بلاگ معلومات

کریٹیکل تھنکنگ critical thinking کس چڑیا کا نام ہے؟

آجکل critical thinking بہت فیشن میں ہے۔ خصوصاً مذہب بیزار و الحادی طبقہ اس کی پرزور انداز میں ترویج کرتے نظر آتے ہیں۔ میں ان تمام عناصر سے شدید بیزاری کے باوجود کہتا ہوں کہ critical thinking آج پوری دنیا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ سوال کیجیے، اور ضرور کیجیے۔ بار بار کیجیے۔ اپنے اندر کا ڈر نکال باہر کیجیے کہ سوال نہیں پوچھیں گے انسانیت کی معراج پر کیسے فائز ہوں گے؟ لیکن، سوال یہ ہے کہ critical thinking کس چڑیا کا نام ہے؟

آجکل کے "فیشن” کے مطابق مذہب، اعتقادات اور سب سے بڑھ کر خدا کے وجود پر سوال اٹھانے کو critical thinking کا نام دے دیا گیا ہے۔۔۔ بیوقوفانہ بات ہے۔۔۔ یار جس نے مذہب کو فالو کرنا ہے یا خدا کے وجود پر ایمان رکھنا ہے اس سے تمھیں کیا پریشانی ہے؟ اس سے تمھاری زندگی پر کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ تو چوائس کا معاملہ ہے۔ کوئی نیلا پہنے، پیلا پہنے، لال کھائے، یا خدا کے وجود پر ایمان رکھے، اس سے تمھیں کیا؟ یہ critical thinking ہے؟ ہرگز نہیں۔۔۔ یہ میڈیا کا من پسند پروپگینڈا ہے، من بھاتا چورن ہے!

میڈیا کو فالو کرنا، مقبول بیانیے کا زہنی غلام ہونا باقی سب کچھ تو ہوسکتا ہے، critical thinking ہرگز نہیں۔۔۔ پھر critical thinking کیا ہے؟ حضرات، critical thinking کی کوئی ایک تشریح نہیں۔ کوئی ایک جہت نہیں۔ البتہ critical thinking ایسے معاملات کو کہا جاسکتا ہے جس کا آپ اور آپ کی آنے والی نسلوں پر گہرا اثر پڑنے کا غالب امکان ہو۔ جو لاکھوں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کررہا ہوں۔ وہ کون سے سوالات ہیں جن کا براہ راست تعلق critical thinking سے ہوسکتا ہے؟ آئیے، ایسے کچھ سوالات اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس۔ کی بنیاد کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے:

1- کارپوریشنز میڈیا کو، میڈیا عوام کو influence کرتا ہے۔ کیا ایسے طاقتور میڈیا کی موجودگی میں، بننے والی جمہوری سیاسی نظام عوام کے مفاد مقدم رکھے گا یا کارپوریشنز کا؟ کیا جمہوری نظام پرفیکٹ ہے؟ جمہوری نظام کی کسی خرابی پر سوال اٹھانا کیوں ممنوع ہے؟ 2- کیا موجودہ معاشی نظام پرفیکٹ ہے یا اسے اصلاحات کی ضرورت ہے؟ موجودہ معاشی نظام بار بار کیوں کریش کرجاتا ہے؟ اس میں ایسی کیا خامیاں ہیں؟ ان خامیوں پر بحث کیوں نہیں کی جاتی؟ ان خامیوں کے حل کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے؟

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ دہشتگردی میں حملہ آور کو روکنے والا پاکستانی کون تھا؟

3- ماحولیاتی آلودگی کے زمہ دار طاقتور ممالک کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ اس حوالے سے قانون ایسی قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی تو تیزی سے برباد ہوتے ماحول کو حقیقی ریلیف دے سکے؟ یہ دنیا صرف طاقتور ممالک کی میراث نہیں۔ یہاں اربوں انسان رہتے ہیں۔ 4- وٹامنز ہوں، پینے کا پانی ہو یا نومولود بچوں کا دودھ۔ یہ سب انسان کے بنیادی حق ہے۔ ہمارے آباء اجداد یہ تمام چیزیں ایک روپیہ خرچ کیے بناء حاصل کیا کرتے تھے۔ آج ہمیں اس طرح کی بنیادی چیزوں کے لیے پیسہ کیوں خرچ کرنا پڑ رہا ہے؟ منافع بنانے کی بے لگام ہوس کا شکار کمپنیوں کو حد میں رکھنے کے لیے قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی؟

5- امریکہ جیسے ملک میں اسکولوں و یونیورسٹیوں میں فائرنگ کے واقعات عام ہیں۔ وہاں اسلحہ ہر ایک کی دسترس میں ہے۔ نیوزی لینڈ میں ہونے والے انسانیت سوز واقعے میں بھی یہ ایک اہم فیکٹر تھا۔ سوال یہ ہے کہ عام آدمی کو اسلحے کی فروخت پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟ آپ کوئی بھی دوا ڈاکٹر کی prescription کے بناء نہیں خرید سکتے لیکن اسلحہ خریدنے وقت ایسی کوئی روک ٹوک نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسلحہ ساز کمپنیوں کی منافع خوری کی قیمت خون ناحق کب تک ادا کرتا رہے گا؟ امریکہ میں ایسے ہی ایک واقعے کے بعد وہاں کی عوام نے اسلحہ ساز کمپنیوں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ان پر پابندی کا مطالبہ کیا جسے حکومت نے مسترد کردیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس قسم کی جمہوریت ہے جس میں عوام کیڑے مکوڑے اور کارپوریشنز آقا بنی پھرتی ہیں؟

6- دنیا کے کسی بھی ملک میں ریفرنڈم کروالیجیے۔ وہاں کی عوام نیوکلئیر ہتھیاروں کی مخالف ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ دنیا ان بھیانک ہتھیاروں کو تلف کردینے پر کیوں راضی نہیں؟ امریکہ و روس جیسے ممالک جو اس ٹیکنالوجی کے سرخیل ہیں، وہ اس طرح کے اقدامات کیوں نہیں اٹھاتے؟ ان نیوکلئیر ہتھیاروں کے مختلف اوقات میں ٹیسٹ بھی ہوتے رہتے ہیں جن کا ماحول پر اثرات انتہائی بھیانک ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان طاقتوں کو دنیا کا ماحول کو برباد کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ دنیا صرف ان کی نہیں، اربوں انسان شئیر کرتے ہیں۔ اگر یہ جمہوریت کا نام لیتے ہیں تو چیلنج ہے کہ پوری دنیا، جو جو نیوکلئیر ہتھیار رکھتے ہیں، اپنی عوام سے ایک ریفرنڈم کروالے۔ سوال یہ ہے کہ یہ "جمہوری” طاقتیں، عوامی خواہشات کو نظر انداز کرتے ہوئے دنیا کو اس بربادی سے دوچار کرنے پر کیوں تلی ہوئی ہیں؟

7- تمباکو نوشی ہر لحاظ سے تباہی و بربادی ہے۔ پھر کس کی ہوس دولت کے آگے دنیا مجبور ہوکر اس انڈسٹری کو پھلنے پھولنے اور آپریٹ کرنے کا موقع فراہم کررہی ہے؟ 8- جینیٹکلی موڈیفائڈ بیج، جس کو متعدد سائنسی تحقیقات ہر لحاظ سے مضر قرار دے چکیں ہیں، جن کے بنانے والی کمپنیوں کے خلاف پوری دنیا میں عوام کی ایک بڑی تعداد و کسان سراپا احتجاج ہیں، انھیں آپریٹ کرنے کی اجازت کس لیے دی گئی ہے؟ ان کی منافع خوری کو لگام کیوں نہیں ڈالا جاتا؟

یہ صرف مٹھی بھر سوالات ہیں جو critical thinking کے زمرے میں آتے ہیں۔ سارے سوالات نکالے جائیں مرتب کرنے میں ہی کئی دن لگ جائیں۔ پڑھنے والوں کو اب مقصد واضح ہوچکا ہوگا کہ critical thinking کیا ہے، اور اسکو کس انداز سے برتنا چاہئیے۔ سوچیے اور دوسروں کو بھی سوچنے کی دعوت دیجیے۔۔۔!!!