ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

داڑھی، عمران خان اور مذہبی کارکنوں کے رویے

چند روز سے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ایک ویڈیو کلپ کی وجہ سے ایک طوفان اٹھا ہوا ہے۔ ایک مختصر سے ویڈیو کلپ میں عمران خان چند لوگوں کے ساتھ بیٹھے نظر آرہے ہیں۔ اسلام کی بات چھڑتی ہے تو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کہتے ہیں: ”فضل الرحمن جیسے لوگ جب اسلام کے رکھوالے ہوں گے تو اسلام کا کیا ہوگا،ان کا کردار آپ لوگوں کے سامنے ہے۔ زیادہ تر یہ جو داڑھی والے سیاست کرتے ہیں، دو نمبر ہیں، زیادہ تر۔ میں نے قاضی صاحب کو بھی کہا تھا کہ 80 فیصد داڑھی والے دونمبر اور 20 فیصد پرمجھے شک ہے۔“ مجلس میں کسی نے پوچھا کہ قاضی صاحب (سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد) سے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ تو چیئرمین تحریک انصاف کہتے ہیں ”قاضی بڑاڈیسنٹ آدمی تھا، میرا دوست تھا، قاضی حسین احمد چار پانچ سیاستدانوں میں ایک وہ تھا جس پر مجھے اعتماد تھا، جتنا سیدھا آدمی قاضی حسین احمد تھا، اتنا ہی فضل الرحمن دو نمبرآدمی ہے۔“

حریف جماعت کی جانب سے عمران خان کو یہودی ایجنٹ تو پہلے ہی قرار دیا جاچکا ہے، لیکن اب اپنے چہروں پر سنت رسول اور سروں پر عمامے سجائے محافظین اسلام اسے توہین اسلام کا مرتکب، اسلام دشمن، داڑھی کا دشمن، سنت کا دشمن ، حرامی، یہودی کا بچہ اور ایسے ایسے القابات سے نواز رہے ہیں، جن غلیظ اور گھٹیا الفاظ کو لکھنا کم از کم میں اپنے چہرے پر سجی سنت رسول کے شایان شان نہیں سمجھتا اور نعوذباللہ بعض نے تو عمران خان کو کافر بھی کہہ دیا ہے۔ میرے پیارے نبی کی تعلیمات بھی وہ نہیں ہیں، جس کا اظہار ملک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام نافذ کرنے والی جماعت کے باشرع لوگ کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حریف یہ بات عام کر رہے ہیں کہ عمران خان نے داڑھی کی توہین کی ہے، تاکہ مذہبی طبقے کی زیادہ سے زیادہ ہمدردیاں سمیٹی جائیں، حالانکہ سیاسی داڑھی والوں کی توہین سے داڑھی کی توہین ہرگز نہیں ہوتی اور نہ ہی مولانا فضل الرحمن پر تنقید کو داڑھی کی توہین کہا جاسکتا ہے، لیکن عمران خان کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کی توہین پر جے یو آئی کا احتجاج بجا ہے اور ہم بھی مولانا فضل الرحمن کی توہین کی مذمت کرتے ہیں، لیکن اسے داڑھی کی توہین نہیں سمجھتے۔عمران خان اور پی ٹی آئی کی بھرپور مخالفت کیجیے، لیکن اسلام کے علمبرداروں کی جانب سے اسلامی اصولوں کو توڑنے کی حمایت نہیں کرسکتے۔

مجھے عمران خان سے کچھ لینا دینا نہیں اور نہ ہی کسی بھی جماعت سے محبت یا نفرت ہے، لیکن اس کے خلاف مذہبی طبقے کے انتہائی سطحی رویوں پر بہت افسوس ہوا، ان کے رویوں سے لگ رہا ہے کہ وہ خود اسلامی تعلیمات کی توہین کے مرتکب ہورہے ہیں، کیونکہ جو رویے یہ اسلام کے محافظ اپنا رہے ہیں، اسلام ان رویوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ پہلی بات یہ کہ بقول پی ٹی آئی کے عمران خان کی یہ ویڈیو کئی سال پرانی ہے، اب الیکشن قریب آتے دیکھ کر عمران خان کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور عوام کو بتایا جارہا ہے کہ عمران خان کا تازہ بیان ہے، جو سراسر بدیانتی اور خیانت ہے، لیکن اگر یہ بیان تازہ بھی ہو تو بھی اس میں اس لیے کوئی قباحت کی بات نہیں، کیونکہ ویڈیو سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ عمران خان نے ان داڑھی والے دو نمبروں کی بات کی ہے جو سیاست میں ہیں اور مولانا فضل الرحمن کا نام لے کر اس طرف اشارہ بھی کیا ہے اور پھر قاضی حسین احمد جو کے داڑھی والے ہی تھے، ان کی تعریف بھی کی ہے۔ مولانا فضل الرحمن ، عمران خان کے سیاسی حریف ہیں،اگر مولانا فضل الرحمن ، عمران خان کو اپنے جلسوں میں یہودی ایجنٹ کہتے ہیں تو عمران خان کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو دو نمبر کہنا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عمران خان کی یہ بات کوئی پریس کانفرنس یا جلسے کی نہیں ہے، بلکہ ایک نجی مجلس کی ہے۔ وہ اپنے چند لوگوں میں بیٹھ کر اپنے سیاسی مخالفین کی بات کر رہے ہیں۔ نجی مجلس میں ہم سب ہی بہت کچھ ایسا کہہ جاتے ہیں جس کو سب کے سامنے نہیں کہہ سکتے۔ کئی بڑے بڑے علمائے کرام بھی اپنی نجی مجالس میں بہت نامناسب باتیں کرجاتے ہیں، جن کو عوام کے سامنے کرنے سے احتراز کرتے ہیں، ان باتوں کو نجی مجالس تک ہی رکھا جاتا ہے۔ یہ میری رائے تھی، اس سے یقینا بہت سوں کو اختلاف ہوگا، لیکن اس سارے معاملے کو ایک آسان طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان زندہ ہے ، اس سے اس کے بیان کا مطلب پوچھا جائے، شرعی اصول بھی یہ ہے، اس کے بعد اس کی وضاحت کے ساتھ یہ ویڈیو کلپ ملک کے مختلف مسالک کے بیس بڑے مدارس کے دارالافتاﺅں کو بھیج کر فتویٰ لیا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ ان ہی مدارس سے ان لوگوں سے متعلق بھی اسلام کی روشنی میں کچھ فتوے لے کر عام کیے جائیں:

٭ جو لوگ سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے کرپٹ اور ظالم لوگوں کا ساتھ دیں، ان کے متعلق اسلام کیا کہتا ہے؟۔٭جو لوگ کسی کو صرف شک کی بنیاد پر یہودی ایجنٹ قرار دیتے ہیں اور بعض کافر تک بھی کہتے ہیں، ان کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے؟۔٭جو لوگ اپنے چہرے پر داڑھی رکھ کر اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بدترین زبان استعمال کر کے پورے مذہبی طبقے کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں، ان سے متعلق کیا فتویٰ ہے؟۔٭جو لوگ کسی کو شک کی بنیاد پر اسلام کا دشمن اور سنت کا دشمن قرار دیں، ان کے متعلق کیا حکم ہے؟۔٭جو لوگ کسی کو حرامی، یہودی نطفہ اور کتا کہیں، اسلام کے اصولوں کے مطابق ایسے لوگوں پر کونسی حد نافذ ہوتی ہے اور ان کو کتنے کوڑے لگنے چاہیے؟۔٭جن لوگوں نے عمران خان کا آدھا بیان عوام میں پھیلا کر مطلقاً داڑھی والوں کی توہین کا مرتکب ثابت کر کے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہے ہیں، اسلام کی روشنی میں ان کے متعلق کیا حکم ہے؟۔٭ جو لوگ سیاست میں مفادات حاصل کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر مذہب کو سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں، ان سے متعلق اسلام کیا کہتا ہے؟۔

نوٹ: الحمدللہ میری کسی بھی جماعت سے وابستگی نہیں ہے۔ میں اپنی تحریروں میں متعدد بار لکھا چکا ہوں کہ پاکستان میں رائج منافقت کی کوکھ سے جنم لینے والے متعفن سیاسی نظام میں 80فیصد سیاست دان جرائم میں بالاواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہیں اور مجرموں کے پشتی بان ہیں۔ کسی بھی جماعت میں جس بات کو برا سمجھتا ہوں، ایک لکھاری ہونے کی حیثیت سے اس پر تنقید کرتا ہوں اور اگر کسی کی کوئی اچھی بات لگے، اس کی تعریف کرتا ہوں۔ کوئی بھی جماعت جو بھی پالیسی اپنائے، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں، لیکن جب مذہبی سیاسی جماعتوں کے کارکنان مخالفین کے خلاف انتہائی بے ہودہ رویے اپناتے ہیں تو بے حد افسوس ہوتا ہے۔ میں نے کسی مذہبی سیاسی جماعت کو تنقید بنانے کی بجائے ہمیشہ اجڈ قسم کے مذہبی سیاسی کارکنوں کے خلاف لکھا ہے، کیونکہ ان کے انتہائی سطحی رویوں کی وجہ سے پورا مذہبی طبقہ بدنام ہوتا ہے، اس لیے
اگر یہ لوگ اپنے رویوں سے یونہی مذہبی طبقے کو بدنام کرتے رہیں گے تو ان کے رویوں کے خلاف آوازاٹھانا ہمارا حق ہے۔

(عابد محمود عزام)

تبصرے
Loading...