ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

سائیکل سے مریخ تک

کیرالہ کے ساحل پر مچھیروں، جھونپڑیوں، ناریل کے درختوں کے گاوٗں پر ڈاکٹر وکرم کی نظر پڑی۔ یہ تھمبا کا گاوٗں تھا جو خطِ استوا کے قریب ہے اور یہاں پر خطِ استوا کے الیکٹروجیٹ زمین سے 110 کلومیٹر اوپر موجود ہیں۔ یہ تیزرفتار الیکٹران فضا میں پھرتے رہتے ہیں۔ ان پر تحقیق فزکس، آسٹرونومی اور میٹیریولوجی کا میدان ہے۔ اس کو بہتر جاننے کے لئے راکٹ بھیجنے کی ضرورت تھی۔ ان کا ہمسایہ، پاکستان، اپنے خلائی پروگرام کا آغاز پہلے ہی کر چکا تھا اور ناسا کے ساتھ شراکت میں، بلوچستان کے ساحل سے دو راکٹ بھیج چکا تھا۔ کیرالہ کی یہ جگہ انڈیا کے خلائی پروگرام کا آغاز کرنے کے لئے بہترین تھی۔ سائنسدانوں کی ایک ٹیم، جس میں ڈاکٹر عبدالکلام بھی شامل تھے، وہ اس علاقے میں گئی۔ یہاں رہنے والوں سے اجازت حاصل کی اور پہلا راکٹ بننا شروع ہوا۔

یہاں پر ٹرانسپورٹ کی صورتحال اچھی نہ تھی۔ ایک جیپ تھی، جو یہاں تک پہنچتی تھی اور مصروف رہتی تھی۔ بجٹ زیادہ نہ تھا، سہولیات مفقود تھیں۔ نوجوان اور پرجوش سائنسدانوں نے دستیاب ذرائع کے استعمال سے راکٹ بنانا شروع کیا۔ راکٹ کے حصے سائیکلوں اور بیل گاڑی کے ذریعے لانچ پیڈ تک پہنچائے گئے۔ چھ مہینے کی محنت کے بعد 21 نومبر 1963 کو شام ساڑھے چھ بجے انڈیا نے اپنا پہلا راکٹ لانچ کیا۔ چند منٹ بعد نظر آنے والے سوڈیم کے بخارات کے نارنجی بادل انڈیا کا خلا میں پہلا دستخط تھا۔

پچھلے ترپن سال میں تھمبا انڈیا کے خلائی پروگرام کا مرکز بن چکا ہے۔ یہاں سے ٹیلی کمیونیکیشن، موسم، ٹیلیویژن کے سیٹلائیٹ، لانچ وہیکلز اور ریموٹ سنسنگ سیٹلائیٹ خلا میں جا چکے ہیں۔ اپنے مشن انتہائی کم قیت پر کرنے کی روایت برقرار رہی ہے۔

انڈیا نے مریخ پر اپنا پہلا مشن 5 نومبر 2013 کو روانہ کیا۔ تقریبا تین سو روز کی مسافت کے بعد یہ ستمبر 2014 میں مریخ کے مدار پر پہنچا۔ اس میں پانچ مختلف طرح کے سائنسی آلات لگے ہیں۔ یہ ایک ہزار تصاویر زمین تک بھیج چکا ہے اور مریخ کی سطح پر میتھین کی سٹڈی کر رہا ہے۔ اگرچہ اس کو صرف چھ ماہ کے لئے پلان کیا گیا تھا لیکن پچھلے چار برس سے کامیابی سے کام کر رہا ہے اور ابھی تک اچھی حالت میں ہے۔ اس کی خاص بات یہ رہی کہ اس پر صرف تہتر ملین ڈالر کی لاگت آئی جو دوسرے سیاروں پر بھیجے گئے مشنز کے لئے ایک انتہائی کم بجٹ میں بنایا گیا۔ مریخ پر بھیجے گئے مشنز میں سے صرف نصف کامیاب ہوئے ہیں جن میں سے ایک مارس آربیٹر بھی ہے۔ اس خلائی جہاز کو چین نے “ایشیا کا فخر” کہا اور امریکہ خلائی سوسائٹی کی طرف سے جدت کا ایوارڈ ملا۔ (انڈیا کے دو ہزار روپے کے نوٹ پر اس کی تصویر بنی ہے)۔ انڈیا کی طرف سے مریخ پر دوسرا مشن 2022-23 میں بھیجا جانا متوقع ہے جس میں ایروبریکنگ کا طریقہ استعمال کیا جائے گا۔ زہرہ تک مشن بھیجنے کے لئے انڈیا دوسری خلائی ایجنسیز کے ساتھ اشتراک میں کام کر رہا ہے۔

اگرچہ اس خطے میں خلائی پروگرامز کی پہل پاکستان نے کی لیکن بڑے عرصے تک یہ غیرفعال رہا۔ 2011 میں اس پر دوبارہ توجہ دی گئی اور سپیس پروگرام 2040 لانچ کیا گیا جس میں چین اہم پارٹنر ہے۔ اس کے تحت پاکستان خلا میں گیارہ سیٹلائیٹ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بلوچستان کی سونمیانی خلائی پورٹ کے بعد اب جہلم کے قریب ٹلہ میں خلائی پورٹ حال میں بنی ہے۔ (دفاعی پروگرام کا حصہ ہونے کی وجہ سے ان کی تفصیل پبلک ڈومین میں نہیں) خلا میں جانا ہو یا سرخ سیارے کی طرف دوڑ۔ یہ دنیا میں کسی ایک آدھ ملک تک محدود نہیں۔ اگر توجہ دی جائے تو سائیکل سے مریخ تک بھی بہت جلد پہنچا جا سکتا ہے۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...