کالمز

ڈراؤنا خواب اور سہانا سپنا

میں یہ کالم بعنوان "ڈراؤنا خواب اور سہانا سپنا” حامد میر کے اس کالم بعنوان "ڈراؤنا خواب” کے حوالے سے لکھ رہا ہوں جو روزنامہ جنگ لاہور میں 8 جولائی کو چھپا ہے۔اور جس میں میرا ذکر خیر بکثرت کیا گیا ہے کالم مذکور کی بنیاد میری 2010 کی تصنیف موسومہ "جج جرنیل اور جنتا” پر رکھی گئی ہے لیکن بنیاد پر جو عمارت بنائی گئی ہے وہ بنیاد کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ عمارت ٹیڑھی بن گئی ہے ۔ مزید برآں چونکہ کالم اس مہم کے دوران لکھا گیا ہے جو احتسابی عمل کو روکنے کے لیے عدلیہ اور فوج کے خلاف چلائی جارہی ہے ۔اس لئے کالم مذکور اس مہم کا حصہ بن گیا ہے۔ کالم میں جو غلط بیانیاں کی گئی ہیں ان کا ازالہ کرنا لازم ہے۔ لہذا کالم ہذا یہی ضرورت پوری کرنے کے لیے سپردِ قلم ہے ۔

کالم مذکور کے محور تین ہیں۔ پہلامحور میڈم نورجہاں کا دعوی براے تنسیخ نکاح ہے۔ جس کی جزوی سماعت میں نے بحثیت سول جج لاہور 1957 میں کی تھی اور جس میں میڈم کے شوہر شوکت حسین رضوی کی وکالت مولوی مشتاق حسین نے چیف جسٹس بننے سے پہلے کی تھی۔ دوسرا محور ریلوےاسٹیشن بم کیس ہے جو ذوالفقارعلی بھٹو اور مسعود محمود وغیرہ کے خلاف تھا اور جس کی جزوی سماعت میں نے صوبائی عدالت خصوصی برائے انسداد دہشت گردی کے سربراہ کی حیثیت سے 1977 میں کی تھی . تیسرا محور آڈیو ویڈیو سکینڈل ہے جو نواز شریف کو ایک مقدمہ میں بری کرنے والے اور دوسرے میں سزا دینے والے احتساب کے جج کے خلاف بنا ہوا ہے اور آجکل خاص و عام کا مرکز نگاہ ہے۔ کالم کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ بقول میڈم مولوی صاحب کا دامن داغدار تھا ۔ بحوالہ بم کیس انہوں نے چیف جسٹس پاکستان انوارالحق کے ساتھ مل کر مجھ پر دباؤ ڈالا تھا اور فوجی حکومت بھی میرے خلاف تھی۔ اس وقت بھی عدلیہ کا کردار گھناؤنا تھا اور آج کل بھی ایسا ہی ہے ۔ مجھے ان سب باتوں سے اختلاف ہے اور اس کی وجوہات نیچے درج ہیں۔

میڈم کے دعوی کی بنیاد یہ تھی کہ شوہر نے بیوی پر نذرمحمد کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے کا جھوٹا الزام لگایا ہے۔ مولوی صاحب نے الزام کو سچا ثابت کرنے کے لیے میڈم پر جرح کی تو میڈم نے ان کے سوالوں کے جواب میں یہ کہا کہ” میرے نذر کے ساتھ ایسے ہی تعلقات ہیں جیسے مولوی صاحب کے ساتھ ۔۔ میری اس کے ساتھ ملاقاتیں بھی اتنی ہی دفعہ ہوئی ہیں جتنی بار مولوی مشتاق حسین کے ساتھ اور یہ اسی سلسلے میں ہوتی رہی ہیں جس سلسلے میں مولوی مشتاق حسین کے ساتھ” اگر میڈم کے اس بیان کو سچا بھی فرض کر لیا جائے تو اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے محض تعلقات( یعنی عام تعلقات) کی بات کی ہے۔ ناجائز تعلقات کی نہیں کی۔ چنانچہ اس بیان کا مفہوم یہی نکلتا ہے کہ نذرمحمد کے ساتھ میرے تعلقات ایسے ہی عام قسم کے تھے جیسے مولوی صاحب کے ساتھ عام قسم کے تعلقات تھے۔ مضمون نگار نے اس بیان کو غلط رنگ دے کر اس کا مفہوم یہ نکالا ہے کہ بقول میڈم اس کے نذر کے ساتھ بھی ناجائز تعلقات تھے اور مولوی صاحب کے ساتھ بھی خدانخواستہ ناجائز تعلقات تھے۔ ایسی غلط تشریح کو تقویت دینے کے لیے کالم نگار نے مجھ سے یہ تحریر غلط منسوب کی ہے کہ نورجہاں نے بڑی متانت کے ساتھ نذرمحمد کے علاوہ مولوی مشتاق حسین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کی نوعیت بیان کردی اور خلاف توقع مولوی صاحب نے بڑی متانت سے سنیں اور نورجہاں کے دعوے کی تردید سے گریز کیا ۔ فی الحقیقت میں نے کتاب میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ نورجہاں نے بڑی متانت کے ساتھ نذرمحمد کے علاوہ مولوی مشتاق کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کی نوعیت بیان کردی۔ اس کے برعکس میں نے صرف یہ لکھا ہے کہ میں مولوی صاحب کی دیانت اور قابلیت کا معترف رہا اور خاص طور پر اس بات سے متاثر ہوا کہ جس طرح میڈم نے وہ باتیں نہایت متانت کے ساتھ کہی تھیں اسی طرح مولوی مشتاق حسین نے بھی وہ باتیں پوری متانت کے ساتھ سنیں اور برداشت کیں۔ متانت کا معنی سنجیدگی ہے اور میں نے یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اگر اس کا کوئی اور معنی سمجھا جائے تو یہ غلط ہے ۔علاوہ ازیں دعویٰ میں تو صرف فریقین مقدمہ کے کردار درپیش تھے۔ وکیلوں کے کردار درپیش نہیں تھے۔

اس لیے میرے مولوی صاحب کے کردار پر لب کشائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں نے اس مقدمے کا ذکر بھی محض ضمنا کیا ہے ۔ اور یہ بتانے کے لئے کیا ہے کہ میری مولوی صاحب سے واقفیت کیسے ہوئی تھی ۔ میں نے اپنی دیگر تحریروں میں مولوی صاحب کے متعلق خواہ کچھ بھی لکھا ہے زیر نظر تحریر میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس کے برعکس کالم نگار مذکور نے ان کے خلاف بغض اور عناد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کالم کا آغاز ہی ” ایک جج صاحب کی کہانی” کے جملے سے کیا ہے اور خواہ مخواہ یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ان سے( یعنی مولوی صاحب سے) وکالت کے زمانے میں کچھ ایسی غلطیاں سرزد ہوگئیں جن کا خمیازہ انہوں نے جج بن کر بھگتا۔ یہ لکھنے کے بعد جو غلطی صریحاً بیان کی گئی ہے۔وہ ان الفاظ میں تحریر ہے کہ” یہ جج صاحب صرف نام کے مولوی تھے۔ ان کے چہرے پر کوئی داڑھی نہیں تھی”.

بم کیس میں میرے راہ راست پر ثابت قدم رہنے اور بددیانتی کے عوض ہائی کورٹ کا جج بننے سے معذرت کر لینے اور اس کی پاداش میں کم سے کم اجرت بورڈ کا چیئرمین لگا دیے جانے کا ذکر کرکے اس کی ذمہ داری مولوی صاحب کے علاوہ انوارالحق صاحب اور حکومت( جنرل سوار خان گورنر پنجاب ) پر ڈال دی گئی ہے حالانکہ فی الحقیقت مؤخر الذکر دونوں حضرات میرے سرپرست مربی اور خیر خواہ رہے تھے ۔اور انہوں نے یہی کردار ادا کیا تھا ۔میں عدلیہ کو چھوڑ کر انتظامیہ میں درخواست دے کر گیا تھا اور کم سے کم اہمیت والی پوسٹ میں نے بوجوہ اصرار کر کے لی تھی حالانکہ گورنر اور چیف سیکرٹری اس بات پر بضد تھے کہ میں بڑے سے بڑے عہدے پر انگلی رکھوں اور وہ اسے خالی کرا کے بھی مجھے دے دیں گے۔ یہ باتیں میں نے کتاب میں واضح کر دی ہوئی ہیں لیکن کالم نگار نے انہیں توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کا منفی رنگ دے دیا ہے۔
آڈیو ویڈیو سکینڈل کا معاملہ ابھی سپریم کورٹ کے زیر سماعت ہے اس لیے اس پر اپنی رائے زنی نہیں کرونگا۔ لیکن اتنا کہوں گا کہ کالم نگار کا یہ جملہ کہ "پاکستان جہاں 1979 میں کھڑا تھا 2019 میں بھی وہیں کھڑا ہے” سراسر غلط ہے اور اس غرض سے لکھا گیا لگتا ہے کہ کسی طرح نوازشریف کے خلاف کیے گئے فیصلے کو بھٹو کے خلاف کیے گئے فیصلے جیسا ظاہر کر کے نواز شریف کو چھڑایا جائے۔ نیز عدلیہ اور فوج پر کیچڑ اچھال کر احتساب کا عمل رکوایا جائے۔ میرے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن میں بری الذمہ ہوں ۔ بھٹو کیس کے حالات اور فیصلہ نواز شریف کے مقدمہ کے حالات اور فیصلہ سے یکسر مختلف ہیں ۔ کالم نگار نے جس ڈراؤنے خواب کی بات کی ہے میں اس کی جگہ سہانا سپنا دیکھ رہا ہوں۔

چوہدری غلام حسین( ریٹائرڈ سیشن جج)