افسانے

افسانہ "دستک ” از ماہ وش طالب

 

الخدر مسجد کے خاکستری میناروں سے صداۓاذاں بلند ہوتی دیرالبلٰح کی بستیوں تک گونجی تھی، جہاں چونے کے پتھر کے در و دیوار والے گھروں میں سے ایک گھر میں خوشی کاساماں دیدنی تھا، لہذا اہل مکیں پر دوہری نمازواجب ہوتی تھی، عبداللہ کوپروردگار نے پانچ سال بعد اولاد کی خوشی سے نوازاتھا، برآمدے میں پڑے پلنگ پر لیٹٰی سکینہ کے چہرے پر الوہی چمک تھی جس کے دائیں پہلومیں، کچھ گھنٹے قبل آنے والا بچہ تھا۔۔۔ امن کے پرندے مشرق سے اڑانیں بھر رہے تھے۔۔۔ اور گل لالہ اپنے جوبن پر تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیلی دھوپ اس گھر کے آنگن میں پہرہ دیے بیٹھی تھی، ایسے میں جاڑے کی شدت مانند ہوگئی۔ ” اُمّ کلثوم سکون سے بیٹھ جاؤ، کیوں بے چینی پھیلائی ہوئی ہے؟” کمرے میں بستردرست کرتی سکینہ، کب سے صحن میں ٹہلتی اُمّ کلثوم کودیکھ رہی تھی
جب تک تمیم بھائی نہیں لوٹ آتے، مجھے چین نہیں آئے گا” وہ بھی اپنی جگہ حق پر تھی،اعلٰی تعلیم کے سلسلے میں اس کا لاڈلا ،اکلوتا بھائی گزشتہ چار برس سے مصر میں تھا، ، پڑھائی مکمل ہونے پر آج وہ مستقل طور پر واپس دیرالبلٰح آرہاتھا عبداللّہ صبح ہی اسے لینے کے لئے نکل گیاتھا۔ مگر انتظار کی راہ لمبی ہورہی تھی اور مسافر پریشانی کی سواری پر ہچکولے کھانے لگے۔ رابطے کا بھی تو کوئی ذریعہ نہ تھا۔

"اُمّ ِ کلثوم، جاؤ، چھت پر سے کپڑے اتار لاؤ، کہر پھیل رہا ہے ” سکینہ خود تسبیح کے دانے گِننے لگی۔۔ قبل اس سے کہ وہ پہلے قدمچے کی جانب بڑھتی، لکڑی کے دروازے پر ہوئی بے چین دستک ، ان دونوں کو ساکت کردینے کیلئے کافی تھی، سکینہ سے پہلے اُمّ کلثوم دیوڑھی کی جانب بڑھی ، ” بھائی! ” صبر کا پھل پاتے ہی وہ بے اختیار خوش ہو کر تمیم کے سینےسے لگ گئی ” اُمّ! میری جان،،، کیسی ہو؟ ” اس نے بہن کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ ” تمیم عبداللّہ! ” سکینہ بھی آگے بڑھی، رسمی سلام و دعاکا تبادلہ ہوا۔

وہ کمرے میں لحاف اوڑھ کر بیٹھ چکا تھااور آتش دان دھیمے شعلے بھڑکا رہا تھا۔۔ کچھ ہی لمحوں میں اُمِّ کلثوم اس کے لئے گرم گرم شربت الفریکۃ لے آئی ” ارے دل جیت لیا، جانتی ہو، وہاں ہوسٹل میں تمہارے ہاتھ کا بنا یہ شوربہ ہر بار بہت یاد آتا تھا، جیو ہزاروں سال، میری پیاری بہنا” تمیم کی پذیرائی پر اُم کلثوم یوں مسکرائی، جیسے گل لالہ شبنم کی پہلی بوند پر کھل اٹھتا ہے۔ سکینہ اسکا سامان دوسرے کمرے میں رکھ کر واپس آئی۔ ” تمہارے ابو باہر سے ہی دکان پر چلے گئے کیا ؟ ” سکینہ نے یونہی کہہ دیا، جانتی تھی سارا دن بھی تو دکان نہیں کھول سکے اور اب ذراسی لاپروائی وہ مول نہیں لے سکتے تھے- ” کیا مطلب ؟ ابا کہیں گئے تھے؟ ” تمیم انجان تھا اور سکینہ یوں ہوئی جیسے گلاب کی پتی نوچ لی گئی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” تم نے خط میں اپنے آنے کی اطلاع اور تاریخ دی تھی، عبداللّہ تو اسی دن سے انتظار میں تھے، وہ آج صبح دس بجےنکل گیے تھے ” بظاہر ضبط کرتی سکینہ کا لہجہ نمناک تھا۔ ” اتنے ہجوم میں ، میں کہاں نظر آیاہوؤنگا ان کو، آپ لوگ مجھے توبتادیتے، وہ بیچارے وہاں پریشان ہورہے ہونگے ” تمیم کو افسوس ہوا ” کہاں جا رہے ہو؟ ” اسے کمبل چھوڑ ، باہر کی جانب قدم بڑھاتے دیکھ کر سکینہ نے استفسار کیا ” ابو کو لینے ، آپ پریشان مت ہوں، دروازے کی کنڈی چڑھالیں ” وہ لمبے ڈگ بڑھتا لکڑی کا دروازہ پار کرگیا۔
” چلوکلثوم، اٹھو اور مغرب کی نمازکی تیاری کرو ” سکینہ نے گم صم بیٹھی بیٹی کوٹہوکا دیا.
…………

گلیوں میں بھٹکتی شیرین ،بہت مشکل سے اس گھر تک پہنچی تھی ” اللّہ کے واسطے جلدی دروازہ کھولو ” وہ مضطرب سی خود کلام ہوئی ، "اُف شیرین، تم نے ڈراہی دیا، کیا آفت آگئی ہے؟” کلثوم جو اس دھیان میں بھاگ کر دروازے کی طرف لپکی تھی کہ ابواور بھائی ہونگے اسے دیکھ کر مایوس ہوئی اور نتیجتًا اسی پر کوفت کا اظہار کیا۔ ” تمیم واپس غزہ کیوں جا رہا ہے؟ ” وہ تمیم کی خالہ زاد ہونے کیساتھ ساتھ منگیتر بھی تھی، مگر اسکے منہ سے تمیم کا یوں ذکر چونکا دینے والا تھا

” تمہیں کیسے معلوم ہوا” سکینہ بھی صحن میں آگئ "میں اسی طرف آرہی تھی، جب تمیم سے راستے میں ملاقات ہوئی ” ” ہاں وہ تمہارے خال۔۔۔ ” ” یہی توپوچھ رہی ہوں کہ کیوں بھیجا ہے، کیا آپ لوگ نہیں جانتے کہ حالات کس قدرخراب ہیں؟ ” اسے معلوم تھا، تبھی سکینہ کی بات کاٹ دی ” کیا ہواحالات کو؟ ” اُمّ کلثوم دہل گئی
"حالات واقعی ہی بگڑچکے ہیں، مگر سننے میں تو یہ بھی آیا تھا کہ آدھے سے زیادہ افواہیں ہیں۔ ” سکینہ کی آواز کنوٰیں سے آتی معلوم ہوئی، ” ماسی رائی کا ہی پہاڑ بنتاہے، اسرائیلی سفاکیت پر اتر آئے ہیں” آنسو شیرین کی پلکوں پر چمکنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساعتوں کافاصلہ گھنٹوں میں طے ہوا تھا۔ وہ جب وہاں پہنچا تو ایک نیا دن طلوع ہوچکاتھا۔۔۔ جو اپنے ساتھ خون ریزی کی ایک نئی اور ناقابل یقین داستان لایا تھا۔ اس نے غزہ کے ہوائی اڈے کے علاوہ اطراف کے علاقوں کا بھی کونہ کونہ چھان مارا تھا، مگر اس کے والد عبداللّہ کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔۔۔

اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حالات قابو سے باہر نکل چکے ہیں، مصر میں رہتے ہوئے خبروں کے ذریعے اسےسب معلومات ملتی رہتی تھی، مگر وہ ھنگامہ آرائی ایک خاص علاقے یعنی یروشیلم تک محدود تھی، جسے وہ محض سیاسی چپلقش قرار دیتا رہا ، خط و کتابت کے ذریعے گھروالوں سمیت سبکی خیریت کی خبرالگ سے مل جاتی تھی۔۔ مگر اسوقت اسے ایسامحسوس ہو رہاتھا جیسے اپنے ملک کو دوبارہ سے آزاد کرانے کاوقت آگیاہو۔
وہ نجانے کن کن خفیہ رستوں سے بچتابچاتا کسی چٹیل میدان میں پہنچ گیا، جہاں عورتوں کی چیخ و پکار اور شیلنگ اذیتناک تھی۔۔ اور قبل اس سے کہ وہ مزید کچھ اور دیکھ پاتا، اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل ہوتے پتھراؤ کی زد میں وہ بھی آگیا۔ بڑی زوردار فائرنگ ہوئی تھی۔ اسکی پتلون میں جا بجاچھید ہوچکے تھے، اپنی زخمی ٹانگ سہلاتے وہ خود کوبچانے کی سعی میں بھاگا تھا،اور وہ اس کوشش میں کامیاب رہاتھا مگر بھاگتے ہوئے وہ کسی سخت شہ سے ٹکرایا تھا، اس نے بے دھیانی میں اس پر نظر کی ، وہ کوئی گردن کٹی لاش تھی۔اس نے رک کر دیکھا اور اسے لگا اس کی سانس گھٹ رہی ہے۔۔ وہ عبد اللّہ کی لاش تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہاہ ” کچھ لمحوں کیلئے سکینہ کی آنکھ لگی تھی، پسینے سے تربتر پیشانی لئے وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی، اُمّ کلثوم فوراً اسکی جانب بڑھی، دونوں نے محض ایک دوسرے کی جان دیکھا تھا اور پھر نظریں چرالیں۔ تمیم کو گئے چوبیس گھنٹوں سے زیادہ کا وقت گزر گیا تھا، وسوسے یقین میں بدلنے کو تھے۔شیرین انہیں تسلیاں دے کر واپس چلی گئی تھی۔۔ اور وہ دونوں وہاں، ذاتِ واحد کے سہارے پڑی رہ گئیں۔ …….. اُفق پر لہو رنگ لالی لئے ایک طویل دن کی شروعات ہوچکی تھی۔۔ اُم کلثوم قرآن مجید کو جزدان میں لپیٹ رہی تھی،جب دروازہ زور سے بجا۔۔ ” الٰہی خیر ” دونوں کے منہ سے بیک وقت نکلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"صبر کرو ،بھائی یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا، ” حملہ آور اس علاقے کو برباد کرکے اب آگے بڑھ چکے تھے، دو چار افراد جو قسمت سے بچ گئے تھے۔۔ وہ اپنا سب کچھ لٹ جانے کے بعد ایک دوسرے کے غم گسار بنے بیٹھے تھے ” کیا تمہارے سب گھر والے مارے گئے؟ ” وہ شخص پھر سے مخاطب ہوا اور تمیم ،جو اس عرصے میں یہ بات واقعی ہی بھول چکاتھا کہ اس کی کوئی ماں اور بہن بھی ہے، بری طرح ٹھٹکا تھا، وہ دیوانہ وار اٹھا ” کہاں جا رہے ہو، کیا اس لاش کو یونہی چھوڑ جاؤ گے، ان ( گالی) کے لئے جو مُردوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے بھی لطف اٹھارہے ہیں”

تمیم کے قدم تھم گئے۔۔۔ ” میری بہن اور والدہ اکیلی ہیں،بتاؤ میں کیا کروں، مردہ کی حفاظت کروں یا زندہ کی آبرو بچاؤں ؟ ” جواباً وہ کچھ دیر خاموش رہا ” اگر میں وہاں گیا تو وہ لوگ مجھ سے ابوکی بابت پوچھیں گے، ابتک تو انہیں حالات کا پتہ چل گیاہوگا، نجانے کس اذیت میں ہونگے ” تمیم ایک نظر سامنےنڈھال کھڑے اجنبی پر ڈالتا اور دوسری عبداللّہ کی سرانڈ زدہ لاش پر ” تم یہاں اس کو دفنانے کا انتظام کرو، میں جاتا ہوں ”

” اور ۔۔۔۔تمہارے اہل خانہ ؟”” وہ سب تو ذبح کئے جاچکے ہیں اور مجھے شاید انکے چیتھڑے اکٹھے کرنے کیلئے زندہ رکھا گیا ” اسکے الفاظ ہی نہیں اندازبھی ایساتھا جیسے واقعی کسی جانورکے بارے میں بات کررہا ہو۔۔ تسلی دینے کی کوشش میں تمیم کی زبان لکنت زدہ ہوگئی۔ ” میرے بھائی اگر میں لوٹ آیا توجو خبر مجھے مل سکی،میں تمہیں بتادونگا، اور اگر واپس نہ آسکا تو مجھ پر فاتحہ پڑھ لینا ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہودی فوج نے دیر البلٰح کے علاقے کو بھی گھیرے میں لے لیا تھا۔۔۔ دیواروں کے پار سے آتی سسکیوں اور دلدوز چیخوں نے دروازہ کھولتی اُمّ کلثوم کو تھرّا کر رکھ دیا۔۔۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے قفل کھولا اورپھر وہ اپنی وحشتناک چیخ پر قابو نہ پاسکی ۔ادھڑے پیراہن اور بازو کٹٰے وجود کے ساتھ شیرین کھڑی کچھ بڑبڑارہی تھی۔ سکینہ جہاں تھی وہیں ڈھے گئی۔ نجانے کس ہمت سے اُمِّ کلثوم نے دروازے کو بند کیا تھا۔۔۔ ” بھول جاؤ ، تمیم کو، دفع کرو عبداللہ کو۔۔۔ دین حق کی خاطر سب قربان ” ہکلاتے ہوئے کہتی ، شیرین اپنے آپ میں نہیں لگ رہی تھی۔۔ وہ ہوش میں ہوبھی کیسے سکتی تھی ۔۔۔ "خبردار جو اب کسی نے دروازہ کھولا”۔۔۔ شیرین نے اسے ٹھڈا لگایااور اندر جانے کااشارہ کیا۔ اُمّ کلثوم گھسیٹ کر سکینہ کو بھی اندر لے گئی

” تو ہمارے مسلمان بھائی کہاں ہیں، وہ طاقتور قومیں کیوں سورہی ہیں، جو اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پہ قائم ہیں، وہ ان درندوں کے قدم اس پاک سرزمین پر پڑھنے سے روکنے کے لئے کیوں ہماری مدد کو نہیں آرہے، کیا ہم سب توحید اور ختم نبوتﷺ کی بنیاد پر ایک ہی لڑی کے موتی نہیں”، اس کی آواز ہچکیوں کی زد میں تھی۔
” اللّہ۔۔۔ بس اللّہ ہے ہمارا۔ ” شیرین کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں ” لکین یہ ملعون یہودی کچھ بھی کرلیں، سمندر بھر لیں ہمارے لہو سے، اپنے ناپاک اردوں سے ارضِ مقدس کومنہدم نہیں کرسکیں گے کبھی بھی”

” یہ۔۔ بر۔۔ بریت کی جو۔۔ مثا۔۔ل قائم کر رہے ہیں، اسے دیکھ کر تو چنگیز خان بھی دنگ ” شیرین جو اب تک بیٹھی نہ تھی۔۔ دھڑام سے پتھریلے فرش پر گر چکی تھی۔۔ اُمّ ایک بار پھر پاگلوں کی طرح چیخنے لگی ۔۔۔ سکینہ بھی ہوش میں آئی ۔لیکن وہ اپنے ہوش میں آنے پر پچھتانے لگی تھی۔ ایک بار پھر دروازے پر بے ڈھنگ سی دستک ہوئی۔۔یہ آخری دستک تھی، جو متواتر ہورہی تھی۔۔ وہ دونوں ساکت و جامد بیٹھی رہیں، اس بار کسی نے اپنی جگہ سے ہلنے کی ہمت نہ کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے بتائے گئے پتے پر پہنچا تھا، ساٹھ منٹوں سے وہ دروازہ کھٹکھتا رہا تھا، اس نے بہیترے واسطے دیے ، مگر مکین شاید بالکل مایوس ہوچکے تھے اور بے یقین بھی ، ارد گرد بارودکی بو پھیلنے لگی تھی۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے لوٹنا پڑا،اور ابھی وہ صرف گلی کے نکڑ سےہی مڑا تھا کہ اسنے” ٹھاہ ” کی دھماکے دار آواز سنی،اسے اپنا وجود ہوا میں تحلیل ہوتا محسوس ہوا، اسے لگاوہ کئی ہزار ذرّوں میں بکھر رہاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” تمیم نے جیسے تیسے کر کے عبداللّہ کو دفنادیاتھا، مگر ایسا کرتے کرتے اس نے کئی سانسوں کو زندہ دفن ہوتے دیکھ تھا، خون بارش کی مانند بہہ رہاتھا اور اسکی اپنی آنکھیں بھی لہو رنگ ہوچکی تھیں،۔ انتظار، اذیت کا روپ دھارنے لگا تو وہ دیر البلئح کی جانب بڑھ گیا۔۔ پتھر، لاٹھیاں کھاتے، کبھی کسی لاش کوڈھانپتے وہ جہاں پہنچا، تو وہ اس کا گھر نہیں تھا، وہ کٹے ابدان کا میدان تھا ۔۔۔سفید در ودیوار راکھ اور خون میں نہا گئے تھے۔۔ ۔۔۔ کوئی غیر مرئی قوت تھی، جو اسکے قدم آگے بڑھائے جارہی تھی۔۔۔ کپڑے اور جسمانی اعضاء ایک ساتھ بکھرے تھے۔۔ اور پھر اسکی نگاہ ایک ہرے رنگ کی پوشاک پر پڑی ، اس سارے عرصے میں وہ پہلی بار زارو قطار رویا تھا، وہ اسکی اُمِّ کی پوشاک تھی۔۔۔

” اللّہ اکبر ، اللّہ اکبر !” گریہ زاری کہ بعد اس نے کہا ” اسی راکھ سے،، اسی راکھ اور خون سے تمہاری نسلوں کوغسل دیا جائے گا۔۔۔ تم چاہ کر بھی ہماری جڑیں نہیں اکھاڑ سکتے، کوئی آئے گا،،، ہم میں سے ہی کوئی آئے گا، جو تمہیں شکست دیکر تمہاری نسلوں کونیست و نابود کردے گا۔۔ ” وہ چیخ رہا تھا

” سن رہے ہو تم ۔۔۔ اے ذلیل و رسوا ہونے والی قوم۔۔ سن لو،، ایساہی ہوگا۔۔ آؤ”
میرے خون سے بھی بجھالو اپنی پیاس…, آؤ , کوئی غم نہیں اب,, , کہ تمہیں قیامت تک سکون نصيب نہیں ہوگا, ..جب تک……..” الفاظ معلق ہوگئے تھے, جسم ساکت اور روح پرواز کرچکی تھی.
……
امن کے پرندے اڑنا بھول چکے۔۔۔ مشرقی آسمان پر کبھی نہ چھٹںے والے سیاہ بادل چھاچکے تھے۔گُلِ لالہ پر پھر کسی نے شبنم گرتی نہ دیکھی۔ اور مسلے ہوئے سیاہ گلاب جا بجابکھرے تھے.
…………۔