترم قارئین ! زندگی کا جو دن نصیب ہوگیا اسی کو غنیمت جان کر جتنا ہو سکے اس میں اچھے اچھے کا م کرلئے جا ئیں تو بہتر ہے کہ ”کل” نہ جانے ہمیں لوگ ”جناب” کہہ کے پکارتے ہیں یا ”مرحوم” کہہ کر۔ ہمیں اس بات کا احساس ہو یا نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنی موت کی منزل کی طرف نہایت تیزی کے ساتھ رَواں دَواں ہیں ! یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ سورہ اِنشِقاق :6 ترجمہ: اے انسان ! بے شک تجھے اپنے رب (عزوجل) کی طرف ضرور دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا۔

 

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...