بلاگ

داستاں سرائے : تیرے انجام پہ رونا آیا

مجھے کبھی بھی مکانوں سے کوئی خاص رغبت نہیں رہی۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں نے مکانوں کو اپنی آنکھوں سے ٹکڑوں میں تقسیم ہوتے دیکھا ہے۔ میں ان بزرگوں کی آنکھوں سے ٹوٹی ہوئی تسبی کے دانوں کی طرح آنسو گرتے دیکھے ہیں، جنہوں نے ساری عمر کی محنت سے ایک مکان بنایا اور پھر اسے اپنے ہاتھوں اپنے بیٹوں میں تقسیم کیا۔ وہ ان مکانوں کی تعمیر کے لیے کئی کئی برس جون جولائی کی دھوپ میں مزدوری کرتے رہے، ہاتھوں پر چھالے پڑتے رہے، سیاہ بال سفید ہو گئے لیکن جب مکان تقسیم ہوا تو ان کے حصے میں آدھا کمرہ بھی نہیں آیا۔

جب میرے والد صاحب نے وہ مکان تقسیم کیا، جو وہ گزشتہ پینتیس برسوں سے ایک ایک اینٹ جمع کر کے بنا رہے تھے، تو میں ان کے آنکھوں کی نمی جرمنی میں بیٹھا محسوس کر سکتا تھا۔ مجھے دکھ اس وقت بھی ہوا۔ مجھے والد صاحب کی کال آئی لیکن میں نے کوئی بھی حصہ لینے سے انکار کر دیا کیوں کہ مجھے نہیں چاہیے تھا۔ لیکن والد صاحب کے دل میں موجود درد ان کے الفاظ سے ٹپکتا تھا، ان کے حرف حرف سے عیاں تھا، ان کے ہونٹوں کی کپکپاہٹ سے جھلکتا تھا۔ اس دن میرے دل سے مکانوں کی محبت مزید نکل گئی تھی لیکن آج جب یہ سنا کہ داستان سرائے فروخت ہو گیا ہے تو مجھے اتنا ہی دکھ ہو رہا ہے جتنا مجھے اس وقت ہوا تھا، جب میرے والد تنکہ تنکہ جوڑ کر بنانے والی چھت کو خود ادھیڑ رہے تھے، ٹکڑوں میں تقسیم کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں: مودی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا

میں داستان سرائے میں صرف ایک مرتبہ گیا ہوں لیکن مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا اپنا کوئی گھر فروخت ہوا ہو ۔ بابا اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے قصے کہانیاں اسی گھر کی چار دیواری سے جڑے ہوئے تھے۔ قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی اور دیگر نامور ادیب داستان سرائے کے مہمان ہوا کرتے تھے۔ مجھے یوں لگ رہا ہے، جیسے اس مکان کی سرگوشیاں، کہانیاں، ڈرامے لکھنے والے قلم، ایک محبت سو افسانے، راجہ گدھ اور ادبی محفلوں کو فروخت کر دیا گیا ہو۔ افتخار افی صاحب کی اس گھرانے اور اس مکان سے برسوں کی محبت اور وابستگی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس مکان کو گرا کر ایک نیا مکان تعمیر کیا جائے گا۔ لیکن مکان تو کبھی کسی کے نہیں رہتے۔ ڈیزائن بدلتے رہتے ہیں، مکین بدلتے رہتے ہیں، زمین کی ملکیت بدلتی رہتی ہے، جو چیز نہیں بدلتی وہ بس زمین ہے۔ وہ لاکھوں انسانوں کو اگلتی ہے اور اپنے اندر سمیٹی رہتی ہے۔ مکان کچھ نہیں ہوتے، یہ کسی کے نہیں رہتے۔ لیکن جب تک سانس چلتے ہیں ان سے جدائی اور ان کی تقسیم کے دکھ زندہ رہتے ہیں۔